دو عورتیں دو کہانیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


وہ گاڑی میں مردہ پائی گئی۔

اخبار کی اس خبر سے مجھے یاد آیا کہ صرف ایک عورت نہیں، دو عورتیں تھیں جو دو الگ الگ گاڑیوں میں مردہ پائی گئی تھیں۔ ایک جینا چاہتی تھی، ایک مرنا چاہتی تھی۔

ایک جوان تھی، نازک اندام تھی، امریکہ کے ایک خوبصورت سے شہر کے سجے بنے پلازا میں کافی کی دکان میں کام کرتی تھی۔ اس کا کام پکا نہیں تھا۔ جو بھی شفٹ مل جاتی کر لیتی تھی۔ ایک رات گیارہ بجے دکان بند ہونے کے بعد صفائی کر کے دکان کو اگلے دن کے لیے تیار کر کے نکل رہی تھی تو مینیجر نے کہا کل صبح کی شفٹ میں بھی ضرورت ہے ، سات بجے پہنچ جاؤ گی؟ اس نے سر ہلا دیا۔ اتنی مشکل سے کام ملا تھا وہ کالج کھلنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ پیسے جمع کر لینا چاہتی تھی۔

باہر نکلی تو برف گر رہی تھی۔ اس نے گھر کے فاصلے، اپنی تھکن اور اور نیند کے عالم میں برف میں گاڑی چلانے کا حساب لگایا اور گاڑی میں سو جانے کا فیصلہ کر لیا۔ گاڑی گرم کر کے کوٹ اوڑھ کر سو گئی۔ صبح سات بجے اس کے ساتھ کام کرنے والی لڑکی نے دیکھا تو اس کی کھڑکی کھٹکھٹا کر اسے جگانا چاہا۔ وہ نہیں جاگی۔

ایک دو دفعہ کے بعد اسے اندازہ ہوا کہ گاڑی کا انجن چل رہا ہے اس نے گھبرا کر اس کے اگزاسٹ کی طرف نظر ڈالی۔ برف صاف کرنے والی گاڑی گزرتے ہوئے برف کا ڈھیر اس گاڑی کے پیچھے کر گئی تھی اور اگزاسٹ پائپ اس میں دب گیا تھا۔ لڑکی کے چیخنے پر کسی نے کھڑکی توڑ کر اسے باہر نکالا۔ کاربن مونو آکسائڈ سے اس کے ہونٹ عنابی ہو گئے تھے۔ دفن سے پہلے اس کا دبلا پتلا بدن اودے فراک میں ملبوس لٹا دیا گیا، دیکھ کر رونا آتا تھا۔ اسے کسی نے نہیں حالات نے مارا تھا، وہ زندگی سے تھک کر سو گئی تھی۔

لیکن دوسری کم بخت پر تو رونا بھی نہیں آتا تھا۔ لمبی تڑنگی، قد میں اپنے شوہر کے برابر تھی اور دو بیٹوں کی ماں تھی۔ وہ دونوں بھی اس کی طرح چوڑے چکلے تھے۔ میں ان کی ڈاکٹر تھی ، اس لیے پیچھے پڑی رہتی تھی کہ جوس، سوڈا، مٹھائی چپس کھلانا بند کرو۔ بچے ہمیشہ باپ کے ساتھ آتے تھے۔ اسے ذیابطیس تھی، اس نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ بچوں کو دکھانے آتا اور میری مینیجر سے آنکھیں لڑاتا تھا۔ بچوں کے کھانے اور مٹاپے کا الزام ان کی ماں پر رکھ کر ہنستا تھا۔

ایک دن بچے کو زکام تھا اور ماں اس کو لے کر کلینک آ گئی۔ چونکہ اس کا شوہر اسپتال میں داخل تھا۔ جینز اور چار خانے کی ڈھیل ڈھالی قمیض پہنے تھی۔ باتوں میں پتہ چلا کہ وہ ٹرک چلاتی ہے اور سامان ڈھوتی ہے۔ چلتے ہوئے وہ مینیجر سے کہنے لگی، اسپتال چلی جانا وہ تمہاری راہ دیکھ رہا ہے۔ میں نے اس کی نرسوں سے کہہ دیا ہے کہ اس کی اگلی بیوی اس سے ملنے آئے گی۔

شوہر کے اسپتال سے گھر آنے کے بعد ایک رات وہ کام سے گھر نہیں لوٹی۔ صبح پولیس کا فون آیا۔ اس کی گاڑی دریا کے کنارے پارک میں کھڑی تھی۔ وہ اس میں مردہ پائی گئی۔

اس کی کنپٹی میں گولی لگی تھی اور مقفل گاڑی میں پستول ہاتھ کے پاس ہی پڑا تھا۔ کار میں اس کے بچوں کے نام بیمہ پالیسی کے کاغذات بھی تھے۔ پالیسی دو مہینے پہلے ہی خریدی گئی تھی اس لیے کمپنی نے پیسے دینے سے انکار کر دیا!

مجھے خیال آیا کہ کسی عورت کا نازک جسم نظر آتا ہے اور کسی عورت کا نازک دل نظر سے اوجھل رہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •