بے گور میتیں اور مردہ معاشرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ کئی روز سے ہزارہ قبیلے کی بے گور میتیں ہمارے مردہ معاشرے پر نوحہ کناں ہیں۔ زبان حال سے وہ ہمارے مردہ ضمیر کی ایسی عبرت انگیز داستان بیان کر رہی ہیں کہ شاید بے ضمیری بھی کہیں منہ چھپانے کے لیے جگہ تلاش کرتی پھر رہی ہو۔

میں نہ تو کوئی تجزیہ نگار ہوں اور نہ ہی کوئی سیاستدان، لیکن کیا ایک انسان کو دوسرے انسان کا دکھ محسوس کرنے کے لیے کسی مخصوص نوع یا قبیل سے ہونا ضروری ہے؟ انسانیت کا تعلق تو احساس سے ہے۔ مرتبے، عہدے یا سیاسی وابستگی سے ابن آدم کی تکالیف یا دکھ محسوس کرنے کی صلاحیت جاتی رہے، تو ایسی شخصی ترقی سے پناہ مانگنی چاہیے۔

میں ایک ماں بھی ہوں، بیٹی بھی اور بہن بھی۔ ہزارہ میں بیٹھی بہنوں اور بھائیوں کے آنسو میری آنکھوں سے بھی برس رہے ہیں۔ یہ تصور کرنا بھی کتنا محال ہے کہ آپ کے اتنے پیاروں کو بے دردی سے قتل کر دیا جائے اور آپ خون منجمند کرتی سردی میں ان کی میتوں کو ساتھ لیے ان کے لیے انصاف کی آس لگائے بیٹھے ہوں۔

کسی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر سوچئے، کیا گزرتا ہو گا اس ماں پر جس کا بیٹا محنت مزدوری کرنے کو گیا اور اس کی خون آلود لاش واپس لوٹی۔ وہ بہن جو اپنے بھائی سے چھوٹی چھوٹی فرمائشیں کرتی ہوگی اور اس کا بھائی اس کے ناز اٹھاتے نہ تھکتا ہوگا، آج اس بہن کو اپنے بھائی کی میت اٹھانا پڑ رہی ہے۔ معصومہ کی دل خراش چیخیں اور نوحے مجھے بھی رات بھر سونے نہیں دیتے۔ کوئی بھی اہل دل اس تکلیف کی شدت کا اندازہ لگا سکتا ہے جو ان بہنوں کے دل پر گزر رہی ہے۔ کیا قیامت صغرہ کا سماء ہے کہ ان کے خاندان میں موجود آخری مرد اور واحد کفیل بھی ان سے چھین لیا گیا۔

چشم تصور سے دیکھیے اس بوڑھے باپ کی طرف جس کا جوان سال بیٹا اس سے چھین لیا گیا اور اس کے چھوٹے چھوٹے پوتے پوتیاں باپ کے سائے سے محروم ہو گئے۔ اس باپ کی تو کمر ہی ٹوٹ گئی ہوگی جس کا بیٹا گھر کا واحد کفیل تھا، ظالم قاتلوں نے اس کے ساتھ ساتھ اس کے زیر کفالت تمام گھر والوں کے مستقبل کا بھی قتل کر ڈالا۔

بہت عرصہ ہوا ایک کشمیری شہید کی تصویر کے نیچیے لکھی ایک عبارت پڑھی تھی، اس میں سے ایک جملہ مجھے بہت یاد آیا جب اسامہ کی خون آلود تصاویر سوشل میڈیا پر دیکھیں۔ وہ جملہ تھا ”تمہیں معلوم ہے کہ بچے کیسے پال کر جوان کیے جاتے ہیں؟“ ۔

ایک ماں کے لاتعداد رتجگے، ایک باپ کے لامحدود تھکن سے بھرپور دن، بہنوں کے لاڈ اور بھائیوں کے پیار کا ایک طویل سفر طے ہوتا ہے تو بچے کا کمزور و ناتوان وجود ایک مضبوظ جوان کے سانچے میں ڈھلتا ہے۔ دہشت گردی کا ایک ہی واران تمام رشتوں کو زخم خوردہ اور اس بچے کو اس کے خاندان سے دور کر دیتا ہے۔ پیچھے رہ جاتا ہے ایک نابرداشت ہونے والے دکھ۔ اس موت کے سانحے کے لیے کوئی بھی تاویل پیش کر دی جائے، کوئی دلیل ان والدین کے دل پر مرہم نہیں رکھ سکتی۔ کسی لاجک سے ان کا پیارا بیٹا واپس نہیں آسکتا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ایک عرصے سے دہشت گردی کے عفریب کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ہماری سکیورٹی فورسز نے بلاشبہ بہت سی قربانیاں دی ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔

لیکن اس وقت سوال یہ ہے کہ ان بے قصور مقتولین کی بے گور میتیں انصاف کی منتظر ہیں۔ کیا ہمارے حاکم وقت کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ دکھ کے مارے خاندان، جو اتنے دن سے منتظر ہیں، ان کے جذبات کا پاس رکھتے ہوئے ان کے آنسو پونچھیں۔

بطور ایک عام شہری میرے لیے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ ہماری حکومت کیوں اس معاملے کو حل نہیں کر پا رہی۔ بطور ایک ماں کے میرے پاس اس وقت کوئی جواب نہیں ہوتا جب میری دس سال کی بیٹی میرے سے سوال کرتی ہے کہ ”ماما یہ لوگ اتنی ٹھنڈ میں کیوں بیٹھے ہیں؟“ یا میرا بیٹا حیران ہوتا ہے کہ ”اگر یہ ہمارے پرائم منسٹر کا انتظار کر رہے ہیں، تو وہ جا کر کیوں ان سے نہیں ملتے؟“ ۔

آج کل ایک عام انسان جو سوشل میڈیا یا ٹیلی ویژن استعمال کرتا ہے، وہ ان واقعات سے پھوٹنے والے دکھ سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتا۔ ایک عام پاکستانی ابھی بھی شاید ضمیر نامی عفریب سے مکمل طور پر چھٹکارا نہیں پا سکا۔ ابھی بھی کہیں نہ کہیں اس کے کچوکے ہمیں بے چین کرتے ہیں۔

بچپن میں ہمیں سکھایا گیا تھا کہ برائی یا زیادتی دیکھو تو اس کو ہاتھ سے روکو، اگر اس کی ہمت نہیں رکھتے تو زبان سے اس کو روکو، اگر اس کی بھی ہمت نہ رکھتے ہو تو برائی کو دل میں برا جانو، اور ایمان کا سب سے کمزور درجہ ”دل سے برائی کا برا جاننا“ ہے۔

بطور معاشرہ ہمارا فرض ہے کہ جہاں تک ہو سکے اپنے ہم نفسوں پر ہونے والے ظلم پر، ان کی تکلیف میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ان کا ساتھ دیں اورانکے لیے آواز اٹھائیں۔

ایسا نہ ہو کہ یہ بے گور میتیں ہمارے مردہ معاشرے کا نوحہ کرتی رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •