ماں جی، لال لپ سٹک اور 20 جنوری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماں نے کسی اسکول کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری نہ لی تھی بلکہ یہ کہنا بجا ہے کہ انھیں تقسیم سے قبل کے ہندوستان میں اسکول میں داخل ضرور کیا گیا تھا جہاں بقول ان کے ایک دو سال وہ ڈولی میں سوار ہوکے گئی بھی تھیں لیکن ان ہی کے بقول ان کا پڑھنے لکھنے کی جانب کوئی خاص رجحان نہیں تھا۔ کلاس میں کئی گھنٹے تک بیٹھنا ان کے بس کی بات نہ تھی کیوں کہ طبیعت میں شرارت اور ہلچل بہت تھی۔ برابر بیٹھی بچیوں کو تنگ کرنے ان کی چیزوں کو ادھر سے ادھر کرنے میں انھیں بہت مزا آتا تھا۔ اس وقت کے رواج اور طریقوں کے مطابق ان کی حرکات سکنات کا خلاصہ کسی نہ کسی طرح گھر تک پہنچا اور ان کا آنا جانا بند ہو گیا۔ ان ہی کے بقول اس نہ جانے والے فیصلے میں سب سے زیادہ افسوس ڈولی کی سواری کا تھا۔

برسوں پہلے جب بہت موڈ میں ہوتیں تو اپنے گزرے بچپن کو یاد کرتے ہوئے بتاتی تھیں کہ ان کی چلبلی طبیعت کے سبب آٹھ برس کی عمر میں ان کا پردہ ہو گیا تھا اور باہر نکلنے کی صورت میں برقعہ اوڑھنا پڑتا۔ برقعے میں الجھ کے گرنے پڑنے کے ڈھیروں واقعات تھے۔

اپنے سیماب صفت مزاج کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتیں تھی تو میں بھی آفت کی پڑیا جدھر سے گزرتی ایک ہنگامہ میرے پیچھے ہوتا تھا۔ اپنی ہم عمر عم زاد بہنوں کے علاوہ اپنی عمر سے کئی کئی سال بڑی بہنوں کو بھی نہیں بخشتی تھیں۔ ان کے پیغامات کی رسائی ادھر سے ادھر کرنے کے ساتھ ساتھ نجانے کتنی بار ان کی ہنڈ کلیوں اور گڑیوں کے بیاہ میں ریت ملائی اور آگ لگائی۔ اپنی تیز رفتاری کے قصے سناتے ہوئے بتاتیں کہ بہت دبلی اور عمر سے کافی لمبی تھی ہوا کے جھونکے کی طرح چھتوں چھتوں ادھر سے ادھر ہو جاتی تھی۔ جب مقدمہ ہماری نانی یعنی ان کی اماں جان کی عدالت میں پہنچتا تو خوب گو شمالی کے بعد دو دو وقت کا کھانا بند ہو جاتا تھا اور سزا کو مزید تقویت دینے کے لئے کڑھائی کے منتظر تکیہ غلافوں اور چادروں کی تعداد میں اضافہ کر دیا جاتا تھا۔

ان کے کھیلنے کودنے کے دنوں ہی میں ہماری نانی نامعلوم بیماریوں کا پنڈورا باکس بن گئیں اور پلنگ سنبھال لیا۔ جس کے نتیجے میں گھر اور اس سے متعلقہ ذمہ داریوں کا بوجھ خود بخود ان کے کاندھوں پر آتا گیا۔ نانی پلنگ پے لیٹے لیٹے چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال سے لے کے کھانا بنانے اور نابینا حافظ جی کے سامنے تمیز سے بیٹھ کر قرآن پڑھنے تک کی ہدایت جاری کرتی رہتیں۔

ماضی کی ریت کو کریدتے ہوئے کہتیں ہماری ماں نے ہمیں یہ نہیں سکھایا تھا کہ گھر کا آدمی شام کو تھکا ہارا آئے اور اس پہ بچے چھوڑ دیے جائیں یا دن بھر کے دکھڑے رونے بیٹھ جائیں۔ پہلے اس کا حال احوال روٹی پانی کا پوچھو پھر کوئی اور بات کرو۔

اسی ریت میں سے اپنے بچپن کا کوئی سنہرا دانہ مل جاتا تو مزے لے لے کے سناتیں کہ رات کو کس طرح ہمارے نانا مرحوم انھیں اردو پڑھنے لکھنے کے علاوہ ضرورت کا حساب کتاب سمجھانے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ اور قائداعظم کی کاوشوں کی سوجھ بوجھ دیتے، دنیا میں چھڑی دوسری جنگ عظیم کے بارے میں سمجھاتے، ہٹلر کی تباہ کاریاں، ملکہ کی بے بسی بتاتے، راشن سے ملنے والے آٹے چینی اور سوتی کپڑے کا قصہ سمجھاتے، جنگ کے آخری دنوں میں راشن کارڈ کا لفظ پہلی بار لوگوں نے سنا اور برتا تھا، ان ہی دنوں چاندی کے کرنسی سکوں نے دھاتی شکل اختیار کرنی شروع کی تھی۔

ہماری امی کی یادداشت بہت اچھی تھی ان کے بچپن اور اس سے آگے کے وقت میں کون کب پیدا ہوا، کس کے انتقال پہ کس کی شادی ملتوی ہوئی، کس کا رشتہ کہاں سے ٹوٹا اور کہاں جڑا، کس کی برات ہاتھی پہ آئی اور ان کے نانا نے اپنی ہونے والی بہو کو پہلی برسات پہ چاندی کی چوکی اور ریشم کی رسی بھجوائی۔

چھوڑ آنے والے ہندوستان میں ان کا زیادہ وقت اپنی ننھیال میں گزرا جہاں ان کی دو بیوہ خالائیں پہلے پی بچوں سمیت قیام پذیر تھیں۔ ہمیں سمجھانے کے لئے بتاتیں کہ پہلے بیوہ ہونے کی صورت میں خاندانی لوگ خواتین کو اکیلا نہیں چھوڑتے تھے۔ سسرال میں صرف اس صورت میں رہ سکتی تھیں کہ کوئی دیور جیٹھ نکاح کر لے نہیں تو لوٹ کے میکے آنا ہوتا تھا۔

ہم میں سے کسی کے بھنویں اچکانے پہ فوراً دلیل آتی کہ شادیاں کم عمری میں، بچے جلدی جلدی ہو جاتے تھے اور انھیں لڑکیاں ہی سمجھا جاتا تھا۔

ایسے موقع پر اگر وہ بہت زیادہ فلسفیانہ موڈ میں ہوتیں تو اپنے نانا کے گھر اور قصوں کو یاد کرتے ہوئے کہتیں ”ہمارے نانا بہت بد قسمت تھے، اتنا دھن دولت تھا لیکن اپنی لڑکیوں کی جانب سے ہمیشہ بے سکون رہے، منتوں مرادوں سے پیدا ہونے والے صاحبزادے یعنی ہمارے ماموں نے پڑھا لکھا تو بہت لیکن نہ نانا کا کاروبار سنبھالا نہ خود کچھ کیا بس ساری عمر کتابیں پڑھتے اور باتیں کرتے گزار دی“ ہم میں سے کوئی اس موقع پہ جملہ لگاتا تو گھور کے دیکھتیں۔ ہماری امی ان کی امی اور ان کی امی گھورنے میں اتنی ماہرانہ صلاحیت رکھتی تھیں کہ بندے کی سانس بند ہو جائے۔

ان کی یادوں کے آنگن میں ہمیشہ داتا گنج، بدایوں، بریلی، نخاسہ، سہارن پور اوردہرہ دون کے ناموں کے پھول کھلتے اور دیپ جلتے رہے۔ ان دیپوں کی صفائی کرتے ہوئے ان کے پاس سنانے کو ہزاروں قصے ہوتے تھے۔ جیسے منوں سے آنے والے موسمی پھل، اناج کی صفائی کے لئے آنے والی چمارنیں، محلے کا قصائی، گائے بھینسوں کے باڑے ان کے کٹے بچھڑے، گھر کے پچھواڑے میں بننے والا گڑ، بھٹیارن کی بھٹی کے چنے مرمرے، مردانہ حصے میں رہنے والے خاندان کے مرد، لڑکے جنھیں بنا اجازت زنان خانے میں آنے کی ہمت نہ تھی، گھر کے احاطے سے لگا املی کا درخت اور اس سے توڑ کر کھائی جانے والی املی کی داستانیں، علی گڑھ میں پڑھنے والے ان کے عم زاد بھائی، ان کی تاکا جھانکیاں، شادی کے موقع پر آنے والی ڈومنیاں، نیوتا دینے والا نائی، گھر کی دہلیز پہ بیٹھنے والا سنار، جہیز کی تیاری کے لئے آنے والے اطلس کمخواب اور سچے ریشم کے تھان (یہ بتاتے وقت ان کا سارا زور سچے ریشم پہ ہوتا تھا) رت جگے، گلگلے، باراتوں کی آمد، قیام و طعام، دلہن کی اماں کا ملگجا لباس، بیاہی اور بن بیاہی کی تفریق، لڑکیوں کا دن رات غلاف چادریں کاڑھنا اور ایک دوسرے سے ڈیزائن پوشیدہ رکھنا۔ اللہ دیا نام کا واحد نوکر جسے زنان خانے میں آنے کی اجازت تھی۔

اپنی یادوں کی تہیں کھولتے وقت وہ فخریہ بتاتیں کہ ان کی نانی بہت سگھڑ اور ہوشیار خاتون تھیں خاندان کا ہر مشکل مسئلہ ٔ ان کی عدالت میں آتا تھا اور مرد تک ان کے فیصلے کو مانتے تھے۔ نانی تو خیر ہماری بھی بہت پہنچی ہوئی تھیں یہ الگ بات ہے کہ ہمارے ہوش و حواس میں وہ کبھی نامعلوم بیماریوں کے سحر سے نہ نکل سکیں۔

ہماری اماں کی یادداشت بہت کمال کی تھی انھیں اپنے آگے پیچھے کے پیدا ہونے والوں ان کی شادیوں نوکریوں بچوں سب کے ماہ و سال یاد رہتے تھے۔ انھیں اپنے کی یادیں مکمل جزئیات کے ساتھ یاد تھیں۔ شادی سے قبل امی کی زندگی کا ایک بڑا وقت اپنی پھوپھی کے گھر سہارن پور میں بھی گزرا۔ ان کے بیٹی نہ تھی اور امی ان کی زندگی میں بیٹی کا نعم البدل تھیں۔

سہارن پور ان کی زندگی کا وہ رنگ محل تھا جہاں قیام کے دوران ان کی جان گھریلو ذمہ داریوں سے بچی رہتی تھی۔ وہاں کے قصے وہ آج بھی یوں بیان کرتیں جیسے وہ پھوپھی کے کمرے سے چونے والی کوٹھی کے پچھواڑے کا نظارہ کر رہی ہوں اور گھر کی ڈیوڑھی سے منسلک احاطے میں ان کے پھوپھا کی ٹفن (گھوڑا گاڑی) کھڑی ہو، ان کا خاندانی نوکر خلیل کوچوان کو وکیل صاحب کے باہر آنے کی اطلاع دے رہا ہو، پیشے کے اعتبار سے ان کے پھوپھا وکیل اور خاندانی زمیندار تھے۔ ان کا شمار اس وقت کے نامی گرامی وکیلوں میں ہوتا تھا۔

امی کو یہ بھی یاد تھا کہ چونے والی کوٹھی کے برابر سے وہ محلہ شروع ہوتا تھا جہاں راتیں جاگتی اور دن سوتے تھے۔

امی بتاتی تھیں کہ ان کے پھوپھا مسلم لیگ میں بہت سرگرم تھے۔ ان کے گھر میں مولانا اشرف تھانوی سے لے کر اس وقت کی مسلم لیگ کے تمام سرکردہ افراد کا آنا جانا تھا۔ گھر میں مٹینگز ہوتی تھیں، فخریہ کہتیں کہ اپنی پھوپھی کے ساتھ مسلم لیگ کے ایک جلسے میں انھوں نے قائد اعظم اور لیاقت علی خان کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔

اپنے پھوپھی زاد بھائی کی انجنیئرنگ کی اعلی تعلیم کے لئے انگلینڈ روانگی کا احوال یوں بیان کرتیں جیسے کل کی بات ہو۔ ہنس ہنس کے بتاتیں کہ اس وقت انگلینڈ کے حالات کتنے برے تھے۔ نہانے کو پانی میسر نہ تھا۔ لوگ پیسے دے کے نہاتے اور ایک دوسرے کا نہایا ہوا پانی استعمال کرتے تھے۔ ان کی لینڈ لیڈی ایک بدمزاج انگریز عورت تھی جسے وہ اپنی زبان میں برا بھلا کہہ کے دل کی بھڑاس نکالتے تھے۔ کھانے کی اشیا لائن لگا کے ملتی تھیں اور یہ کہ انھیں دال چاول کے پیکٹ بنا کے پارسل کیے جاتے تھے۔

سہارن پور ان کی زندگی کا وہ سنگ میل تھا جہاں سے انھوں نے ہجرت کا سفر شروع کیا اور پھر کبھی نہ جا سکیں۔

ہماری زندگیوں میں جب بھی کبھی کرفیو کا موسم آیا، راتوں کو پہرے لگے، کھمبے بجے وہ تقسیم سے قبل کے اس ہندوستان کا تذکرہ ضرور کرتیں کہ کیسے کرفیو کے دنوں میں پھوپھا کے ہندو دوست راتوں کو چھپ چھپ کے ملنے آتے تھے اور گھر کی خواتین کو ان کے گھروں میں منتقلی کے مشورے دیتے تھے۔

امی کا کہنا تھا کہ پھوپھا کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ وہ دن تھا جب پولیس نے صبح سویرے گھر کا دروازہ بجا کے تلاشی لینے کا آرڈر دکھایا اور گھر کی تمام خواتین کو لائن بنا کر ایک کمرے میں ان کے سامنے سے گزرنا پڑا تھا کہ بوجہ سرگرم مسلم لیگی کارکن کچھ کو شبہ تھا کہ ان کے گھر میں اسلحہ چھپا ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ جاتے جاتے پولیس ان کے خاندانی نوکر خلیل کو بھی ساتھ لے گئی۔

اسی دن یہ فیصلہ ہوا کہ گھر چھوڑنے کی تیاری مکمل رکھی جائے اور جیسے ہی کرفیو اٹھے اسپیشل ٹرین کے چلنے کا پتہ کیا جائے تاکہ آگے کا سفر شروع ہو۔ بہت دھیمے سے کہتیں اتنی عقل نہیں تھی کہ آگے کا سفر کیا ہے؟

اسپیشل ٹرین کا قصہ جب جب انھوں نے سنایا نہ صرف خود آبدیدہ ہوجاتی تھیں ہماری بھی آنکھیں نم ہو جاتیں اور اس بات کا مطلب جب ہی صحیح معنوں میں سمجھ میں آیا کہ ”اک آگ کا دریا ہے اور اس پار جانا ہے“ کیا معنی رکھتا ہے۔

آگ کا وہ دریا ہماری اماں نے سترہ برس کی عمر میں انتہائی بیمار باپ اور دس سال کے بھائی کی معیت میں برقع میں لپٹے ہوئے اپنی برقع بند ماں اور دو بہنوں کے ساتھ ایک فوجی اسپیشل ٹرین میں پار کیا تھا۔ جسے ہر چند گھنٹے بعد ہندو اور سکھ بلوائی تلاشی کے بہانے روکتے کیونکہ انھیں ٹرین میں سویلین لوگوں کی موجودگی کا شبہ تھا۔ ٹرین میں موجود فوجی دروازوں اور کھڑکیوں میں دیوار بن کے ایستادہ ہو جاتے پر انھیں اندر جھانکنے کی اجازت نہ دیتے۔

قیامت کے وہ تین دن لاہور اسٹیشن آنے تک اماں نے بغیر کھائے پیے گزارے اور جب اتریں تو شدید بخار اور پیٹ کے درد میں مبتلا تھیں کہ تین دن کے روکے ہوئے پیشاب نے انھیں شدید اذیت میں ڈالا ہوا تھا۔

چند، دن لاہور میں ایک عزیز کے گھر گزارنے کے بعد کراچی کا رخ کیا اور ان کے مطابق ڈی جے کالج کے سامنے واقع فلیٹوں میں سے ایک میں ان کا قیام چند ماہ رہا لیکن جلد ہی نانی کی ایک کزن کے اصرار پے جو نوابشاہ میں رچ بس گئی تھیں۔ انھیں بھی ادھر بلا لیا۔ یہ گفتگو کرتے ہوئے اکثر ان کا گلا بھر جاتا اور آنکھیں نم ہوجاتی تھیں۔ بہت دکھے دل سے کہتی تھیں میں تو ہر بوقت ابا جان سے کہتی تھی کہ ”واپس اپنے گھر کب جائیں گے“ پھر مسکراتے ہوئے کہتیں اتنا شعور نہیں تھا پیچھے جو گھر اور اثاثہ چھوڑ آئے ہیں وہ اب ہمارا نہیں رہا۔

جس دن ہمارے نانا نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے یہ کہا کہ اب یہی ہمارا گھر اور ملک ہے ہم ایک آزاد وطن کے شہری ہیں اس شام وہ اپنی دوست گیتا اور نانی کو انجکشن لگانے کے لئے آنے والی مس میری کو یاد کر کے بہت روئیں کہ میری نے انھیں نٹنگ کے بہت اچھے نمونے سکھائے تھے۔ اور باہر کی دنیا کی بہت سی باتوں سے آگاہ کیا تھا۔ ان باتوں کے تذکرے کے آخر میں وہ یہ ضرور کہتی تھیں ”یہ کیسی آزادی ہے کہ سب کچھ بچھڑ گیا؟“

پانچ بچوں کی ماں اور ایک بھرے خاندان کا حصہ بننے کے باوجود یہ دکھ ان کے اندر سے کبھی نہ نکلا کہ وہ دن کتنے اذیت بھرے تھے بیمار باپ، بیمار ماں، دس سال کا بھائی گھر میں ان سمیت تین لڑکیاں، اجنبی شہر، اجنبی ملک، اجنبی زبان۔ گزرتے وقت کے ساتھ تو یہ کہانی ہمیں ازبر ہو گئی تھی لیکن جب چھوٹے تھے تو اکثر یہ سوال ہوتا کہ پھر شادی کوئٹہ میں کیسے ہوئی؟

اپنی پھوپھی کو دعائیں دیتے ہوئے کہتیں انھیں اپنے بھائی کی بیماری اور دیگر مسائل کا خوب اندازہ تھا۔ انھوں نے کراچی سے کوئٹہ کی طرف کوچ کیا تھا کہ ان کے بیٹے انگلینڈ سے پڑھائی ختم کر کے آ گئے تھے اور انھیں پاکستان ریلوے میں ملازمت مل گئی تھی۔ ان کی پھوپھی نے قابل شادی دونوں لڑکیوں سمیت بھائی کو بلایا اور 1949 کے ابتدائی مہینوں میں دونوں کی خانہ آبادی کا فرض ادا کر دیا۔ یہ بتانے کے بعد وہ ایک لمبی سانس لیتیں اور کہتیں ”ہماری شادیوں کے صرف چھ ماہ بعد ابا جان کا انتقال ہو گیا“ ۔

ہم میں سے جو بھی پاس ہوتا اس کے سر پے ایک چپت لگاتے ہوئے کہتیں ”بس پھر زندگی کی ایک اور کہانی شروع ہوگئی“ ۔

اس شروع ہوئی کہانی کے جیتے جاگتے کردار تو ہم ہیں ہی۔ لیکن اب بھی جب اماں کے بارے میں سوچیں تو پہلا خیال یہی آتا ہے کہ وہreal fighter تھیں۔

زندگی کے ساتھ ان کی fight یا جدوجہد کا آغاز آٹھ سال کی عمر سے شروع ہوا اور نوے سال کی عمر میں اختتام پذیر ہوا۔

امی کو ہم سب اکثر لاڈ میں ”ماں جی“ پکارتے تھے۔ ماں جی بہت زندہ دل، ہنس مکھ، کھلے دل ذہن کی مالک، ہمدرد، ہر کسی کے کڑے وقت میں سینہ سپر اور سلائی کڑھائی بنائی سے لے کر کھانا پکانے سمیت ہر قسم کے سگھڑاپے میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔

ہمیں یاد ہے کہ ان کے اکلوتے بھائی کی جب 1970 میں شادی ہوئی تو انھوں نے دلہن سمیت خاندان بھر کی لڑکیوں کے 22 غرارے سیے تھے۔ ہماری زندگی میں درزی نام کا کارندہ نوے کی دہائی میں داخل ہوا تھا۔ بڑی بڑی دعوتیں اتنی خوش اسلوبی سے نمٹاتیں کہ آنے والے دنگ رہ جاتے۔ کسی اسکول کالج یونیورسٹی کا منہ نہ دیکھنے والی ہماری ماں جی نے ہم سب کی ابتدائی تعلیم میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے ہی ہمیں A B C، جمع تفریق اور اردو پڑھنا لکھنا سکھائی، میں نے تختی کی لکھائی میں ان سے مار بھی بہت کھائی۔

مجھے یاد ہے بہت محدود آمدنی میں زندگی کے سارے لوازمات کی تکمیل کے ساتھ انھوں نے ہی ہمیں بچوں کی دنیا، کھلونا، ہمدرد، نونہال، تعلیم و تربیت، جیسے رسائل مہیا کیے۔ اس سب کے ساتھ ساتھ وہ قصہ کہانیوں کی نہ جانے کون کون سی کتب بھی لاتی تھیں۔

سارے خاندان میں واحد ہمارا گھر تھا جہاں ماہنامہ زیب انسا، حور، باقاعدگی سے آتے تھے اور اخبار خواتین، اخبار جہاں اپنی اشاعت کے اول دن سے آئے۔ یہی نہیں ہم نے اردو سیارہ ڈائجسٹ اور لیل و نہار کے بھی مزے لوٹے ہیں۔

ماں جی کو ہر قسم کی دقیانوسی گفتگو، ٹونے ٹوٹکے، نیاز نذر، جھاڑ پونچھ سے بہت چڑ تھی۔ ہمیشہ لڑکیوں کی تعلیم اور کچھ کرتے رہنے کی حامی رہیں۔ کسی کم عمر لڑکی کی شادی کا سنتیں تو بہت ناراض ہوتیں، شادی کے فوراً بعد حاملہ ہو جانا بھی انھیں پسند نہ تھا، مذہب کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہتیں ہر ایک اپنی مرضی کا مالک ہے جس کا دل چاہے نماز پڑھے روزے رکھے نہ دل چاہے تو مزے کرے۔ لوگوں کے حج عمرہ کی ادائیگی پر بھی ان کی ایک سوچ تھی۔ مجھے نہیں یاد کہ دوران تعلیم کسی بھی غیر نصابی سرگرمی میں حصہ لینے کے لئے ہمیں دیگر ہم جماعتوں کی طرح اجازت نامی پاپڑ بیلنا پڑا ہو۔

ہم سب بہن بھائیوں کے ساتھ پڑھنے، ملازمت کرنے والے دوست سہیلیاں ہمارے گھر آنکھیں بند کر کے آتے ماں جی کی چٹپٹی گفتگو اور خاطر مدارت کے مزے لیتے اور ہنستے ہنساتے چلے جاتے۔

اپنے بچوں کا سکھ چین آرام بہت پیارا تھا۔ کسی پر تعیش زندگی کی چاہ نہ تھی۔ اپنے بھائی کی شادی کے دنوں میں نہ جانے کیا شوق چرایا کانچ کی چوڑیاں پہننے چلی گئیں۔ ہاتھ میں پہنی سونے کی آٹھ عدد چوڑیاں اس کی دکان پہ اتاریں اور بھول کے چلی آئیں۔ کئی دنوں بعد خیال آنے پر گئیں تو دکان خالی تھی۔ چند دن تو خاموش رہیں پھر کسی کے بھی پوچھنے پر کہتیں جانے والی چیز تھی چلی گئی۔

ماں جی کی مزاجی کیفیت تیز اور کام کی رفتار تیز تر تھی۔ بہت ہنس ہنس کے بتاتیں کہ تمہاری دادی پہلی مرتبہ جب ہمارے پاس رہنے آئیں اور مجھے کام کرتے دیکھا تو میرا نام ”بجلی“ رکھ دیا۔ ان کی ہم عمر رشتہ دار انھیں آندھی، طوفان جیسے ناموں سے پکارتی تھیں۔ ہمارے اسکول کالج کے زمانے میں ہم پانچ بہن بھائیوں اور پاپا سمیت سب کو ان کی پسند کا ناشتہ الگ الگ بنا کر دیتیں۔

ہمارے گھر میں دوپہر کا کھانا ہمیشہ گیارہ بجے تک تیار ہوجاتا تھا۔ انھیں ذائقہ دار تازہ کھانا، ستھرا لباس اور بنے سنورے رہنا پسند تھا۔ انھیں گھر میں آنے والی ماسیوں تک کے میلے کپڑوں اور بکھرے بالوں سے سخت چڑ تھی۔ چھٹی کے دن ہم میں سے کسی کا بھی رات کے لباس میں سارا دن گھر میں ادھر ادھر ٹہلنا سخت ناپسند تھا۔

ان کی شام زندگی کے آخری چند دنوں کے علاوہ ہمیشہ با اہتمام رہی اور شاید وہی چند دن تھے جب انھوں نے رات کا لباس تبدیل نہیں کیا۔ انھیں بکھرے بالوں، ملگجے کپڑوں اور بقول ان کے بھسی ہوئی شکلوں سے بہت چڑ تھی۔

بیٹیاں تو بیٹیاں وہ بہوؤں کو بھی یہ کہے بنا نہ رہتیں کہ شام کا وقت ہے حلیہ درست کر لو اور کچھ نہیں تو لپ اسٹک ہی لگا لو۔

لپ اسٹک اور وہ بھی لال لپ اسٹک ماں جی کی شخصیت کا خاصہ تھی۔ شاید اس لئے بھی کہ جب انھوں نے لپ اسٹک لگانی شروع کی تو اس وقت لال رنگ ہی کی لپ اسٹک ملتی تھی۔ وہ بہت فخریہ بتاتی تھیں کہ تمہارے باپ نے شادی کے بعد برسوں میری لپ اسٹک کی خریداری کی، انھیں میرا بنا لپ اسٹک اور بنا بال ڈائی کیے رہنا بہت برا لگتا تھا۔ اب تو کئی دہائیوں سے باپ کا فرض ہم سب نے سنبھال لیا تھا۔

ماں جی کے دن کا آغاز صبح سویرے ضروریات سے فارغ ہونے کے بعد بال سنوارنے اور لپ اسٹک لگانے ہی سے ہوتا تھا۔ ادھر کچھ برسوں سے انھوں نے صبح کی نہار منہ چائے پینا چھوڑ دی تھی۔ اس سے کچھ اور برسوں پہلے ان کی صبح چائے کے کپ سگریٹ کے کش اور اخبار کے ساتھ ہوتی تھی۔

لپ اسٹک ان کی حیات کی وہ رنگینی تھی جس کا استعمال وہ دن میں کئی بار کرتی تھیں۔ حتی کہ رات کو سونے سے قبل بھی لپ اسٹک ضرور لگتی تھی۔

بہت مذاق بنتا تھا پاپا کے انتقال کے بعد ہم سب چھیڑتے کہ کیا باپ جی خواب میں ٹو کتے ہیں۔ کبھی تو خاموش رہتیں اور کبھی غصے میں کہتیں ”کوئی اعتراض“ ۔

کوئی آنے جانے والا پوچھتا آپ کے لئے کیا لائیں۔ جواب ملتا اتنا کچھ تو ہے کچھ نہیں چاہیے۔ پھر کہتیں اچھا چلو ایک لپ اسٹک لے آنا۔

زندگی کے آخری ہفتے میں چار دن داخل ہسپتال رہیں۔ آئی سی یو کی پہلی صبح جب ڈیوٹی پہ موجود نرس نے ان کی صفائی ستھرائی کا عمل مکمل کیا تو انھوں نے پہلی فرمائش یہی کی کہ میرے بال درست کرو اور لپ اسٹک لگاؤ۔

صبح نو بجے جب میں ملنے پہنچی تو اس بات پہ سخت ناراض تھیں کہ یہاں کسی کے پاس لال لپ اسٹک نہیں اور مجھے گلابی رنگ کی لگا دی۔

گھر میں ان کی دیکھ بھال پہ مامور آیا اکثر رات کو انھیں لپ اسٹک دیتے وقت کہتی ”اماں آپ خود سے کروٹ تو لیتے نہیں ہو، لپ اسٹک ضرور لگاؤ گے“ ۔ جواب میں اسے زور کی ایک جھڑکی ملتی اور لپ اسٹک لگا لی جاتی۔ چار دن ہسپتال رہ کے گھر آ گئیں۔

19 جنوری کا سارا دن نیم غنودگی کی کیفیت میں رہیں، شام کو ڈرپ وغیرہ لگنے کے بعد طبیعت ذرا بحال ہوئی تو میں نے کھانا کھلایا (شاید یہ ان کی زندگی کا پہلا واقعہ ہوگا جب انھوں نے کسی دوسرے کے ہاتھ سے کھانا کھایا) تین دن پہلے آنے والا میرا بھائی اپنے کاندھے سے ان کی پشت کو سہارا دیے بیٹھا رہا۔ بے دلی سے کھانا کھانے کے بعد منہ کی صفائی کرتے ہو انھوں نے حسب معمول اپنی لپ اسٹک کی فرمائش کی۔ دستی شیشے میں خود کو دیکھتے ہوئے کانپتے ہاتھوں سے انھوں نے لپ اسٹک لگائی اور لیٹ گئیں۔

زندگی کی وہ رات انھوں نے بہت بے چین گزاری۔ 20 جنوری کی صبح مٹی ہوئی لپ اسٹک والے لب جامد تھے اور ان کے ڈریسر پر لال لپ اسٹک خاموش کھڑی تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •