ماہر نفسیات ایرک ایرکسن اور انسانی زندگی کے مختلف ادوار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیسویں صدی کے ماہرین نفسیات کی اکثریت نے انسان کے بچپن اور نوجوانی پر اپنی توجہ مرکوز کی۔ ان کے مقابلے میں ایرک ایرکسن نے انسان کے بچپن سے بڑھاپے اور اس کی پیدائش سے موت تک کے دورانیے کا بنظر غائر مطالعہ اور تجزیہ کیا اور اسے آٹھ ادوار میں تقسیم کیا۔ ایرکسن کی تحقیق  نے انسانی نفسیات کے علم میں گراں قدر اضافے کیے۔ ایرکسن کے نظریات پر گفتگو کرنے سے پہلے میں آپ کا ان کی ذات ’زندگی اور شخصیت سے تعارف کروانا چاہتا ہوں۔

ERIK ERIKSON جرمنی کے شہر فرانکفرٹ میں 1902 میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کارلا کا تعلق ڈنمارک کے ایک متمول یہودی خاندان سے تھا۔ ان کی شادی ولدمار سورنسن سے ہوئی لیکن وہ ناکام رہی۔ کارلا نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی۔ علیحدگی کے چند ماہ بعد وہ ایرک سے حاملہ ہوئیں۔ ایرک کے والد کا نام ہمیشہ صیغہ راز میں رہا۔

ایرک کی پیدائش کے بعد کارلا  نے پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کی اور نرس بن گئیں۔ وہ ایرک کو جس ڈاکٹر سے علاج کروانے  لے جاتی تھیں وہ اس ڈاکٹر کے عشق میں گرفتار ہو گئیں اور اس سے شادی کر لی۔ اس ڈاکٹر کا نام تھیوڈور ہوم برگر تھا۔

کارلا نے ایرک کا نام ایرک ہوم برگر رکھا لیکن اسے سچ نہیں بتایا۔ بڑے ہو کر جب ایرک کو پتہ چلا کہ ہوم برگر ان کے اصل والد نہیں ہیں تو وہ بہت برہم ہوئے اور اپنا نام بدل کر ایرک ایرکسن رکھ لیا۔ اپنے خاندان میں مذہبی اور جذباتی بے یقینی کی وجہ سے ایرک ایک شناخت کے بحران سے گزرے۔ اس بحران  نے بعد میں انہیں اس موضوع پر تحقیق کرنے کی تحریک دی اور ایرک ایرکسن کے جن نظریات کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی ان میں سے ایک نطریہ IDENTITY CRISIS بھی ہے۔

ایرک ایرکسن کو نوجوانی میں نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ہائی سکول چھوڑ کر دنیا کی سیر و سیاحت کو نکل پڑے۔ سیاحت کے دوران روزی روٹی کمانے کے لیے انہوں نے جو مختلف ملازمتیں کیں ، ان میں سے ایک ملازمت ایک خاندان کے بچوں کو پڑھانا بھی تھا۔ اس خاندان کا قریبی تعلق سگمنڈ فرائد اور ان کی بیٹی اینا فرائڈ ANNA FREUD سے تھا۔

جب ایرک ایرکسن کی ملاقات اینا فرائڈ سے ہوئی تو اینا فرائڈ نے ان کی بچوں سے محبت اور شفقت کو دیکھ کر انہیں بچوں کی تحلیل نفسی پڑھنے اور سیکھنے کا مشورہ دیا۔ ایرک ایرکسن  نے اینا فرائڈ کے مشورے پر عمل کیا اور 1933 میں VIENNA ANALYTICAL SCHOOL سے ڈپلوما حاصل کیا۔

ایرک ایرکسن  نے 1930 میں ایک کینیڈین فنکارہ اور رقاصہ سے شادی کی اور انہوں نے یورپ سے امریکہ نقل مکانی کرنے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ میں ایرک ایرکسن کو بوسٹن کے مایہ ناز ادارے ہارورڈ میڈیکل سکول اور میساچیوسٹس ہسپتال میں کام کرنے اور مارگریٹ میڈ اور گریگری بیٹسن جیسے معزز اور معتبر دانشوروں سے تبادلہ خیال کرنے اور محترم ماہرین نفسیات و سماجیات کے ساتھ تحقیق کرنے کا موقع ملا۔

ایرک ایرکسن کی جس کتاب کو 1950 میں بین الاقوامی شہرت ملی اس کا نام CHILDHOOD AND SOCIETY ہے۔ ایرک ایرکسن کو موہن داس گاندھی کی شخصیت اور سیاست میں گہری دلچسپی تھی۔ انہوں نے گاندھی کی ذات اور نظریات کے حوالے سے 1969 میں جو کتاب لکھی اس کا نام GANDHI ’S TRUTH ہے۔

ایرک ایرکسن کا انتقال 1994 میں ہوا جب ان کیا عمر 91 برس تھی۔

ایرک ایرکسن کا موقف تھا کہ انسانی شخصیت کسی پتھر کی طرح ٹھوس نہیں بلکہ ایک سیال مادے کی طرح لچک دار ہے جس میں پیدائش سے موت اور بچپن سے بڑھاپے تک تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ مثبت بھی منفی بھی۔ زندگی کے ہر دور میں انسان کو ایک نیا چلینج قبول کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ اس چیلنج کو قبول کرنے میں کامیاب ہو جائے تو ذہنی صحت اور بلوغت کی اگلی منزل تک پہنچتا ہے ورنہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایرک ایرکسن  نے انسانی شخصیت کی نشوونما اور ارتقا کو آٹھ ادوار میں تقسیم کیا۔

پہلا دور۔ BASIC TRUST / BASIC MISTRUST

یہ دور پیدائش سے پہلے سال تک کا ہوتا ہے۔ زندگی کے پہلے سال میں بچہ اپنی ماں پر اعتماد کرنا سیکھتا ہے۔ جو مائیں اپنے بچوں کا پیار اور محبت سے خیال رکھتی ہیں وہ بچے اعتماد سیکھتے ہیں لیکن جو مائیں اپنے بچوں سے لاپروائی اور غفلت کرتی ہیں ان کے بچے عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں اور بڑے ہو کر دوسرے انسانوں پر اعتماد کرنے سے گھبراتے ہیں۔ ایسے انسانوں کے لیے محبت کے رشتے استوار کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔

دوسرا دور۔ AUTONOMY/ SHAME

یہ دور پہلے سال سے تیسرے سال تک کا ہوتا ہے۔ اس دور میں بچہ ماں سے قدرے دور ہٹتا ہے اور اپنے طور پر کچھ کرنا سیکھتا ہے جیسے غسل خانے جا کر پیشاب کرنا۔ وہ مائیں جو بچوں کی صحیح نگہداشت کرتی ہیں وہ بچے اپنا کام کرنا سیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ جو مائیں بچوں کا صحیح خیال نہیں رکھتیں وہ بچے ندامت اور شرمساری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

تیسرا دور۔ INITIATIVE/ GUILT

یہ دور تیسرے سال سے چھٹے سال تک کا ہوتا ہے۔ اس دور میں بچہ جوتے کے تسمے باندھنا ، کپڑے پہننا اور اکیلے کھیلنا سیکھتا ہے۔ جو مائیں اس دور میں بچوں کی رہنمائی کرتی ہیں وہ بچے اپنا کام کر کے خوش ہوتے ہیں لیکن جو مائیں بچوں کی صحیح تربیت نہیں کرتیں وہ بچے احساس گناہ کا شکار ہو جاتے ہیں اور زیادہ کامیاب نہیں ہوتے۔

چوتھا دور۔ COMPETENCE/ INFERIORITY۔

یہ دور چھٹے سال سے گیارہویں سال تک کا ہوتا ہے۔ اس دور میں بچے اپنے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔ جن بچوں کی مثبت اور صحت مند ماحول میں تربیت ہوتی ہے وہ اپنے بارے میں مثبت رائے قائم کرتے ہیں اور ان میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور جن بچوں کی منفی اور تنقیدی ماحول میں تربیت ہوتی ہے وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

پانچواں دور۔ IDENTITY/ ROLE CONFUSION

یہ دور بارہ سال سے اٹھارہ سال تک کا ہوتا ہے۔ اس دور میں نوجوان اپنی شناخت دریافت کرتے ہیں۔
‘میں کون ہوں’ کا جواب تلاش کرتے ہیں۔ جن بچوں کے ماں باپ کی شناخت مثبت ہوتی ہے وہ اپنی مثبت شناخت پا لیتے ہیں ورنہ وہ اپنی شناخت کے بارے میں پریشان خیالی کا شکار ہو جاتے ہیں اور کھوئے کھوئے سے رہتے ہیں۔

چھٹا دور۔ INTIMACY/ ISOLATION

یہ دور اٹھارہ سال سے پینتیس برس تک کا ہوتا ہے۔ اس دور میں انسان جذباتی اور رومانوی رشتے مستحکم کرتے ہیں۔ جو لوگ محبت کر سکتے ہیں وہ شریک سفر بناتے ہیں لیکن جو جذباتی عدم اعتماد کا شکار ہوتے ہیں وہ اکیلے رہتے ہیں اور احساس تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ساتواں دور۔ GENERATIVITY/ STAGNATION

یہ دور پینتیس برس سے چونسٹھ برس تک کا ہوتا ہے۔ اس دور میں انسان ایک کامیاب اور فعال زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ صحت مند لوگ اپنے خاندان اور معاشرے کی مثبت خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں غیر صحت مند انسان اپنی زندگی اور وقت ضائع کر دیتے ہیں اور اپنی خفیہ صلاحیتوں سے استفادہ نہیں کرتے۔ انہیں آہستہ آہستہ احساس رائگانی گھیرنے لگتا ہے اور محسوس ہونے لگتا ہے کہ ان کی زندگی بے مقصد گزری ہے۔

آٹھواں دور۔ EGO INTEGRITY/ DESPAIR

یہ زندگی کا آخری دور ہے جو پینسٹھ برس سے موت کا دور ہوتا ہے۔ اس دور میں انسان اپنے ماضی کی طرف نگاہ اٹھاتا ہے اور اپنی زندگی کا تجزیہ کرتا ہے۔ بعض انسان خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے ایک صحت مند،  خوشحال ، بامقصد اور کامیاب زندگی گزاری اور وہ لوگ جنہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی ناکام اور بے مقصد گزری وہ دلبردشتہ اور افسردہ ہو جاتے ہیں۔

۔ ۔ ۔

ایرک ایرکسن ایک ایسے نابغہ روزگار تھے جن کے پاس کسی یونیورسٹی کی کوئی ڈگری نہیں تھی لیکن ان کی کتابیں دنیا کی بہت سی معزز یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہین۔ انہوں نے خود پی ایچ ڈی حاصل نہیں کی تھی لیکن اب ہر سال نجانے کتنی معزز یونیورسٹیوں کے کتنے طلبا و طالبات ان کے نظریات پر پی ایچ ڈی کرتے ہیں۔

نوٹ: انسانی نفسیات کے راز کی اگلی قسط میں ماہر نفسیات ابراہم ماسلو کے بارے میں ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 392 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail