محبت کا اعتراف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے ہمیشہ اعتراف کیا ہے کہ میں کسی سے بھی نفرت نہیں کر سکتا۔ مجھے صرف محبت کرنا آتا ہے۔ انسان، چرند، پرند، پیڑ پودے، سمندر، آسمان، ریگستان۔ میں ہر شے سے محبت کرتا ہوں، کیوں کہ محبت میرے خمیر میں شامل ہے۔

مجھے جب بھی کسی سے محبت ہوجاتی ہے یا کوئی زخم ملتا ہے۔ میری ماں جان لیتی ہے۔ وہ اس لیے جان لیتی ہے کیونکہ میں اس کے وجود کا حصہ ہوں۔ آج جب اماں کے پاس گیا اور اس کے پیروں کو چھوا تو اس نے مجھے اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا، ماتھے پر بوسہ دیا اور میں نے ان کی آغوش میں سر رکھ دیا۔ ہمیشہ میں ایسے ہی کرتا ہوں۔ مجھے خوشی ملے یا غم، اماں مجھے ہمیشہ اسی طرح پیار کرتی ہے۔

اماں نے میرے بالوں کو سہلاتے ہوئے کہا ”تم کو کبھی محبت راس نہیں آتی، پھر کیوں محبت کرتے ہو۔“

”جانتا ہوں اماں! جن کا وجود فراق کی مٹی سے گوندھا گیا ہو ان کو کبھی وصال نصیب نہیں ہوتا۔ وہ موت کو تو پا سکتے ہیں لیکن محبت نہیں۔“

میری بات سن کر اماں اداس ہو گئی اور ان کی آنکھیں بھر آئیں۔
” پھر تم کیوں محبت کرتے ہو، کیوں دکھ سہتے ہو؟“ اماں نے دوپٹے سے آنسوں پونچھتے ہوئے کہا۔
”میری پیاری اماں کیونکہ تم نے مجھے نفرت کرنا سکھایا ہی نہیں ہے۔ پھر میں کیسے کسی سے نفرت کر سکتا ہوں، نفرت کیسے کی جاتی ہے، مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم! ”
اماں میری بات سن کر کہنے لگی ”پگلے ہو تم۔“
” ہاں اماں جو سوچتے ہیں وہ پاگل ہی ہوتے ہیں۔ لوگ بھی تو یہی کہتے ہیں۔“

اماں میری باتیں سنتی رہی اور اپنے آنسوں پونچھتی رہی۔ پھر میرے لیے کھانا لے آئی اور اپنے ہاتھوں سے کھلانے لگی۔ میں نے کھانا کھاتے ہوئے کہا ”اماں میں نے تم کو صرف دکھ دیے ہیں، کبھی کوئی خوشی نہیں دے پایا؟“ اماں نے میرے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ کہا ”چپ ہوجاؤ تم میرے پیارے بیٹے ہو۔ میں جانتی ہوں۔ جب تم کسی اور کو دکھ نہیں دے سکتے۔ تو مجھے کیسے دکھ دے سکتے ہو“ میں اماں کی باتیں سن کر چپ ہو گیا۔

والدین بوڑھے بھی ہوجائیں تو بھی کڑی دھوپ میں ٹھنڈی چھاؤں کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کا وجود بڑی تسلی ہوتا ہے، کڑے سے کڑے وقت میں وہاں سکون اور حوصلہ ہی ملتا ہے۔میں کھانا کھا کر کھاٹ پر لیٹ گیا۔ اماں میرے سرہانے بیٹھی رہی۔ وہ میرے لیے ہمیشہ دعا کرتی ہے۔ دعا اثر نہیں کرتی لیکن وہ پھر بھی مایوس نہیں ہے۔

میں سو گیا، سپنا تھا شاید جس میں سندھو تم ساتھ تھیں حالانکہ تم جا چکی ہو۔ میں چپ رہا کچھ نہ کہا۔ تم خاموشی سے آ کر میرے قریب بیٹھ گئیں، میرا ہاتھ تھام لیااور  چپ رہیں، میری پتھرائی ہوئی آنکھوں میں کچھ ڈھونڈنے لگیں۔

” کیا ڈھونڈ رہی ہو، میری آنکھوں میں ادھورے سپنوں کے سوا کچھ نہیں ہے، یہاں تم کو امید کی کوئی کرن نہیں ملے گی۔ ہاں تم کو ان آنکھوں میں اپنا عکس دکھے گا۔ جو مکمل ہے۔ اس کے سوا سب نامکمل“ میں نے کہا۔ سندھو چپ رہی، ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر مجھے چپ کرا دیا۔ خود اداس تھی،  کچھ نہ بولی، بس میرا ہاتھ تھام کر مجھے دیکھتی رہی۔

میں نے اس کا ہاتھ منہ سے ہٹا کر کہا ”سندھو میں نے ہمیشہ تم سے محبت کی ہے۔ جب تم نہیں تھی تب بھی مجھے تم سے محبت تھی۔ آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔“

” پھر تم مجھ سے دور کیوں ہو گئے“ سندھو نے کہا۔ ” میں کب تم سے دور ہوا ہوں۔ اموشنلی تمہارے ساتھ ہوں۔ اور رہوں گا۔“ میں نے کہا۔
” پھر تم نے مجھے کیوں کہا کہ میسیج نہ کرنا، بات نہ کرنا۔ ؟“ سندھو گویا ہوئی۔ ” میرے پاس کچھ نہیں جو تمہیں دوں۔ تم نے بھی تو کہا تھا کہ ایک دن چلی جاؤ گی۔ وہ دن جس دن جاؤ گی کوئی بڑا صدمہ یا دکھ تم دو گی تو ابھی چھوٹا سا دکھ دے جاؤ۔“ سندھو نے پھر میرے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر آواز بند کردی۔

کچھ دیر چپ رہنے کے بعد پھر میں نے کہا ”سندھو میں نے تمہاری ان بڑی بڑی جھیل سے گہری یا سمندر سی وشال آنکھوں میں رہنا چاہا تھا۔ لمبے گھنے بالوں میں انگلیاں الجھانی چاہیں تھیں اور تمہارے ہونٹوں پر۔“ میں اپنی بات پوری نہیں کر پایا، میرے ہونٹوں پر لو کی طرح تھرتھراتے ہونٹ تھے۔ میں ہڑبڑا کر اٹھ گیا۔ میرے یوں اٹھنے پر اماں چونک گئی۔ اماں نے میرے ماتھے پر بوسہ دیا اور میں نے اپنا سر پھر اماں کی آغوش میں چھپا لیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •