حاکم کے مردہ ضمیر کی لاش بھی دفنا دیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانیت کا سر شرم سے جھکا ہوا ہے۔ شرافت و نجابت کی قدریں دم بخود ہیں۔ ناطقہ سر بہ گریبان ہے۔ احساس کے چراغ کی بچی کھچی مدہم لو بھی ختم ہوئی۔ زندہ ضمیری اور بیدار مغزی کے سوتے خشک ہوئے۔ قیامت نہیں قیامت صغریٰ برپا ہے۔ ہماری روشن روایات و اقدار کے جسم میں سفاکی و زہرناکی کے تیر پیوست کر دیے گئے ہیں۔

ہمارے وزیراعظم نے اخلاقی و سماجی اقدار و روایات کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ ہمارے وزیراعظم قریبی رشتہ داروں اور قرابت داروں کے جنازوں میں شریک نہیں ہوئے۔ وہ اپنے دوست اور پارٹی کے بانی رکن نعیم الحق کے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے۔ ہماری روایات تو اتنی شاندار ہیں کہ ہم بدترین دشمنوں کے جنازوں کو بھی کاندھا دیتے ہیں۔ وزیراعظم کی سانحۂ مچھ کے شہدا کے جنازوں میں شرکت کرنا نہ کرنا الگ معاملہ ہے مگر جس طرح انہوں نے لاشوں پر بلیک میلنگ کا الزام لگایا وہ بہت شرمناک، المناک اور دردناک ہے۔

یخ بستہ ہواوٴں میں اپنے پیاروں کی بدن دریدہ اور سر بریدہ لاشوں کے پاس بیٹھے الم رسیدہ اور رنجیدہ و نم دیدہ مظلومین کو بلیک میلر کہنا انتہائی درجے کی سفاکی اور زہرناکی ہے۔ اپنے نوخیز لخت جگر کی کٹی پھٹی لاش کے پاس بیٹھا ستر سالہ مفلوک الحال شخص بھی بلیک میلر ہے۔ وہ چھ معصوم و مظلوم بہنیں بھی کپتان کو بلیک میل کر رہی ہیں جن کے گھر میں اب کوئی مرد زندہ نہیں بچا۔ میٹرک کے امتحان میں 1053 نمبرز حاصل کرنے والے نوجوان کی ذبح شدہ لاش کے پاس بیٹھی دیرینہ سال ماں بھی ڈٹ کر کھڑے رہنے والے کپتان کو بلیک میل کر رہی ہے جو بیٹے کی جوان موت پر روتے روتے اکثر بے ہوش ہو جاتی ہے۔

کیا کسی حاکم وقت کی بے حسی، سنگدلی اور بے رحمی اس درجے کو بھی پہنچ سکتی ہے کہ وہ بے دردی سے شہید کیے جانے والوں کی لاشوں کو بلیک میلر کہہ دے۔ خان اعظم فرماتے ہیں کہ دنیا میں اس طرح کبھی کسی وزیراعظم کو بلیک میل نہیں کیا جاتا۔ جناب خاقان اعظم صاحب دنیا میں اس قدر سفاک، پتھر دل اور بے رحم وزیراعظم بھی کوئی نہیں ہوتا جو اتنے بڑے سانحے کے فوراً بعد وہاں پہنچنے کے بجائے دارالحکومت میں بیٹھا اپنے پالتو کتوں سے کھیلتا رہے اور ارطغرل ڈرامے کی ٹیم کے ناز اٹھاتا رہے اور جب اسے سانحۂ مچھ کی لاشوں کے بارے میں اطلاع دی جائے تو وہ اسے بلیک میلنگ سے تعبیر کرے۔

ادھر مچھ والے سڑک پر لاشیں رکھ کر ماتم گساری میں مصروف ہیں اور دوسری طرف ملکی دفاع کے ذمہ دار دہشت گردوں کی کمر توڑتے توڑتے بحرین کے سرکاری دورے پر ہیں اور ہمارے ریاست مدینہ جدید کے وزیراعظم بے حسی اور سنگدلی کی چٹان بنے اسلام آباد میں دھوپ سینکنے میں مصروف ہیں۔ اور تو اور ’ریاست مدینہ جدید‘ کے درباری مولوی بھی معلوم نہیں کہاں لاپتہ ہو گئے ہیں جنہوں نے صادق و امین وزیراعظم کو مچھ جانے کے لیے قائل کرنا تھا۔

ہم مچھ کے دریدہ تن شہدا کے الم رسیدہ لواحقین سے دست بستہ عرض گزار ہیں کہ وہ اپنے پیاروں کی گیارہ لاشوں کی تدفین کے ساتھ ساتھ حاکم وقت کے مردہ ضمیر کی بارہویں لاش بھی دفن کر دیں تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ یہ شخص اور اس کو ملک پر مسلط کرنے والے انتہائی درجے کے نا اہل اور نالائق ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت سفاک اور بے حس بھی ہیں۔

مظلوم کی آنکھوں سے رہا خون ٹپکتا
ظالم کی نگاہوں میں حیا تک نہیں آئی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •