سنتھیا رچی: ریپ ہوا تھا یا غلط فہمی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

‏ریپ نہیں ہوا تھا غلط فہمی ہوئی تھی، سنتھیا رچی کے رحمان ملک کے خلاف کیس واپس لینے سے تو یہی لگتا ہے۔ اس معاملے کی ابتدا پانچ جون 2020 کو ہوئی تھی جب سنتھیا رچی نامی امریکی شہری نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ نو برس قبل 2011 میں پاکستانی وزیر داخلہ نے ویزے کا معاملہ ڈسکس کرنے کے لیے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر انہیں بلایا اور نشہ آور مشروب پلا کر ان کا ریپ کر دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں سمجھی تھی کہ یہ ملاقات میرے ویزے سے متعلق ہے لیکن مجھے پھول اور نشہ آور مشروب دیا گیا۔ میں چپ رہی، پی پی پی کی حکومت میں پی پی پی کے وزیر داخلہ کے خلاف میری مدد کون کرتا؟‘ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کی کابینہ کے رکن مخدوم شہاب الدین نے انھیں جسمانی طور ہر ہراساں کیا۔

بعد میں 8 جون، 2020 کو انہوں نے کہا کہ وہ الزامات پر قائم ہیں اور ثابت کرنے ہر حد تک جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ رحمٰن ملک نے مجھے گلدستہ دیا جس کے بعد نشہ آور مشروب پلایا جسے پی کر میں بیہوش ہو گئی، میرے مدہوش ہونے کے بعد رحمٰن ملک نے مجھ سے زیادتی کی، ملاقات کے بعد رحمٰن ملک نے مجھے گاڑی میں واپس ڈراپ کروایا، واپسی پر اتنی مدہوش تھی کہ چلنا بھی مشکل ہو رہا تھا، رحمٰن ملک نے واپسی پر مجھے ڈراپ کرنے والے ڈرائیور کو دو ہزار پاؤنڈز دیے۔ امریکی سفارتخانے کو شکایت کی مگر خاص رسپانس نہیں ملا، امریکی سفارتخانے نے مجھے امریکا واپس جانے کا مشورہ دیا، ایک سے زیادہ لوگوں نے مختلف موقعوں پر مجھے جنسی طور پر ہراساں کیا، مجھ سے زیادتی کی گئی جس پر میں نے یہ ردعمل دینا شروع کیا ہے۔

سینیٹر رحمان ملک کے وکلاء نے امریکی خاتون سنتھیا رچی کو 50 کروڑ ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا۔ اپنے ایک بیان میں سینیٹر رحمان ملک نے اپنے قانونی نوٹس میں سنتھیا رچی کے لگائے گئے الزامات کو جھوٹ کا پلندا قرار دے کر سختی سے تردید کی۔

اسلام آباد پولیس نے امریکی شہری اور بلاگر سنتھیا رچی کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست پر، جس میں انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک پر عصمت دری کا الزام عائد کیا تھا، شواہد نہ ہونے کی بنا پر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا تھا جس پر سنتھیا نے مقدمے کے اندراج کے لیے عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا۔

اب 14 جنوری 2021 کو یہ خبر آئی ہے کہ سنتھیا رچی اور رحمان ملک نے صلح کر لی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے دونوں فریقین کی ایک دوسرے کے خلاف درخواستیں واپس لینے کی متفرق درخواستیں منظور کر لیں۔ امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی نے رحمان ملک کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور جسٹس آف پیس کے فیصلے کے خلاف بھی درخواست دی تھی جبکہ سینیٹر رحمان ملک نے جسٹس آف پیس کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کر رکھی تھی۔

ان خبروں کو دیکھتے ہوئے اب یہی کہا جا سکتا ہے کہ سنہ 2011 میں سنتھیا رچی کا غالباً ریپ نہیں ہوا تھا، کوئی شدید غلط فہمی ہوئی تھی جس کا احساس انہیں بعد میں ہوا۔ خیر نو برس قبل ان کی عمر ہو گی ہی کیا۔ معصوم سی بھولی بھالی دوشیزہ ہوں گی وہ بھی امریکہ جیسے معاشرے میں پلی بڑھی جہاں سیکس جیسا بالغانہ موضوع نوجوانوں کی پہنچ سے دور رکھا جاتا ہے۔ رحمان ملک بھی اس زمانے میں نوجوان تھے۔ بالی عمریا میں بھلا کیا پتہ چلتا ہے کہ کس وقت کیا ہو گیا۔ سنتھیا رچی اب جا کر 39 برس کی ہوئیں اور دنیا کی سمجھ آئی تو انہیں خیال آیا ہو گا کہ ان کا تو ریپ ہوا تھا۔ چھے ماہ بعد مزید سمجھ آنے پر انہیں دوبارہ خیال آیا ہو گا کہ اجی نہیں، وہ ریپ نہیں تھا، وہ تو دونوں کے درمیان کوئی غلط فہمی ہوئی تھی۔

بہرحال جو بھی ہوا تھا، اب اس پر کیا بحث کرنی۔ اگر رحمان ملک اور سنتھیا رچی راضی تو کیا کرے قاضی؟

ہاں بس ایک خیال کھٹکتا ہے۔ سنتھیا رچی کے معاملے میں ادارے کو بہت بدنامی اٹھانی پڑ رہی ہے۔ ادارے سے ظاہر ہے کہ ہمارا مطلب وزارت داخلہ کا امیگریشن ڈائریکٹوریٹ ہے جو سنتھیا رچی کو پاکستانی وزیراعظم اور وفاق وزرا پر جنسی حملوں کے الزامات لگانے اور مسلسل پاکستانی سیاست میں مداخلت کرنے کے باوجود ڈاکیومنٹری اور دیگر فلمیں بنانے کے لیے ویزا دیتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1343 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar