ہلاکوخان کی مکمل داستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا کا ظالم ترین انسان اپنے گھوڑے پر شان سے بیٹھا ہوا تھا، چاروں طرف منگول فوج نظر آ رہی تھی تھی، سب سے آگے ظالم ترین شخص کا گھوڑا تھا، اس کے سامنے قیدی مسلمانوں کی تین قطاریں کھڑی کی گئی​ تھیں، جن کو کو ظالم حکمران کے حکم پر قتل کیا جانا تھا۔ ظالم بولا، تمام مسلمانوں کو قتل کر دیا جائے۔ جلاد نے مسلمانوں کے سر کاٹنے شروع کردیے۔ پہلی قطار میں کھڑے ایک مسلمان کی گردن کٹی دوسرے کی گردن کٹی، تیسرے چوتھے کی، اسی دوران پہلی قطار میں ایک بے قصور بوڑھا غریب قیدی بھی کھڑا تھا، وہ موت کے ڈر کی وجہ سے دوسری قطار میں چلا گیا، پہلی قطار میں کھڑے تمام مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا، ظالم کی نظریں اس بوڑھے پر تھیں جو موت کے خوف سے پہلی قطار کو چھوڑ کر دوسری قطار میں چلا گیا تھا، حکمران گھوڑے پہ بیٹھا ہاتھ میں طاقتور​ گرز اچھال رہا تھا۔

وہ لوگوں کے قتل کا منظر دیکھ کر خوش ہو رہا تھا، جلادوں نے دوسری قطار پر تلوار کے وار شروع کر دیے، گردنیں ​ پھر کٹنے لگیں۔ جلاد تلوار چلا رہے تھے اور خون کے فوارے اچھل اچھل کر زمین پہ گر رہے تھے، بوڑھے بابا نے جب دیکھا کہ دوسری صف کے لوگوں کی گردنیں کٹ کر رہی ہیں اور جلد اس کی باری آنے والی ہے تو وہ بھاگ کر تیسری قطار میں کھڑا ہو گیا، جابر حکمران کی نظریں اب بھی بوڑھے پہ جمی ہوئی تھی کہ اب وہ اب تیسری قطار جو آخری ہے وہاں چلا گیا ہے۔

ظالم حکمران  نے سوچا بوڑھا اب کہا ں جائے گا؟ بڈھے کو اس کی تلوار سے کون بچا سکتا ہے، وحشی نے سوچا میں نے لاکھوں انسان مار دیے تو یہ کب تک بچے گا؟ تیسری قطار پہ جلادوں کی تلوار بجلی بن کر گر رہی تھی، ظالم شخص کی نظریں مسلسل اس بوڑھے پہ تھیں کہ کیسے وہ موت سے بھاگ رہا ہے، تیسری قطار کے انسانوں کی گردنیں گر رہی تھیں ، جلاد بجلی کی سی تیزی سے اس بوڑھے بابا کو پہنچا تو منگول حکمران کی آواز گونجی، رک جاو جلاد!

اس بوڑھے کو ابھی کچھ نہ کہو، منگول سپہ سالار  نے مسکراتے ہوئے کہا بوڑھے بتا پہلی صف سے تو دوسری صف میں بھاگ آیا، جب وہ ختم ہوئی تو تُو تیسری صف میں بھاگ آیا، اب بتا، پیچھے تو کوئی اور صف بھی نہیں اب تو بھاگ کے کہاں جائے گا، اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ بوڑھے نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا، میں نے پہلی صف کو اس لیے چھوڑا کہ شاید میں دوسری صف میں بچ جاؤں، لیکن موت وہاں بھی پہنچی، پھر میں  نے دوسری صف کو بھی چھوڑ دیا کہ شاید تیسری میں بچ جاؤں ​، ظالم نے گرز کو ہاتھ میں اچھالتے ہوئے کہا بوڑھے تو میری تلوار سے نہیں بچ سکتا؟

بوڑھے مسلمان نے کہا اللہ کی ذات جو چاہے وہ کر سکتی ہے اور اگر وہ چاہے تو مجھے تجھ سے بچا سکتا ہے، ظالم نے کہا تیرا اللہ کیسے تجھے مجھ سے بچا سکتا ہے؟ ظالم کا یہ کہنا ہی تھا کہ اچانک اس کے ہاتھ سے گرز گر پڑا، اس نے گھوڑے کے اوپر بیٹھے بیٹھے گرے ہوئے گرز کو اٹھانے کے لیے خود کو جھکایا کہ تو ایک پاؤں رکاب سے نکلا اور وہ اپنے گھوڑے سے نیچے آ پڑا، جبکہ اس کا دوسرا پاؤں رکاب میں ہی پھنس کر رہ گیا، اس کے بعد گھوڑا اتنا ڈر گیا کہ بھاگ نکلا، اس نے خود کو بچانے کی بڑی کوشش کی، اب اس کا لشکر بھی حرکت میں آ چکا تھا لیکن گھوڑا اتنا طاقتور تھا کہ کسی کے قابو میں نہ آیا، گھوڑا ظالم کو پتھروں میں گھسیٹ گھسیٹ کر بھاگتا رہا، یہاں تک کہ اس کا سر پتھروں سے پٹخ پٹخ کر لہولہان ہو گیا اور وہ ہلاک ہو گیا۔

ظالم انسان کا فوجی لشکر بوڑھے بزرگ سے اتنا خوفزداہ ہوا کہ اسے چھوڑ کر بھاگ نکلا جبکہ بوڑھا بڑے آرام وسکون سے اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔ وہ ظالم انسان جس کی میں نے یہ کہانی سنائی ہے اس کا نام تھا ہلاکو خان۔ جی ہاں آج کی ویڈیو ہلاکو خان کے بارے میں ہے۔ میں ہوں اجمل شبیر اور آپ دیکھ رہے ہیں ہمارا یوٹیوب چینل۔ ہلاکو خان کس نزل سے تھا اور کیسے ہلاکو خان کی نسل نے دنیا کی بہت بڑی سلطنت قائم کی ویڈیو کہ اس حصے میں میں آپ کو یہ بتاؤں گا۔

13 ویں صدی عیسوی کے آغازمیں شمال مغربی ایشیا کی چراگاہوں سے منگول نسل کے ظالم انسانوں کا ایک ایسا بگولہ اٹھا تھا جس نے دنیا کی بنیادوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ تیرہویں صدی میں منگول لاکھوں انسانوں کی موت اور تباہی کی وجہ بنے۔ یہ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے شہر کے بعد شہر، علاقے کے بعد علاقہ اور ملک کے بعد ملک تباہ کرتے چلے گئے۔ دنیا ان ظالم انسانوں کے سامنے جھکتی چلی گئی۔ ان وحشیوں نے کچھ سالوں کے اندر خون کی ہولی کھیلی، کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کیے ، ہنستے بستے شہروں کی راکھ اڑاتے یہ وحشی بیجنگ سے ماسکو تک پھیل گئے۔

اور اس کے بعد یہ لوگ تاریخ انسانی کی سب سے بڑی سلطنت کے مالک بن گئے۔ اس سلطنت کو منگول سلطنت کا نام دیا جاتا ہے۔ اپنے عروج کے دور میں منگول سلطنت تین کروڑ مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی تھی۔ چنگیز خان اس سلطنت کا پہلا خاقان بنا۔ چنگیز خان کی کامیابیاں صرف میدان جنگ تک محدود نہیں تھیں۔ اس کی فتوحات حیرت انگیز تھی۔ دنیا میں تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ مرد یا دنیا کے مردوں کی کل تعداد کا 0.5 فیصد ایسے ہیں جن کے خون کا رشتہ اوپر جا کر جا کر چنگیز خان سے جا ملتا ہے۔

پاکستان میں ہزارہ قبیلے کے لوگ بھی خود کو منگول کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ مغل، چغتائی اور مرزا بھی اپنے آپ کو منگول نسل کا بتاتے ہیں۔ ہلاکو خان جس کے بارے میں یہ ویڈیو اور جس نے مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا وہ چنگیز خان کا پوتا تھا وہ بھی منگول حکمران تھا۔ یہ ہلاکوخان ہی تھا جس نے ماضی میں مسلمانوں کے مرکز بغداد کو تہس نہس کر دیا تھا۔ ہلاکوں خان نے خلیفہ ہارون الرشید اور شہرزاد کے الف لیلوی شہر بغداد کو تباہ و برباد کیا تھا۔

سال تھا 1258، عباسی خلافت قائم تھی اور عباسی خلافت کے آخری خلیفہ مستعصم کا دور تھا۔ بغداد ہر لحاظ سے ایک شاندار شہر تھا۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ بغداد کی بنیاد خلیفہ مستعصم با اللہ کے بزرگ ابوجعفر بن المنصور نے سال 762 میں رکھی تھی جو چند ہی عشروں میں دنیا کے عظیم ترین شہروں میں شمار کیا جانے لگا۔ دنیا بھر سے فلسفی، علما، سائنس دان اور ادیب یہاں پہنچنے لگے۔ علم کیمیا کے بانی جابر بن حیان، بابائے الجبرا الخوارزمی، مشہور فلفسی الرازی، الکندی، مشہور مفکر الغزالی سمیت کئی اہم علمی شخصیات یہیں رہائش پذیر رہیں۔

اس دور کے ایک شاعر نے بغداد کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا تھا کہ، ’دجلہ کا کنارہ حسینوں سے پر تھا اور شہر کا چوک مہ رخوں سے دمکتا تھا‘ ہر طرف شادابی تھی۔ کچھ منفی چیزیں بھی تھیں، دولت کی فراوانی تھی لیکن فرقہ واریت عروج پر تھی۔ کوے کے حلال یا حرم ہونے پر مباحثے ہو رہے تھے۔ خلیفہ مستعصم 37 ویں اور آخری عباسی خلیفہ تھے، جو 1213 میں پیدا ہوئے اور 1244 میں خلیفہ بنے۔ ابن علقمی خلیفہ مستعصم کا وزیر خاص تھا۔

خلیفہ کے بیٹے کے ساتھ رنجش کی وجہ سے ابن علقمی اندر سے عباسی خلافت کے خلاف تھا۔ اسے جب معلوم ہوا کہ چین اور روس کے وسطی علاقے منگولیا سے منگول حکمران ہلاکو خان ملکوں پر ملک فتح کیے جا رہا ہے تو ابن علقمی نے ہلاکو خان کو پیغام بھجوایا کہ اگر وہ بغداد پر حملہ کرے تو اس کی مدد کی جائے گی اور قبضہ کرنے میں زیادہ دقت نہیں ہو گی۔ چنگیز خان کا پوتا ہلاکو خان اپنے دادا کی طرح ساری زندگی قتل و غارت کرتا چلا آ رہا تھا۔

1256 میں اس کو اس وقت ایران کا حکمران بنا کر بھیجا گیا تھا۔ پہلے ہلاکو خان نے ایران میں قتل عام کیا۔ اس کے بعد بھی کئی ممالک پر حملہ آور ہوتا رہا۔ جب اسے ابن علقمی کا پیغام ملا تو اسے بغداد میں دلچسپی پیدا ہوئی اور دو لاکھ کی فوج کے ساتھ نکل پڑا، اس کی فوج بارودی مواد سے لیس تھی۔ ادھر بغداد میں ابن علقمی نے چالاکی سے خلیفہ کو مشورہ دیا کہ بادشاہ آپ کی اتنی بڑی فوج ایسے ہی بے کار بیٹھی تنخواہیں لے رہی ہے۔

ان کو دوسرے علاقوں کے سرداروں کے پاس بھیج کر کسی پیداواری کام پر لگائیں جس پر زیادہ تر فوج دوسرے علاقوں میں بھیج دی گئی۔ اس طرح ہلاکو خان لشکر سمیت 29 جنوری 1258 کو بغداد پہنچا۔ دریائے دجلہ کے کنارے پڑاؤ ڈالا اور خلیفہ کو خط لکھا: ’لوہے کے سوئے کو گھونسہ مت مارو، سورج کو بجھی ہوئی شمع سمجھنے کی غلطی مت کرو۔ دروازے کھولو، خندقیں بھر دو، حکومت چھوڑ کر ہمارے پاس آ جاؤ۔ اگر ہم نے حملہ کیا تو پاتال میں پناہ ملے گی نہ آسمانوں میں۔

‘ خلیفہ نے ہلاکو کو جوابی خط لکھا ’تم نے خود کو کائنات کا مالک سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ مشرق سے مغرب تک اہل ایمان میرے ساتھ ہیں، اس لیے بخیریت لوٹ جاؤ۔‘ دن پر دن گزرتے رہے اس دوران دریائے فرات کے کنارے آبادی کو ہلاکو خان کے سپاہیوں نے نشانہ بنانا شروع کر دیا جس پر خلیفہ نے فوج مقابلے کے لیے بھیجی جو تاتاریوں کے لشکر کے سامنے نہ ٹک سکی اور چند دن کے اندر عباسی خلافت کے سارے فوجی مارے گئے۔ بغداد کے شاہی محل کی اونچی دیواروں اور دیوہیکل دروازے کے پیچھے بیٹھے خلیفہ مستعصم متفکر تھے کہ اب کیا کیا جائے۔

ایسے میں ابن علقمی نے مشورہ دیا کہ وہ خود ہلاکو خان کا استقبال کرنے چلے جائیں، اسے مال ودولت سے نوازیں، ہلاکوں خان بے تحاشا دولت لے کر چلا جائے گا۔ 10 فروری 1258 کو خلیفہ چند فوجی افسران اور درباریوں کے ساتھ نکل کر ہلاکو خان کے خیمے کی طرف بڑھا تو ان کے ساتھ آنے والے تمام لوگوں کو خیمے کے باہر ہی روک لیا گیا اور خلیفہ کے خیمے کے اندر جاتے ہی سب کو قتل کر دیا۔ خلیفہ کو وہیں سے پکڑ کر قید خانے میں ڈال دیا گیا۔

اسے کئی روز تک بھوکا پیاسا رکھا گیا جب وہ بھوک سے نڈھال ہو گیا تو اسے نکال کر ہلاکو کے سامنے پیش کیا گیا۔ کئی روز سے بھوکے عباسی خلیفہ کو ہلاکو نے حکم دیا کہ وہ جو ہیرے جواہرات لایا ہے اسے کھائے۔ ہلاکو نے کہا ’کھاؤ یہ ہیرے جواہرات‘ خلیفہ بولا ’میں یہ کیسے کھا سکتا ہوں۔‘ جس پر ہلاکو بولا ’تو پھر یہ چیزیں جمع کیوں کیں، اگر تم اس دولت سے جنگ کا سامان خریدتے، سپاہی بھرتی کرتے تو شاید آج میں دریا عبور نہ کر پاتا۔

‘ جس پر عباسی خلیفہ نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا ’خدا کی یہی مرضی تھی‘ ہلاکو خان نے جواب دیا ’اب میں جو تمہارے ساتھ کرنے جا رہا ہوں وہ بھی خدا کی مرضی ہے۔‘ منگولوں کی روایات کے مطابق کسی بادشاہ کا زمین پر خون بہانا بدشگونی سمجھا جاتا ہے اس لیے ہلاکو نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ خلیفہ کو اس طرح سے مارو کہ خون زمین پر نہ گرے۔ خلیفہ کو قالین میں لپیٹ کر پہلے فوجیوں نے لاتھوں گھونسوں کا نشانہ بنایا اور پھر اس پر اس وقت تک گھوڑے دوڑائے جب تک موت واقع نہ ہو گئی۔

اس کے بعد ہلاکو کی فوجوں نے بغداد میں اس حد تک قتل و غارت کی کہ دریائے دجلہ کا پانی کئی روز تک سرخ رہا، کتب خانوں کو جلا دیا گیا، گلیوں میں پڑی لاشوں کے ڈھیر سے اٹھنے والے تعفن کی وجہ سے ہلاکو کو رہائشی خیمہ شہر سے باہر لے جانا پڑا۔ ایک اندازے کے مطابق پانچ سے دس لاکھ افراد کو قتل کیا گیا۔ اور ایک ہفتے تک منگول، عباسی خلافت کے دارالحکومت میں لوٹ مار کرتے رہے۔ ناظرین یہ تھا ہلاکو خان جس نے لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا اور پھر ایک بوڑھے مسلمان کی بددعا کی وجہ سے ہلاک ہو۔

اب کچھ ہلاکو خان کے بارے میں جانتے ہیں کہ وہ کہاں پیدا ہوا اور کیسے منگولوں کا حکمران بنا۔ ہلاکو خان ایل خانی حکومت کا بانی اور منگول حکمران چنگیز خان کا پوتا تھا۔ چنگیز خان کے لڑکے تولی خان کے تین بیٹے تھے۔ ان میں ایک منگو خان تھا جو قراقرم میں رہتا تھا اور پوری منگول سلطنت کا خان اعظم تھا، دوسرا بیٹا قبلائی خان تھا جو چین میں منگول سلطنت کا بانی تھا جبکہ تیسرا لڑکا ہلاکو خان تھا۔ منگو خان کے زمانے میں شمال مغربی ایران میں ایک اسماعیلی گروہ حشاشین نے بڑا ہنگامہ اور خونریزی شروع کررکھی تھی۔

یہ علاقہ منگولوں کے زیر حکومت تھا اس لیے وہاں کے باشندوں نے منگو خان سے اس ظلم و ستم کے خلاف فریاد کی۔ منگو خان نے اس شکایت پر اپنے بھائی ہلاکو خان کو 1256 ء میں ایران کا حاکم بناکر روانہ کیا اور اس کو اسماعیلیوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ ہلاکو نے اسماعیلیوں کے مرکز قلعہ الموت پر قبضہ کر کے اسماعیلی حکومت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا اور ان کے آخری بادشاہ خور شاہ کو قتل کر دیا۔ اسماعیلیوں کا زور توڑنے کے بعد ہلاکو خان نے بغداد کا رخ کیا تھاجو اس زمانے میں شیعہ سنی فساد کا گڑھ بنا ہوا تھا۔

خلیفہ مستعصم باللہ کے وزیر ابن علقمی نے ہلاکو خان سے سازباز کر کے ہلاکو کو بغداد پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا تھا۔ 1258 ء میں بغداد تباہ کرنے کے بعد ہلاکو خان نے پورے عراق پر قبضہ کیا۔ بصرہ اور کوفہ کے عظیم شہر تباہ و برباد کردیے۔ اس کے بعد منگول فوجوں نے شام پر حملہ کیا۔ منگول فوجیں اس اس کے بعد حلب پہنچ گئیں جہاں 50 ہزار مرد قتل عام میں مارے گئے اور ہزاروں عورتوں اور بچوں کو غلام بنالیا گیا۔ منگول فوجیں اسی طرح قتل و غارت کرتی اور بربادی پھیلاتی ہوئی فلسطین پہنچ گئیں۔

فلسطین میں ناصرہ کے جنوب میں عین جالوت کے مقام پر 1260 ء کو ایک خونریز جنگ میں مصر کے مملوکوں نے ان کو شکست دے کر پورے شام سے نکال دیا اور اس طرح مصر منگولوں کے ہاتھوں تباہی سے بچ گیا۔ ہلاکو خان نے ایران میں اپنی مستقل حکومت قائم کی جو ایل خانی حکومت کہلاتی تھی۔ اس نے مراغہ کو جو تبریز سے 70 میل جنوب میں واقع تھا اپنا دار الحکومت بنایا۔ بعد میں دار الحکومت تبریز منتقل کر دیا گیا۔ ہلاکو کے بعد اس کا بیٹا اباقا خان تخت نشین ہوا اس نے بھی اپنے باپ کی اسلام دشمن حکمت عملی جاری رکھی۔

اس نے پوپ اور یورپ کے حکمرانوں سے قریبی تعلقات قائم کیے اور عیسائیوں کو بیت المقدس پر قبضہ کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ اس نے یورپ کی تائید سے شام پر حملہ بھی کیا لیکن 1250 ء میں حمص کے قریب مملوک حکمران قلاؤن سے شکست کھاکر پسپا ہونے پر مجبور ہوا۔ جنگ عین جالوت 3 ستمبر 1260 کو مملوک افواج اور منگولوں کے درمیان لڑی جانے والی تاریخ کی مشہور ترین جنگ ہے جس میں مملوک شاہ سیف الدین قطز اور مشہور جرنیل رکن الدین بیبرس نے منگول افواج کو بدترین شکست دی۔

یہ جنگ فلسطین کے مقام عین جالوت پر لڑی گئی۔ اس فتح کے نتیجے میں مصر، شام اور یورپ منگولوں کی تباہ کاریوں سے بچ گئے۔ جنگ میں ایل خانی حکومت کے منگول بانی ہلاکو خان کا سپہ سالار کتبغا مارا گیا۔ مصر شام اور فلسطین کے سرحدی علاقوں پر مشتمل عین جالوت کا میدان ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میدان کو عین جالوت اس لیے کہتے ہیں کہ یہاں حضرت داؤد ؑ نے جالوت نامی ایک ظالم اور جابر بادشاہ کو شکست دی تھی۔ عین جالوت کے معنی ”جالوت کا چشمہ“ کے ہیں اور اس علاقے میں ہلاکو خان تین لاکھ کے لشکر کے ساتھ مصر پر حملہ آور تھا۔

بغداد میں مسلمانوں کے قتل عام کے حوالے سے ایک کہانی ہے جو بہت پاپولر ہوئی۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ بغداد پر تاتاری فتح کے بعد ، ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کر رہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟ جواب آیا : ایک عالم کے پاس کھڑے ہیں۔ دختر ہلاکو نے عالم کو اپنے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔ عالم کو تاتاری شہزادی کے سامنے حاضر کیا گیا۔ شہزادی مسلمان عالم سے سوال کرنے لگی : کیا تم لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے؟

عالم : یقیناً ہم ایمان رکھتے ہیں شہزادی :کیا تمہارا ایمان نہیں کہ اللہ جسے چاہے غالب کرتا ہے؟ عالم : یقیناً ہمارا اس پر ایمان ہے۔ شہزادی :تو کیا اللہ نے آچ ہمیں تم لوگوں پر غالب نہیں کر دیا ہے؟ عالم : یقیناً کر دیا ہے۔ شہزادی : تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ خدا ہمیں تم سے زیادہ چاہتا ہے؟ عالم : نہیں شہزادی : کیسے؟ عالم : تم نے کبھی چرواہے کو دیکھا ہے؟ شہزادی : ہاں دیکھا ہے عالم : کیا اس کے ریوڑ کے پیچھے چرواہے نے اپنے کچھ کتے بھی رکھ چھوڑے ہوتے ہیں؟

شہزادی : ہاں رکھے ہوتے ہیں۔ عالم : اچھا تو اگر کچھ بھیڑیں چرواہے کو چھوڑ کو کسی طرف کو نکل کھڑی ہوں، اور چرواہے کے ساتھ آنے کو تیار ہی نہ ہوں، تو چرواہا کیا کرتا ہے؟ شہزادی : وہ ان کے پیچھے اپنے کتے دوڑاتا ہے تاکہ وہ ان کو واپس اس کی کمان میں لے آئیں۔ عالم : وہ کتے کب تک ان بھیڑوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں؟ شہزادی : جب تک وہ فرار رہیں اور چرواہے کے اقتدار میں واپس نہ آجائیں۔ عالم : تو آپ تاتاری لوگ زمین میں ہم مسلمانوں کے حق میں خدا کے چھوڑے ہوئے کتے ہیں ؛ جب تک ہم خدا کے در سے بھاگے رہیں گے اور اس کی اطاعت پر نہیں آ جائیں گے، تب تک خدا تمہیں ہمارے پیچھے دوڑائے رکھے گا، تب تک ہمارا امن چین تم ہم پر حرام کیے رکھوگے ؛ ہاں جب ہم خدا کے در پر واپس آ جائیں گے اس دن تمہارا کام ختم ہو جائے گا۔

اسی طرح کا ایک واقعہ مولانا رومی کا بھی ہے کہ کیسے انہوں نے اپنے شہر قونیہ کو ہلاکو خان کے قتل عام سے بچایا تھا۔ اللہ کے ولی کو کبھی کوئی آفت پریشان نہیں کرتی تاوقت کہ اللہ کا حکم نہ ہو، تاریخ ایسے بے شمار واقعات کی شاہد ہے کہ اولیا اللہ کی جان لینے کے درپے دشمن خود مصیبتوں کا شکار ہو جاتے اور ان کی عقلیں خبط ہوجایا کرتی تھیں۔ جب ہلاکو خان قہر بن کر بغداد اور تبریز تک پہنچا تو وہ مولانا روم ؒ کے شہر قونیہ پر بھی یلغار کرنا چاہتا تھا مگر مولانا روم کے جلا نے اس کے سپاہیوں کو بے خود کر دیا تھا۔

یہ ولی اللہ کی شان ہے کہ زہر تلوار آگ اور تیر بھی اس پر اثر نہیں کرسکتی۔ تیرہویں صدی میں ہلاکو خاں کے سپہ سالار بیجو خاں نے قونیہ پر حملہ کیا اور اپنی فوجیں شہر کے چاروں طرف پھیلا دیں تو اہل شہر تنگ آ کر مولانا رومؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور عرض کی کہ اس قہر کو شہر برباد ہونے سے روک دیں۔ مولانا رومی نے ایک ٹیلے پر جو بیجو خاں کے خیمہ گاہ کے سامنے تھا جا کر مصلے ٰ بچھا دیا اور نماز پڑھنی شروع کر دی۔

بیجو خاں کے سپاہیوں نے جب مولانا رومی کو دیکھا تو تیر چلا کر آپؒ کو شہید کر نا چاہا۔ مگر کمانیں کھینچ نہ سکیں۔ آخر گھوڑے دوڑائے تاکہ تلوار سے قتل کردیں لیکن گھوڑے بھی اپنی جگہ سے ہل نہ سکے۔ تمام شہر میں غل غپاڑہ پڑگیا۔ سپاہیوں نے بیجو خاں سے جا کر یہ واقعہ بیان کیا۔ اس پر اس نے خیمہ سے نکل کر خود مولانا رومؒ پر کئی تیر چلائے مگر ایک بھی مولانا رومؒ کو جا کر نہ لگا۔ بیجو خان گھبرا کر گھوڑے سے اتر پڑا اور مولاناؒ کی طرف چلا لیکن پاؤں نہ اٹھ سکے۔ آخر محاصرہ چھوڑ کر بھاگ گیا۔ اس طرح مولانا رومی کا شہر قونیہ ایک ولی اللہ کی برکت و فیض سے قیامت صغریٰ سے بچ گیا۔

Latest posts by اجمل شبیر (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •