تین طرح کے لوگ: آپ کن میں شمار ہونا چاہیں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اس دنیا میں تین اقسام کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ پہلی قسم کے لوگ تنگیٔ دل کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ جب بھی کسی سے کوئی رشتہ قائم کرتے ہیں تو یہ سوچتے ہیں کہ اس سے مجھے کیا ملے گا۔ ان کے نزدیک ہر رشتہ نفع و نقصان کا ایک اکاؤنٹ ہوتا ہے جس میں انہیں ہر صورت سود ملنا چاہیے اور زیاں دوسرے کے حصے میں آنا چاہیے۔ انہیں ساری زندگی علامہ اقبال کا درج ذیل شعر سمجھ میں نہیں آتا ہے :

بر تر از اند یشہ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی

پہلی قسم کے ان لوگوں کو ”وصولیے“ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ انہیں دوسروں سے ہر وقت محبت اور توجہ کی طلب رہتی ہے۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ مانگنے سے تو بھیک بھی نہیں ملتی تو پھر محبت کیسے مل سکتی ہے۔ انہیں ہر کسی سے شکوہ ہوتا ہے کہ وہ ان کی توقعات پر پورا نہیں اترا ہے۔ وہ برابری کی بنیاد پر رشتے قائم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔ وہ ان کے بوٹ پالش کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے جن سے ان کی اغراض وابستہ ہوں اور جو ان سے کچھ طلب کرنے کی جسارت کر لے اسے وہ دھتکارتے ہیں۔ وہ فاتح کے ساتھ ہوتے ہیں اور مفتوح کے لیے گورکن بن جاتے ہیں۔

ہمارے قائدین بھی ”وصولیے“ ہیں۔ انہیں عوام الناس کو سیڑھی کی طرح استعمال کر کے اقتدار کے ایوان تک پہنچنا ہے۔ انہیں بحر بے کنار جتنی طاقت اور ثروت چاہیے۔ انہیں مزارعے مطلوب ہیں جو ان کے سامنے مسکین صورت کے ساتھ سائلین بن کر بیٹھے رہیں۔ وصولیے معاشرے کا کچرا ہوتے ہیں اور ہم نے انہیں اپنے سروں کا تاج بنا لیا ہے۔ وصولیے دریا کے اس پار ہوں یا اس پارہوں، انہیں جنون ہوتا ہے کہ دریا سارے کا سارا ان کے نام کر دیا جائے۔ دو گز زمین سے ان کا پیٹ زمین کے نیچے اتر کر ہی بھرتا ہے۔

دوسری قسم کے لوگ ادلے کا بدلہ چکاتے ہیں۔ وہ نیکی کے جواب میں نیکی کرتے ہیں اور بد سلوکی کا بدلہ بدسلوکی کی صورت لوٹاتے ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی نقد کا سودا ہے جسے ایک ہاتھ سے دیا جاتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے وصول کر لیا جاتا ہے۔ ایسے لوگ حساب کتاب کے ماہر ہوتے ہیں۔ انہیں ہر رشتہ کے متعلق معلوم ہو تا ہے کہ فلاں نے ان کے ساتھ کب اور کس وقت نیکی کا سلوک کیا تھا اور کب وہ ان کی توقعات پر پورا نہیں اترا تھا۔

وہ اپنے رشتوں کا بینک اکاؤنٹ بڑی دیانت کے ساتھ متحرک رکھتے ہیں۔ وہ دیتے وقت یہ دھیان رکھتے ہیں کہ انہیں بدلے میں کیا ملے گا۔ وہ بارٹر سسٹم کے پیروکار ہوتے ہیں۔ وہ رشتے نہیں بناتے، سودے کرتے ہیں۔ انہیں جب اپنی چاند سی بیٹی کا بیاہ کرنا ہو تو وہ اس کے ہونے والے سسرال کی معاشی اور سماجی حیثیت کا خوب جائزہ لیتے ہیں۔ ان کی نظر اپنے ہونے والے داماد کی قابلیت اور دیانت پر نہیں ہوتی بلکہ ان کے لیے یہ اہم ہوتا ہے کہ ان کے داماد کا تعلق کس خاندان سے ہے۔ ان کے سارے رشتوں کا ان کے جیسی معاشی و سماجی حیثیت کا حامل ہونا ان کے لیے لازم ہوتا ہے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اگر چیونٹی بھی ہیں تو ہاتھی کی ہم سفری انہیں نصیب ہو جائے۔

تیسرے قسم کے لوگ انفاق کی سنت پر عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ وہ خود بھی ڈوبنے سے بچنے والے ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی ڈوبنے سے بچاتے ہیں۔ وہ اپنی خوشبو سے ماحول کو معطر کر دیتے ہیں۔ وہ دیتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ بدلے میں مجھے کیا ملے گا۔ وہ صلے کی تمنا سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ وہ کبھی ڈاکٹر امجد ثاقب کی صورت میں پیدا ہوتے ہیں تو کبھی عبدالستارایدھی کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں۔ یہ زندگی سے بڑے ہوتے ہیں کیونکہ یہ معاشرے میں مؤاخات مدینہ کی سنت نبوی ﷺ کی نشاۃ ثانیہ کے علم بردار ہوتے ہیں۔

یہ اپنے رشتوں کو اپنی توجہ سے سنوارتے ہیں اور عام معافی کا اعلان کر کے بچاتے ہیں۔ یہ بیج کو پھل دار اور پھول دار درخت میں تبدیل کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ امجد اسلام امجد کی سحر انگیز شاعری کا سہارا لیتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کے اندر ایسا دریا بہتا ہے کہ بارش روٹھ بھی جائے تو پانی کم نہیں ہوتا ہے۔ ان کے اندر محبت اور انسان دوستی کا ایسا پودا اگا ہوتا ہے جو تب بھی سبز رہتا ہے جب موسم سازگارنہیں ہو تا ہے۔

جو بھی انسانی معاشرہ حقیقی معنوں میں زندگی بخش روایات کا امین بننا چاہتا ہے، اسے اس تیسری قسم کے لوگوں کی پنیریاں لگانا ہوں گی۔ انفاق کی سنت نبوی ﷺ پرعمل کرنے والوں کو اپنے سماج کا چہرہ قرار دینا ہو گا۔ ان کے طرز عمل کو الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر اجاگر کرنا ہو گا۔ زندہ سنہری مثالوں کے ذکر سے مثبت اقدار نا صرف زندہ رہتی ہیں بلکہ ان پر عمل کرنے کی راہیں بھی کھلتی ہیں۔

حیسا کہ ہم سب کا یہ روزمرہ کا تجربہ ہے کہ ہم اپنے الیکٹرانک میڈیا پر پہلی قسم کے لوگوں یا ”وصولیوں“ کو پرائم ٹائم دیتے ہیں اور اسی وجہ سے ہمارے سماج میں نالائقی و نا اہلی کا راج قائم رہتا ہے۔ پچھلے ڈھائی برسوں سے ہم سب اس نتیجے پر تو پہنچ چکے ہیں کہ نا اہلی کا ناسور بد عنوانی کے ناسور کا جڑواں بھائی ہے۔ ہمیں ان دونوں بہتے ہوئے پھوڑوں کا خاتمہ کرنا ہوگا تاکہ ہم بھی اقوام عالم کا مقابلہ کر سکیں اور صرف ایک دوسرے کو ہی مات دے کر فتح کا علم بلند نہ کرتے رہیں۔

انفاق کی سنت نبویﷺ پر عمل کرنے والے تیسری قسم کے کردار کے حامل لوگ یہ جان چکے ہوتے ہیں کہ کسی کی خامی ان کی خوبی نہیں بن سکتی اور بہتان سے کھیتیاں ہری نہیں ہو سکتی ہیں۔ ان پر منکشف ہو چکا ہوتا ہے کہ اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرنے سے ہی غم کی سیاہ رات مسرت کی سحر میں تبدیل ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •