ابراہم ماسلو: نفسیات اور روحانیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماہرین نفسیات کی اکثریت نے اپنے ذہنی مریضوں کا بڑی محنت اور محبت سے علاج کیا اور اس علاج سے انسانی نفسیات کے راز جانے۔ ان ماہرین کے مقابلے میں ابراہم ماسلو نے صحت مند انسانوں, دانشوروں اور فنکاروں کا نفسیاتی تجزیہ کیا اور انسانی نفسیات کے روشن اور تخلیقی گوشوں کے بارے میں لکھا۔ انسانی روحانیت اور HIERARCHY OF NEEDS کے بارے میں ان کے نظریات بہت مقبول ہوئے۔

ابراہم ماسلو (ABRAHAM MASLOW) امریکی ماہر نفسیات تھے جو 1908 میں پیدا ہوئے اور باسٹھ برس کی عمر میں 1970 میں فوت ہوئے۔ ماسلو کا تعلق ایک ایسے یہودی خاندان سے تھا جس کے بہت سے افراد زار روس کے متعصب نظام سے فرار ہو کر امریکہ آ گئے تھے۔ ان کے والدین خود مزدور پیشہ تھے لیکن وہ اپنے بچوں کی تعلیم کے بارے میں سنجیدہ تھے۔ ماسلو کو یہودی ہونے کے ناتے بچپن اور نوجوانی میں بہت سے تعصبات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تعصبات گھر کے باہر بھی تھے اور گھر کے اندر بھی۔ ماسلو کو اپنی ماں اس لیے پسند نہ تھیں کیونکہ وہ کالوں کو کمتر درجے کا انسان سمجھتی تھیں۔

ماسلو کو بچپن سے پڑھنے اور لکھنے کا بڑا شوق تھا۔ انہوں نے گھر چھوڑ کر لائبریری میں پناہ ڈھونڈی ہوئی تھی جہاں وہ صبح و شام ادب، نفسیات، روحانیت اور فلسفے کی کتابیں پڑھا کرتے تھے۔

ماسلو نے پہلے نیویارک کے سٹی کالج میں اور پھر وسکانسن یونیورسٹی میں نفسیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وسکانسن یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں ان کی ملاقات سگمنڈ فرائڈ کے رفیق کار ماہر نفسیات الفریڈ ایڈلر سے ہوئی۔

ماسلو نے 1937 سے 1951 تک برکلے کالج میں پڑھایا۔ چونکہ ماسلو کو روایتی ماہرین نفسیات سے بہت سے نظریاتی اختلافات تھے اس لیے انہوں نے نفسیات کی ایک نئی روایت کی بنیاد رکھی جو اب HUMANISTIC PSYCHOLOGY انسان دوستی کی نفسیات کی روایت کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس روایت میں ماسلو نے ہمیں بتایا کہ ماہرین کو مریضوں کے نفسیاتی مسائل اور ذہنی بیماریوں سے زیادہ ان کی خفیہ صلاحیتوں پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے تا کہ وہ بہتر اور زیادہ کامیاب انسان بن سکیں۔

1951 سے 1969 تک ماسلو نے برانڈیس یونیورسٹی میں پڑھایا۔ 1967 میں انہیں پہلی بار ہارٹ اٹیک ہوا جس کے بعد انہیں اندازہ ہو گیا کہ ان کے اس جہان فانی سے کوچ کے دن قریب آ رہے ہیں۔ 1970 میں انہیں جاگنگ کرتے ہوئے دوسرا ہارٹ اٹیک ہوا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

ابراہم ماسلو نے اپنی تحقیق اور غور و تدبر سے نفسیات کے علم کو گرانقدر تحفے دیے اور انسانی نفسیات کے بہت سے راز فاش کیے۔ میں اس مختصر مضمون میں ان کے چند تحفوں اور رازوں کا ذکر کروں گا تا کہ آپ کے دل میں ماسلو کے بارے میں زیادہ جاننے کا شوق پیدا ہو۔

ابراہم ماسلو نے بیسویں صدی میں کارل راجرز، وکٹر فرینکل، آر ڈی لینگ اور ایرک فرام جیسے ماہرین کے ساتھ مل کر انسان دوستی کی جس روایت کی بنیاد رکھی اس کے چند اصول حاضر ہیں۔

1۔ ہمیں انسانوں کو ان کی موجودہ حالت میں قبول کرنا چاہیے ان کے ماضی اور مستقبل کو نظرانداز کرنا چاہیے۔

یہ جملہ لکھتے ہوئے مجھے کسی انجانے فلسفی کا جملہ یاد آ رہا ہے جنہوں نے فرمایا تھا

EVERY SAINT HAS A PAST AND EVERY SINNER HAS A FUTURE

(ہر پارسا کا ایک ماضی اور ہر پاپی کا ایک مستقبل ہوتا ہے )

2۔ انسان کی ذہنی بلوغت اور جذباتی ارتقا کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اعمال اور ان کے نتائج کی ذمہ داری لے۔

3۔ رنگ, نسل، مذہب اور زبان سے بالاتر ہو کر ہمیں ہر انسان اور اس کی رائے کا احترام کرنا چاہیے چاہے ہم اس رائے سے اختلاف ہی کیوں نہ رکھتے ہوں۔

4۔ انسان کی زندگی کا مقصد ایک بہتر انسان بننا اور ایک پر امن معاشرہ قائم کرنا ہے۔

ماسلو نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ہر انسان کی چند بنیادی ضروریات ہیں اور چند ثانوی۔ چند نچلی سطح کی ضروریات ہیں اور چند بالائی سطح کی۔ انسان کی نشوونما کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرے تا کہ وہ انسانیت کے اعلیٰ مقام اور معیار پر زندگی گزار سکے۔ ماسلو نے اپنی کتاب MOTIVATION AND PERSONALITY 1954 میں اس نظریے کو HIERARCHY OF NEEDS کا نام دیا اور انسانی ضروریات کو پانچ طبقات میں بانٹا

سب سے نچلا پہلا طبقہ۔ PHYSIOLOGICAL NEEDS۔ جسمانی ضروریات کا ہے جس میں کھانا پینا جنس اور نیند شامل ہیں۔

اس سے اوپر دوسرا طبقہ۔ SAFETY NEEDS۔ تحفظ کی ضروریات۔ کا ہے جس میں ملازمت, صحت اور خاندان شامل ہیں

اس سے اوپر تیسرا طبقہ۔ LOVE AND BELONGING NEEDS کا ہے جس میں دوستی اور محبت شامل ہیں

اس سے اوپر چوتھا طبقہ ESTEEM NEEDS کا ہے جس میں عزت نفس اور خوداعتمادی شامل ہیں۔

سب سے اوپر پانچواں طبقہ۔ SELF ACTUALIZING NEEDS کا ہے جس میں تخلیقی اظہار اور فنون لطیفہ کی ضروریات شامل ہیں۔

maslow’s hierarchy of needs

ماسلو کا موقف تھا کہ ایک اعلیٰ درجے کا شاعر، ادیب اور دانشور بننے کے لیے اپنی بنیادی جسمانی, معاشی, سماجی اور نفسیاتی ضروریات کا پورا کرنا ضروری ہے تا کہ انسان دوسروں کی رائے سے بے نیاز ہو کر اپنے پورے سچ کا تخلیقی اظہار کر سکے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں غالب نے فرمایا تھا

نہ ستائش کی تمنا، نہ صلے کی پرواہ

گر نہیں میرے اشعار میں معنی نہ سہی

یہ وہ مقام ہے جہاں ہر دور اور معاشرے کے خضر راہ انسانیت کی بے لوث خدمت کرتے رہے ہیں۔ ایسے لوگ انسانیت کی معراج پر پہنچ جاتے ہیں۔ ماسلو ایسے شاعروں, ادیبوں, دانشوروں اور فنکاروں کو SELF ACTUALIZING PEOPLE کا نام دیتا ہے۔

ماسلو نے روحانیت کو مذہب سے جدا کر کے دیکھا اور ان تجربات کا، جنہیں مذہبی کتابوں میں روحانی تجربات کہا جاتا ہے, نفسیاتی تجزیہ کیا۔ ماسلو کا موقف ہے کہ ایسے تجربات مذہبی’غیر مذہبی اور لامذہبی سب انسانوں کو ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے تجربات جہاں سنتوں سادھوؤں اور صوفیوں کو ہوتے ہیں وہیں یہ تجربات عام انسانوں کو بھی ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب Religions, Values, and Peak Experiences (1964)  میں روحانی تجربات، جنہیں انہوں نے PEAK EXPERIENCES کا نام دیا تھا، کی خصوصیات بیان کی ہیں اور پھر کہا ہے کہ ایسے تجربات

کسی کو مراقبے کی حالت میں

کسی کو موسیقی سنتے ہوئے

کسی کو بچوں سے کھیلتے ہوئے

کسی کو غروب آفتاب کا منظر دیکھتے ہوئے

کسی کو محبوب سے مباشرت کرتے ہوئے

اور

کسی کو شاعری پڑھتے ہوئے ہو سکتے ہیں

بہت سے انسان دوست ماہرین نفسیات کی طرح ماسلو کا بھی موقف تھا

SPIRITUALITY IS PART OF HUMANITY, NOT DIVINITY

ماسلو نے روحانی تجربات کی تحقیق ایسے الفاظ میں پیش کی کہ وہ ایک پادری اور ایک دہریہ دونوں کے لیے قابل قبول ہے۔ یہی ماسلو کی عظمت ہے اور یہی ان کی بڑائی۔

ماسلو نے انسانی نفسیات اور روحانیت کے درمیان انسان دوستی کا پل تعمیر کیا اور مذہبی اور غیر مذہبی لوگوں کے لیے ایک پرمعنی مکالمے کا اہتمام کیا۔

ماسلو ایک درویش صفت انسان تھے اس لیے انہیں زندگی میں وہ شہرت نہیں ملی جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے۔ ان کے انسانی نفسیات کے علم اور انسان دوستی کی روایت پر بہت سے احسانات ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 393 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail