کون سے انسانی حقوق، کیسا آزادی اظہار؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سو سال کی جدید انسانی تاریخ میں دوسری جنگ عظیم کی لامحدود تباہ کاریوں کے بعد اقوام متحدہ کے تحت پہلی بار نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کا تعین کیا جانا بلکہ انسانی حقوق کی جامع تعریف پر تمام رکن ممالک کے لئے یکساں اصول وضع کرنا کسی سنگ میل سے کم نہ تھا۔ انسانی حقوق کے عالمی منشور کے متن کا دنیا بھر میں چار سو سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا۔ انسانی، معاشی، مذہبی اور شہری آزادیوں کو جانچنے کے لئے کسی ملک اور معاشرے میں جو اصول رائج ہیں ان سے کسی بھی طرح آنکھیں بند رکھنا اب ممکن نہیں۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے مختلف ممالک میں انسانی حقوق کے حالات کو پرکھنے کے لئے مختلف پیمانے استعمال نہیں کر سکتے، اس لئے ایسی عالمی رپورٹس کے ساتھ ’میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو‘ والا معاملہ نہیں ہو سکتا۔

اب تعصب کی عینک اتار کر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ رپورٹ کی طرف آتے ہیں جس میں سال 2020 ء کے دوران دنیا کے ایک سو سے زائد ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ پیش کیا گیا ہے کہ چین، امریکا، پاکستان، بھارت، ایران، افغانستان اور روس سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں کورونا وبا کے دوران انسانی حقوق کی پامالیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

ہیومن رائٹس واچ نے 2020 ء کو پاکستان میں سیاسی مخالفین، حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے لئے سخت سال قراردیا ہے۔ سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام نے حزب اختلاف، صحافیوں اور انسانی حقوق کے علم برداروں کو مسلسل ڈرایا دھمکایا اور ہراساں کیا، ان کے خلاف مقدمات درج کر کے قانونی کارروائی بھی کی۔ اس طرح سیاسی مخالفین اور آزادی اظہار پر حملوں نے ملک کو خطرناک راستے پر ڈال دیا اور یہ طرزعمل جمہوری نہیں آمرانہ ہے۔

نیب جیسے ادارے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال ہوتے رہے اور حکومت پر تنقید کرنے والے اخبار جنگ کے مالک میر شکیل الرحمان کو چھ ماہ تک جیل میں رکھا گیا۔ ملک کی نامور خواتین صحافیوں کو ایک مشترکہ بیان بھی جاری کرنا پڑا کہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے باعث انہیں سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے کے ساتھ ریپ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام پسند جنگجوؤں نے قانون نافذ کرنے والے اہل کاروں اور مذہبی اقلیتوں پر حملے کیے جن میں درجنوں افراد مارے گئے۔

حکومت مذہبی اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی۔ 2020 ء میں احمدی کمیونٹی کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا اور چار احمدی مختلف واقعات میں مارے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت توہین مذہب کے قانون کی دفعات میں ترمیم یا منسوخ کرنے میں بھی ناکام رہی جس کے باعث کئی افراد کو گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق امریکہ میں صدر ٹرمپ نے انسانی حقوق کے مقصد کو چھوڑ دیا جن میں امیگریشن سے متعلق پالیسیاں، ماحولیاتی تبدیلی کو نظر انداز کرنا، ہم جنس کمیونٹی کے تحفظ سے متعلق قوانین کو کالعدم قرار دینا بھی شامل ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے امریکا میں نسلی برابری کے لیے متحرک ’بلیک لائیوز میٹر‘ کے مظاہرین کے ساتھ انصاف کرنے، پولیس کی زیادتیوں کا احتساب اور نسلی اصلاحات متعارف کرانے کی اپیل کی ہے۔

بھارت کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020 ء میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اور اس کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرنے والے سیاسی مخالفین، کارکنوں، صحافیوں اور دیگر افراد کو ہراساں کرنے اور جیلوں میں ڈالنے کے واقعات میں اضافہ ہوا۔

بی جے پی حکومت نے سیاسی بنیادوں پر مقدمات دائر کیے۔ حقوق انسانی کے کارکنوں، طلبہ رہنماؤں، ماہرین تعلیم، اپوزیشن رہنماؤں اور دیگر ناقدین کے خلاف ملک میں غداری اور انسداد دہشت گردی جیسے سخت قوانین کے تحت مقدمات دائر کیے گئے۔ اس دوران بھارتی حکام نے غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق قواعد کی آڑ میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو بھی نشانہ بنایا۔

مسلمانوں، اقلیتوں اور خواتین پر بڑھتے ہوئے حملوں کو روکنے کے بجائے بھارتی حکام نے حکومت مخالفت آوازوں کو دبانے کے لیے اپنی کارروائیاں تیز کر دیں۔ اگست 2019 سے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد مسلم اکثریتی علاقوں پر سخت اور متعصبانہ پابندیاں عائد کی گئیں۔ پبلک سیفٹی ایکٹ کے کالے قانون کے تحت لوگوں کو کسی الزام کے بغیر حراست میں رکھا اور یہ قانون بغیر کسی مقدمے کے دو سال تک حراست کی اجازت دیتا ہے۔

جون 2020 میں حکومت نے جموں و کشمیر میں ایک نئی میڈیا پالیسی کا اعلان کیا۔ صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر بھی پابندی عائد کر دی۔ 5 اگست 2019 سے مواصلاتی نظام بند ہے۔ اس صورت حال نے وادی کشمیر میں معیشت کو بری طرح متاثر کیا۔ کورونا وبا نے معلومات، مواصلات، تعلیم اور کاروبار کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی کو انتہائی اہم بنا دیا مگر بھارتی سپریم کورٹ نے انٹرنیٹ معاملے کا اختیار انتظامیہ کو دے دیا۔ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے باوجود بھی آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ بھارتی فوجیوں کے خلاف قانونی کارروائی سے روکتا ہے۔

گزشتہ سال فروری میں دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجے میں کم از کم 53 افراد ہلاک، 200 سے زائد زخمی اور املاک تباہ ہوئیں۔ ہندو ہجوم کے ذریعے اقلیتی مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملے ہندوستانی حکومت کی امتیازی سلوک والی شہریت کی پالیسیوں کے خلاف ہفتوں کے پرامن احتجاج کے بعد ہوئے تھے۔ بی جے پی قائدین کی طرف سے مظاہرین کے خلاف کھلم کھلا تشدد کی حمایت کرنے کے بعد تشدد کے واقعات پھوٹ پڑے۔ مسلمانوں پر تشدد کرنے والے بی جے پی کے حامیوں اور رہنماؤں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکومت نے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا اور امریکی پابندیوں کی وجہ سے ضروری ادویات تک ایرانی عوام کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔

چین میں سنکیانگ صوبے میں ایغور مسلمانوں کو جیلوں میں ڈالنے اور تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا۔ چین اور روس میں کورونا وبا کے باعث انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تیز ہو گئیں، کئی نئی پابندیاں عائد ہوئیں اور پرائیویسی کے حقوق کو پامال کیا گیا وغیرہ وغیرہ۔

انسانی حقوق کے ایسے عالمی اداروں کی ہر سال اسی طرح کی رپورٹس سامنے آتی رہتی ہیں جن کو دشمن ممالک ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے ہوئے اقوام عالم کے سامنے پیش کرتے ہیں اور مظلومیت کا رونا روتے ہیں۔ جیسے پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے بھارت اور خاص طور پر مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر مبنی ایسی رپورٹس مختلف فورمز پر پیش کی جاتی ہیں تاکہ اپنا مقدمہ مضبوط بنایا جا سکے۔

اسی طرح بھارت بھی پاکستان بارے ایسی رپورٹ کو بنیاد بنا کر عالمی سطح پر اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے، لیکن انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں پر مبنی ایسی رپورٹس کو ہمارے خطے کی کوئی بھی ریاست یا حکمران خود ماننے کو تیار نہیں کہ ان کے اپنے شہریوں پر کیا ظلم و ستم ہو رہا ہے۔

تیسری دنیا کے ملکوں کے ہمارے دوغلے شہزادے حکمران اپنے ملک میں مذہبی اقلیتوں، خواتین اور دیگر پسے ہوئے طبقات کو کیا تحفظ دیں گے وہ تو اپنے سیاسی مخالفین اور تنقید کرنے والے صحافیوں کو بھی برداشت نہیں کرتے کیونکہ ان کے نزدیک انسانی حقوق اور آزادی رائے صرف مغربی جمہوری ممالک کا ایجنڈا ہے، اس لیے یہاں کون سے انسانی حقوق اور کیسا آزادی اظہار!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •