ہم آزادی سے کیوں ڈرتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں آزادیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے دانشور لوگ عموماً کتراتے رہتے ہیں۔ کچھ تو اس باب میں خاموشی کے عادی ہیں۔ وہ اس موضوع پر لب کشائی سے گریز کرتے ہیں۔ لیکن کچھ جہاندیدہ اور تجربہ کار دانشور بھی ہیں، جو اشاروں کنایوں سے اس موضوع پر اظہار خیال کرتے رہتے ہیں۔ شہری آزادیوں سے لے کر افکار و اظہار کی آزادی تک بہت سارے موضوعات یہاں بحث کے متقاضی ہیں۔ مگر ان پر بحث ہوتی نہیں۔ یہ صرف پاکستان کا ہی المیہ نہیں ہے، دنیا کی بیشتر اقوام اس سلسلہ عمل سے گزری ہیں۔

دو سو سال پہلے تک یورپ میں بھی یہی بات تھی۔ آزادیاں کیا ہیں۔ اور ان کو کیسا ہونا چاہیے، ان موضوعات پر بات تو ہوتی تھی، مگر اتنی عام نہیں۔ اجتماعی طور پر کتابیں پڑھنے اور ان پر گفتگو کرنے کے نئے ”آن لائن“ سلسلے کے تحت گزشتہ دنوں ہم نے ”زوم ریڈنگ روم“ میں جان سٹورٹ مل کی کتاب ”آن لبرٹی“ پڑھی اور اس پر گفتگو کی ہے۔ اس کتاب میں آزادیوں کے بارے بہت کچھ ملتا ہے۔ مغربی یورپ کے حالات میں یہ کتاب شاید پرانی یا ”آؤٹ آف دیٹ“ تصور ہو، لیکن ہمارے حالات سے یہ ابھی تک مطابقت رکھتی ہے، اور بہت ہی مطلق ہے۔

آزادی کے بارے میں جان سٹورٹ مل نے پہلی بار سن اٹھارہ سو چون میں ایک مختصر سا مضمون لکھا۔ یہ ایک بہت ابتدائی مضمون تھا۔ آگے چل کر اس موضوع پر اس کے خیالات میں نشو و نما ہوئی اور کچھ جدت پیدا ہوئی۔ کچھ عرصہ ذہنی بیماری اور سخت نروس بریک ڈاؤن کے بعد اس نے شادی کرلی۔ شادی کے بعد شریک حیات سے تبادلہ خیال کی وجہ سے عورتوں کے حقوق اور زندگی کی اخلاقیات کے بارے میں میں جان سٹورٹ مل کے خیالات میں تبدیلی آئی۔

بعد میں اس مضمون میں بوقت ضرورت ترمیم و اضافہ ہوتا رہا۔ شادی کے بعد اس مضمون کو آگے بڑھانے اور کتابی شکل میں دینے میں اس کی شریک حیات بھی اس کے ساتھ شامل ہو گئی۔ اس سلسلے میں اپنی خودنوشت میں جان مل لکھتا ہے کہ آزادی کے بارے میں ہماری یہ تحریر دراصل ہم دونوں کی مشترکہ ادبی پیداوار ہے۔ مگراس پر نام صرف میرا ہے۔ یہ کتاب بالآخر اٹھارہ سو انسٹھ میں کتابی شکل میں مکمل ہوئی۔ اس کا شمار آج کل دنیا کی دنیا کی اہم ترین کتابوں میں ہوتا ہے۔

مل نے اپنے مضمون کا آغاز طاقت ور طبقات کے اختیار اور عوام کی آزادی کے درمیان جدوجہد کی تاریخ سے کیا ہے۔ اس کے خیال میں حکمرانی ایک طرح کا جبر ہے، جس کو شہریوں کی آزادی کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے نزدیک اس کنٹرول کے دو میکانزم ہیں۔ ایک وہ جو شہریوں کے لازمی اور ضروری حقوق ہیں، اور دوسرا وہ آئینی بندوبست ہے، جو کہ پوری کمیونٹی کے مرضی سے ترتیب پاتا ہے۔ اس نے واضح کیا کہ شروع شروع میں انسانی سماج بے شمار قسم کے مشکلات کا شکار رہا ہے۔ جس میں چھوٹی آبادی اور لاتعداد تباہ کن جنگیں شامل تھیں۔ اور اس کی وجہ سے انسان کو اپنے حکمران طبقات کی طرف سے بہت ساری چیزیں تسلیم کرنے پر مجبور کیا گیا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگ اس قابل ہوتے گئے کہ وہ اپنے آپ پر خود حکومت کر سکیں۔ جس کی وجہ سے سماج میں حکومت کرنے کے لیے جمہوریت کا تصور پیدا ہوا۔ لیکن جمہوریت سے جو توقع کی جاتی تھی وہ پوری نہ ہو سکیں۔ جمہوری حکومتوں میں بھی عوام میں اور حکمران طبقات میں بہت بڑا فرق موجود رہا۔

جمہوریت کے ساتھ بھی ایک بڑا مسئلہ اکثریت کی استبدادیت یا مطلق العنانیت کا ہے۔ مل کے نزدیک ایک اکثریت کی جابرانہ حکومت کا جبر حکومت کے جبر سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ کیوں کہ یہ ظلم، جبر یا استبدادیت صرف سیاست تک محدود نہیں ہوتی، اس کا دائرہ کار سماجی و معاشی سطح تک پھیل جاتا ہے۔ کسی بھی سماج کے اندر ایک شخص کو حکمران اشرافیہ کے جابرانہ سلوک سے بچایا جا سکتا ہے، لیکن اس کو اس سماج کے مروجہ خیالات و احساسات کے جبر سے نہیں بچایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ان خیالات کی روشنی میں اس سماج میں جو قانون بھی بنائے جائیں گے وہ بھی اکثریت کی حمایت میں ہوں گے۔

جہاں تک رائے کا تعلق ہے یہ ترجیحات کا مسئلہ ہوتا ہے۔ کسی خاص مسئلے پر، خاص حالات میں لوگ اپنے آپ کو ایک خاص قسم کی رائے کے ساتھ منسلک کر دیتے ہیں۔ اس طرح ایک اکثریتی رائے تشکیل پاتی ہے۔ اکثریتی رائے ضروری نہیں کہ درست رائے بھی ہو۔ یہ محض ایک غالب رائے ہوتی ہے جو مروج ہو جاتی ہے۔ ماضی کے حکمرانوں کے تجربات کی روشنی میں جان مل سمجھتا ہے کہ کسی بھی معاشرے کے قواعد و ضوابط کا معاشرے کے لیے مفید ہونا ضروری ہے۔

اگر ایسا نہیں تو ان قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ مل اس باب میں طویل گفتگو کو تین قسم کی بنیادی آزادیوں میں تقسیم کر کہ پیش کرتا ہے۔ ان آزادیوں میں پہلی آزادی افکار و احساسات کی آزادی ہے۔ مسئلہ صرف افکار رکھنے کی آزادی ہونا ہی نہیں ہے، بلکہ اپنے افکار کے مطابق عمل کرنے کی آزادی ہونا لازم ہے۔ اور ظاہر ہے کہ آزادی کا یہ تصور اظہار رائے کی کھلی آزادی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

دوسری قسم اپنے پسند کے مطابق طرز زندگی اختیار کرنا اور اپنے خوابوں کا تعاقب کرنا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کے اس عمل کی وجہ سے سماج کے کسی دوسرے فرد کو نقصان نہ پہنچتا ہو۔ اگر آپ کے طرز زندگی سے کسی دوسرے فرد کا نقصان نہیں ہوتا، تو آپ کو اس کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے، بے شک سماج اس طرز زندگی کو غیر اخلاقی ہی کیوں نہ سمجھتا ہو۔

تیسری آزادی متحد ہونے کی آزادی ہے۔ یہ اتحاد و یکجہتی، کسی گروہ تنظیم، ٹریڈ یونین یا جماعت کی شکل میں ہو سکتی ہے۔ اس طرح کی گروہ بندی میں معاشرے کے ہر فرد کو حصہ لینے کی آزادی ہونی چاہیے۔ اس میں بس شرط اتنی ہے کہ گروہ کا ممبر بننے کا خواہشمند شخص عاقل و بالغ ہو، اس پر کوئی جبر نہ کیا گیا ہو۔ اور تنظیم سازی کے اس عمل سے معاشرے کے کسی دوسرے فرد کو کوئی نقصان نہ ہوتا ہو۔

مل اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی بھی فرد کی رائے کو کسی صورت میں نہیں دبایا نہیں جانا چاہیے۔ اس کے خیال میں کسی بھی سماج میں تین قسم کے عقائد پائے جا سکتے ہیں۔ مکمل طور پر غلط، جزوی طور پر درست، اور مکمل طور پر درست، اور یہ تینوں ہر سماج میں کوئی نہ کوئی مشترکہ مقصد پورا کرتے ہیں۔ مل کسی کی رائے پر پابندی کو ایک بڑی برائی قرار دیتا ہے۔ اگر کسی بھی رائے کو زبردستی خاموش کیا جاتا ہے تو اس سے سچائی کا قتل ہوتا ہے۔

مل کے خیال میں کسی بھی موضوع پر کسی کی ایسی رائے ہو سکتی ہے، جو شاید پورا سچ نہ ہو لیکن اس میں کچھ نہ کچھ سچائی موجود ہوتی ہے۔ عام طور پر کوئی بھی مروجہ رائے پورا سچ نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ مختلف قسم کی آرا کو موقع دیا جائے۔ آرا کے اس تصادم سے سچائی سامنے آنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ سچائی کی تلاش میں مختلف آرا کا یہ تصادم ظاہر ہے ایک ایسے سماج میں ہی ممکن ہے، جس میں افکار کی آزادی ہو۔ ان افکار کے اظہار کی آزادی ہو۔ اور اپنے نظریات کے مطابق عمل کرنے کی آزادی ہو۔ ایسا صرف ایسے ملک میں ہی ممکن ہے جو معاشی و سماجی طور پر آزاد ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •