تھین آن من اور ریڈ سکوائر کے موازنے میں نئے انکشاف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تھین آن من سکوائر میں برق کی طرح ایک خیال میری سوچ پر حملہ آور ہوا تھا۔ خیال کون سا تھا؟ اس پر بات ذرا بعد میں۔ پہلے تھوڑی سی تفصیلات ان مشاہدات کی پیش کردوں جنہوں نے مجھے متوجہ کیا۔

چین اور روس دو بڑے ملک جو نظریاتی مسلک کے اعتبار سے ایک دوسرے سے گہری مماثلت رکھتے تھے۔ گو بدلتے حالات میں دونوں ہی بہت حد تک تائب ہوئے پڑے ہیں۔ اقتصادی پالیسیوں نے کایا کلپ کر دی ہے۔ تاہم بہت سی چیزوں میں ابھی بھی جڑے نظر آتے ہیں کہ ہمسائے بھی ہیں اور ماڑے موٹے سرخے بھی۔

تھین آن من

سکوائر کی وسعت حیران کن ہے۔ تاریخ بھی بڑی قدیم، ساتھ ساتھ جدید زمانے کے نئی نسل پر ظلم و ستم، ٹینک توپوں کے چڑھاوے اور لہو رنگ کہانیاں بھی اس کی ناموری کا ایک بڑا حوالہ ہیں۔ جگہ بھی بڑی مرکزی۔ سکوائر کی ایک سمت چینی کمیونسٹ انقلاب کے بانی ماؤ اور قوم کے جیالے اور سر بکف مجاہدوں سے سجی کھڑی ہے۔ ماؤ کا خوبصورت مقبرہ، شیشے کے شوکیس میں لیٹا سرخ چادر میں لپٹا ابدی نیند سوتا ماؤ، پھول، مدھم سی روشنی اور اٹن شن کھڑے گارڈ سب بندے کو ایک مسمریزم کے ماحول میں لے جاتے ہیں۔

وہی ریڈ سکوائر میں لینن کے مقبرے اور اسی سے ملتی جلتی تصویریں اور رنگ۔ مقبرہ اس جگہ بنایا گیا ہے۔ جہاں کبھی گیٹ آف چائنا تھا۔ ماؤ نے اپنے جسم کو جلانے کی خواہش کی تھی مگر پرستاروں اور عقیدت مندوں نے اسے محفوظ کر دیا۔ اسی طرح جیسے لینن نے بھی ایسا نہیں چاہا تھا۔ اس کی بیوی کرپسکایا واویلا مچاتی رہ گئی کہ اس کے نظریات اور فرمودات پر عمل کی ضرورت ہے۔ مگر سٹالن جیسا شاطر لیڈر لاش پر سیاست کرنے کا متمنی تھا۔

نیشنل میوزیم آف چائنا میں ابھی دیکھ کر آئی ہوں۔ ریڈ سکوائر کے سٹیٹ ہسٹری میوزیم نے بہت کچھ یاد دلا دیا ہے۔ ایک طرف قدیم شاہوں کے فاربڈن سٹی کی سرخ کنگری دار دیوار نظر آتی ہے۔ ریڈسکوائر کے پہلو میں کریملن کی کنگورے دار سرخ دیوار یادوں میں بے طرح ابھر آئی ہے۔

اس ضمن میں اب تھوڑا سا ذکر اور بھی سن لیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین سے پاکستان کے گہرے روابط آج سے نہیں زمانوں سے ہیں۔ چین کو ہم اپنا ایسا قابل فخر دوست کہتے ہیں جو ہر کڑے وقت میں ہمارے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ ہم جذباتی پاکستانیوں نے اس دوستی کی وضاحت کے لیے بہت سی مثالیں بھی گھڑ رکھی ہیں۔ جن کی قوموں کی سیاسی اور عملی زندگی میں اہمیت نہیں ہوتی۔ یہاں دوستیاں قومی مفادات کے تابع چلتی ہیں۔ مگر جی کیا کریں۔ اب جہاں تک روس سے تعلقات کا سوال ہے۔ یہ کبھی بہت خوشگوار نہیں رہے۔ کبھی کبھی تو بہت تلخیاں بھی پیدا ہوئیں۔ پاکستان نشانے پر بھی رکھا گیا۔ تو پھر کیا وجہ تھی کہ میں اپنے دوست ملک کی اس مرکزی جگہ پر جا کر بھی اپنے اندر کی اس ہماہمی سے جیسے خالی سی تھی۔

فاربڈن سٹی کا نام تو سنا تھا۔ مگر لاعلمی بھی انتہا کی تھی۔ تھین آن من سکوائر دیکھنے کا شوق تو تھا مگر اس رومانیت کا عشر عشیر بھی نہ تھا جو ریڈسکوائرکے لیے تھا۔ مجھے یاد ہے ماسکو جانا خواب تھا کہ ویزا کی پابندیاں بہت تھیں۔ آج جیسے حالات نہ تھے۔ پہلا دن اور پہلا کام ریڈ سکوائر جانا۔ لینن کا مقبرہ اور ریڈسکوائر کے گرد و نواح میں کریملن کی کنگوروں والی دیوار کہ جس میں قرون وسطی کا تعمیری حسن مضمر تھا ، کو دیکھنا گویا اس عہد کی خوشبو میں سانس لینے جیسا احساس تھا۔ مگر میں کریملن میں نہیں گھسی کہ اسے ایک تحفے کے طور پر سنبھالنا چاہتی تھی کہ وقت آخر مزے سے دیکھوں گی۔ روح افزا کے میٹھے اور یخ ٹھنڈے مشروب کی طرح اسے گھونٹ گھونٹ پیوں گی۔

غور کرتی ہوں تو جیسے پردے سے اٹھتے ہیں۔ روسی ادیب ایک کے بعد ایک یاد آتے ہیں۔ ستر اسی (70، 80) کی دہائیوں میں لیو ٹالسٹائی کو پڑھا۔ میکسم گورکی، پشکن، دستووسکی، چیخوف گوگول اور پینوا ویرا کو ایک بار تھوڑی بار بار پڑھا۔ کتنے آنسو بہائے۔ کتنے پر مسرت لمحے بتائے ان کی صحبتوں میں۔ روس اور اس کے شہروں اور جگہوں سے انجانی سی محبت ہوئی۔

میرے خیال میں سویت یونین کی وزارت اطلاعات و نشریات نے بھی نے اس ضمن میں بہت کام کیا۔ دوسرے برصغیر کے ترقی پسند مصنفین جنہوں نے ٹالسٹائی، میکسم گورکی، پشکن، دستووسکی، چیخوف، گوگول، کو ترجمہ کرنے میں روس کے ساتھ اپنی محبت سمجھا۔ ان کتابوں کو سستے کاغذ پر چھپوایا اور عام لوگوں کو پڑھایا۔ کچھ یوں کہ روس کا طاقتور ادب اپنی پوری توانائیوں سے پڑھے لکھے لوگوں کے سامنے آیا۔ وہ روسی ادیبوں سے مانوس ہی نہیں ہوئے انہوں نے ان سے محبت بھی کی۔

میکسم گورکی “ماں” تو اپنی ماں جیسی ہی لگتی تھی۔ صوفیہ ٹالسٹائی کے دکھوں اورٹالسٹائی کی جانب سے کی جانے والی زیادتیوں پر ہمیں اپنی عورت کی جھلک نظر آتی ہے۔ ایسے ہی تو نہیں پیٹرز برگ کے ریلوے اسٹیشن پر اترتے ہی دستووسکی کے گھر جانے کی ہڑک اٹھی تھی۔ سچی بات یہاں تو ایسی کوئی ہڑک ہی نہیں تھی کہ مجھے اپنی کم علمی کا اعتراف ہے کہ میں نے کسی چینی لکھاری کو نہیں پڑھا تھا۔ کتابیں کتنی اہم اور ادیب کتنا بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ تھین آن من سکوائر میں یہی میرے اوپر منکشف ہوا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •