کون ہے یہ گستاخ؟ تاخ تڑاخ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس شخص کے بارے میں لکھنا جس کے بارے میں اس کی موت کے ساٹھ برس بعد بھی یہ طے نہ ہو سکا ہو کہ وہ بڑا آدمی تھا کہ برا آدمی۔ کچھ آسان کام نہیں ہے۔ سعادت حسن منٹو کے ہم عصروں سے لے کر اس کے بعد آنے والے ادیبوں کی کئی نسلیں اس بات پر اتفاق نہیں کر سکیں کہ منٹو کو کس نام سے یاد کیا جائے۔

وہ جو کرتا ہے چھپاتا نہیں اور جو دیکھتا ہے وہ لکھ دیتا ہے۔ ایک ایسے شخص کو ایک ایسا معاشرہ جو اپنے باسیوں کی کئی نسلوں میں دوغلے پن کو ایک خوبی کے طور پر قبول کر چکا ہو، کیوں کر قبول کر سکتا ہے۔ اس لئے یہ لفظ بہت چھوٹے ہو جاتے ہیں کہ  ’منٹو ایک سچا آدمی تھا‘  ۔ منٹو بے شک ایک سچا آدمی تھا لیکن وہ صرف اس سچائی کو بیان کرنے پر اصرار کرتا ہے جسے پورا معاشرہ بے کار اور متروک شے سمجھ کر نظرانداز کرنے پر مصر ہے۔ وہ اس اندھیری کوٹھری میں اپنے مشاہدے کی تیز روشنی لے کر پہنچ جاتا ہے جہاں صدیوں کے فرسودہ سماجی اور معاشرتی رویوں اور روایتوں کا ایک انبار ہے۔ یہ رویے ہمارے اردگرد چلتے پھرتے زندہ انسانوں کی روح اور مزاج کا حصہ ہیں لیکن ان پر روشنی پڑے اور ان کو منظر عام پر لایا جائے، یہ ہمیں گوارا نہیں ہے۔ منٹو کی حیثیت اس عینی شاہد کی ہے جس نے اپنی آنکھوں سے جرم ہوتے دیکھا ہے اور وہ اسے ببانگ دہل بیان کرتا ہے لیکن پولیس اور اس کے گواہ، ایف آئی آر اور اس کے مندرجات اور اس سارے جھمیلے میں گھڑے گئے تکنیکی اور منطقی شواہد اس چشم دید کو غلط قرار دینے پر بضد ہیں۔ اب ایک ایسا شخص جو پورے سماج کے اصرار اور بازپرس کے باوجود اپنی شہادت پر یقین بھی رکھتا ہے اور اسے بیان کرنے پر اصرار بھی کرتا ہے۔ سچا ہو تو ہو، اچھا آدمی کیوں کر ہو سکتا ہے؟

میں اور میرا معاشرہ دل سے چاہتا ہے کہ سعادت حسن منٹو کو جھوٹا آدمی ثابت کر سکیں مگر ہماری بوسیدہ، گلی سڑی روایتوں اور رویوں کی وہ کال کوٹھری جس میں یہ شخص گھس گیا ہے، ہمارے اس عزم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اب ہمارے پاس اس کے سوا چارہ بھی کیا ہے کہ یہ اعلان کیا جائے کہ برائیوں کو کریدنا ایک برا فعل ہے اور جو شخص بھی گندگی سے کھیلتا ہے وہ گندا اور غلیظ ہے۔ وہ خام خیال ہے اور ناپختہ شعور کی نمائندگی کرتا ہے۔ سعادت حسن منٹو کو بھی اپنی تعریف سننے کا ایسا کوئی شوق نہیں تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اس نے جو کام شروع کیا ہے وہ قابل ستائش نہیں ہے لیکن اس کے اندر کا انسان اور اس میں پروان چڑھنے والا فنکار، کیوں کر اس گندگی اور غلاظت سے درگزر کر سکتا تھا جو اسے چہار سو بکھری ہوئی نظر آتی ہے۔ فنکار منٹو جانتا تھا کہ سچائی جانے بغیر اصلاح ممکن نہیں ہے اور وہ اس سچائی کو جسے وہ دیکھ رہا تھا، جس کو وہ جانتا تھا اور جس کے بارے میں اسے معلوم تھا کہ وہ معاشرے کی جڑوں میں موجود ہے۔ کسی طور چھپانے پر تیار نہیں تھا۔ اب اس کو اس بات سے غرض نہیں تھی کہ یہ تعفن ماحول کو مزید آلودہ کر دے گا یا اس حقیقت کا بیان جسے اس کی فنکار آنکھیں دیکھتیں اور باشعور ذہن محسوس کرتا، سماج کے ٹھیکیداروں کو بار گزرے گا۔ وہ نہ تو خود اپنے آپ سے شرمندہ ہونے پر تیار ہے اور نہ ہی اسے اس بات کا ملال ہے کہ اس نے اپنی تحریروں سے بہت سے چہروں کو ننگا کر دیا ہے لیکن وہ اپنے اس  ’جرم‘  کی سزا بھگتنے کے لئے تیار ہے۔ لہٰذا نقوش کے مدیر محمد طفیل کے ساتھ اپنی موت سے صرف ایک برس قبل منٹو کا یہ مکالمہ ملاحظہ ہو:

 ’میں کہتا ہوں نقوش کا منٹو نمبر نکالو‘

 ’اب تک جتنی گالیاں ملی ہیں وہ سب سے پہلے چھپیں گی اور جتنے بے وقوفوں نے میری تعریف ہے وہ سب سے آخر میں چھپیں گی‘  ۔

جو شخص گالیاں سن کر بدمزہ نہ ہو بلکہ اس سے لطف اندوز ہو سکتا ہو، اس کے سچے ہونے میں کسی کو کیا شبہ ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں منٹو کو برا ثابت کرنے کے مختلف ہتھکنڈے اختیار کرنے کے سوا ہمارے پاس چارہ ہی کیا تھا۔ کسی نے کہا کہ  ’اردو زبان میں افسانے کی زبان ہی موجود نہیں تھی اس لئے اگر منٹو کی زبان خام ہے تو اس سے درگزر کرنا چاہیے‘  ۔ کسی نے اس کے افسانوں میں حقیقت پسندی تو دیکھی لیکن اس کا بیان انتہائی کم تر سطح کا پایا۔ کسی دوسرے مفکر کو ایسا لگا کہ  ’منٹو راستے میں ہی گم ہو گیا ہے اور منزل کی اسے فکر ہی نہیں ہے‘  ۔ بعض لوگوں کو اس کا تیکھا اور دو ٹوک لہجہ گراں گزرتا ہے کہ بڑے ادب کو تخلیق کرنے والے دھیمے لہجے میں بات کرتے ہیں۔ سعادت حسن منٹو کا جواب دعویٰ نہایت سہل ہے اور حسب توقع دو ٹوک بھی۔ وہ لکھتا ہے :

 ’زمانے کے جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اگر آپ اس سے ناواقف ہیں تو میرے افسانے پڑھئے۔ اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ ناقابل برداشت ہے۔ مجھ میں جو برائیاں ہیں وہ اس عہد کی برائیاں ہیں۔ میری تحریر میں کوئی نقص نہیں ہے جس نقص کو میرے نام سے منسوب کیا جاتا ہے، دراصل موجودہ نظام کا نقص ہے۔ میں ہنگامہ پسند نہیں۔ میں لوگوں کے خیالات و جذبات میں ہیجان پیدا نہیں کرنا چاہتا۔ میں تہذیب و تمدن کی اور سوسائٹی کی چولی کیا اتاروں گا جو ہے ہی ننگی۔ میں اسے کپڑے پہنانے کی کوشش بھی نہیں کرتا اس لئے کہ یہ میرا کام نہیں، درزیوں کا ہے‘ ۔

بڑی حیرت کی بات ہے ایک شخص وعظ دینا نہیں چاہتا لیکن ہم اس سے اخلاقی درس کی توقع کرتے ہیں۔ ایک شخص اپنے معاشرے کا پرتو ہے مگر ہم اس سے منزلوں کا سراغ پوچھتے ہیں۔ منٹو آئینہ ہے جس میں آپ وہی دیکھتے ہیں جو کچھ کہ آپ ہیں۔ اس معاشرے اور اس کے کرداروں کی وہ تصویر جو ہم میک اپ کے ذریعے مدھم کر دینا چاہتے ہیں مگر سعادت حسن منٹو گرم پانی کے ایک چلو سے وہ جعلی میک اپ اتار پھینکتا ہے اور ایک مکروہ، بھیانک چہرہ ہمارے سامنے آ جاتا ہے کیونکہ یہی اصل چہرہ ہے۔ وہ ہتک کی سوگندھی ہویا کالی شلوار کی سلطانہ۔ وہ ایک ایسا آئینہ ہیں جسے دیکھنے سے ہم شرماتے ہیں مگر منٹو پوری تفصیل سے وہ چہرہ ہمیں دکھانے پر اصرار کرتا ہے۔ اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ باقی بچتا ہے کہ ہم اپنی آنکھیں موند لیں اور کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔

سعادت حسن منٹو نے گندگی کے اس ڈھیر میں سے بھی سچے نگینے نکال کر ہمیں دکھائے ہیں۔ اس پر ہمیں درحقیقت اس کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ طوائف کے بارے میں اس کے افسانے ان بنیادی انسانی خوبیوں کو بھی سامنے لاتے ہیں جو ہم نے ایک خاص طبقہ کے نام ہبہ کر دی ہیں۔

منٹو کی طوائف اصول کی بات بھی کرتی ہے اور انسانی ہمدردی کے جذبے سے سرشار بھی ہے اور ایثار کرنے پر بھی آمادہ ہے۔ منٹو کے افسانوں کی طوائفیں ہمیں بعض ایسے سبق دیتی ہیں جو ہمیں پرائمری کلاسوں میں یاد کروائے جاتے ہیں لیکن جو یونیورسٹی تک پہنچتے پہنچتے بھلا دیے جاتے ہیں۔ منٹو خود اپنے کرداروں کے بارے میں یہ بیان کرتا ہے :

 ’جب میں ٹرین میں بیٹھا اپنا قیمتی قلم نکالتا ہوں، صرف اس غرض سے کہ لوگ اسے دیکھیں اور مرعوب ہوں تو مجھے اپنا سفلہ پن بہت عجیب محسوس ہوتا ہے۔ میرے پڑوس میں اگر کوئی عورت ہر روز خاوند سے مار کھاتی ہے اور پھر اس کے جوتے بھی صاف کرتی ہے تو میرے دل میں اس کے لئے ذرہ برابر ہمدردی پیدا نہیں ہوتی لیکن جب میرے پڑوس میں کوئی عورت اپنے خاوند سے لڑ کر اور خودکشی کی دھمکی دے کر سینما چلی جاتی ہے اور میں خاوند کو دو گھنٹے تک سخت پریشانی کی حالت میں دیکھتا ہوں تو مجھے دونوں سے ایک عجیب و غریب قسم کی ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے۔ کسی لڑکے کو لڑکی سے عشق ہو جائے تو میں اسے زکام کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتا۔ مگر وہ لڑکا میری توجہ ضرور کھینچے گا جو ظاہر کرے کہ اس پر سینکڑوں لڑکیاں جان دیتی ہیں لیکن درحقیقت وہ محبت کا اتنا ہی بھوکا ہے جتنا بنگال کا فاقہ زدہ باشندہ۔ اس بظاہر کامیاب عاشق کی رنگین باتوں میں جو ٹریجڈی سسکیاں بھرتی ہو گی، اس کو میں اپنے دل کے کانوں سے سنوں گا اور دوسروں کو سناؤں گا۔ چکی پیسنے والی عورت جو دن بھر کام کرتی ہے اور رات کو اطمینان سے سو جاتی ہے، میرے افسانوں کی ہیروئن نہیں ہو سکتی۔ میری ہیروئن چکلے کی ایک ٹکیائی رنڈی ہو سکتی ہے جو رات کو سو جاتی ہے اور دن کو سوتے میں کبھی کبھی یہ ڈراؤنا خواب دیکھ کر اٹھ بیٹھتی ہے کہ بڑھاپا اس کے دروازے پر دستک دینے آیا ہے۔ اس کے بھاری پپوٹے جن پر برسوں کی اچٹتی نیندیں منجمد ہو گئی ہیں، میرے افسانوں کا موضوع بن سکتے ہیں۔ اس کی غلاظت، اس کی بیماریاں، اس کا چڑچڑا پن، اس کی گالیاں، یہ سب مجھے بھاتی ہیں۔ میں ان کے متعلق لکھتا ہوں اور گھریلو عورتوں کی سشتہ کلامیوں، ان کی صحت اور نفاست پسندی کو نظرانداز کر جاتا ہوں‘  ۔

سعادت حسن منٹو اپنے عہد اور اپنے دور کا انسان تھا لیکن اس کا معاشرہ اور اس مشاہدہ کو بیان کرنے کا اس کا انداز اس کے نثر پاروں کو آفاقیت کے معیار پر پہنچا دیتا ہے۔ وہ معاشرے کے جس طبقے میں گھومتا پھرتا اور رہتا ہے، جس کو دیکھتا اور جانتا ہے، اس کے بارے میں ہی بیان کرتا ہے۔ اس کا یہ بیان صرف سماجی آبلوں کی پردہ دری تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس کے افسانے اس عہد کے سیاسی منظرنامے کی بھی ایسی جامع تصویر پیش کرتے ہیں جو قاری کو چونکا دیتی ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا بشن سنگھ اور نیا قانون کا استاد منگو ایسے کرداروں کی بہت جاندار مثالیں ہیں۔ یہ دونوں کہانیاں اپنے عہد کا مکمل منظر نامہ ہیں اور ایسے کھرے اور تیکھے سوال بھی جو اب تک تشنہ جواب ہیں۔

مجید امجد بھی سعادت حسن منٹو کے عہد اور طبقے کا انسان تھا۔ اس لئے اس کی یہ نظم منٹو کی سوچ، شخصیت اور فن کو شاید سب سے بہتر انداز میں منعکس کرتی ہے:

میں نے اس کو دیکھا ہے

اجلی اجلی سڑکوں پر اک گرد بھری حیرانی میں

پھیلتی بھیڑ کے اندھے اوندھے کٹوروں کی طغیانی میں

جب وہ خالی بوتل پھینک کے کہتا ہے

 ’دنیا تیرا حسن یہی بدصورتی ہے‘

دنیا اس کو گھورتی ہے

شور سلاسل بن کر گونجنے لگتا ہے

انگاروں بھری آنکھوں میں یہ تند سوال

کون ہے یہ جس نے اپنی بہکی بہکی سانسوں کا جال

بام زماں پر پھینکا ہے

کون ہے جو بل کھاتے ضمیروں کے پرپیچ دھندلکوں میں

روحوں کے عفریت کدوں کے زہر اندوز محلکوں میں

لے آیا ہے، یوں بن پوچھے، اپنے آپ

عینک کے برفیلے شیشوں سے چھنتی نظروں کی چاپ؟

کون ہے یہ گستاخ؟

تاخ! تڑاخ

تاخ تڑاخ کہ یہ آواز ہر اس چوٹ کی گونج اور دھمک ہے جو منٹو کی کہانیاں پڑھتے ہوئے قاری کے دل و دماغ پر لگتی ہے۔ روح پر لگے زخموں کا بیان سہل نہیں ہوتا لیکن جب تک ان زخموں سے پردہ نہ اٹھایا جائے، نہ ان کی صفائی ہو سکتی ہے اور نہ ہی ان کا علاج ممکن ہے۔ منٹو نے بڑی ہمت اور جرات کے ساتھ سماجی علتوں کی نشاندہی کی ہے اور ان کے بیان میں اتنی احتیاط اور چابکدستی سے کام لیا ہے کہ وہ کسی صالح کی تقریر نہیں بنتے۔ پورا منظرنامہ پڑھنے والوں کی نگاہوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ قاری خود کو اس ماحول کا حصہ محسوس کرتاہے اور یوں لگتا ہے کہ کردار اپنی کہانی خود اس کو سنا رہے ہیں۔ منٹو کی یہ سچائی اور اس کا یہ انداز انتہائی سفاکانہ ہے لیکن یہ کسی قاتل کی سفاکی کی بجائے ایک ہمدرد کی سفاک ہے جو ان زخموں کا علاج چاہتا ہے۔ اب اس سے علاج اور دوا کی توقع کرنا نہ تو مناسب ہے او ر نہ ہی یہ ایک ادیب کا کام ہے۔

کیشو لال منٹو کے افسانہ  ’نعرہ‘  کا کردار ہے۔ وہ کہانی کے اختتام میں حالات کی ستم ظریفی سے تنگ آ کر پھیپھڑوں کی پوری قوت سے نعرہ بلند کرتا ہے۔ اس نعرہ کی دھمک سے ایک راہگیر خاتون سہم جاتی ہے تو اس کا شوہر اسے تسلی دیتے ہوئے کیشو لال کے بارے میں کہتا ہے :

 ’پاگل ہے‘

منٹو کے نعرہ مستانہ کے جواب میں اب اس سے اچھی طفل تسلی اور کیا ہوگی۔

(یہ مضمون جنوری 2005 میں سعادت حسن منٹو کی پچاسویں برسی کے موقع پر لکھا گیا تھا اور ہفت روزہ جد و جہد میں شائع ہوا تھا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1772 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali