پاکستانی عورتوں کے فن مصوری پر ایک نظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کائنات میں زمین کا سیارہ نئے سے نئے امکانات کی آماج گاہ ہے۔ اس میں فطرتی بہاو اور افراد کا تشکیلی تموج دونوں کے درمیان کشاکش جاری ہے۔ بعد الذکر تموج ہر ممکن کوشش میں لگا ہوا ہے کہ اول الذکر پر فتح حاصل کی جائے۔ فطرت اور افراد کی اس جنگ میں بعض افرادی درد رکھنے والے انسان اس لڑائی کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ تمام افراد کو فطری آزادی مل سکے۔ افراد کی دو اقسام جن میں پہلی فطرت سے لڑنے اور دوسری مذکورہ قسم کو فطری تقاضوں کی راہ میں خلل ڈالنے سے باز رکھنے کی کوشش میں اپنی استطاعت کے مطابق آواز بلند کرنے والی ہے۔ جو طاقت کے اس مقابلے میں کمزور دکھائی دیتی ہے مگر وہ مسلسل اس تناظر میں اپنی جدوجہد کرتی ہے۔ اس میں تمام تخلیقی لوگ مثلاً شاعر، ادیب، آرٹسٹ وغیرہ آتے ہیں۔ جو اپنی فنی کاریگری کے ذریعے عام لوگوں تک اپنا پیغام تشبیہ اور استعاروں کی زبان میں پہنچاتے ہیں۔ جو بعد ازاں کہیں نظریات کو بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ان نظریات کی بناء پر مختلف تحریکیں سامنے آتی ہیں۔

ادب میں استعارہ سازی ایک مشکل ترین تکنیک سمجھی جاتی ہے۔ بقول ڈاکٹر ناصر عباس نیئر ”استعارہ فکر سے زیادہ جذبے کی پیداوار ہے۔“ جذبات کو زبان دینا تخلیق کی بلند ترین سطح ہے۔ ادبی اصناف میں یہ تکنیک استعمال ہوتی ہے۔ جس فنکار کی استعارہ سازی جتنی مکمل اور تخلیق سے مطابقت رکھتی ہو گی۔ اس کا اتنا جان دار کام سامنے آئے گا۔ یوں وہ فنکار دوسروں سے نمایاں ہو جاتا ہے اور اس کا کام اس کی شناخت بنتا ہے۔

فن مصوری کو استعاراتی زبان میں بیان کرنا ہو تو میں اسے عورت کا استعارہ کہوں گا۔ جیسے عورت کی فلاسفی کو سمجھناپچیدہ کام ہے اسی طرح فن مصوری کو بھی۔ دونوں میں جذبات کا عمل دخل بہت زیادہ ہے۔ جہاں عورت جذبات کی رو میں پگھل سکتی ہے وہیں یہ کسی پینٹنگ میں جان ڈال سکتے ہیں۔ اگر کوئی ان کی روح کو سمجھ جائے تو اس پر یہ دونوں ہمیشہ کے لیے مہربان دکھائی دیتیں ہیں۔ یہ مہربانی محبت، سچائی اور اخلاص میں پنہاں ہے۔ دونوں کو مثالی شکل میں حاصل کرنے کے لیے طلب گار کو ایک ہی طرح کی پیچیدگی، عقل، جذبات اور محنت درکار ہوتی ہے۔ مذکورہ اشیاء کا حسین امتزاج ایسے تخلیقی شاہکار سامنے لاتے ہیں جن کی چاہ میں خریدار باقی سب کچھ بھول کر اس کام کو حاصل کرنے کے لیے ہر دام لگانے پر تیار ہوتے ہیں۔

مکمل عورت جہاں مرد کی زندگی میں دائمی خوشی لا سکتی ہے تو وہیں شاہکار پینٹنگ تصوراتی دنیا میں مستقل خوش گوار احساس کی وجہ بنتی ہے۔ اسی لیے یہ گماں پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں یعنی فن مصوری اور عورت میں کوئی ازلی رشتہ ضرور ہے۔ زندگی کے اس سیارے پر جس نے پہلی لائن کھینچی ہو گی وہ میرے حساب سے پہلا آرٹسٹ کہلانے کا حق دار ہے۔ دنیا کی قدیم تہذیبوں میں فن مصوری کی کوئی نہ کوئی قسم ضرور نظر آتی ہے مثلاً مجسمہ سازی، مصوری، ”mural“ وغیرہ۔ برصغیر میں فن مصوری کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ مغل دور میں یہ فن اپنے عروج کو پہنچا جو صرف دربار یا امراء کی حد تک محدود تھا۔ سوال یہ ابھرتا ہے کہ یہ وہاں سے باہر دوسرے علاقوں میں کیسے اور کب پروان چڑھا؟ کسی فن کے عروج و زوال کا انحصار ثقافت، سیاست، معیشت وغیرہ میں ہونے والی تبدیلیوں پر منحصر ہوتا ہے۔

مذکورہ ادارے ”paradoxically“ ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مغل دربار کازوال ثقافتی ترقی کی وجہ بنا۔ ڈاکٹر مبارک علی کے بقول پہلے جو ثقافتی سرگرمیاں دربار تک محدود تھیں اب وہ دوردراز علاقوں تک پھیل گئیں۔ دربار کی بجائے شاعروں، مصوروں، گلوکاروں اور دیگر فنکاروں کی سرپرستی اب والیاں ریاست، راجے اور نواب کرنے لگے۔ ہجرت نے تخلیقی کاموں کے لیے فنکارون کو نئے موضوعات سے روشناس کروایا۔ اس سے مغل مصوری ان ریاستوں میں نئے انداز سے متعارف ہوئی۔

ایک دل چسپ صورت حال سامنے آتی ہے کہ جہاں معاشی اور سیاسی صورت حال پستی کا شکار ہوئی وہاں ثقافتی ترقی ہو رہی تھی جس کی وجہ سے مذہبی تعصب کم ہوا۔ موجودہ معاشرے میں اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اسی کلچر کی ہے۔ کسی تبدیلی کے پیچھے جو نمایاں طاقت کارفرما ہوتی ہے وہ انسان ہے جو مرد و زن سے عبارت ہے۔ دونون کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں مگربعض دانشور عورت کو پورا معاشرہ قرار دیتے نطر آتے ہیں۔

بقول ابن القیم جوزیہ ”عورتیں معاشرہ کا آدھا حصہ ہیں۔ جو معاشرے کے دوسرے آدھے حصے کو جنم دیتی ہیں۔ تو گویا وہ ہی پورا معاشرہ (کو تشکیل دیتی) ہیں۔“

کیا مرد اسے ماننے کو تیار ہے؟ مرد عورت کی ایک دوسرے پر برتری اور حقوق لینے کی جنگ ازل سے ابد تک جاری ہے۔ اس جنگ کے دو چہرے سامنے آتے ہیں : خوش گوار اور بھیانک۔ خوش گوار اس لحاظ سے جب انسان دوسرے انسانوں کے جینے میں آسانیاں پیدا کرتا ہے مثلاً ادب، آرٹ، خدمت، مدد اور علم وغیرہ اور دوسری طرف استحصال، لوٹ مار، ملاوٹ، دھوکہ، فریب وغیرہ۔ زندگی کے کئی رنگ روپ ہیں جو اس کی خوب صورتی میں کبھی بڑا اضافہ کر دیتے ہیں۔ کمی رہ جانے کا یا کسی اضافے کا انحصار انسانی رویوں پر ہے۔ رویے خوش سازی یا بد کرداری کی وجہ بنتے ہیں۔

آزادی کے بعد ہمارے معاشرہ کی جو عالمی شناخت ابھر کر سامنے آئی وہ ”patriarchical society“ کی تھی۔ سوال ابھرتا ہے، کیا فن مصوری میں بھی ایسی صورت حال ہے؟ مردوں میں عبدالرحمن چغتائی ( 1975۔ 1894 ) ، صادقین ( 1987۔ 1923 ) ، اسماعیل گل جی ( 2007۔ 1926 ) وغیرہ جنہون نے نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر فن مصوری میں ملک کا نام روشن کیا۔ اپنے اس میدان میں سپر اسٹار کے طور پر پہچانے گے۔ دوسری طرف فی میل آرٹسٹوں میں ان جیسا سپر اسٹار کا درجہ تو کوئی نہ حاصل کر سکی مگر اس میدان میں ان کا کردار اپنی مثال آپ ہے جس کو

عوام کے سامنے لانا بہت ضروری ہے۔ بڑی کاوش و کوشش اور تحقیق کے بعد مجھے کچھ نام اور ان کے کام کا معلوم ہوا جن کو اپنے قاری تک پہنچانا بہت ضروری سمجھتا ہوں۔

اعجاز الحسن نے اپنی کتاب ”Painting in Pakistan“ (جو 1996 میں فیروز سنز سے شائع ہوئی) میں مغل دور سے لے کر 1980 کی دہائی تک تقریباً سو کے قریب نامور اور ابھرتے ہوئے آرٹسٹوں کا ذکر کیاہے۔ جن میں انیس خواتین آرٹسٹ شامل ہیں۔ ان میں سے تین فی میل آرٹسٹوں کی بات کروں گا جو اپنی کمیونٹی کی نمائندگی کرتی نظر آئیں گئیں۔ پہلا نام زبیدہ آغا ( 1997۔ 1922 ) کاہے۔ آپ (صدراتی پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ یافتہ برائے 1965 ) پاکستان میں جدید آرٹ کی بانی ہیں۔

آپ کو پاکستان میں فن مصوری کی پہلی نمائش کروانے کا اعزاز حاصل ہے۔ آپ پاکستان کی عظیم ”colourist painter“ تھیں۔ آپ اپنی تھیم کو رنگوں کی مدد سے کینوس پر یوں بکھیرتی تھیں کہ وہ زبان لے کر دیکھنے والے سے اس کی سمجھ بوجھ کے مطابق ہم کلام ہوتے تھے۔ رنگوں کی زبان میں ماہر تھیں۔ اس لیے آپ کا کام اپنی مثال آپ تھا۔

دوسری ہستی آرٹسٹوں کے گھرانے کی فرد حاجرہ منصور (صدراتی پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ یافتہ برائے 2009 ) ہیں۔ جو 60 کی دہائی میں لکھنوآرٹ سکول سے تعلیم حاصل کر کے اپنی بہن رابعہ زبیری کے ساتھ کراچی آ گئیں جو زبیری سسٹرز کے نام سے مشہور ہوئیں۔ کراچی میں

پہلا آرٹ سکول کھولا۔ انہوں نے 1969 میں شادی بھی مشہور آرٹسٹ منصور راہی سے کی جو کراچی سکول آف آرٹ کے پرنسیپل رہے۔ حاجرہ روایت اور جدت میں سے اپنی نئی راہ نکالتی ہے۔ وہ تصوراتی یا افسانوی عورت کے جذبات کو جدید تکنیک کے ساتھ امیجز کوکینوس پر اتنی خوب صورتی سے رنگتی ہے کہ دیکھنے والا ظاہری حسن میں کھو جائے اگر غور کرے تو تھیم ایک نئے جہان میں لے جائے۔ انہوں نے اپنے کام میں خیال کی طاقت کو مختلف اصناف جن میں ”academic realism“ ، classicism“ ، oriental constitutionalism“ ، oriental formalism“ اور
”neo romanticism“ شامل ہیں، میں پیش کیا ہے۔ وہ اپنے کام میں اتنی مہارت رکھتی ہیں کہ ان کا کام روایت کو ”modern artistic sensibilities“ سے جوڑتا نظر آتا ہے۔ ان کے کام میں مغل منی ایچر کی تکنیک بھی نمایاں نظر آتی ہے۔

hajra mansoor

تیسرا نام فیض احمد فیض کی بیٹی سلیمہ ہاشمی (صدارتی پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ یافتہ برائے 1999 ) کا ہے۔ آپ بڑے باپ کی بیٹی ہونے کے باوجود اپنی علیحدہ شناخت بنانے میں کام یاب رہیں۔ اعلی پائے کی مصورہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک استاد، پرنسیپل (NCA) ، مصنفہ، اور سوشل ایکٹیوسٹ کے طور پر ملکی اور عالمی سطح پر اپنی پہچان رکھتی ہیں۔ بطور مصورہ آپ کے کام کی جو خاص بات ہے وہ ضیاء الحق کے مارشل لاء جو سچ میں ”pluralistic“ سوچ کی موت تھا۔ جس میں انہوں اپنے آرٹ ورک کے ذریعے کلمہ حق بلند کیا۔ انہوں نے اپنے کام کے ذریعے اس دور میں عورتوں پر ہونے والا تشدد، آزادی پر قدغن اور دیگر مشکلات کو عورتوں کے ”Abstract figures“ کے ذریعے کینوس پر رنگا تو پینٹنگز چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں

”نی میں وئن ہیٹھ اگی ہوئی ٹاہلی
تے لوکی مینوں دھی آکھدے ”
شاعر:رائے محمد خاں ناصر

اس کام کے پیچھے ان کا گہرا سیاسی اور معاشرتی شعور کھل کر نظر آیا اور باپ کے نام کو سرخرو کیا۔ جب بھارت اور پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو انہوں نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار ان الفاظ میں کیا ”کیا اچھی بات ہوتی اگر دونوں ممالک اپنی توانائی عوام کی خوراک، صحت، رہائش اور تعلیم کو بہتر بنانے پر لگائیں۔ بطور مصنفہ انہوں نے پچاس پاکستانی فی میل آرٹسٹوں کی زندگیوں اور کام پر ایک کتاب لکھی۔

”Unveiling the Visible:Lives and Works of Women
Artists of Pakistan ”

جو 2007 میں شائع ہوئی۔ آج کل آپ ابھرتے ہوئے نوجوان آرٹسٹوں کے کام کو ملکی اور عالمی سطح پر متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ بیکن ہاؤس یونیورسٹی میں ”School of visual art“ کی بطور ڈین کام سر انجام دے رہی ہیں۔

ڈاکٹر خرم قادر کے مطابق علم دو طرح کے ہیں۔ ”organic“ جو انسانیت کی بھلائی کا علمبردار ہے اور دوسرا ”inorganic“ جو انسانی ارتقاء کے ساتھ ملاوٹ زدہ ہوتا رہتا ہے جو انسانی تباہی کی وجہ بن رہا ہے اس لیے اسے انسانوں کی دنیا میں علم نہیں کہا جا سکتا۔ تمام تخلیقی فنکار ”organic“ کے داعی ہوتے ہیں۔ جو زندگی کو فطرت کے قریب لے جانا چاہتے ہیں تاکہ دنیا مادیت کی دوڑ میں پڑنے کی بجائے امن کا گہوارہ بن جائے۔

مذکورہ آرٹسٹوں کے ورثے کو آگے بڑھاتے ہوئے اب فن مصوری کا رجحان خواتین میں اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ آرٹ کے اداروں میں زیر تعلیم طالب علموں میں اب تقریباً 50 فیصد لڑکیاں اس طرف آ رہی ہیں۔ پاکستان میں پائے جانے والے مشہور آرٹ اداروں میں نیشنل کالج آف آرٹ لاہور، انڈس ویلی کراچی، بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی لاہور اور پنجاب یونیورسٹی لاہور قابل ذکر ہیں جہاں سے فارغ التحصیل فنکار مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ابھرتی ہوئی آرٹسٹوں میں ماہ جبین عاطف شیخ (اسلام آباد) جن پر میں اپنا پچھلا آرٹیکل (فن مصوری میں بولتی چڑیاں) لکھ چکا ہوں، کرن فیصل لاہور سے ابھرتی ہوئی ”modern contemporary visual“ مصورہ ہے۔

داتا نگری سے تعلق ہونے کی وجہ سے ان کے کام میں صوفیانہ رنگ، امن کی تلاش، فطرت شناسی، خونی رشتوں، دوستوں اور عام انسانوں کے لیے قربانی کا جذبہ ابھر کر سامنے آتا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے کام میں اصلیت کی متلاشی رہتی ہیں۔ جو اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ اپنے کام کے لیے ہجوم کی بجائے سچے قدردانوں کی قائل ہے۔ جس سے اس کی اپنے فن سے محبت واضح ہے۔

امامہ ملک راولپنڈی سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کا کام دیکھنے والے کے جذبات کو ابھارتا ہے۔ وہ اپنی پینٹنگز کے ذریعے رومانس اور تجسس کو جگانے کی کوشش کرتی نظر آتی ہیں۔ امامہ کے کام میں ہمیں ”renaissance“ اور ”baroque“ کے

ادوار کے اساتذہ کے کام کی جھلک نظر آتی ہے۔ ایک روشنی، ”drapery“ اور ”act of painting“ کے امتزاج سے جو کام سامنے آتا ہے وہ ایک خاص مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ جو دیکھنے والوں کے لیے واضح اور مبہم کا ملاپ نظر آتاہے۔ انسانی دماغ اگر جنس کے پہلو کو ہوس زدہ ہونے سے بچائے رکھے تو ہمارا معاشرہ بہت سی خرابیوں سے بچ جائے اور عورتوں کی اس ضمن میں جو شکایات آڑے آتی ہیں ان کا ازالہ بھی ہو سکتا ہے۔

شازیہ سلمان کراچی سے تعلق رکھتی ہے۔

وہ اپنے کام میں عورت اور اس کے جذبات کو پھولوں اور کپڑوں کے ذریعے کینوس پر اپنے ہی انداز سے رنگتی ہے۔ اس کے کام میں سبز پتے کا استعارہ امید اور زندگی کے سائیکل کو دکھاتا ہے جب کہ دوسرا استعارہ سورج کا ہے جو اللہ پر ایمان اور یقین کی عکاسی کرتا ہے۔

مذکورہ اور دوسری نوجوان آرٹسٹ بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔ جن سے مستقل میں ہم مزید اچھے کام کی امید رکھ سکتے ہیں۔ ان آرٹسٹوں کے کام کو دیکھنے کے بعد یہ تاثر تو اپنی موت خود مرجاتا ہے کہ ہماری نوجوان نسل تخلیقی صلاحیتوں سے خالی ہے۔ ہمارے نوجوان ہر میدان میں بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ میرٹ پر

ان کے کام کو پرکھا جائے۔ جو اس طرح سامنے آئیں ان کو حکومتی اور عوامی سطح پر پذیرائی دی جائے۔

گورنمنٹ کو چاہیے کہ آرٹ ادارے ہر ضلعے کی سطح پر متعارف کروائے جائیں تاکہ نئے غریب طالب علم بھی اپنے شوق کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔ مثال کے طور پر گورنمنٹ گرونانک پوست گریجوایٹ کالج ننکانہ صاحب سے تعلق رکھنے والے حبیب اللہ بی۔ ایس اونر کے طالب علم اپنی کوشش کے باوجود بھی پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کسی آرٹ ادارے میں داخل نہ ہو سکے اور مجبوراً اپنے شوق کا گلہ گھونٹتے ہوئے سادہ تعلیم لینے پر مجبور ہے۔ آخر کب تک ہمارے ملک میں وسائل نہ ہونے کی وجہ سے غریب اپنے ٹیلنٹ کو معاشی وسائل کی بھینٹ چڑھاتے رہیں گے۔

”comprador“

کلاس بڑے آرام سے کہہ دیتی ہے کہ ان لوگوں میں وہ ٹیلنٹ اور سوچ ہی پروان نہیں چڑھتی جو عالمی معیار کا کام سامنے لا سکے۔ جہان حبیب اللہ جیسے بچے پیسے کی وجہ سے اپنے ارمانوں کا گلہ گھونٹتے رہیں گے تو رائے محمد خاں ناصر کے اس شعر کو تشریح کی ضرورت نہیں رہے گی۔

میں ککھوں ای بڈھڑا جمیا
شالا مینوں ہان نہ لبھے
اس کا یہ کام دیکھیں اور خود فیصلہ کریں۔

ہمیں تخلیقی کام کی بنیاد پر نئے اسٹار ڈھونڈنے ہوں گے تاکہ وہ نوجوان نسل کے لیے رول ماڈل بنے۔ ہمیں اپنے بہترین دماغوں کے لیے اپنے ملک میں space پیدا کرنا ہو گی تاکہ وہ ملک میں رہ کر اپنی بہترین صلاحتوں کو بروکار لاتے ہوئے نئی نسل کی ذہن سازی کر سکیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فی میل آرٹسٹ وہ مقام یا شہرت نہ حاصل کر سکیں جو مرد مصوروں کے حصے میں آئی؟ عورتوں کو معاشرے کی طرف سے وہ ایکسپوژر اور وسائل نہ درکار ہو سکے جن کا استعمال کر کے وہ آزادی کے ساتھ اس میدان میں آسکیں اور ذہنی آزادی کے ساتھ اپنی سوچ کو کینوس کی زینت بنا پاتی۔ میرے خیال میں اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارے معاشرے کا رویہ رہا ہے جس نے عورت کے معاشرتی کردار اور کام کو اس طرح سے قبول نہ کیا جس کا وہ حق دار تھا۔

اب ہمیں عورت کے کردار کو معاشرتی، معاشی اور سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ عورت کو اگر جنسی ضروریات تک ہی محدود رکھیں گے تو موجودہ دور میں عالمی سطح پر اقوام کی دوڑ میں کبھی آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔ معاشرہ وقت اور جدت کے ساتھ روہنما ہونے والی معاشرتی، معاشی، سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کو قبول نہ کرے، اس کے تناظر میں اپنا لائحہ عمل نہ مرتب کرپائے تو زمانے کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔ جو پیچھے رہ گے وہ ہار گے، ہار انسان کو اندر سے توڑ ڈالتی ہے، ٹوٹی ہوئی چیز کبھی اصلی حالت میں نہیں آ سکتی، نشان پیچھے چھوڑ جاتی ہے۔ اس لیے ٹوٹنے سے پہلے زمینی اور عقلی حقائق سے آنکھیں چرانے کی بجائے ان کو سمجھ کر حل سوچا جائے تاکہ مرد اور عورت دونوں ترقی کے سفر میں اپنا اپنا عملی کردار ادا کر سکیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).