غلامی کے نئے روپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مقروض ریاست، ادارہ ہو یا پھر فرد اور ادائیگی وقت پر نہ ہو تو انسان ادارہ یا ریاست قرض دینے والی ریاست یا ادارے کے حکم کے تابع رہتا ہے۔ سامنے آنے سے گھبراتا ہے، کوشش کرتا ہے رابطہ ہی نہ ہو، چھپتا بھی ہے، پریشان بھی رہتا ہے، جگ ہنسائی سے ڈرتا بھی ہے، جب کچھ کر نہیں پاتا تو خود کو (ساکھ) گروی رکھ دیتا اور قرض مع سود ہو تو یہ اور بھی مجروح کردینے والی نوعیت ہوتی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارا شمار بھی ایسی ریاستوں میں ہوتا ہے جہاں ہر فرد بلاواسطہ یا بالواسطہ مقروض ہے، یعنی غلام ہے۔ یہ گورے کی غلامی سے زیادہ اذیت ناک معاملہ ہے کیونکہ گوروں کی غلامی میں آپ غلام تھے مگر مقروض نہیں مگر موجودہ حالات میں آپ غلام بھی ہیں اور مقروض بھی۔ اور اس صورت میں ادائیگی کے لیے آپ مزید مقروض ہونے کے ساتھ ساتھ غلام ہوتے جا رہے ہیں۔

آپ سوچ رہے ہوں گے میرا موضوع غلامی کے ذرائع ہیں اور میں بات مقروض ہونے کی کر رہا ہوں لیکن آپ یہ شاید نہیں جانتے مقروض فرد یا ریاست کی حیثیت بھی ایک غلام جیسی ہوتی ہے۔ جو قرض دینے والے کو وقت پر قرض کی ادائیگی نہ کر کے اس کے غلام ہونے کا ’شرف‘ حاصل کرتی ہے۔ پھر وہ جہاں بھی آپ کو استعمال کرنا چاہے کر سکتا ہے، جس میں ایک فرد کی زندگی میں مداخلت یا ریاست کے معاملات میں مداخلت سب شامل ہے۔ قرض کی ادائیگی وقت پر نہ کرنے سے مقروض کو سزا دینا زیادہ اہم نہیں بلکہ اپنی ضبط میں رکھنا زیادہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔

اب تو یہ ٹرینڈ ریاست کے اندر بھی چلنے لگا ہے۔ جس کی سب سے بڑی مثال سیاست میں بھی غلامی کے ذرائع بدل گئے ہیں کیونکہ آبادی کے ساتھ ساتھ سیاست میں کسی حاکم کے سپاہیوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پہلے زمانے میں ایک عام فرد کے کسی سیاست دان سے ملنے کے لیے ذرائع کم تھے اور کام بھی کسی حد تک ہوتے تھے۔ مگر اب ایسا نہیں ہے اب ذرائع بڑھ گئے ہیں اور غلاموں کی تعداد بھی۔ آپ سوچ رہے ہوں گے اس پیراگراف میں غلامی کا رجحان سمجھ میں آ رہا ہے مگر مقروض کا یہاں کیا تعلق۔

یہاں پر مقروض سے مراد کسی سیاسی ورکر کا دادا یا باپ یا پھر ماں متعلقہ حاکم کے غلام ہوتے آئے ہیں اور حاکم نے ریاست کی انکم سے یا رعایا کو جو قانونی حق ہوتا ہے ، ان میں سے کسی ایک دو کو کچھ ادا کیا تھا تو وہ حالیہ حاکم کا والدین پر بچوں کی نظر میں ایک قرض تھا جسے ادا کرنے کے غرض سے غلام ، سادہ الفاظ میں ’غلام ابن غلام‘ بن جاتے ہیں۔

ویسے تو غلام بنانے کے پانچ طریقے ہو سکتے ہیں۔ جنگ میں قیدی بنا کر غلام بنانا۔ کسی پُرامن شخص کو زبردستی پکڑ کر یا اغوا کر کے یا لوٹ مار کے ذریعے غلام بنانا۔ غلام کی اولاد کو پیدائشی غلام بنانا۔ کسی شخص کو اس کی اپنی مرضی یا اس کے گھر والوں کی مرضی یا بااثر لوگوں کی مرضی سے کسی رقم یا فائدے یا ہرجانے یا قرض کے عوض غلام بنانا۔ کسی مفسد، ڈاکو یا باغی کو گرفتار کر کے غلام بنانا۔ لیکن اب ذرائع بدل گئے ہیں جن کا ذکر میں اپنے مضمون کے شروع میں کر چکا ہوں۔ جس میں ایک انسان کے ساتھ ریاست کا اضافہ کیا ہے۔

ایک غلام سوچ کا غلام ہوتا ہے ، وہ مال و اسباب ہونے کے باوجود بھی اپنے پسندیدہ آقا کی غلامی کرتا ہے۔ایک غلام وہ ہوتا ہے جو بظاہر کسی کا غلام نہ ہونے کے باوجود بھی غلام ہوتا ہے ، وہ اپنے آقا کی ہر صحیح غلط کو درست سمجھتا ہے، جسے ہم اندھی تقلید بھی کہہ سکتے ہیں۔ غلامی کی یہ شکل سب سے زیادہ خطرناک نتائج پیدا کرتی ہے اور پورے معاشرے کو ڈبو دینے کا باعث بنتی ہے۔ پھر ایک قسم غلامی کی ایسی بھی ہے جو اپنی خواہشات و مفادات کی غلام ہوتی ہے، ایسے لوگ بظاہر آقا کے منصب پر بیٹھ بھی جائیں پھر بھی وہ غلام ہی ہوتے ہیں۔ یہاں منصب سے مراد سرکاری عہدہ یا ریاستی عہدہ یا پھر شخصی عہدہ ہے۔

صورتحال کو زیادہ دل پر لینے کی ضرورت نہیں ، جہاں ریاست یا ادارے غلامی کی ضبط میں ہو وہاں ایک فرد کا غلام ہونا عام سی بات ہے۔ اور جب تک غلامی محسوس نہ ہو تب تک غلامی کی زندگی تکلیف نہیں دیتی۔ لیکن اگر کبھی غلامی محسوس ہونے لگے تو یہ انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔

Latest posts by عبدالرشید الگ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •