مشرقی روایات کی قیدی عائشہ کی المناک کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ایک زندانی معاشرے کے باشندے ہیں، یہاں پر چوائسز کا بہت زیادہ فقدان ہے اور زندگیوں کی رنگینیوں کو پورے رنگ سے جینے پر ہزاروں قدغنیں اور رکاوٹیں ہیں۔ خاص طور پر بچے اور بچیوں کے درمیان معاشرتی تفریق بہت زیادہ ہے، مردانہ برتری کے اس سماج میں لڑکوں کو اپنی مرضی اور ڈھنگ سے زندگی جینے کی پوری آزادی ہوتی ہے مگر لڑکیوں کے لیے اخلاقی اقدار کے نام پر بے شمار پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں اور وہ ماں باپ کی نظر میں محض شادی کی ایک مورتی کی مانند ہوتی ہے جسے بالغ ہونے پر وہ اپنی مرضی مسلط کر کے بیاہ دیتے ہیں اور اپنے فرضوں سے عہدہ برا ہو کر سکھ کا سانس لیتے ہیں۔

المناک بات یہ ہے کہ اسے گھر سے روانہ کرتے وقت والدین ایک لمبا چوڑا لیکچر اس بات کا دیتے ہیں کہ ”بیٹا تمہارے ساتھ کچھ بھی ہو جائے تم نے اپنے گھر کی دہلیز پار نہیں کرنی اورصبروشکر کے ساتھ اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنی ہے“ ۔ بعض دفعہ ماں باپ ہاتھ جوڑ کر بھی بچی کو تلقین کرتے ہیں کہ ”بیٹا ہماری لاج رکھنا اور اپنے شوہر کو تکلیف مت دینا“ بچی بیچاری اپنے والدین کے ساتھ کیا جانے والا عہد ساری عمر نبھاتی ہے، سسک سسک کر زندگی گزارتی رہتی ہے اور اپنے والدین کو اپنی حالت کی خبر تک نہیں ہونے دیتی۔

کیا بیٹیوں کو اس لیے جنم دیا جاتا ہے کہ انہیں اقدار کی بھینٹ چڑھا دیا جائے اور بیٹوں کو جینے کے لیے کھلی آزادی دے دی جائے؟ اس منافقانہ روش کے براہ راست نتائج بچیوں کو بھگتنا پڑتے ہیں مگر وہ اف تک نہیں کرتیں، کچھ اسی قسم کی کہانی عائشہ کی ہے۔ وہ ایک بہت ذہین لڑکی تھی اور پڑھ لکھ کر ایک کامیاب ڈاکٹر بننا چاہتی تھی مگر اس کے والدین کو محلے کے ایک مولوی نے تجویز دی کہ عائشہ کو حفظ کروا کر عالمہ کا کورس کروا دیں کیونکہ یہ عمل آپ کے لیے نجات کا سبب بنے گا۔

والدین نے اپنی جنت پکی کرنے کے چکروں میں عائشہ کی رائے لینا مناسب نہ جانی اور اسے مدرسے کے سپرد کر دیا۔ وہ چونکہ ذہین تھی کچھ عرصہ میں حفظ اور عالمہ کا کورس کر کے فارغ ہو گئی مگر عائشہ اس سرکل آف لائف سے مطمئن نہیں تھی و، ہ ایف ایس سی اچھے مارکس کے ساتھ کر کے بطور ڈاکٹر اپنی شخصیت کو سامنے لانا چاہتی تھی۔ اس نے ایف ایس سی اچھے نمبروں سے کی اورایک بہترین میڈیکل کالج میں اس کا داخلہ ہو گیا۔ عائشہ نے اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے تگ و دو شروع کردی، اس کی تعلیم مکمل ہونے میں ایک سال باقی تھا کہ والدین نے شادی کا فیصلہ کر دیا۔

والدین نے کہا کہ بیٹی رشتہ بہت اچھا ہے، لڑکا انجینئر ہے اور ایسے رشتے بار بار نہیں ملتے۔ عائشہ نے بہت منت سماجت کی کہ مجھے مکمل ڈاکٹر بن لینے دیں پھر میں آپ کی مرضی سے شادی کرلوں گی مگر والدین نہ مانے اور تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر عائشہ کی شادی کر دی گئی۔ کچھ عرصہ شادی پرسکون چلی مگر پھر شوہر نے عائشہ کو اپنا ادھورا خواب پورا کرنے کی اجازت نہ دے کر ہمیشہ کے لیے گھر میں قید رکھنے کا فیصلہ کیا اور وہ اکثر اوقات اس سے بدتمیزی کرتا اور مارتا پیٹتا تھا۔

جب ظلم حد سے بڑھا تو کچھ عرصہ کے بعد طلاق ہو گئی اور والدین نے بھی رو دھو کر صبر کر لیا۔ عائشہ اب گم سم رہنے لگی تھی، اس کو خوشی دینے کے لیے والدین نے کہا کہ بیٹا اب تم بی اے کر لو اور کسی کوچنگ سینٹر میں داخلہ لے لو، اس سے تمہارا دل بھی بہل جائے گا اور بعد میں ایم اے انگریزی کر کے مقابلہ کے امتحان میں حصہ لے لینا۔ یہ گم سم مگر بلا کی ذہین بچی میرے کوچنگ سینٹر میں پڑھنے آتی تھی۔ ایک دن میں نے اس کے گم سم اور پریشان رہنے کی وجہ پوچھی تو اس نے رو رو کر اپنی آپ بیتی کہہ ڈالی۔

اس نے روتے ہوئے کہا کہ ”سر جی میں نے بیٹی ہونے کی بہت بڑی قیمت چکائی ہے اور میں کبھی بھی بیٹی پیدا کرنا نہیں چاہوں گی کیونکہ بچیاں پیدا ہونے کے بعد پہلے ماں باپ کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں پھر شادی کے بعد شوہر کے رحم و کرم پر، اس ادھار کی زندگی سے موت اچھی گھٹ گھٹ کر جینے سے ایک بار مرنا ہزار درجے بہتر ہے“ ۔ روتے روتے اس کی ہچکی بندھ گئی اور کہنے لگی کہ سر! میں زندگی میں بہت کچھ کرنا چاہتی تھی، میرے بہت سارے خواب تھے جنہیں میں اپنے عزم اور حوصلے سے پورا کرنا چاہتی تھی، افسوس ”وہ زندگی تو میری تھی مگر میں پوری طرح سے جی نہ سکی“ ۔

وہ بار بار روتے ہوئے مجھ سے ایک ہی سوال پوچھ رہی تھی کہ سر کیا بچیاں بوجھ ہوتی ہیں، اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں جنم کیوں دیا جاتا ہے؟ سر میں کسی سے کم نہ تھی اور اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنے والدین کا سر فخر سے بلند کرنا چاہتی تھی۔ میرے پاس اس کے سوالوں کا کوئی جواب نہ تھا، میں سوچ رہا تھا نہ جانے کتنی بچیاں ڈاکٹر، انجینئر اور ریسرچر بننے سے محروم رہ جاتی ہیں اور وقت سے پہلے سر تسلیم خم کر کے چپکے سے ان چاہی شادی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔

ذہین و فطین عائشہ مثبت کونسلنگ کے بعد ایک بار پھر پرعزم ہو چکی ہے کہ اب وہ دوبارہ شادی کرنے کی بجائے سی ایس ایس کا امتحان دے گی اور مجھے اس کی صلاحیتوں پر پورا بھروسا ہے کہ وہ یہ امتحان ضرور پاس کرے گی اور ایک شاندار پوسٹ حاصل کر کے بقیہ زندگی کو اپنے ڈھنگ سے گزارے گی مگر عائشہ کا سوال اب بھی قائم ہے کہ اس کی خواہشات اور آرزوؤں کا قاتل کون ہے؟ کیا ہمارے خوابوں پر بھی ہمارا حق نہیں ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •