پاپی اور پارسا کی دوستی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(1)
اگر کوئی شخص مجھ سے پوچھے کہ آپ سے دوستی کی خاطر کس ادیب نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں تو میں کہوں گا۔ جاوید دانش، ایک وہ زمانہ تھا جب لوگ دانش سے شکایت کرتے تھے ’خالد سہیل کا لہجہ پنجابی ہے، اسے لکھنوی انداز سے اردو لکھنا سکھاؤ‘

پھر وہ دور آیا جب دوستوں نے دانش سے کہا ’تمہارا دوست خالد سہیل گوری لڑکیوں کو ڈیٹ کرتا ہے۔ اسے کہو کسی مشرقی عورت سے شادی کر لے‘

اور پھر وہ وقت بھی آیا جب مشرقی مولویوں نے دانش کو مسجد میں سمجھایا ’تمہارا ساتھی گمراہ ہو گیا ہے۔ خدا اور مذہب کو چھوڑ کر انسان دوست بن گیا ہے۔ اسے واپس مذہب کی طرف لاؤ۔ اگر تم نہیں لاؤ گے تو اور کون لائے گا‘

آخر جاوید دانش کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اسے کہنا پڑا ’کیا آپ نہیں جانتے کہ ہم اپنی تیس سال کی دوستی میں تین سال اکٹھے بھی رہے ہیں۔ خالد سہیل نے کبھی مجھے نماز پڑھنے، روزے رکھنے اور اعتکاف پر بیٹھنے سے نہیں روکا۔ جب اسے میرے مذہبی ہونے پر اعتراض نہیں تو مجھے کیسے اس کے دہریہ ہونے پر اعتراض ہو سکتا ہے۔ ہم دونوں اپنے ضمیر کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ نظریاتی اختلافات کے باوجود ہماری دوستی پکی اور سچی ہے‘

(2)

مجھے وہ شام اچھی طرح یاد ہے جب میں نے ایک ایسی نظم پڑھی جس کے میں سحر میں کھو گیا۔ اس نظم کا نام تھا ’میں کہ تیرا پہلا لمس نہیں تھا‘ ۔ اس نظم کو پڑھ کر میرے دل نے سرگوشی کی

’خالد سہیل! تمہیں اس نظم کے خالق سے ملنا چاہیے‘

چنانچہ میں جاوید دانش کی تلاش میں امریکہ چلا گیا۔ مجھے بالکل خبر نہ تھی کہ جب میں جاوید دانش کی نظم پڑھ کر اس کی تلاش میں نکلا تھا اسی وقت جاوید دانش بھی میرا افسانہ پڑھ کر میری تلاش میں نکلا ہوا تھا۔ چنانچہ ہم دونوں حمیرا رحمان کے نیویارک کے مشاعرے میں ملے۔ ان دنوں ہم دونوں جوان تھے، بذلہ سنج تھے اور عاشق مزاج تھے۔

باتوں کا سلسلہ شروع ہوا تو ہمارے کاکلوں کی طرح دراز ہو گیا۔ پہلی ہی ملاقات میں ہم دونوں نے کئی گھنٹوں تک ادب، فلسفے، مذہب، نفسیات، محبت اور ہجرت کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا اور فیصلہ کیا کہ ہمیں مل کر کچھ تخلیقی کام کرنا چاہیے۔

کینیڈا واپس آ کر میں نے دانش کو اپنے افسانے بھیجے اور اس نے کشمیر کی افسانہ نگار رانی نگندر کے ساتھ مل کر افسانوں کی ایک ٹیپ ایک آڈیو بک بنائی۔

(3)

دانش جب ہندوستان گیا تو وہ آڈیو بک اپنے ساتھ لے گیا۔ دہلی میں اس آڈیو بک کی جہاں بہت پذیرائی ہوئی وہیں اس پر اعتراضات بھی ہوئے۔ اعتراض کی ایک وجہ میرا لکھا ہوا ایک مکالمہ تھا،

’ دنیا میں پاکستان اور اسرائیل ہی ایسے دو ممالک ہیں جو مذہب کی کوکھ سے پیدا ہوئے ہیں اور مذہب ایک نیا ملک بنانے کی کمزور بنیاد ہے‘

دانش نے مذہبی انسان ہوتے ہوئے بھی میرے سیکولر نظریات کا دفاع کیا۔ میں نے دانش سے کہا کہ وہ کہہ سکتا ہے آواز میری ہے خیالات اور نظریات خالد سہیل کے ہیں لیکن دانش نے دوستی کی خاطر ایسی قربانی دی جو مجھے آج تک یاد ہے۔

(4)

کچھ عرصہ بعد دانش کینیڈا آ گیا اور ہم دونوں تین سال اکٹھے رہے۔ اس دوران ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم مل کر عالمی ادب کے فن پاروں اور شہ پاروں کا ترجمہ کریں گے۔ افسانوں اور نظموں کا ترجمہ میں کروں گا اور ڈراموں کا ترجمہ دانش کرے گا۔ چنانچہ ہم نے مل کر

کالے جسموں کی ریاضت۔ افریقی ادب کے تراجم
ایک باپ کی اولاد۔ مشرق وسطیٰ کے اسرائیلی اور فلسطینی ادب کے تراجم
ورثہ۔ عالمی لوک کہانیوں کے تراجم
کے تین مجموعے چھاپے جو بہت مقبول ہوئے۔

(5)

ہم دونوں نے مل کر ہندوستان اور پاکستان کا سفر کیا اور ایک دوسرے کے خاندانوں اور دوستوں سے ملے۔

ہندوستان میں جب ہماری مشترکہ کتاب۔ کالے جسموں کی ریاضت۔ کی تقریب رونمائی ہوئی تو پروفیسر مونس رضا اس لیے اس تقریب میں تشریف لائے کہ وہ دیکھیں کہ یہ اردو کے کون سے دو ادیب ہیں جو ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے یا ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور احترام سے مل کر ادبی کام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے تخلیقی ہمسفر بنتے ہیں۔

دانش کی اور میری یادگار ملاقاتوں میں محمد حسن اور شارب ردولوی، قمر رئیس اور جوگندر پال، ارتضی کریم اور ابن کنول، منیر نیازی اور گوپی چند نارنگ، حمیرا رحمان اور جون ایلیا جیسی ہستیوں اور شخصیتوں سے ملاقاتیں شامل ہیں۔

یہ میری خوش بختی کہ دانش نے اور میں نے مل کر بہت سے ایسے ادبی کام کیے ہیں جو بہت کم اردو کے ادیب مل کر کرتے ہیں۔

(6)

عالمی ادب کے تراجم کے بعد دانش نے کینیڈا میں ڈرامے لکھے اور انہیں سینکڑوں ناظرین کے سامنے پیش کیا۔ میں اس کے بہت سے ڈراموں کو سٹیج پر دیکھ کر محظوظ بھی ہوا اور مسحور بھی۔ ان ڈراموں میں ’کینسر‘ بھی تھا ’ہجرت کے تماشے‘ بھی اور ’مرزا غالب‘ بھی۔ اپنی فلم ’بڑا شاعر چھوٹا آدمی‘ میں دانش نے مجھے ایک ماہر نفسیات کے چند ڈائلاگ ادا کرنے کی دعوت بھی دی۔

میں دانش کی ہمہ جہت شخصیت کے کمالات کا چشم دید گواہ ہوں۔ وہ ایک کامیاب رائٹر بھی ہے ڈائریکٹر بھی اور پروڈیوسر بھی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ایک محبت کرنے والا باپ اور پیار کرنے والا شوہر بھی۔ اس کی بیگم عظمیٰ دانش اس کی نقاد بھی ہیں اور مداح بھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے ہیں اور ہم سب جانتے ہیں کہ کسی بھی آرٹسٹ کے لیے اپنی فنکارانہ زندگی اور خاندانی زندگی میں توازن قائم کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔

(7)

اگرچہ دانش نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا ہے لیکن وہ موضوع جو اس کے دل کے بہت قریب ہے وہ ہجرت ہے۔ دانش کے ڈراموں کے مجموعوں۔ ہجرت کے تماشے۔ اور۔ چالیس بابا ایک چور۔ میں مہاجروں کی نفسیات اور سماجیات، عذابوں اور خوابوں کا بھرپور تخلیقی اظہار ملتا ہے۔

جب ہم دانش کے ’ہجرت کے تماشے‘ کے ڈراموں کی دنیا میں داخل ہوتے ہیں تو ہمارا بہت سے کرداروں سے تعارف ہوتا ہے۔ ان کرداروں میں عورتیں بھی ہیں مرد بھی، بچے بھی بزرگ بھی، کامیاب لوگ بھی، ناکام لوگ بھی، سکھی لوگ بھی، دکھی لوگ بھی، رومان پرست عورتیں بھی حقیقت پسند مرد بھی۔ یہ سب ایسے مشرقی کردار ہیں جو مغرب میں آ بسے ہیں۔

جب ہم ان کرداروں کی آرزوؤں، امیدوں اور خواہشوں کو قریب سے دیکھنے اور سننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں ان دعاؤں کی یاد آتی ہے جو ہونٹوں پر آنے سے پہلے ہی دل میں دفن ہو گئیں۔ ان پھولوں کی مہک یاد آتی ہے جو پوری طرح کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گئے۔ ان چاندوں کی یاد آتی ہے جن کو چودھویں رات سے پہلے ہی گرہن لگ گیا۔

چنانچہ یہ ڈرامے شکستہ خوابوں کی داستانیں ہیں، تشنہ خواہشوں کے قصے ہیں اور مہاجر خاندانوں کی سوانح عمریاں ہیں۔ ان ڈراموں کے المیوں میں افراد کے المیے بھی ہیں خاندانوں کے المیے بھی اور قبیلوں اور قومیتوں کے المیے بھی۔ ان کے کرداروں کی آنکھوں میں جہاں صبح دیکھنے کی تمنا ہے تو وہاں رات کی طوالت کا شکوہ بھی ہے۔ جہاں ان کے حوصلوں میں پختگی ہے وہاں اپنی اقدار کی شکست و ریخت کا دکھ بھی ہے۔

دانش کے ڈراموں میں پہلی نسل کے مہاجروں، جو مشرق سے ہجرت کر کے مغرب میں آ بسے ہیں اور دوسری نسل کے مہاجروں، جو مغرب میں پلے بڑھے ہیں، کے تضادات کا بھرپور اظہار ہے۔ اس کی ایک مثال ڈرامہ ’اندھی مامتا‘ ہے۔ کرداروں کے مکالمے ملاحظہ فرمائیے :

مسز جعفری :کچھ نہیں بس میری لاڈلی خود مختار ہونا چاہتی ہے۔ میں نے اکیلے سوئمنگ کے لیے جانے سے روک دیا۔ بس شام سے موڈ خراب ہے۔

عین: (بیزار ہو کر) بات صرف سوئمنگ کی نہیں اور میں کوئی بچہ نہیں۔
and she is overprotective
(کتاب واپس شیلف پر رکھتے ہوئے ) مجھے خوب پتہ ہے وہ کس کے لیے زندہ ہیں۔

مسز جعفری: (بات کاٹتے ہوئے ) مگر تم اکیلے ٹینس کھیلنے نہیں جا سکتیں۔ میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں گی ( اٹھنے لگتی ہے )

عین: Oh no۔ ممی آپ ٹینس کھیلتی نہیں وہاں جا کر کیا کریں گی۔
Why don’t you trust me۔
ٹھیک ہے میں کہیں نہیں جاتی (غصے سے بیٹھ جاتی ہے )
یہ تضاد چند قدم آگے بڑھتا ہے تو

مسز جعفری : یہ سچ ہے کہ میں اب تک یہاں ذہنی طور پر بس نہیں پائی مگر ہر بات پر شک نہیں کرتی عین! میں جو کچھ کر رہی ہوں تمہاری بہتری اور مستقبل کے لیے کر رہی ہوں۔ تم بے شک اسے میری اندھی مامتا کہہ سکتی ہو۔

عین: (طنزیہ) صرف اندھی مامتا ہی نہیں یہ آپ کے اور آپ کے سماج کے بنائے ہوئے کھوکھلے اصول ہیں جو یہاں کے طور طریقوں کو برا سمجھتے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ جیسے تمام روایتی لوگ واپس اپنے ملکوں کو لوٹ کیوں نہیں جاتے۔

(8)

جہاں ’ہجرت کے تماشے‘ میں مہاجروں کے ابتدائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے وہیں ’چالیس بابا ایک چور‘ میں ان مہاجروں کے مسائل پر بحث کی گئی ہے جو مغرب میں ایک طویل عرصے سے رہ رہے ہیں۔ جہاں ان کے خارجی اور معاشی مسائل کم ہو رہے ہیں وہیں ان کے داخلی اور نفسیاتی مسائل بڑھ رہے ہیں۔

دانش نے اپنے مزاح اور طنز کے درپردہ کئی سماجی، رومانی اور فلسفیانہ مسائل کو بھی چھوا ہے اور قاری کو ان مسائل کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کی دعوت دی ہے۔ دانش کے ڈرامے ’جیون ساتھی کلینک‘ کے چند ڈائیلاگ ملاحظہ فرمائیں :

’ گلفام (چیرز ٹھیک کرتے ہوئے، آپ جو یہ پتی I mean۔ شوہر ارینج کرواتی ہیں، اس کھلی ڈلی سوسائٹی میں اس کی ضرورت کیوں؟ جب کہ ہر کوئی so called۔ آزاد ہے یہاں۔ یہ کومل کنواریاں‘ الہڑ بالیاں۔ خود سے کیوں نہیں ڈھونڈ لیتیں اپنا ہم سفر؟

میڈم : اکثر خود ہی ڈھونڈنے کی کوشش اور تجربہ کرتی ہیں اور بیشتر پہلی بازی ہار کر ہی میرے تجربے کا فائدہ اٹھانے ہم تک آتی ہیں۔ pause۔ اور پھر سب کام اگر خود سے ہونے لگے تو پھر نہ تم جیسے لونڈوں کو نوکری ملے گی نہ میرا کلینک چلے گا۔ ویسے بھی ہماری عورتیں ابھی پوری طرح آزاد کہاں ہیں۔ غلامی کا اثر نسلوں تک رہتا ہے!

گلفام : اس کا مطلب۔ جو نظر آ رہا ہے وہ سچ نہیں اور جو سچ ہے وہ دکھائی نہیں دیتا۔ تو پھر آزاد ہے کون؟ ’

دانش ان مکالموں میں بظاہر دولہا دلہن تلاش کرنے کی باتیں کر رہا ہے لیکن در پردہ انسانی نفسیات کی الجھی گتھیوں کو سلجھا رہا ہے اور ہمیں سماجی آزادی اور نفسیاتی غلامی کے پیچیدہ اور گنجلک رشتوں اور تضادات سے متعارف کروا رہا ہے۔

’چالیس بابا ایک چور‘ میں نفسیاتی اور سماجی مسائل پر بحث کرتے ہوئے دانش بہت دور تک نکل جاتا ہے اور سیاسی مسائل کو چھونے لگتا ہے ایسے مسائل جن کو چھونے سے بہت سے شاعروں، ادیبوں، ڈرامہ نگاروں اور دانشوروں کے ہاتھ اور پر جلتے ہیں۔ اس کی دل سوز مثال سوشل ٹیبو والے ڈرامے جیسے مکتی (ایڈز) اور کینسر (مرسی کلنگ Mercy killing) جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ وہ بھاری پتھر ہے جسے اٹھانے کے لیے حوصلہ چاہیے۔ برسوں کی ادبی محنت اور تخلیقی ریاضت کے بعد دانش اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں وہ ’ایک تھی روحی‘ جیسا ڈرامہ لکھ سکتا ہے۔

آغاز ملاحظہ ہو؛
خاموش عدالت جاری ہے
میں جو کہوں گی۔ سچ کہوں گی۔ سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گی۔

میں ایک مسلم ہندو کرسچن gay lesbian۔ میں کیا ہوں۔ پتہ نہیں۔ میں صرف ایک عورت ہوں۔ جس کا دھرم صرف مردوں کے نیچے رہنا لکھا ہے۔ بس! مجھ سے مت پوچھو کہ rape کے وقت میں نے منی اسکرٹ پہنی تھی، ساری یا لانگ کوٹ یا برقعہ۔ damned۔ ان جاہل منتری مہادیو سے کہو کہ اپنی بیٹی کی حفاظت لانگ کوٹ میں کر کے دکھائے۔

دامنی کے دامن کو تار تار کرنے سے پہلے سیکورٹی کہاں تھی۔ اور پھر جب پولیس آئی تو bull shit۔ investigations۔ وہاں ایک زخمی لڑکی ننگی عصمت دری کے بعد خون میں نہائے راستے پر راہ گیروں کا تماشا بنی پڑی رہی۔ کسی میں اتنی مردانگی نہیں تھی کہ اس کو فوراً اسپتال لے جائے۔

سرکار!
اور ڈرامے کا انجام ملاحظہ ہو
کاش میں آج خود کو ختم کر سکتی۔

مگر نہیں میں تیری معصوم خودکشی اور دامنی کی دردناک موت کی کہانی سنانے کے لیے زندہ رہوں گی۔ میں so called۔ Liberated India۔ پر رونے اور خود غرض سماج پر ہنسنے کے لیے زندہ رہوں گی۔

ایک پریورتن کی ضرورت ہے۔ Your Honour۔ صرف پلاننگ نہیں مائنڈ سیٹ چینج کرنے کی ضرورت ہے۔

(9)

جب میری دانش سے ملاقات ہوئی تھی تو وہ۔ آوارگی۔ اور۔ مزید آوارگی۔ جیسے سفرنامے لکھتا تھا۔ اس وقت اس کا خیال تھا کہ ادب لوگوں کو entertain کرتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کی سوچ میں گہرائی اور گمبھیرتا پیدا ہوتی گئی۔ فن کی محنت، زندگی کی تمازت اور تخلیقی ریاضت اسے اس مقام پر لے آئی جہاں اس نے سیکھا کہ ادب عوام کو entertain کرنے کے ساتھ ساتھ enlighten بھی کر سکتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں فنکار کے تجربے، مشاہدے، مطالعے اور تجزیے کی قوس قزح کے سات رنگ آپس میں مل کر دانائی کی روشنی میں ڈھل جاتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں فن عوام و خواص کا mindset بدل سکتا ہے اور انہیں ایک بہتر انسان بننے کی ترغیب اور بہتر معاشرہ تخلیق کرنے کی تحریک دے سکتا ہے۔

(10)

دھیرے دھیرے بہت سے دوستوں، شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں پر یہ راز افشا ہو رہا ہے کہ جاوید دانش اور خالد سہیل کی دوستی ایک ایسے پارسا اور ایک ایسے پاپی کی دوستی ہے جو درپردہ دونوں درویش ہیں۔

میں اپنی دانش سے دوستی کا زیادہ کریڈٹ جاوید دانش کو دیتا ہوں۔ وہ کئی سالوں بلکہ دہائیوں سے میرے حوالے سے اپنوں اور غیروں کی جائز اور ناجائز شکایتیں سن رہا ہے اور مسکرا رہا ہے۔

مجھے جاوید دانش کی دوستی پر فخر ہے۔ میرا ایک شعر ہے ؎
آج کل رشتوں کا یہ عالم ہے
جو بھی نبھ جائے بھلا لگتا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 392 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail