آگ کی بددعا اور نیرو کا سکون!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روم جل رہا تھا اور لے پالک بدنام زمانہ حکمراں بانسری بجا رہا تھا، نیرو نے پہلے اپنی ماں ’ایگریپینا دی ینگر ”پھر اپنی دونوں بیویوں کو قتل کیا اور اپنی مجنونانہ اشتعال انگیز طبعیت کی غلامی میں نئے شہر بسانے کے لئے‘ گریٹ فائر آف روم ’ کی منصوبہ بندی کی، نیرو خوش تھا کہ وہ“ نیا روم ”بنائے گا، اس کی کج ذہنی یہیں تک محدود نہیں تھی بلکہ اس نے کئی شہروں کو آگ میں جھونکنے کے الزام میں شدید تشدد کے بعد روم کے بچ جانے والے شہریوں کو بھی مقدمات چلا کر مروا دیا، لیکن اسے سکون و خوشی پھر بھی نصیب نہیں ہوئی اور بالآخر نیرو نے خود کشی کرلی۔

نیرو کا روم آج بھی ہر سال نو پر جلتا ہے۔ نئے سال کی تقریب میں اہل روم نے وہی کچھ دوبارہ کیا جو ہر برس کرتے ہیں، 2021 کے جشن انسانی میں آتش بازی سے سیکڑوں پرندے جل مرے۔ مئیر روم کا کہنا تھا کہ عوام نے پابندی پر عمل نہیں کیا۔ انسانوں کی خوشی پر نذر آتش ہو کر قربان ہونے والے سیکڑوں پرندوں کو سڑکوں پر مرے پڑے دیکھا، تو محسوس ہوا نیرو آج بھی زندہ ہے۔

اسلام آباد میں ایک شہری کو پولیس اہلکاروں نے مبینہ پولیس مقابلے میں گولیاں مار دیں، قابل مذمت، شرم ناک و افسوس ناک سانحہ ہے جس نے بھی احساس کیا، وہ خون کے آنسو رویا۔ سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے سخت تشویش کا اظہار کیا تو سوشل میڈیا میں تو سونامی آیا ہوا تھا۔ جذبات میں جو جو کچھ لکھا گیا، غم و غصے کا جتنا اظہار ہوا، وہ کم لگ رہا تھا۔ شدت جذبات میں اہل علم بھی وہ وہ کچھ کھل کر کہہ گئے جو اس سے قبل دبے دبے لفظوں میں کہتے رہے تھے۔ سانحہ کو ساہیوال، ماڈل ٹاؤن، نقیب اللہ محسود سمیت ان گنت واقعات سے تشبیہہ دی گئی ۔ سری نگر سے مماثلت کا ایک اور ٹرینڈ ریاست مخالف رویے کی ضد میں چلایا گیا۔ غرض کہ جو جیسا کہہ سکتا تھا اس نے کہا، جو لکھ سکتا تھا، اس نے لکھا۔

جب بھی روم کے نیرو کو پڑھتا ہوں تو کراچی کے وہ معصوم بے گناہ شہری یاد آ جاتے جو سیکڑوں کی تعداد میں لسانیت کی سیاسی آگ میں مارے گئے، منی پاکستان جل رہا تھا، لیکن نیرو ’سب ٹھیک ہے‘ کہ بانسری بجا رہا تھا، سوات، شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت قبائلی علاقے و مالاکنڈ ڈویژن سمیت خیبر پختونخوا مکمل انتہا پسندی کے ہاتھوں جل رہے تھے، لیکن نیرو بانسری بجاتا رہا۔ بلوچستان ابھی تک جل رہا ہے، مچھ کے علاقے گشتری میں کان کنی کے محنت کشوں کو لسانی شناخت کے بعد پہاڑی علاقے میں مار دیا گیا، لیکن نیرو اب بھی ’سب ٹھیک ہے‘ کی بانسری بجا رہا ہے۔

ریاستی اداروں نے مختلف آپریشن کر کے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے ، کراچی کو لسانی دہشت گردوں سے بچایا تو شمال مغربی سرحدوں کے رہنے والوں کو قوم پرستی و مذہب کے نام پر مزید جلنے سے بچایا۔ بلوچستان میں پہاڑوں پر جانے والوں کو واپس بلانے و معاف کرنے کی دعوت دی گئی، لیکن جلتی آگ کی چنگاری اب بھی بھڑک رہی ہے، یہ آگ ابھی بجھی نہیں۔

سیاسی جماعتوں (حکمراں و حزب اختلاف) کے درمیان دنگل ہے، کوئی اسے سرکس کہتا ہے تو کوئی ایسے جمہوری حق، لیکن سب کے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبان چاک کر رہے ہیں۔ عوام مہنگائی، بے روزگاری، عدم تحفظ اور بے یقینی کے فضا میں جل رہے ہیں لیکن نیرو بانسری بجائے جا رہا ہے۔ جس سمت نظر آٹھائیں تو نیرو کو بانسری بجاتے اور وطن عزیز کو جلتے دیکھیں گے۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ نیرو عوام سے بھی ہیں، کیونکہ شارٹ ٹرم میموری کی بیماری کا شکار ہیں، جو آئے روز اندوہناک واقعات کو دیکھتے ہیں، لال لال لہرائے گا کا نعرہ بھی لگاتے ہیں، پھر بھول جاتے ہیں، پھر کچھ ہوتا ہے، پھر اٹھتے ہیں، پھر بھول جاتے ہیں، انہوں نے جسے اپنا رہبر بنایا، اسی نے دستانے پہنے بغیر لہو بہایا، کمین گاہ سے نکلے، اپنوں کے تیر سے زخمی ہونے والوں نے، اپنے جسم سے تیر تو نکالا لیکن اس کمان کو نہیں توڑا جو آج بھی تیر پر تیر برسا رہا ہے۔

کرک میں ویران مندر کو جلا کر نہ جانے کیا پیغام دیا گیا، تین مرلے کا ویران مندر ہو، یا اسلام آباد میں اقلیتوں کے لیے نئی پرستش گاہوں کی تعمیر کا معاملہ، مخصوص عناصر اسلام کے عالمگیر انسانیت کے تصور کو مسخ کرانے کے لئے تن من دھن کی بازی لگا دیتے ہیں۔ حالاں کہ اسلام کا تو آفاقی حکم ہے کہ کسی کے جھوٹے خدا کو گالی تک نہ دو۔ اسلام کے بعض نام لیوا شاید قرآن میں دیے گئے احکامات نہیں جانتے، ورنہ وہ سمجھ جاتے کہ امن و سلامتی کے نام پر عالمگیر انسانیت کا دین اسلام ہمیں تمام مذاہب کا احترام سکھاتا ہے، لیکن چنگاری کو نہ بجھانے کی وجہ سے ہر سطح پر وطن عزیز کے خلاف سازشوں کا جال بنا جا رہا ہے اور نیرو اب بھی سکون سے بانسری بجا رہا ہے۔

اب بھی وقت ہے کہ اپنا قبلہ درست کر لیا جائے، کسی قوم کو نافرمانیوں پر اتنی مہلت نہیں ملا کرتی۔ یاد رکھیں کہ نیرو کی لگائی ہوئی آگ نے اسے سکون نہیں دیا۔ وطن عزیز کو آگ میں جھونکنے والوں کو بھی قبر میں بھی سکون نہیں ملے گا۔ آگ کی بددعا سے بھی ڈریں کیونکہ یہی ہم سب کے حق میں بہتر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •