ایک ہی چاند تھا سرآسماں
’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ پر میرا انگریزی مضمون وہ دیکھ چکے تھے اور اس کو شائع شدہ شکل میں دیکھنے کے خواہاں تھے۔ جب باراں صاحبہ نے میری بات کرائی تو میں نے انھیں مضمون کی اشاعت کے بارے میں بتایا تو خوش ہوئے اور کہا رسالہ بھیجو۔ مجھے ان کی حالت کا اندازہ تھا مگر ان کے ذہن کی اس قوت پر ایک مرتبہ پھر رشک آیا کہ وہ کیسی غیرمعمولی ہے، اور اس سے زیادہ اس پر تعجب ہوا کہ علم کس طرح ان کی زندگی کا واحد محور و مرکز ہے۔
ہفت روزہ ’ہماری زبان‘ میں بھی ایک مضمون وزیر خانم جو ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ کا مرکزی کردار ہے، صفحۂ اول پر شائع ہوا تھا، وہ بھی IIC Quaterly کے ساتھ جہاں میرے مضمون کا انگریزی قالب سہ ماہی Summer۔ Autumn، 2020 کے مشترکہ شمارے میں شائع ہوا تھا۔ میں نے انھیں بھجوا دیا۔ ان کی صحت کی خبریں نکھل کمار سے اس لیے لیتا رہا کہ اس حالت میں ان کے گھر والوں کو پریشان کرنا اچھا نہیں لگا۔
25 دسمبر کی صبح میں اپنے ڈاکٹر کے کلینک میں تھا کہ اچانک کسی اخبار نے فون کر کے مجھ سے اس خبر کی تصدیق کرنے کو کہا کہ فاروقی صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ پھر اس کے بعد ایک دوست نے بمبئی سے یہی سوال کیا۔ میں نے پھر نکھل کمار کو زحمت دی۔ انھوں نے جب اس خبر کی تصدیق کی تو پھر میں نے محمود فاروقی صاحب کو ٹیکسٹ کر کے تدفین کا وقت پوچھا جس کا اس مشکل وقت میں بھی انھوں نے جواب دیا۔ نکھل کمار کا خیال تھا کہ ہم الٰہ آباد چلیں ۔ تدفین کا وقت شام 6 بجے طے تھا اور اس وقت تقریباً بارہ بج رہے تھے، فلائٹ اگلے دن سے پہلے نہ تھی، ٹرین بھی کم سے کم آٹھ گھنٹے لیتی، اور تدفین شام کے چھے بجے تھی یعنی ان کے آخری دیدار کی کوئی صورت نہ تھی۔
میری درخواست پر فاروقی صاحب نے چشتیہ سلسلے پر میرے ایک مختصر نوٹ جو مشکل سے دو سو الفاظ کا ہو گا، کے علاوہ انگریزی میں کلام موزوں پر بھی میرے ایک نوٹ کی تصحیح کی تھی۔ مجھے اس سوال کا جواب کوئی اور نہیں دے سکا تھا کہ انگریزی شاعری میں کسی کلام کے موزوں ہونے کا معیار کیا ہے۔ اس پر کئی دفعہ میں نے فاروقی صاحب سے بات کی۔ ایک دن کہنے لگے کہ اب بات تو تمھاری سمجھ میں آ گئی ہے لیکن اگر اسے لکھ کر مجھے بھیج دو تو میں دیکھ لوں گا، اور یہ تحریر تمھارے کام آئے گی۔
مادۂ تاریخ سے متعلق بھی جب دہلی کی کتابوں کے ترجمے کا کام شروع کیا، تو میرے انگریزی میں لکھے نوٹ کی انھوں نے اصلاح کی۔ یہ بھی دو تین پیراگراف ہی تھے۔ اسی طرح Canonisation سے متعلق بھی ان سے کئی دفعہ بات ہوئی تو کہنے لگے اس پر ایک سیمینار اس طرح کر لو کہ تاریخ نویسی موضوع ہو جو انجمن نے مارچ 2019 میں کیا۔ انجمن کا یہی وہ اکیلا جلسہ تھا جس میں اپنی خرابی صحت کی وجہ سے فاروقی صاحب شرکت نہ کرسکے تھے۔ ’اردو تاریخ نویسی اور معیاری بندی کا تصور‘ کے موضوع پر پانچ ہزار الفاظ کے مضمون کو انھوں نے کاٹ کر 1200 الفاظ تک میں The Canon of Language تک اس لیے محدود کر دیا کہ اردو تاریخ نویسی کے باب میں جو کچھ میں نے لکھا تھا، اس سے انھیں سخت اختلاف تھا مثلاً دکنی کو قدیم اردو کہنا وغیرہ۔
میں دکنی کو ایک مستقل بالذات زبان تصور کرتا ہوں نہ کہ اردو کی قدیم شکل۔ بہرحال، یہ ایک پیچیدہ بحث ہے جو اب شاید کبھی اس لیے نہ ہو سکے گی کہ اردو ایسا عالم تو اب پیدا نہ کر سکے گی جو اس بحث کو آگے بڑھائے۔ یہ نوٹ شاید لاک ڈاؤن میں ہی انھوں نے مجھے بھیجا تھا۔ ’بزم آخر‘ کا ایک انگریزی ترجمہ مجھے بہت خراب لگا۔ جب فاروقی صاحب کے ایما پر میں خود اس کا ترجمہ کرنے بیٹھا تو پسینے آ گئے۔ بڑی مشکل سے یہ کام مکمل ہوا جس کی سند میں نے بیدار بخت سے لی کہ وہی ایک دلی والے اب ایسے بچے ہیں جو اس نوعیت کے انگریزی متن کی اصلاح کر سکتے تھے، اور میری ان تک رسائی تھی۔
یہ متن بیدار صاحب کے دیکھنے کے بعد میں نے فاروقی صاحب کو بھیجا۔ انھوں نے متن دیکھا تو پورا اس لیے ہوگا کہ اس کے بغیر وہ واپس نہ کرتے مگر کہیں قلم نہیں لگایا تھا، البتہ مترجم کے نوٹ میں انھوں نے حاشیے پر اپنے مشورے درج کیے تھے۔ اس احتیاط کی ایک اور وجہ بھی ہو سکتی ہے جسے اس موقع پر زیربحث لانا مناسب نہیں۔ میرے ایک اور مضمون کے مندرجات سے انھیں چوں کہ سخت اختلاف تھا، اس لیے، اس پر بھی بات کرنے کا یہ موقع نہیں۔
افسوس کہ میرا نہ تو کوئی علمی کام ہے، اور نہ ہی کسی علمی کام کا کوئی منصوبہ میرے پیش نظر ہے، اس لیے، میں ان کے علم سے کچھ زیادہ فائدہ نہ اٹھا سکا۔ اوپر جن تحریروں پر اصلاح کا ذکر کیا، وہ کسی بھی طرح تین چار ہزار الفاظ سے زیادہ نہ ہوں گے۔ اپنی کسی اردو تحریر پر ان سے اصلاح کرانے کا شرف مجھے حاصل نہیں ہوا مگر جب بھی کوئی الجھن ہوتی تو بلاتکلف فون کر کے پوچھ لیتا۔ ’شب خون‘ کے ہر شمارے میں الفاظ کی تعداد کم سے کم 50۔ 60 ہزار ہوتی ہو گ اور اردو کا کوئی لکھنے والا چار پانچ ہزار الفاظ سے کم الفاظ کا مضمون لکھنا گناہ سمجھتا ہے۔ ’شب خون‘ میں چھپنے والی اکثر تحریروں کو وہ تقریباً نئے سرے سے ہی لکھتے تھے۔ اس اعتبار سے انھوں نے ہزاروں لوگوں کے لاکھوں الفاظ اور اس سے بھی زیادہ اشعار کی اصلاح کی ہو گی۔
فاروقی صاحب سے جن موضوعات پر اکثر میری بات ہوتی تھی، ان میں مذہب اس لیے اہم تھا کہ ہم سب کی زندگی میں اس کی مرکزی اہمیت ہے۔ مذہب کی منفی اہمیت بھی مرکزی ہی ہے۔ فاروقی صاحب نے مذاہب کا اور خصوصاً اسلام کا براہ راست مطالعہ بھی بہت کیا تھا اور مذاہب کے اسرار ان پر منکشف نہ ہوئے ہوں اس کا سوال نہیں اٹھتا مگر مذہب کے حساس معاملات پر ایک حد کے بعد گفتگو مناسب نہیں۔ فاروقی صاحب کے مذہبی نظریات کے باب میں جتنا مجھے معلوم ہے یا جو لکھا جاسکتا ہے وہ یہ کہ وہ اقبال کی طرح حنفی المسلک مگر غیر مقلد تھے اور مجتہد کی منزل سے بہت آگے۔ موت مذہب کے دائرے کے باہر بھی ایک حقیقت ہے خواہ اس کا نام کچھ بھی ہو۔
2017 میں اسلم پرویز صاحب کی کتاب بہادر شاہ ظفر کے انگریزی ترجمے کی اشاعت کے بعد فاروقی صاحب ہی نے مجھے دہلی سے متعلق کتابوں کے ترجمے کی تحریک دی۔ ان کی آنکھوں کا حال بھی بہت خراب تھا۔ اس لیے میں اس نوعیت کی تمام تحریریں جو کسی کی بھی ہوں، اور ان پر فاروقی صاحب کی راے لینی مقصود ہو، 20 فونٹ سائز میں 2.5 اسپیس کے ساتھ متن کا پرنٹ آؤٹ اور ہمیشہ وہی مواد یو ایس بی میں انھیں بھیجتا جسے وہ عام طور پر ای میل کے ذریعے واپس کر دیتے تھے۔ عام طور پر انگریزی میں ان کی اصلاح اس نوعیت کی ہوتی کہ وہ MS Word میں دوسرے رنگ سے اسے کرتے تاکہ اس کی نشان دہی میں آسانی ہو۔ Track Change Mode کو انھوں نے ان تحریروں میں جو مجھے بھیجیں، کبھی استعمال نہیں کیا۔
بعد میں کسی نے ان کی تدفین کی تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی مگر نکھل کمار نے محمود فاروقی صاحب کا جو ٹیکسٹ میسج مجھے بھیجا اس تحریر کے اختتام کے لیے اس سے بہترالفاظ نہیں ہوسکتے :
S R Faruqi will be laid to rest at 6 pm on Friday 25th December at the Ashok Nagar Navada Qabristan next to his beloved Jamila.
یہ ایک ہی نشست میں قلم برداشتہ لکھے ہوئے چند صفحات ہیں جن کی حیثیت ایک نیازمند کے نذرانۂ عقیدت سے زیادہ کچھ نہیں، جس کا نقش اول ”دی وائر اردو“ میں 31 دسمبر 2020 کو شائع ہو چکا ہے۔
(26 دسمبر 2020، بروز ہفتہ)


