سوات میں خوشی پر پرچہ کاٹنے والے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوات صرف خوبصورت نہیں بہت خوبصورت ہے۔ سواتی پختون، مہمان نواز، مہمان دوست اور پورے پختونخوا میں سب سے زیادہ پر امن اور تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ سوات کے ہوٹل، خوراک اور خدمات مری کے مقابلے میں نہایت سستی اور بہترین ہیں۔ پانی وافر، علاقہ دور دور تک کھلی وادیوں پر مشتمل ہے۔ شفاف اور صحت بخش پانی کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا دریا، ہر طرف بہتے ہوئے چشمے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سوات مری کی طرح تنگ، پیسہ چوس اور گندا نہیں۔

پہلے ”صوفی محمد کے اسلام“ کے ذریعے سیاحوں کو سوات آنے سے ڈرا کر منع کیا جاتا تھا، تاکہ دوسرے سیاحتی مقامات کو بزنس ملے، لیکن ہزاروں پختونوں کو افغانستان کے دشت لیلیٰ میں گیدڑوں کی خوراک بنانے کے بعد جب وہ اللہ کے پاس چلا گیا، تب سوات میں امن لوٹ آیا۔ علاقے میں پھر سیاحت شروع ہوئی، پھر ملک بھر سے جوق درجوق بچے بڑے فیملیز سمیت سوات آنے لگے تو ان سیاحوں کو مختلف شکلوں میں چھپے ہوئے طالب اور ان کے ایجنٹ دوبارہ ڈرانے لگے۔

سوشل میڈیا پر موجود ایک بے ضرر ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پنجاب سے آئے ہوئے یونیورسٹی کے مہمان بچے قریب کہیں بجنے والی موسیقی کے ساتھ سر پیر ہلا رہے ہیں، جس سے ’ہماری‘ تہذیب اور روایات کی خلاف ورزی ہوئی اور شاید اسلام خطرے میں پڑ گیا۔ لیکن کون سی روایات کی خلاف ورزی ہوئی، سمجھ نہیں آئی؟

خونخوار طالبان کی روایات کی خلاف ورزی ہوئی ہو تو ممکن ہے، کیونکہ اس ویڈیو کے ساتھ ساتھ ایک اور ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش میں ہے جس میں افغانستان میں کسی شادی کی تقریب میں گانا بجانے والے چند فنکاروں کو دیکھا جا سکتا ہے، جن کے سر گنجے کیے گئے ہیں، منہ پر کالک مل دی گئی ہے اور ساتھ ساتھ منہ چھپائے طالبان، ان کو گدھوں پر پھرا رہے ہیں۔

کیونکہ طالبان کی روایات خوشیاں منانا، خوشی کے موقع پر ناچنا اور گانا نہیں بلکہ مسلمانوں کے خلاف مساجد ، امام بارگاہیں اور بازاروں میں خود کش حملے کرنا، مسلمان بھائیوں کے کٹے ہوئے سروں سے فٹ بال کھیلنا، سکول کے بچے ذبح کرنا ہیں۔ ہاں پختونوں کی روایات میں ناچ گانا اور مہمانوں کو سر آنکھوں پر بٹھانا شامل ہے۔ خٹک ناچ کیا امرتسر کے سکھ اپنی خوشیوں کے دوران ناچتے ہیں؟ اتنڑ کیا تل ابیب کی گلیوں بازاروں اور میدانوں میں خوشی سے سرشار یہودی نوجوان مرد اور عورتیں کرتی ہیں؟

پختونخوا میں شادیوں اور خوشیوں کے موقع پر ماتم کیا جاتا ہے ناچ گانا نہیں ہوتا؟ کیا پختونوں کے حجروں (ڈیروں ) بیٹھکوں میں رباب منگے، ٹنگ ٹکور اور بے خود ہو کر ناچ اٹھنے پر پابندی ہے؟ پھر مالم جبہ میں کون سی آبادی ہے اور کون سا گاؤں بستا ہے جس کے باشندوں کی مقدس روایات پامال کیے گئے؟ یا پھر مالم جبہ خوشیاں ڈھونڈھنے کی تلاش میں آئے ہوئے سیاحوں کی منزل مقصود نہیں، کوئی تبلیغی مرکز یا جامع مسجد ہے، جس کی توہین کی گئی ہے، جس پر ایف آئی آر کاٹی گئی۔

آج بھی سوات کے باشندے والئ سوات کے دور کو یاد کرتے ہیں تو اس دور کی کہانی کم سناتے ہیں اور آہیں زیادہ بھرتے ہیں۔ والئ سوات کے ’انصاف پرور دور‘ کو عمر رسیدہ لوگ آج بھی اسلامی دور کہتے ہیں۔ والئ سوات کے اس اسلامی دور میں پختونخوا بھر میں پشتون فنکاروں کی سب سے بڑی آبادی سوات کے علاقہ بنڑ میں رہتی تھی۔ جہاں کے چناروں اور چلغوزے کے سربفلک درختوں کے بیچ پختونخوا کی خوبصورت ترین عورتیں بولتیں تو لگتا ہے کوئلیں کوکتی ہیں، لچکتیں تو شاخ بید لاج سے خشک ہو جانا چاہتی اور تان اٹھاتیں تو بازدرہ میں مدفون پختون شہید محبت آدم خان کا رباب خود بخود جھنجھنا اٹھتا۔ جو نہیں جانتا آدم خان کون ہے اور کس وجہ سے مشہور تھا؟ وہ پختون ہے نہ پختون روایات کا امین۔

پختونوں کی خوشیوں کے دشمن اور خوشحالی کے مخالف اب بھی کہیں ارد گرد بہروپ بھر کر موجود ہیں۔ وہ نہیں چاہتے پختون خوش رہے، خوشحال رہے، ناچے گائے۔ ان سے باہر کے لوگ آ کے ملیں، ان کے بارے میں مثبت سوچیں اور روشن روایات پنپیں، وہ دو پیسے کمائے، دوسری اقوام میں دوست بنائے۔

روایتی پختون معاشرہ مدارج  کے افقی ماڈل پر مشتمل ایک قدیم جمہوری وجود رکھتا ہے، جس میں بہت ساری جوہری تبدیلیوں کے باوجود بھی، آج تک بنیادی ڈھانچہ دیکھا جا سکتا ہے۔ جس طرح پختونخوا میں پنجاب کے راستے آنے والے ہر غیر پختون کو پنجابی کہا اور پنجابی سمجھا گیا، اسی طرح پختونخوا کی طرف سے پنجاب آنے والے ہر پشتو بولنے والے کو پختون سمجھا جاتا ہے جبکہ پختون روایات کے تحت مکمل پختون، پشتو بولنے والے صرف اس فرد کو کہا جاتا تھا جس کی جائیداد یعنی زمین ہوتی تھی۔

زمین کے بغیر پشتون ہمسایہ اور کسی فن (لوہار، ترکھان، کمہار، کپڑا سازی وغیرہ) میں طاق ہونے کی بناء پر کسب گر کہلاتا تھا۔ یہ لوگ زمیندار پشتون کے ہاں رشتے کے اہل نہیں تھے نہ ان کے گھر سے وہاں رشتے لئے جاتے تھے۔ مُلا بھی اسی معاشرتی درجہ بندی کا حامل تھا، جو غیر زمیندار پشتون کے لئے مقرر تھی، البتہ مذہبی فرائض کی ادائیگی کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں عزت کا تھوڑا زیادہ حقدار تھا، لیکن مکمل پشتون کے برابر تھا نہ اس کی بات کی کوئی اہمیت تھی، البتہ عالم اور خصوصاً وہ جو زمیندار ہوتا، اس کا رتبہ دینی علم اور خاندانی نجابت کی بنا پر باقی زمینداروں کے برابر تھا، بلکہ بعض اوقات ان کی بات مذہبی معاملات میں راجح ہوتی۔

جب کبھی قومی یا ملکی اہمیت کے معرکہ میں، فطری پشتون لیڈر، خان یا ملک مر جاتا، جھک جاتا، یا قومی ترجیحات کے خلاف ہو جاتا، تو پھر مولوی کی ثانوی لیڈرشپ علم اٹھا کر قوم کو پیچھے لگا لیتی، لیکن یہ جز وقتی اور اضطراری لیڈرشپ مشکلات ختم ہونے یا حقیقی لیڈرشپ کے دوبارہ ابھرنے پر خود بخود ختم ہو جاتی۔

پختون اپنے لیڈر میں بہادری برابری اور انصاف کے علاوہ، ضرورت کے وقت دستیابی، کھلے ہاتھوں خرچ، کھلا ہوا حجرہ (ڈیرہ) اور پھیلا ہوا دستر خوان بنیادی اور اہم خصوصیات شمار کرتے ہیں۔ جنگ میں بہادری دکھانے کے باوجود مولوی باقی خصوصیات سے ہمیشہ عاری ہوتا۔ اس لیے اس کی تہی دستی اسے درجہ اول کا رہنما بننے نہیں دیتا تھا۔

دہشت گردوں کے نزول سے پہلے اس ساری صورتحال کا اچھی طرح مطالعہ اور بندوبست کیا گیا تھا۔ اس لیے دہشت گردوں نے خود مختار سوچ رکھنے والے خوانین، ملک، شعور رکھنے والے دانشوروں اور قوم پرست لیڈرشپ کو چن چن کر مارا۔ سکول بند کیے جلائے گرائے تاکہ تعلیم یافتہ آبادی اپنے بچوں سمیت ہجرت کرے اور پھر پیدا کردہ خلا میں اپنے تیار کردہ ملا اور ان کے ساتھ معاشرتی درجہ بندی میں کم رتبہ طفیلی ملا کر مستقل بنیادوں پر خود کو مضبوط کیا۔

وہ جانتے تھے کہ سید احمد بریلوی اپنے کم تر رتبے (مہاجر) اور نچلے معاشرتی مدارج کے حامل ساتھیوں (ملاؤں) کی وجہ سے مقبول ہو سکا نہ کامیاب، یوں اس ہلاکت خیز بندوبست سے بچنے اور بعض صورتوں میں نفع اور مرتبہ حاصل کرنے کی خاطر کچھ طالب بنے کچھ تبلیغی اور جو ایسا کرنے پر تیار نہیں ہوئے وہ مارے گئے۔

یہ حیران کن امر نہیں کہ جس معاشرے میں ملا درجہ اول کے رتبے میں شمار نہیں ہوتا تھا وہاں پر طالب جیسا طفیلی بننا ایک پختون نے قبول کیا بلکہ طالب ہونا ایک قابل فخر کردار بنا؟ کیسے حد درجہ خود مختار پختون قبائلی جوان خود کو طالب کہنے لگا؟

مذہبی کجرویوں میں ایک عام فکری مغالطہ یہ ہے کہ صرف میں حق پر ہوں، بلکہ حق کا نمونہ ہوں، جو میرے جیسا نہیں دکھتا اور میرے جیسا رہن سہن نہیں رکھتا، وہ گمراہ ہے۔ ساتھ ساتھ تاریخ کی گرد آلود شاہراہ پر ارتجاعی سفر اور فکری جمود کو ایمان کی پختگی سمجھنا بھی مذہبی مغالطوں میں سے ایک ہے۔ یہی فکری جمود اور ’راسخ العقیدگی‘ ہے جو افغانستان میں خوشی کی محفل میں گانا بجانے پر بر افروختہ ہو جاتی ہے، سوات میں بچوں کے ناچنے پر ایف آئی آر کاٹتی ہے، اور مانسہرہ یونیورسٹی میں مدرسہ کا ڈریس کوڈ لاگو کرنا پہلی ترجیح بناتی ہے۔

باعزت اقوام کے فنکاروں کو ساری دنیا جانتی ہے، خواہ وہ مائیکل جیکسن جیسا مجہول الجنس کیوں نہ ہو، وہ اپنے فنکاروں کو ملکہ موسیقی، شہنشاہ غزل، ملکہ ترنم کے عزت بھرے خطابات دیتی ہے اور عزت سے محروم قومیں اپنی فنکار عورتوں کو قتل کرتی ہیں اور مردوں سے داڑھیاں رکھوا کر بستر بند تحریک میں بھرتی کرتی ہیں، چونکہ دنیا تو ان کی جلی ہوئی ہوتی ہے بس ان کی آخرت ’سنوار دی جاتی ہے‘ ۔ لیکن یہ کوئی نہیں سوچتا کہ یہ محنت کش یہی سب کچھ صدیوں سے پیٹ کی خاطر کرتے آئے ہیں، آخرت کی خاطر نہیں، کیونکہ سمگلنگ، ڈاکے، چوریاں، ملاوٹیں، نوسربازیاں، سود، بچوں سے زیادتیاں، بہنوں کی حق تلفیاں، بھائیوں کی قتل عام، ملک بھر میں لوٹ مار کر کے بھی اگر ہماری آخرت محفوظ ہے، تو اللہ رحمان ان کو بھی بخشنے پر قادر ہے۔

یہ ’عظیم بت شکن‘ محمود غزنوی کے دور میں بھی یہی گانا بجانے کا کام کرتے تھے، محمد غوری کے دور میں بھی، ابراہیم لودھی کے دور میں بھی، احمد شاہ ابدالی کے دور میں بھی، اور ارطغرل غازی کے ہم قوم الپتگین، سبکتگین، ایبک اور تغلق کے دور میں بھی یہی کرتے تھے۔

تہذیبیں لاکھوں سال کی آبیاری کے بعد کہیں پھل پھول دینے کے قابل ہوتی ہیں۔ اگر محمود غزنوی واقعی بت شکن تھا تو پھر ضرور ان کی قریب کی نظر شدید حد تک کمزور تھی، کیونکہ اہرام مصر سے دکھائی دینے والا بامیان کا بدھا اس کو نظر نہیں آیا اور دور دراز پڑے سومنات کے چھوٹے موٹے بتوں پر تیشہ آزمائی کے لئے سترہ کوششیں کیں۔

کج فہموں کو نہ ماضی میں برداشت اور بقائے باہمی کی کوئی مثال نظر آئی جب انہوں نے ہزار سالہ بدھا کو بارود کی نذر کیا نہ حال سے سبق سیکھا جب ‘امیر المؤمنین’  نے ’مہمان نوازی کی روایات‘ کی خاطر پورا ملک برباد کروا دیا لیکن مہمان حوالے نہیں کیا، جب کہ سوات میں انہی  کے پیرو کاروں نے ’مہمانوں‘ کے ناچنے کو روایات کی خلاف ورزی سمجھ کر پرچہ کاٹ دیا۔ یہ کج فہمی اور ’راسخ العقیدگی‘ ہی ہے جو غزنوی ، ابدالی اور غوری جیسے مسلمان بادشاہ اور ان کے دور کو اسلامی تسلیم کرے لیکن ان کے چھوڑے ہوئے بدھا کو کفر سمجھے۔ غزنوی ہو اور بت شکنی نہ کرے ناقابل فہم ہے۔

سوات میں بچوں کے تھرکنے پر ایف آئی آر کٹوانے، افغانستان میں فنکاروں کے سر گنجے کر کے منہ کالے کروا کر گدھوں پر پھرانے اور خود منہ نقابوں میں چھپانے اور مانسہرہ یونیورسٹی میں مدرسہ ڈریس نافذ کرنے والوں کی تفتیش کرو گے، تو وہی نکلیں گے جو گرین چوک مینگورہ میں مسلمان پختون پولیس جوان کی لاش لٹکانے کو اسلامی نظام کہتے تھے۔ یہ بھی ایک طرفہ تماشا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے، لیکن باپ مرے تو رونا نہیں اور بیٹے کی شادی ہو تو ناچنا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 48 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani