ایک ہی چاند تھا سرآسماں


فاروقی صاحب سے میری پہلی باقاعدہ ملاقات ڈاک بھون میں 1993 کے شروع میں احمد محفوظ صاحب کی وساطت سے ہوئی ۔ یہ ملاقات اس اعتبار سے بھی قابل ذکر ہے کہ یہ اچھی ملاقات نہیں تھی۔ میرے لیے تو اپنے نظریات بہت حد تک ذاتی نوعیت کی چیز رہے ہیں مگر فاروقی صاحب کا معاملہ مختلف تھا۔ وہ جن نظریات کے حامی تھے، اردو دنیا میں اس حلقے کے وہ امام بھی تھے، اس لیے، وہ اپنے نظریات کی سختی سے پابندی اس طرح کرتے تھے کہ خصوصاً اردو والوں کے ساتھ اس باب میں وہ کسی طرح کے تکلف اور رعایت کے قائل نہ تھے۔

اس زمانے میں یہ خیال مجھ پر کچھ زیادہ ہی حاوی تھا کہ اگر کسی ایسے شخص سے ملاقات ہو جس کے نظریات سے میں واقف ہوں اور وہ مجھ سے مختلف ہوں تو ابتدا میں ہی اپنے مسلک کا اعلان کر دیا جائے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب فاروقی صاحب کے سامنے بولنے کی ہمت ان سے مختلف نظریات رکھنے والوں کو تو دور، ان کے مقلدین کو نہ بھی ہوتی تھی مگر میں نے جرأت کر کے انھیں بتادیا کہ میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کا ممبر ہوں۔ (پارٹی اور اس سے بھی زیادہ پارٹی والوں سے میرا ہر طرح کا رشتہ 2004 میں ختم ہو گیا) یہ اطلاع ان کے لیے سخت تکدر کا سبب ہوئی۔

وہ اس زمانے میں بہت بڑے افسر بھی تھے۔ اس طرح کی بات کہنا آسان ہے کہ ہم نے فلاں کے سامنے یہ کہہ دیا یا وہ کر دیا مگر یہ سب کرنا جتنا مشکل ہے، اس کا اندازہ صرف ان ہی کو ہے جنھوں نے واقعتاً کبھی اس قسم کی جرأت کی ہو۔ اتفاق سے اسی وقت ایک افسر آئے جن سے فاروقی صاحب سخت ناراض تھے۔ اس افسر کے جانے کے بعد ان کی فطری شرافت کا اظہار ہوا۔ کہنے لگے نظریات چھوڑو، یہ بتاؤ کہ پڑھا کیا ہے؟ پھر جب بات شاعری کی شروع ہوئی تو کہنے لگے کہ آپ تو خود کو ترقی پسند کہہ رہے تھے پھر آپ نے ان سب شاعروں کو کیوں پڑھا؟

میں نے قدرے جسارت سے کہا کہ میں کسی بھی ’منشور‘ کو پوری طرح نہیں مانتا، اس لیے سرخوں میں بھی معتوب ہوں۔ اس سے ان کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ کچھ دن کے بعد انھوں نے کمال شفقت سے مجھے خط لکھا اور گھر پر کھانے کی دعوت دی۔ ہوسٹل میں رہنے والے طالب علم کو دعوت دے کر کون کھانے پر بلاتا ہے، اس کا احساس مجھے تھا۔ احمد محفوظ صاحب پھر ساتھ تھے۔ اس دن اتفاق سے ان کے گھر کے تقریباً تمام لوگ موجود تھے اور وہ لمبی دوپہر خوش گپیوں میں گزری۔

کوئی نظریاتی بات یا یوں کہیے کہ ایسی بات جس میں نظریاتی تصادم ہو، نہیں ہوئی۔ پھر ایک اور ملاقات ہوئی جس میں ان کا انٹرویو ریکارڈ کیا گیا۔ یہ وہی انٹرویو تھا جس میں انھوں نے 1993 میں یونی ورسٹیوں کے اردو شعبوں میں برسر کار اساتذہ کو جاہلوں کی چوتھی نسل کہا تھا، یہ جملہ بہت مشہور ہوا۔ آج بھی یہ سننے کو مل جاتا ہے۔ یہ انٹرویو لاہور کے مشہور انگریزی روزنامے The Nation میں چھپا تھا۔ اس انٹرویو میں اپنے خیال میں صحافتی دیانت داری کے تحت جو گستاخی میں نے کی، وہ نیشنل اردو رائٹرز ایسوسی ایشن سے فاروقی صاحب کی وابستگی سے متعلق سوال تھا۔ یہ تنظیم ایمرجنسی میں سنجے گاندھی نے بنائی تھی اور اس میں فاروقی صاحب بھی بڑے عہدے دار تھے، انھوں نے اس سوال کا برا نہیں مانا اور جواب دیا۔ اس انٹرویو کا اردو متن اب بھی کبھی کبھی شائع ہوجاتا ہے۔ محمد عمر میمن نے اپنی معروف سنک میں اسی اردو متن سے اس کا انگریزی ترجمہ کر کے اسے Annual of Urdu Studies میں شائع کیا تھا۔

اس کے کچھ روز بعد فاروقی صاحب ریٹائر ہو کر الٰہ آباد چلے گئے۔ کچھ دن بعد پھر مجھے ان کا خط ملا کہ وہ مختلف ملکوں کا ویزا لینے کے لیے دہلی آرہے ہیں۔ سب سے پہلے ہم امریکی سفارت خانے گئے تو اندازہ ہوا کہ دنیا واقعتاً کیسی ہے، اس کا فاروقی صاحب کو کچھ بھی اندازہ نہ تھا۔ وہ 1958 میں سرکاری نوکری میں آ گئے تھے۔ ان کی نوکری بھی کچھ ایسی تھی کہ باہر کی دنیا کی بدصورتی کا انہیں براہ راست کوئی تجربہ اس عہدے پر رہتے ہوئے کبھی نہ ہوا ہوگا جس پر وہ 1993 تک متمکن رہے۔

اپنا ویزا لینے پہلی بار وہ کسی سفارت خانے گئے تھے۔ اس سے پہلے ان کے ماتحت افسران یہ کام کرتے تھے۔ امریکی سفارت خانے کے باہر اس زمانے میں جو بھیڑ ہوتی تھی اس کے ساتھ کچھ دیر کھڑے ہو کر انہیں ایک نئی دنیا سے شاید پہلی بار واقفیت ہوئی۔ ویزا کے لیے سفارت خانے کے اندر جانے سے پہلے دوست اور اعزا، خصوصاً نئے شادی شدہ جوڑوں میں ہندستانی نژاد امریکی بیوی اپنے ہندستانی شوہر کو جس طرح سمجھاتی تھی، وہ سب میرے لیے بھی دل چسپ تھا مگر فاروقی صاحب کے لیے بالکل نیا تھا۔

لائن میں عام لوگوں کے ساتھ لگنے کا کوئی تصور بھی ظاہر ہے کہ ان کے ذہن میں نہ تھا۔ فاروقی صاحب اس دن جس اذیت سے گزرے، وہ ناقابل بیان ہے۔ ایک میل یا اس سے بھی زیادہ لمبی لائن۔ ان کا ویزا فارم اس لیے نامکمل تھا کہ ان کے پاس مطلوبہ رقم کا ڈیمانڈ ڈرافٹ نہیں تھا جو میں نے انہیں بتائے بغیر سفارت خانے کے باہر سے ہی بلیک میں خرید لیا جہاں اس طرح کے ڈرافٹ تیار شکل میں بک رہے تھے۔

لنچ سے ذرا پہلے فاروقی صاحب اندر جا پائے، پھر لنچ ہو گیا اور وہ باہر آ گئے۔ لنچ کے بعد ان کا فارم جمع ہو پایا اور کئی دن کے بعد انھیں پہلا ویزا ملا۔ میں نے پیش کش کی کہ اب آپ کسی اور سفارت خانے نہ جائیں، میں آپ کے ویزا فارم جمع کرانے کی کوشش کروں گا۔ اس زمانے میں یہ ممکن تھا مگر انہیں کئی ممالک کے ویزے لینے تھے جس میں پندرہ دن تو لگے ہوں گے۔ اس درمیان وہ گھر پر ہی اختلاج کی کیفیت سے گزرتے رہے۔

پڑھنے کے لے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6