فیمنزم اور شفاف فطری ہم آہنگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فیمنزم ہیومنزم کی ایک ذیلی شاخ ہے جس نے 1850 کے بعد امریکہ، فرانس اور برطانیہ میں باقاعدہ ایک تحریک کی شکل اختیار کی۔ جس طرح ہیومنزم کا مرکزی نقطہ ہر طرح کے استحصال کی نفی ہے ، بالکل اسی طرح فیمنزم نے ایک محدود قالب میں عورت کے معاشی، سماجی اور سیاسی استحصال کی نفی پر زور دیا ہے۔ فیمنزم میں مرد اساس معاشرے کی بجائے انسان اساس معاشرے کی تعمیروتشکیل کے امکانات موجود ہیں۔ فیمنزم کا یہ تصور انتہائی خوب صورت اور خوش آیند ہے کیونکہ مرد اساس معاشرے میں صنفی امتیاز کی بنیاد پر عورت کو کم تر اور دوسرے درجے کا شہری قرار دیا گیا جو کہ فطرت کی ہم آہنگی کے بالکل خلاف اصول تھا۔

فطرت نے ایسی کوئی تخصیص نہیں رکھی۔ عورت کو مرد سے کم تر بنانا مقصود ہوتا تو مرد کے پہلو کی بجائے پاؤں سے پیدا کی جاتی۔ چوں کہ فطرت کو مساوات مد نظر تھی اس لیے عورت کو مرد کے پہلو سے تخلیق کیا اور مابعد تخلیق زن تمام مردوں کو عورت کے بطن سے جنم دے کر تمام صنفی تفاخرات کا قضیہ تمام کر دیا۔ درحقیقت مرد اور عورت کائنات میں اپنی موزوں ترین جگہ پر زندگی کرتے ہوئے انسانی زندگی کا توازن قائم کرتے ہیں اور ایک ایسی ہم آہنگی جنم دیتے ہیں جو کائناتی ارتقاء کے لیے ناگزیر ہے۔

ایک بار عصمت چغتائی نے فراق گورکھ پوری سے کہا: آخر کون سا کام ہے جو عورت نہیں کر سکتی؟ فراق بے باکی سے بولے عورت سب کچھ کر سکتی ہے مگر بچہ پیدا نہیں کر سکتی۔ عصمت بولی مرد بھی تو یہ کام اکیلے نہیں کر سکتا، اس میں وجہ افتخار کیا ہے۔ ایسی ہی بحث سیموں دیبوار نے اپنی کتاب سیکنڈ سیکس میں بڑی تفصیل سے لکھی ہے مگر جہاں بات دو الفاظ میں مکمل ہو رہی ہو وہاں تیسرا لفظ ضائع نہیں کرتے۔ فیمنزم بنیادی طور پر اسی صنفی افتخار کے انہدام کی ایک شعوری کوشش تھی جس کے باعث سیاسی، سماجی اور معاشی سطح پرعورت کا صدیوں سے استحصال ہوتا رہا۔ استحصال ہر سطح اور ہر نوعیت میں ایک غیر فطری اور غیر انسانی فعل ہے۔ خواہ استحصال عورتوں کا ہو، کم زور مردوں کا ہو، کسانوں کا ہو، مزدوروں کا ہو یا تیسری دنیا کے ممالک کا، استحصال کی مختلف صورتیں آج بھی موجود ہیں۔

فیمنزم اپنی روح میں ایک تعمیری تصور ہے مگر المیہ یہ ہوا کہ یہ انسان اساس تصور دنیا کے مختلف ممالک میں معاشرتی صورت حال، مزاج اور ضروریات کے مطابق مختلف شکلیں اختیار کرنے لگا۔ اس میں مرد سے نفرت، حریفانہ رویہ اور مد مقابل سمجھ کر سیاسی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عورتوں سے پوچھا جائے آپ فیمنسٹ ہیں تو بہت کم عورتیں بخوشی اعتراف کرتی ہیں حالاں کہ فیمنزم کوئی بری شے نہیں ہے۔ فیمنزم ایک طرف عورتوں کو اپنی ذات سے آگاہی دینے کی تحریک ہے اور دوسری طرف مرد کی سوچ میں تبدیلی پیدا کرنے پر مصر ہے تاکہ عورت کو زندگی کے حاشیے سے اٹھا کر مرکز میں لایا جائے۔

اس کا مقصد دونوں ہم آہنگ ہو کر زندگی کا ایک سر تخلیق کر سکیں۔ تشویش اس بات پر ہے کہ عورت مرد کو اپنا حریف سمجھ کر میدان جنگ میں اتر آئی ہے اور مرد اسے شکست دینے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہا ہے۔ شعور کے ارتقا کا تقاضا یہ ہے کہ مرد عورت کو برابری کی سطح پر تسلیم کرتے ہوئے زندگی کے ہر معاملے میں شراکت دے اور عورتیں خود کو الگ اکائی قرار دینے کی بجائے مرد کے ساتھ ہم آہنگ رہیں تاکہ شفاف فطری تعلق قائم رہے۔ اس شفاف فطری تعلق سے تاریخ انسانی بھری پڑی ہے۔

ماقبل تاریخ انسانوں کی کہانیوں کے مطابق ایک چشمے پر چند عورتوں کی ٹولی کھڑی تھی۔ جنسی احتیاج زدہ ایک مرد نے عورتوں کی ٹولی کو دیکھا اور دور کھڑے ہو کر مخصوص جنسی اشارہ کیا۔ عورتوں نے ایک دوسرے سے چہ میگوئیاں کی اور ایک عورت ٹولی سے باہر نکل کر مرد کے پاس چلی گئی۔ دونوں ایک بڑے پتھر کی اوٹ میں شفاف فطری رفاقت سے لطف اندوز ہوئے۔

اسی طرح معروف سیاح مینگو یارک لکھتا ہے : سیاحت کے دوران افریقہ کے ایک جنگل میں رات ہو گئی۔ قرب و جوار میں آبادی کا کوئی نشان نہیں تھا۔ مجھے ایک جھونپڑی نظر آئی جس میں آگ جل رہی تھی۔ جھونپڑی کے قریب گیا اور باہر کھڑے ہو کر رات گزارنے کی التجا کی۔ ایک عورت باہر آئی میں نے اپنا حال بتایا تو عورت مجھے پناہ دینے پر رضامند ہو گئی۔ سخت جاڑے کی رات تھی۔ اس عورت کے ساتھ چند جواں عمر لڑکیاں بھی تھیں۔ ان سب نے میرے لیے جھونپڑی خالی کر دی اور باہر کھلے آسمان تلے آگ جلانے لگیں۔

میں جھونپڑی میں لیٹ گیا۔ بڑی عمر کی عورت نے لڑکیوں سے کہا سب مل کر سوت کاتیں تاکہ رات مصروفیت میں گزر جائے۔ مینگو یارک لکھتا ہے سوت کاتنے کے دوران لڑکیوں نے فی البدیہہ گیت تخلیق کیا جس کے ذریعے اپنی محنت اور سردی کے احساس کو موسیقی سے مغلوب کر سکیں۔ گیت تو مجھے یاد نہیں البتہ اس کا مفہوم یہ تھا: اس اجنبی فضا میں نہ اس کی ماں ہے اور نہ بیوی آؤ بہنو مل کر اس غریب الوطن پر رحم کریں اور اس سے ہمدردی کریں۔ اس کے آگ جلائیں اور کھانا بنائیں۔ عورت کے یہ جذبات دراصل شفاف فطرت کے تحت ہم آہنگی پر منبی تھے۔

اس ہم آہنگی کا ایک اور واقعہ ، خلیل جبران نیویارک میں رہتا تھا اور اس کی محبوبہ مصر میں رہ رہی تھی۔ دنیا کے دو کناروں سے خط و کتابت ہوتی۔ ایک بار خلیل جبران نے اپنی محبوبہ سے تصویر مانگی۔ جوابی خط میں محبوبہ نے لکھا کہ تم تصور کرو میں اس وقت کیسی لگ رہی ہوں گی۔ خلیل جبران نے لکھا میرا خیال ہے تمھارے بال چھوٹے ہوں گے، چہرے پر گرتے وقت تمھارا چہرہ ڈھانپ لیتے ہوں گے۔ خط پڑھ کر جبران کی محبوبہ نے اپنے لمبے بال کاٹ دیے اور چھوٹے بالوں والی تصویر جوابی خط میں بھیجی۔ تصویر دیکھنے کے بعد جبران نے لکھا: دیکھا میرا تصور کتنا سچا تھا؟ جبران نے محبوبہ نے کہا تمھاری محبت سچی تھی۔

انسانی زندگی کے تین مختلف پہلوؤں سے متعلق واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ استحصال اور چیز ہے اور ہم آہنگی زندگی کا حسن اور شفاف فطرت کا تقاضا ہے۔ مرد اور عورت دو طبقے نہیں بلکہ ایک ہی سر کی دو آوازیں ہیں جو ہم آہنگ ہو کر پورا سر تخلیق کرتے ہیں۔

انڈسٹری اور گلیمرائزیشن نے فیمنزم کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے انسانی ہم آہنگی پر ضرب کاری لگائی ہے جس کے نتیجہ میں مرد اور عورت الگ الگ پولز پر کھڑے ہیں۔ انسانی زندگی ایک رزم گاہ بنی ہوئی ہے جہاں حقوق کی جنگ برپا ہے۔ میں نے انسانی زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے ، زندگی بھید بھری گتھیوں کا جھمیلا ہے۔ ہم مرد اور عورت کے ہم آہنگ ہونے کے لطف کو الگ کردیں تو انسان غیر فطری زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائے۔ جیسا کہ لیسبیئن اور گے کلچر ترقی پا رہے ہیں اور بازار پلاسٹک کے جنسی کھلونوں سے بھرتے جا رہے ہیں۔ ویسے بھی ہم اپنی ضرورت کی چیزوں سے لطف اور دلچسپی نکال دیں تو شاید اپنے جسم کی حیاتیاتی ضرورتوں کو بھی پورا نہ کر پائیں۔

مرد عورت کے لیے اور عورت مرد کے لیے ایک ایسی دنیا ہے جس میں کھو کر ایک دوسرے کو پایا جا سکتا ہے۔ فطرت کا یہ خوب صورت احساس مر گیا تو زندگی ایک تاریک غار میں گم ہو جائے گی۔ میں شفاف فطرت پڑھنے والا آدمی ہوں ،اس لیے مجھے آپ معمولی آدمی کہہ سکتے ہیں۔ اگر ہرے بھرے درخت کٹ جائیں، وادیاں خشک ہو جائیں اور جھرنوں کا پانی رنگ آلود ہو جائے تو اس کی فکر انہیں نہیں ہو گی جو صنعتیں چلا رہے ہیں۔ اس سے وہ پرندے اور جانور پریشان ہوں گے جن کی دوپہری گھنی جھاڑیوں میں گزرتی ہیں۔ جو جھرنوں پر منہ رکھ کے پانی کی تاثیر لیتے ہیں۔ میں نے عورت کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ میرے لیے عورت ایک دانش کدہ ہے جس میں فکر و نظر، احساس کی نزاکت اور جذبے کی ملائمت کا خزینہ موجود ہے۔ تشویش اس بات کی ہے کہ سیاسی ادارے اور معاشی صنعتیں عورت کو جس چابک سے ہانک رہے ہیں عین ممکن ہے ہمیں ایک دشمن کے ساتھ خوف زدہ حالت میں مقاربت اختیار کرنا پڑے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •