یہ ٹرمپ کی کامیابی اور امریکہ کی شکست ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بالآخر ’امریکی صدارت کے تاریخی دورانیہ‘ کے خاتمہ کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ کو عظیم بنانے کی جد و جہد جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وہائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے اس بیان کو ٹرمپ کا اعتراف شکست سمجھا جارہا ہے۔ تاہم یہ اعتراف بھی بالکل اسی نوعیت کا ہے جیسی گزشتہ روز کانگرس پر حملہ کرنے والوں کو ’پر امن‘ رہنے کی اپیل کی گئی تھی۔ ٹرمپ کے طرز عمل نے دنیا کو حیران، امریکیوں کو پریشان اور امریکی جمہوریت پر سوالیہ نشان کھڑا کیا ہے۔

ٹرمپ 3 نومبر کو ہونے والے انتخاب میں اپنی شکست ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی بھی امریکی صدر کے مقابلے میں زیادہ ووٹ لئے ہیں۔ وہ یہ انتخاب کیسے ہار سکتے ہیں۔ اپنے 74 ملین ووٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے ، وہ یہ فراموش کردیتے ہیں کہ منتخب ہونے والے صدر جو بائیڈن نے ان کے مقابلے میں 81 ملین ووٹ حاصل کئے تھے۔ اس طرح وہ امریکی انتخابی تاریخ میں صدارتی امید وار کے طور پر سب سے زیادہ ووٹ لینے والے شخص کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ٹرمپ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ جب وہ 2016 میں انتخابی فاتح قرار دیے گئے تھے تو انہیں اپنی مد مقابل ہلری کلنٹن کے مقابلے میں 3 ملین کم ووٹ ملے تھے۔ اس کے باوجود ہلری کلنٹن نے باوقار طریقے سے انتخاب کی رات ہی شکست تسلیم کرکے ڈونلڈ ٹرمپ کو فاتح مان لیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ خود ایسے ظرف کا مظاہرہ نہیں کرسکے۔

اس رویہ کی بہت سے طریقوں سے وضاحت کی جارہی ہے۔ ماہرین اپنے اپنے انداز میں اسے سمجھنے اور بیان کرنے کی کاوش بھی کررہے ہیں ۔ عام طور سے یہی خیال کیا جاتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسی ذہنی کیفیت میں ہیں کہ ان کے لئے شکست کا تصور کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کبھی بھی شکست کوآسانی سے قبول نہیں کیا اور نہ ہی وہ ہار ماننے والوں میں سے ہیں۔ اگر اس وضاحت کو درست مان لیا جائے تو ڈونلڈ ٹرمپ کو کسی قسم کے نفسیاتی عارضے میں مبتلا قرار دے کر ان کی ہٹ دھرمی اور ضد کو فراموش کیا جاسکتا ہے۔ تاہم فتح پر ایمان رکھنے والی بات کو اگر ٹرمپ کی کاروباری زندگی اور ’ڈیل میکر‘ کے نام سے شہرت کے تناظر میں پرکھا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ٹرمپ کسی گھمنڈ یا خود فریبی کی وجہ سے شکست ماننے سے انکار نہیں کرتے بلکہ انہوں نے اس رویہ کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی ہوئی تھی۔ وہ سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت اپنی انتخابی ہار ماننے سے انکار اور جنگ جاری رکھنے کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ وہ اس بیان پر ابھی تک قائم ہیں۔

اس کی ایک وجہ تو ان کا پاپولر ووٹ بنک ہے۔ امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد میں انہوں نے اپنے انتہاپسندانہ رویہ، عام طور سے مضحکہ خیز سمجھی جانے والی باتوں اور سفید فام برتری کے زعم کی وجہ سے ٹھوس قبولیت حاصل کرلی ہے۔ امریکی ماہرین یہ مانتے ہیں کہ ٹرمپ کے حامی ان پر اندھا اعتبار کرتے ہیں اور اس مزاج کو ایک ’عقیدہ‘ کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے جس میں ٹرمپ کو ’ اوتار یا خدا ‘ سمجھا جاتا ہے۔ ان کے حامی ٹرمپ کے اشارے پر کوئی بھی اقدام کرنے سے گریز نہیں کرتے کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ان کی پشت پر کھڑا رہے گا۔ ٹرمپ کبھی ان عناصر کی تائید و حمایت سے انکار نہیں کرتے بلکہ مشکل ترین حالات میں بھی وہ یہی کہتے رہے ہیں کہ ’میں آپ کا درد سمجھتا ہوں، اور آپ سے محبت کرتا ہوں‘۔ محبت و عقیدت کے اسی رشتہ کی وجہ سے گزشتہ روز ان کے حامیوں نے کانگرس کی عمارت پر دھاوا بولا جس میں اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 4 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ٹرمپ نے خود ہجوم کو یہ حملہ کرنے پر اکسایا تھا اور کہا تھا کہ ’ہمیں کیپیٹل ہل جا کر اپنے ری پبلیکن ساتھیوں کا حوصلہ بڑھانا چاہئے تاکہ وہ دھاندلی سے ہماری شکست کو فتح میں تبدیل کرسکیں‘۔

کل جس وقت کانگرس پر حملہ کیا گیا اس وقت صدارتی انتخاب میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کی باقاعدہ تصدیق کے لئے سینیٹ اور ایوان نمائیندگان کا مشترکہ اجلاس ہورہا تھا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ری پبلیکنز سینیٹ میں اپنی اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ووٹوں کے ذریعے منتخب ہونے والے الیکٹورل کالج کے چنے ہوئے صدر جو بائیڈن کو مسترد کردیں اور ایسی ریاستوں میں دوبارہ گنتی کا حکم دیا جائے جہاں انتخابی کامیابی کا فیصلہ بہت کم ووٹوں سے ہؤا تھا۔ ایوان نمائیندگان اور سینیٹ کے بعض ارکان نے دھاندلی کے اعتراض کے ساتھ یہ اقدام کروانے کی کوشش بھی کی تھی لیکن ری پبلیکن پارٹی کے ارکان کی اکثریت ٹرمپ کے اس غیر آئینی، غیر اخلاقی اور غیر جمہوری مشورہ کو ماننے پر راضی نہیں ہوئی۔ اس صورت میں ٹرمپ کی خواہش تھی کہ مشترکہ اجلاس کی صدارت کرنے والے نائب صدر مائیک پنس اپنا ذاتی اختیار استعمال کرتے ہوئے الیکٹورل کالج کے فیصلہ کو مسترد کردیں۔ اسی امید پر انہوں نے اپنے حامیوں کو گزشتہ روز واشنگٹن میں جمع کیا تھا اور صبح کے وقت پرجوش انداز میں انہیں اپنا ’حق چھین لینے‘ کا مشورہ دیا تھا۔ ٹرمپ یہ ظاہر کررہے تھے کہ اس طرح وہ مائیک پنس کو ’اخلاقی کمک‘ فراہم کرکے ایک بے نظیر فیصلہ کرنے پر آمادہ کرلیں گے۔

کانگرس میں صدارتی انتخاب میں ڈالے گئے ووٹوں کی تصدیق کا معاملہ رسمی کارروائی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اسی لئے اس سے پہلے کبھی کسی صدارتی انتخاب میں اس کارروائی کے بارے میں نہ تو کوئی خاص خبر سامنے آتی ہے اور نہ ہی اس پر بحث کی جاتی ہے۔ اعلیٰ جمہوری روایات کی بنیاد پر عام طور سے ہارنے والا امیدوار شروع میں ہی شکست تسلیم کرکے ملک میں جمہوری عمل جاری رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس کے برعکس جمہوریت پر نہیں بلکہ دھونس، طاقت اور ذبردستی پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے اسی انتہاپسندی کی وجہ سے اپنا ایک پاپولر بیس بنایا ہے جو ٹرمپ کے حکم پر ہر قانون توڑنے اور کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتا ہے۔ انتخاب ہارنے کے بعد ٹرمپ کی ساری ڈرامہ بازی دراصل اس گروہ کو یہ یقین دلانے کے لئے تھی کہ وہ کسی قیمت پر انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

پہلے انتخابی دھاندلی کے خلاف قانونی جنگ کے نام پر کثیر وسائل جمع کئے گئے جو اطلاعات کے مطابق براہ راست ٹرمپ کے تصرف میں ہوں گے اور وہ وہائٹ ہاؤس سے روانہ ہونے کے بعد انہیں اپنی مرضی اور صوابدید کے مطابق صرف کرنے میں آزاد ہوں گے۔ اس کے علاوہ وہ خود کو اتنا طاقت ور کرچکے ہیں کہ صدارتی استثنی ختم ہونے کے باوجود ان کی غیر قانونی اور غیر آئینی حرکتوں کے خلاف کوئی کارروائی ممکن نہیں ہوگی۔ امریکہ میں یہ قیاس آرائی تو کی جارہی ہے کہ صدارت ختم ہونے کے بعد ٹرمپ کے کون کون سے جرائم کی گرفت ہوسکے گی لیکن قانونی مشکلات کے علاوہ ملک میں پیدا کی گئی سیاسی تقسیم اور ہیجان میں ٹرمپ جیسی مقبولیت رکھنے والے ایک فرد کے خلاف کوئی مقدمہ تیار کرنا آسان نہیں ہوگا۔ یہ قیاس بھی کیا جاتا ہے کہ ٹرمپ کسی مشکل قانونی صورت حال سے بچنے کے لئے 20 جنوری سے پہلے ہی شاید خود کو ’صدارتی معافی‘ دے لیں۔ یا ایک آدھ روز پہلے استعفی دے کر مائیک پنس کو صدر بنادیاجائے اور وہ ٹرمپ کے لئے صدارتی معافی نامہ جاری کردیں۔ گو کہ یہ دونوں اقدام غیر معمولی ہوں گے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کوئی بھی قدم اٹھانے اور کوئی بھی غیر روایتی کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے ’انتہائی احتیاط‘ سے کام لیتے ہوئے صدارتی معافی حاصل کرنے کا اقدام نہ بھی کیا تو بھی ان کی مقبولیت اور معاشرے میں شدید سیاسی تقسیم کی وجہ سے ان پر ہاتھ ڈالنا اور انہیں جیل بھیجنا شاید امریکی ریاستوں کے اتحاد اور سیاسی ہم آہنگی کے نقطہ نظر سے بھی ممکن نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ منتخب صدر جو بائیڈن نے ابھی تک ٹرمپ پر ذاتی حملہ کرنے اور ان کے دور صدارت میں کئے گئے اقدامات کی تحقیقات کے حوالے سے کوئی مؤقف اختیار کرنے سے گریز کیا ہے۔ بائیڈن مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ ہمیں اختلافات اور تنازعات کو بھلا کر مل کر آگے بڑھنا ہے تاکہ ملک کو درپیش مسائل کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اس لئے یہ امکان نہیں ہے کہ بائیڈن انتظامیہ ٹرمپ کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے کوئی فعال کردار ادا کرے گی۔

ٹرمپ کا دور صدارت یوں تو امریکی تاریخ میں سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیوں کہ انسانی حقوق ہوں یا ماحولیاتی آلودگی، جمہوریت کا معاملہ ہو یا بین الملکی تعلقات میں سفارتی نزاکتوں کی صورت حال ، اس دور میں انہیں پس پشت ڈال کر ذاتی مراسم کی بنیاد پر انتہائی فیصلے کرنے کی روایت ڈالی گئی ہے۔ ان میں خاص طور سے مشرق وسطیٰ میں اختیار کی گئی پالیسی، ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا خاتمہ ، مقبوضہ کشمیر میں غیر آئینی اور غیر انسانی بھارتی اقدامات پر خاموشی سر فہرست معاملات ہیں۔ ٹرمپ نے امریکہ ہی نہیں دنیا بھر میں جمہوری روایت ، انصاف اور مساوی حقوق کی صورت حال کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ امریکی معاشرے کو سفید فام نسلی برتری کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے لئے مسلسل اقدامات کئے گئے۔ ٹرمپ اپنے سفید النسل حامیوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوگئے کہ اگر وہ مل کر ان کی پشت پر کھڑے نہ ہوئے تو دوسری نسلوں کے لوگ ان سے کام کے علاوہ جینے کا حق بھی چھین لیں گے۔

امریکہ میں استوار ہونے والا یہی سماجی و سیاسی رویہ دراصل ڈونلڈ ٹرمپ کی میراث ہے۔ اس سے نہ صرف جمہوری روایت کو گزند پہنچی ہے بلکہ سماجی ڈھانچہ بھی زد پر آیا ہے۔ مضبوط آئینی روایت، خود مختار عدلیہ اور قانون کی پاسداری کے اصول کی وجہ سے امریکہ موجودہ بحران سے نکلنے میں تو کامیاب ہوگیا ہے ۔ 20 جنوری کو جو بائیڈن جب صدر کا حلف اٹھائیں گے تو اسے امریکی جمہوریت کی فتح ہی کہا جائے گا۔ تاہم اگر نسلی منافرت اور سماجی تقسیم کے مزاج کو تبدیل کرنے کے لئے ٹھوس کام نہ کیا جاسکا اور ٹرمپ یا اسی مزاج کا کوئی دوسرا لیڈر ایک بار پھر صدر بننے میں کامیاب ہوگیا تو جمہوریت ہی نہیں 50 امریکی ریاستوں کا اتحاد بھی خطرے میں ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1739 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali