پاکستان میں کمیونٹی پولیسنگ کا تصور دینے والا پولیس افسر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں پولیس کا مجموعی کردار عوام کی نظروں میں کبھی بھی پسندیدہ اور قابل ستائش نہیں رہا، اسی لیے پولیس کو وہ اعتماد حاصل نہیں ہو سکا جو عوام اور پولیس کے درمیان محبت کا رشتہ استوار کر سکتا۔ پولیس افسران اور ملازمین کی اکثریت خدمت کی دعویدار تو ہے مگر حقیقی معنوں میں اس کی روح سے ناآشنا ہے۔ اس کا سبب انگریزوں کے بنائے ہوئے وہ پولیس رولز بھی ہیں جو انہیں خدمت کی بجائے حکمرانوں کی لاٹھی ہی بناتے ہیں۔

جب افسران ایسے کلچر کے پابند ہوں تو تھانے میں فرائض سرانجام دینے والا ایس ایچ او ہر طاقتور کی بیساکھی بنے بغیر کیسے گزارہ کر سکتا ہے۔ مملکت پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد پولیس کا کردار آزاد و خودمختار ملک کی طرز پر تشکیل نہ پا سکا۔ بلاشبہ اس ادارے کو غیر آئینی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو مسلط رکھنے کے لیے استعمال کیا لیکن اس ادارے کے افسران نے بھی جسٹس محمد منیر کی طرز پر ”نظریہ ضرورت“ کی راہ نکالی۔

”قانون سب کے لئے برابر ہے“ کا اصول صرف کتابوں اور دیواروں پر لکھنے کے لئے رہ گیا۔ جب قومی ادارے تباہ ہوئے تو پولیس بھی اس کی زد میں آئے بغیر نہ رہ سکی۔ ہر افسر اور ملازم کو یہ پیغام ملا کہ اگر اچھی پوسٹنگ لینی ہے تو ہمیشہ طاقتور کے ساتھ رہو۔ جب پولیس نے طاقتور کا ہاتھ تھاما تو کمزور عوام کی پیٹھ ننگی ہو گئی۔ حکمرانوں سے اختلاف کرنے والوں کے لئے تھانے عقوبت خانوں میں تبدیل ہو گئے۔ ارباب بست و کشاد کی خوشنودی اور اپنی نوکری پکی کرنے کے لیے پولیس عوام کے بجائے خواص کی بن کر رہ گئی۔ جرائم پیشہ افراد کو چھوٹ مل گئی اور وہ کھلے عام دندناتے پھرنے لگے۔

اسی ماحول میں اعوان گھرانے سے تعلق رکھنے والے نوجوان (اولڈ راوین) ملک خدا بخش اعوان نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن اور ایف سی کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ماسٹر کرنے کے بعد 1982 ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پولیس سروس آف پاکستان میں شمولیت اختیار کر لی۔ ملک خدا بخش اعوان کو ایک سالہ پولیس ٹریننگ کے لیے پولیس کالج سہالہ بھیجا گیا، جہاں پولیس قوانین، دفعات، ناکے، تفتیش اور امن وامان قائم کرنے کے طریقے پڑھائے جاتے تھے۔

ہر بات صاف ستھرے انداز میں سکھائی جاتی تھی لیکن فیلڈ میں آنے کے بعد ہر افسر با اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کس سانچے میں ڈھالتا ہے۔ پولیس چارٹر کا جائزہ لیں تو عجیب و غریب دلچسپ صورت حال دکھائی دیتی ہے۔ پولیس لاء میں انسانوں کی خدمت اور ہمدردی کا کوئی تصور نہیں اور نہ ہی عوام کی سروس اس کے مقاصد میں شامل ہے۔ امن وامان قائم رکھنا، مجرم اور جرائم کی سرکوبی کرنا پولیس کے بنیادی فرائض ہیں جبکہ پاکستان کے عوام پولیس سے ”پولیس برائے ویلفیئر“ کی توقع رکھتے ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ پولیس ان سے بھلائی کرے، سیدھا راستہ دکھائے یا یوں کہیں کہ ”پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی“ کا نعرہ اپنے مفہوم کے اعتبار سے حقیقی روپ میں نظر آنا چاہیے۔ یہ نعرہ خوش نما ضرور ہے مگر عمل کی دنیا میں اس کی حیثیت ”مرد مومن مرد حق“ صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے نعرہ نفاذ اسلام جیسی ہے۔

قانون پولیس افسران کو ان خدمات کے فراہم کرنے کا پابند نہیں کرتا، یہیں سے ہر پولیس افسر کا انفرادی کردار شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے پاس بھلائی کرنے کا اختیار اور گنجائش بہت زیادہ ہے۔ وہ چاہے تو اپنے خول سے باہر نکل کر لوگوں سے بھلائی کر سکتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ترقی پذیر ممالک میں پولیس خوف کی علامت بن چکی ہے۔ پولیس کا روایتی کردار جاگیردارانہ نظام کے زیر اثر ہے۔ عموماً پولیس فیصلہ کرتے ہوئے ”طاقت کے مراکز“ کو مدنظر رکھتی ہے، جس کی وجہ سے ایسے تمام مسائل جو تھانہ کی سطح پر ہی انصاف کے تقاضے پورے کر کے حل ہو سکتے ہیں، پولیس کے روایتی کردار کی بدولت انصاف کا منہ چڑاتے ہیں۔

ملک خدا بخش اعوان کو ٹریننگ کے بعد اے ایس پی (انڈر ٹریننگ) فرنٹیئر کانسٹیبلری ہنگو ضلع کوہاٹ تعینات کر دیا گیا۔ بطور اے ایس پی وہ میانوالی صدر اور چیچہ وطنی میں اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اے ایس پی کی پوسٹ اپنے عہدہ کے نام کی مناسبت سے ہی اختیارات کی حامل ہوتی ہے۔ اختیارات کا مرکز ایس ایس پی ہوتا ہے۔ عموماً چھوٹے موٹے کام اور انکوائریاں اے ایس پی کو تفویض کی جاتی ہیں۔ یوں سمجھیں کہ کسی اچھے افسر کی صلاحیتوں کو دفن کرنے کے لیے یہ عمدہ پوسٹ ہے لیکن دانشوروں کی آراء یہاں درست معلوم ہوتی ہیں کہ اکثر بڑی پوسٹوں پر چھوٹے اور چھوٹی پوسٹوں پر بڑے لوگ ہوتے ہیں۔

ملک خدا بخش اعوان نے اے ایس پی کی چھوٹی پوسٹ کو اپنے بڑے پن سے بڑا کر دیا۔ 1988 ء میں انہیں ایس پی کے عہدے پر ترقی دے کر فیصل آباد سٹی میں تعینات کر دیا گیا، بعد ازاں ایس پی کی حیثیت سے ملک خدا بخش اعوان نے پاک پتن اور قصور میں خدمات انجام دینے کے علاوہ آئی جی پنجاب پولیس کے سٹاف افسر کے طور پر بطور اے آئی جی (ڈسپلن) کام کیا۔ 1999 ء میں انہیں 19 ویں گریڈ میں ترقی دے کر ایس ایس پی ضلع بہاولنگر تعینات کر دیا گیا۔

اسی دوران وفاق نے ان کی خدمات صوبہ خیبر پختونخوا کے سپرد کردیں جہاں انہوں نے بطور ڈائریکٹر انٹی کرپشن اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اس حیثیت میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی تنظیم نو، قواعد و ضوابط کا اجراء اور قانون کا بلا امتیاز اطلاق ان کے چیدہ چیدہ کارنامے ہیں۔ 2002 ء میں ان کی خدمات سپیشل برانچ پنجاب اور سی آئی ڈی کے حوالے کر دی گئیں۔ کچھ عرصہ بطور ایس ایس پی /ڈی پی او ضلع ساہیوال اپنے فرائض سرانجام دینے کے بعد مئی 2007 ء میں ملک خدا بخش اعوان کو بطور ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ برانچ) سنٹرل پولیس افسر لاہور میں تعینات کر دیا گیا۔

اس چیلنج کو انتہائی خوش دلی کے ساتھ قبول کرتے ہوئے انہوں نے نہایت جرات اور اعتماد سے اپنا کام شروع کیا۔ انہوں نے جو مشاہدات اور تجربات بیرونی ممالک میں کیے تھے، محدود وسائل اور لامحدود مسائل کے باوجود انہیں بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا۔ اپنی انقلابی سوچ اور سکیموں کو عملی جامع پہنانے کے لیے پولیس کو ذہنی طور پر تیار کیا۔ یہ نہایت کٹھن اور مشکل راستہ تھا لیکن انہوں نے ریاست سے وفاداری اور قوم سے محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر ہمہ گیر تحریک شروع کر دی۔ اس مختصر عرصے میں انہوں نے پولیس افسران اور جوانوں کو کمیونٹی پولیسنگ کی افادیت سے آگاہ کیا۔

کچھ عرصے بعد ملک خدا بخش اعوان کو ریجنل پولیس افسر بہاول پور تعینات کر دیا گیا۔ ان کی تعیناتی سے پہلے بہاول پور ریجن میں امن وامان کی صورتحال نہایت مخدوش تھی۔ بدامنی، پرتشدد واقعات اور ڈکیتیوں کی وارداتوں نے عام آدمی کی نیند حرام کر دی تھی۔ پولیس کی کارکردگی سے مایوسی اور عمومی عدم تحفظ کے احساس ایسے مسائل تھے جن پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ یہ شکایت عام تھی کہ پولیس ظالموں اور با اثر ملزموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی۔

اس صورت حال کے پیش نظر ملک خدا بخش اعوان نے کمیونٹی پولیسنگ کے نکتہ نگاہ سے جامع منصوبہ بندی کی۔ انہوں نے آر پی او بہاول پور کی حیثیت سے عوام الناس کی مشاورت سے باہمی حفاظت کے نظام کا منفرد تجربہ کیا اور تھانوں سے محروم علاقوں کے عوام کے مسائل کے حل اور ان کی آسانی کے لیے ”موبائل پولیس سٹیشن“ کا عملی نظریہ پیش کیا۔ انہوں نے عوام اور پولیس کو ہمقدم کرنے کے لئے سٹیزن پولیسنگ لائزان کمیٹی بنائی تاکہ پولیس اور عوام کے درمیان اشتراک عمل بڑھے۔

ملک خدا بخش اعوان نے پورے ریجن میں عوام کی سہولت کے لئے شکایت سیل بنائے تاکہ ہر شخص باآسانی اپنی شکایت درج کرا سکے۔ انہوں نے علماء کرام اور دانشوروں سے مسلسل رابطہ رکھا تاکہ ہر سطح کے مسائل کو مل جل کر حل کیا جا سکے۔ انہوں نے لوگوں کی پرانی دشمنیوں کے خاتمے کے لیے مشاورتی عمل کو تیز کیا جس کے نتائج انتہائی خوشگوار برآمد ہوئے۔ عوام کا پولیس پر جب اعتماد بڑھا تو سماج دشمن عناصر کے خلاف عوام اور پولیس کے درمیان اتحاد قائم ہو گیا۔

ملک خدا بخش اعوان نے کمیونٹی پولیسنگ نظام کے تحت جہاں عوام کو ساتھ ملایا وہاں انہوں نے پولیس ملازمین کی ترقی و بہبود کا بھی خیال رکھا۔ ڈی پی او اظہر حمید کھوکھر، ایس ایس پی چوہدری محمد سلیم، ایس ایس پی گوہر مشتاق بھٹہ اور کئی سینئر پولیس افسران کے ساتھ کوارڈینیشن اور ٹیم ورک کی صورت میں بہاول پور میں جرائم کے خاتمے اور امن و امان کی فضا پیدا کرنے کے لئے اپنے مشن پر پوری توجہ دی۔ اس دوران مجرموں کے خلاف کئی معرکے ہوئے، خطرناک ڈاکوؤں، چوروں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ بہت سے خونی مقابلے ہوئے۔

بہاول پور ریجن میں انہیں انتہائی نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان کی نیک نیتی، ٹیم ورک، بے مثال دیانت اور خدائے بزرگ و برتر پر پختہ یقین نے انہیں ہر خطرے اور سازش سے محفوظ رکھا۔ 2009 ء کے اواخر میں حکومت نے ان کا تبادلہ کر کے انہیں سنٹرل پولیس آفس لاہور میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (فنانس) تعینات کر دیا۔ کہتے ہیں کہ باصلاحیت انسان کو کہیں بھی بھیج دیں، وہ بنجر اور سنگلاخ زمین میں بھی پھول کھلا سکتا ہے۔

ملک خدا بخش اعوان محنت کے ساتھ خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔ 2010 ء میں حکومت نے انہیں 21 ویں گریڈ میں ترقی دے کر ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ برانچ) پنجاب تعینات کر دیا۔ بعد ازاں ملک خدا بخش اعوان ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس (پیٹرولنگ) کے عہدے پر فائز رہے۔ جنوری 2013 ء میں انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب حاجی حبیب الرحمن نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد آئی جی پنجاب کے عہدے کا چارج ملک خدا بخش اعوان کے حوالے کیا۔ چند دنوں کے لئے انہوں نے اضافی چارج کے طور پر قائم مقام انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کے فرائض منصبی سرانجام دیے، بعد ازاں انہوں نے آئی جی پنجاب کے عہدے کا چارج خان بیگ کے حوالے کر دیا۔ آپ آئی جی آزاد کشمیر پولیس کے طور پربھی اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔

حکومت پاکستان سول سروس آف پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہر شخص کو اعلیٰ تعلیم و تربیت کے لئے بیرون ملک بھیجتی ہے اور ان کے لئے مختلف پیشہ وارانہ کورسز کا اہتمام کرتی ہے۔ ملک خدا بخش اعوان نے بھی دوران سروس مختلف پیشہ وارانہ کورسز کیے جن میں اینٹی ٹیررسٹ کورس، وی وی آئی پی پروٹیکشن کورس، پرسنل مینجمنٹ کورس، کریٹیکل انسیڈنٹ مینجمنٹ کورس، آئی ایس او 9000، ہیومن رائٹس کورس اور 34 واں ایڈوانسڈ کورس شامل ہیں۔

ملک خدا بخش اعوان نے مختلف موضوعات پر کتابیں اور ریسرچ پیپرز بھی لکھے۔ 2007 ء میں ان کی کمیونٹی پولیسنگ کے موضوع پر انگریزی زبان میں ایک شاندار کتاب ”بیناولنٹ پولیسنگ“ (BENEVOLENT POLICING) منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئی، یہ کتاب ان کی علمی و ادبی صلاحیت اور بین الاقوامی مطالعہ کا بین ثبوت ہے۔ اہل علم حلقے ان کی مذکورہ کتاب کو پولیسنگ سسٹم کے لئے ایک گراں قدر دستاویز قرار دے چکے ہیں۔ اس کتاب میں دنیا بھر میں رائج مختلف پولیس سسٹمز کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے اور مزید برآں اس سسٹم میں موجود خامیوں اور خوبیوں کی نشاندہی، معاشی، معاشرتی اور طبقاتی تناظر میں سیر حاصل تجزیے کتاب کی افادیت کو واضح کرتے ہیں۔ مذکورہ کتاب میں خاص طور پر پاکستانی پولیس سسٹم پر بے لاگ تجزیہ، اس شعبہ کو آئندہ پیش آنے والے حالات و مسائل، ان کا درست ادراک اور ان کا حل پیش کیا گیا ہے۔

ملک خدا بخش اعوان نے اپنی تصنیف میں پولیس کے حالات کار، استعداد اور سہولتوں پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ملک خدا بخش اعوان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پولیس کو عصر حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اسے جدید خطوط پر استوار کرنا ضروری ہے اور وہ اصرار کرتے ہیں کہ پولیس کا بنیادی مقصد لوگوں کی خدمت، ان کا تحفظ اور عزت نفس کا احترام ہے۔ وہ اس بات کو برملا تسلیم کرتے ہیں کہ پولیس ایکٹ 1861 ء برصغیر پر قابض انگریزوں کا وضع کردہ ہے، جس کا مقصد انگریز کے اقتدار کا تحفظ اور وفاداری تھا تاکہ عوام غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رہیں اور اگر آزادی کی تحریک کہیں بھی اٹھے تو اسے طاقت کے زور پر کچل دیا جائے۔

یہی وجہ ہے کہ عوام پولیس کو اپنا دشمن اور انگریز کی پالتو فورس تصور کرنے لگے جس کی وجہ سے نفرتیں بڑھنے لگیں، پولیس اور عوام کے درمیان فاصلوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد ہمارے ملک کے حالات، تقاضے اور ضروریات یکسر تبدیل ہو گئیں لیکن پولیس کی ذمہ داریوں اور طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جس کی وجہ سے پولیس انگریزی دور کی طرز پر ہی کام کرتی دکھائی دیتی ہے۔ نفرتوں کا عالم بھی ویسا ہی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ آزادی سے قبل پولیس انگریز کے لئے کام کرتی تھی، آزادی کے بعد یہ صرف ہماری حکومتوں کے لئے کام کرتی ہے۔

ملک خدا بخش اعوان کے مطابق گزشتہ برسوں کی آئینی و سماجی شکست و ریخت کی وجہ سے معاشرے میں بے شمار خرابیاں پیدا ہوتی گئیں۔ ملک کو منشیات اور کلاشنکوف کلچر کا روگ لگا۔ تخریب کاری میں اضافہ ہوتا گیا۔ نسلی و لسانی عصبیت نے ملک کو زنجیروں میں جکڑ لیا۔ فرقہ واریت کا عفریت اچانک نمودار ہو کر چھا گیا۔ طلبہ میں بے راہ روی کے ناسور نے جنم لیا، الغرض اعلیٰ جذبوں اور نیک ارادوں کے باوجود ہم اپنے ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے کچھ کرنے کی بجائے الجھنوں اور مشکلات میں گھرتے چلے گئے۔

دوسری طرف ان تمام معاشرتی برائیوں اور فرقہ واریت سے نمٹنے کے لئے پولیس کا وہی ادارہ ہے جس کی بنیاد انگریز رکھ کر گیا تھا، یعنی کم سے کم وسائل میں زیادہ سے زیادہ کام لینا اور اسے حکومت کے ادارہ کے طور پر استعمال کرنا، جس کی وجہ سے عوام میں عدم تحفظ کا احساس دوبارہ جڑ پکڑنے لگا اور قانون شکنی بڑھنے لگی۔ ملک خدا بخش اعوان اپنی پولیس کا دیگر ممالک کی پولیس سے موازنہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ برطانیہ کے علاوہ جاپان، سنگاپور، ملائشیا اور دیگر ممالک میں بھی ہر جگہ پولیس کی ایک ہی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ فراہم کرتی ہے۔

وہاں پولیس قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرتی ہے، جس کی وجہ سے وہاں کے عوام اپنی پولیس سے نالاں ہونے کی بجائے اسے اپنا مددگار، غمگسار اور حقیقی معنوں میں محافظ تصور کرتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں معاملہ الٹ ہے۔ ملک خدا بخش اعوان کی بیرونی ممالک کے دوروں کے دوران سب سے زیادہ دلچسپی وہاں کے پولیس نظام میں رہی کہ وہاں کی پولیس کن وجوہات کی بنا پر اپنے عوام میں ہر دلعزیز ہے۔ وطن واپس آ کر انہوں نے اپنے مشاہدات و تجربات کو فیلڈ میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وطن عزیز محبت اور امن کا گہوارہ بن سکے۔

ملک خدا بخش اعوان کی دوسری تصانیف میں خود حفاظتی کے طریقے، جرائم سے بچاؤ کی تدابیر اور جرائم کی بیخ کنی کے نفسیاتی اسباق شامل ہیں۔ ان کی کتب ان کے پیشہ وارانہ دور کے مختلف مراحل کی ہیں جن کے اندر ناصحانہ تلقین، عالمانہ رنگ، خطیبانہ طرز بیان اور تاریخی حوالہ جات کا منطقی اسلوب چھلکتا ہے۔ ان کی تصانیف کے آخر میں حوالہ جات اور مصادر و مراجع کی ترتیب و تدوین ان کی تحقیقی ذوق اور وسعت مشاہدہ و مطالعہ پر شاہد ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی انگریزی تصانیف کا اردو زبان میں بھی ترجمہ شائع کرائیں تاکہ اردو دان طبقہ ان کی تخلیقات سے مستفید ہو سکے۔

15 جنوری 2017 ء کو پولیس سروس آف پاکستان سے ریٹائر ہونے والے ملک خدا بخش اعوان کا دل قوم کے درد سے سرشار ہے۔ وہ قوم کے تمام امراض کا علاج کرنا چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی ترقی کو وہ امن سے مشروط قرار دیتے ہیں اور امن کی بحالی کے لئے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لانے کے متمنی ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ بہاول پور میں کمیونٹی پولیسنگ کا انہوں نے جو کامیاب تجربہ کیا اسے ملک بھر میں رائج کیا جائے اور پاکستان بھر کی پولیس کو انہی خطوط پر استوار کیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •