حاکم کو یہ ڈر ہے کہیں قاتل نہ ہو ناراض

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اٹھارہویں صدی کے اختتامی عشرے میں امیر افغانستان عبدالرحمن خان کے مظالم اور محکومی سے تنگ آ کر وسطی افغانستان کے علاقے ”ہزارجات“ کے مکینوں نے ہجرت شروع کردی۔ ان تباہ حال مہاجرین نے ترکمانستان، خراسان اور بلوچستان کا رخ کیا۔ جہاں پر یہ اپنی مخصوص رنگت، قد و قامت، شکل و شباہت اور اپنے آبائی علاقے ہزارہ جات کی مناسبت سے ہزارہ کہلائے۔

سن 1908 میں حاجی ناصر علی جو نسلاً ہزارہ تھے ، نے کوئٹہ میں کیرانی خاندان سے زمین خرید کر باقاعدہ رہائش اختیا ر کی۔ افغانستان سے ہجرت کر کے آنے والے ہزارہ برادری کے دیگر افراد جو کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں آباد تھے ، زمین سستی ہونے کی وجہ سے اس بستی میں آباد ہونا شروع ہو گئے۔ سولہویں صدی کے آغاز میں یہ لوگ سنی العقیدہ مسلمان تھے مگر بعد ازاں شیعہ مسلک اختیار کر گئے ۔ اب ہزارہ کی غالب اکثریت شیعہ عقیدہ کے مسلمانوں پر مشتمل ہے جبکہ قلیل تعداد میں سنی مسلم اور اسماعیلی ہزارہ بھی موجود ہیں۔

سن 2018 کی مردم شماری کے مطابق کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن میں ہزارہ برادری 15 لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل تھی۔ ہزارہ برادری کے بڑے رہائشی علاقوں میں علمدار روڈ، مری آباد اور ہزارہ ٹاؤن شامل ہیں۔ ہزارہ برادری کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے جو نہایت با اخلاق اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ان میں شرح خواندگی نہایت بلند ہے۔ زندگی کے تمام پہلوؤں سے بخوبی آشنا ہیں۔ علم و ادب اور فنون لطیفہ سے شغف رکھتے ہیں۔ کھیل کے میدانوں میں بھی اپنا لوہا منواتے ہیں، نہایت بہادر اور نڈر ہیں، محنتی اور جفاکش بھی ہیں، کم تعلیم یافتہ طبقہ محنت مزدوری کو عار نہیں سمجھتا۔

کاروبار میں نہایت ایمان دار اور دیانت دار ہیں۔ ہزارہ برادری میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہزارہ ٹاؤن کے گلی محلے نہایت صاف ستھرے ہونے کی وجہ سے رہائشیوں کی صفائی پسندی کا پتہ چلتا ہے۔ انتہائی امن پسند، شائستہ اور شستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسی کی دہائی میں کوئٹہ شہر کے کاروبار کا بڑا حصہ ہزارہ برادری کے ہاتھ میں تھا مگر اب نہیں رہا۔

اگر سرکاری ملازمتوں کا ذکر کیا جائے تو خوبصورت، لمبا تڑنگا نہایت وجیہہ جوان جنرل موسی خان 1966 ء تک پاکستان کا آرمی چیف رہا ، 1965 ء کی جنگ کی جیت کا سہرا بھی اسی ہزارہ سرخیل کے سر ہے۔ پاکستانی ائیر فورس کی پہلی خاتون پائلٹ سائرہ بتول بھی ہزارہ برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔ کوئٹہ شہر کی تعمیر و ترقی میں ہزارہ برادری کا ایک کلیدی کردار رہا ہے مگر حالات کی ستم ظریفی دیکھیے ، ضیاء دور میں افغان جہاد کلچر کی آمد کے ساتھ ہی ہزارہ برادری کے افراد پر قیامت ہی ٹوٹ پڑی اور تقریباً ایک صدی قبل افغانستان سے جان بچا کر ہجرت کرنے والے ہزارہ ایک بار پھر قتل و غارت کا شکار ہونے لگے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ  قتل وغارت میں شدت آنے شروع ہو گئی۔ بالخصوص سابقہ دو دہائیوں سے ہزارہ برادری کے لگ بھگ ایک ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ہزارہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہزارہ نسل کشی سے تعبیر کی جا سکتی ہے۔ ہزارہ برادری کی اس ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی کا ہاتھ رہا ہے اور اس تنظیم کا ایک صوبائی رہنما رمضان مینگل ببانگ دہل ہزارہ افراد کے قتل کی ذمہ داری فخریہ انداز میں سنچری سے تعبیر کرتے ہوئے قبول کرتا رہا ہے۔

آپ ہزارہ بھائیوں کے صبر کی انتہا کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگا سکتے ہیں کہ 115 حملوں میں ایک ہزار سے زائد شہدا کی لاشوں اور 2800 سے زائد زخمیوں کو اٹھا کر بھی ہزارہ نوجوان تشدد اور عدم برداشت کے راستے سے دور ہیں۔ ریاست پر غیر متزلزل یقین اور ریاستی اداروں پر اعتماد کا یہ عالم ہے کہ منفی 6 ڈگری خون جما دینے والی سردی میں بھی اپنے بیٹوں کی ذبح شدہ لاشوں پر رونے والی مائیں وزیراعظم پاکستان کی آمد کی منتظر ہیں۔

سانحہ مچھ کے مقتولین کے لواحقین تاحال دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ جن کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی یہاں آمد اور قاتلوں کی گرفتاری کی یقین دہانی کے بعد ہی لاشوں کو دفنایا جائے گا۔ مگر ستم بالائے ستم یہ کہ وزیراعظم نے اپنی ایک ٹویٹ کے ذریعے پانچ چھ دن بعد اپنی آمد کا اعلان کیا ہے اور لواحقین کو تن تنہا اپنے مقتولین کی لاشوں کی تدفین کی ہدایت کر ڈالی ہے۔ مگر اے کاش وزیر اعظم صاحب تک کوئی مقتول محمد صادق کی بہن معصومہ یعقوب علی کی آواز بھی پہنچا دے جو بین کرتے ہوئےچیخ چیخ کر میڈیا کو بتا رہی ہے کہ

”اگر کسی کو کربلا کا منظر دیکھنا ہے تو وہ میرے خاندان کو دیکھ لے۔ ہمارے خاندان میں جنازہ اٹھانے والا کوئی مرد نہیں بچا۔ جس کے بعد ہم چھ بہنوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنے بھائی اور اپنے رشتہ داروں کے جنازے خود اٹھائیں گے۔“

وزیراعظم کے اس فیصلے کے پیچھے کار فرما عناصر کی حکمت عملی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ملک بھر کے باشعور اور باضمیر طبقات کی انگلیاں اب وزیراعظم کی طرف اٹھ رہی ہیں اور اذہان میں کئی طرح کے سوالات جنم لے رہے ہیں جن میں سے کچھ شکوک و شبہات کچھ اس شعر کے مصداق ہیں

حاکم کو یہ ڈر ہے کہیں قاتل نہ ہو ناراض
مقتول کا لاشہ بھی اٹھانے نہیں آتے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •