میرا قرنطینہ میں رہنے کا تجربہ کیسا رہا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قرنطینہ کالفظ کہیں بہت پہلے پڑھاتھا، ایک بار پھر نگاہیں آشنا ہوئیں، سیاست میں قید تنہائی کا ذکر سنتے آئے تھے، دنیا ایک نئی وبا سے واقف ہوئی، بہت سوں نے مختلف سوال اٹھائے، کچھ نے سازشی نظریے کی باتیں کہیں، میرے جیسے میڈیا سے وابستہ ہونے کے باوجود واضح نہیں تھے کہ وائرس کیسے، کب اور کس کو متاثر کر سکتا ہے،

ایک بات ضرورتھی کہ لوگ سوچنے پر مجبور ہوئے، کسی نے اپنے اندرجھانکنے کی بھی کوشش کی، کچھ نے زندگی کی حقیقت جاننے کا قصد کیا، زندگی کی اہمیت بڑھی، لاک ڈاؤن کے فیصلے نے کاروبار زندگی محض خبروں میں نہیں، اصل میں معطل کر دیا۔ ہر کوئی گھروں میں محصور ہو کر رہ گیا۔ کم آمدن والے دیہاڑی دار بھی پریشان ہو گئے۔

جان پیاری یا کام، سوال بنیادی اہمیت اختیارکرگیا۔ اگر صحت نہیں زندگی کے سب کام ادھورے تصور کئے جاتے ہیں۔

کورونا نے مجھے اور میرے بڑے بیٹے کو تعارف کرایا، ہم دونوں گھر کے اندرٹیرس سے منسلک کمرے میں قرنطینہ میں چلے گئے۔ یہ عمل دو ہفتوں سے زائد پرمحیط تھا۔ جس میں مختلف لمحات آئے، کچھ باتیں، کچھ احساسات تھے۔

سب سے پہلے گھر کے معمر فرد یعنی میرے والد کہیں اور منتقل کردیے گئے، جنہیں میں 9 سال بعد اپنے ساتھ رہنے کے لئے لایا تھا اور ان کی خدمت کر رہا تھا۔ انہیں جاتا دیکھ تھوڑا دکھ ہوا۔ لیکن یہ بہت ضروری تھا۔

سب سے منفرد بات یہ تھی کہ ہم دونوں نے فیس ماسک نہیں پہنے تھے کیونکہ دونوں کورونا پازیٹو ہونے کے باعث ایک دوسرے کے لئے محفوظ یا کہہ لیں بے ضرر ہو گئے تھے۔

گھر کے دیگر افراد سے رابطہ نہیں تھا، بیگم کمرے کے دروازے کے ساتھ رکھی ٹیبل پر ناشتہ، کھانا اور چائے رکھ جاتیں، وہ بات نہیں کرتی تھی۔ بیٹی بھی خاموشی سے ہم دونوں کو دیکھنے کی کوشش کرتی، صرف چھوٹا بیٹا جس نے گھر سے باہر کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں، وہ کمرے کے دروازے پرآ کر فاصلے سے ہماری ضرورتوں کے بارے دریافت کر لیتا۔

ہم دونوں کی مصروفیات میں تھوڑا فرق تھا، وہ لیپ ٹاپ استعمال کرتا، اس وقت میں کوئی کتاب پڑھ لیتا، جب وہ موبائل ہاتھ میں تھامتا، پھر لیپ ٹاپ میری گود میں آجاتا، میرے پڑھنے اور لکھنے کی حس جیسے تیز ہو گئی تھی، میں نے پہلی رات ہی جاگ کر گزاری اور جب آنکھ نہ لگی تو باتھ روم کا دروازہ کھول کراس کی لائٹ جلاکر باہر کمرے میں زمین پر بیٹھ کر کاغذ پنسل تھام لی، فجر کی نماز کے بعد جب دن چڑھنے لگا میں نے لیپ ٹاپ پر تحریر منتقل کر دی۔ میں نے قرنطینہ کے ایام صوفے پر لیٹ کر اور زمین پر بیٹھ کر گزارے۔ دونوں کھانا بھی زمین پر بیٹھ کر کھاتے۔

جہاں صحت سے متعلق عجیب وغریب تجربات سامنے آئے وہیں ذہن اس موذی وبا سمیت کئی معاملات کے بارے میں تیزی سے چل رہا تھا۔ سب سے پہلے میں نے وجہ تلاش کرنے کی کوشش کی، مگر معلوم نہیں کر سکا۔ دفتر، گھر، بازار، کہیں کوئی ذمہ دار ڈھونڈ نہ سکا۔ میرے بیٹے نے کورونا سے متعلق کچھ پڑھا تھا اس حوالے سے میری معلومات میں اضافہ کرتارہا، میں نے بتایا کہ کھانا کھانے کے بعد سر چکرانے لگا اور جسم میں کمزوری محسوس ہو رہی ہے، اس نے بتایا ایسا ہی ہوتا ہے۔ پریشان نہ ہوں۔

اسی طرح ایک روز میں نے کہا کہ مجھے سانس لینے میں دقت ہو رہی ہے، اس نے کہا بھاپ لیں وہ بہت ضروری ہے، جب میں نے گرم پانی کرا کے سٹیم لی میری طبیعت مزید خراب ہو گئی، اس نے کہا آپ نے صحیح طریقے سے نہیں لی۔ تین گھنٹے بعد دوبارہ ایسا کیا لیکن میری سانس بگڑ گئی۔ میں تھوڑا پریشان ہوا، لیکن بیٹے سے کہا گھر والوں سے ذکر نہ کرنا، انہیں تشویش ہو گی، کہیں گھبرا نہ جائیں۔ دو تین ڈاکٹرز دوست اور بڑوں سے فون پر رابطہ کیا، کسی نے ہستپال جانے اور کسی نے دوا لینے کا مشورہ دیا، رات بہت مشکل سے کٹی، فجر کی نماز کے بعد اپنے ایک محترم ڈاکٹر صاحب کو میسیج کیا، انہوں نے الٹا لیٹنے کا ٹوٹکا بتایا۔ میں نے ایسا ہی کیا، جس سے میری سانس درست ہو گئی۔

یہ رات بہت کچھ دکھا گئی، سوچ، فکراورخیال کی آمیزش تھی، ایک لمحے کے لئے لگاجیسے جان کو خطرہ ہے، پھر مطمئن ہو گیا کہ اتنا بھی مسئلہ نہیں۔ لیکن ایک چیز کا احساس شدت سے آیا کہ انسان کچھ نہیں، اور دنیاکے بارے میں زیادہ سوچنے سے کچھ حاصل نہیں۔ زندگی کے بعد موت سب کو ملتی ہے، بظاہر کوئی نئی بات نہیں، آفاقی حقیقت کو مصروف زندگی میں بڑی قریب سے محسوس کرنا کچھ مختلف سے لگا۔

میں اگلے روز خاموش رہا، دھیان نہ جانے کہاں چلاگیا، میرے بیٹے نے محسوس کیا میں ڈرگیا ہوں، اسی دوران معلوم ہوا کہ فیملی میں روڈ ایکسیڈنٹ میں ایک خاتون جاں بحق اور بچے شدید زخمی ہو گئے، میں پریشان ہو گیا، سانس کی خرابی اور اندر پیدا ہونے والا احساس پس منظرمیں چلا گیا۔

شاید یہ پیغام تھا کہ کوئی بھی کہیں بھی کسی بھی وجہ سے اپنی جان سے جاسکتا ہے اور موت کے منہ میں جاتا واپس بھی آ سکتا ہے۔ میں کچھ کچھ سمجھ رہا تھا، مجھے فون کرنے والے قریبی دوست احباب بھی یہی معلوم کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ کیا واقعی کورونا کچھ ہے، انسان کی صحت کو کس حد تک متاثر کرتی ہے۔ یا پھر ایسے ہی باتیں بنی ہوئی ہیں۔

ایک بات کا دکھ رہا کہ اس عالمگیر وبا کے د وران بھی ہمارے ہاں سیاست ختم نہ ہوئی، ہم اس معاملے پر بھی ایک دوسرے کے خلاف مخاصمت کے جذبات ایک طرف نہ رکھ پائے۔

مجھے اپنوں کا پیار، ان کا میرے لئے انس ملا، جنہوں نے رابطہ نہیں کیا، وہ بھی پریشان تھے۔ میں نے اور بیٹے نے اکٹھے کھانے کھائے، گپ شپ بھی کی، دین اور دنیا کے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا، لیکن یہ سب اس وقت ہوا جب ہماری طبیعت کچھ سنبھل گئی۔ اس لمحے احساس ہوا کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ گھر میں ایسا وقت بھی گزارنا چاہیے، لیکن شاید معمول میں ممکن نہیں ہوتا۔ یہ کورونا کی مہربانی تھی کہ ہم گھر میں ایک دوسرے کا احساس کیے بیٹھے تھے۔

قرنطینہ میں جانا مشکل لگا لیکن اس نے بہت کچھ بتا دیا۔ اگرچہ ہم ماننے والے نہیں لیکن بہت کچھ سمجھ آ گیا۔ وہ الگ بات ہے زندگی ہم نے اسی ڈھب میں بسرکرنا ہے، کیونکہ کورونا میں صرف بیماری آئی تھی، وہ زندگی کاحصہ ہے۔ قرنطینہ میں گئے، ایسا بھی کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہ روگ ابھی گیا نہیں، جاتے جاتے کچھ نہ کچھ بتا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 79 posts and counting.See all posts by nauman-yawar