فارن فنڈنگ کیس اور تحریک انصاف کی کہہ مکرنیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مخدومی اکبر ایس بابر کو مبارک ہو کہ تحریک انصاف جو چھ سال سے فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے اپنے پروں پانی نہیں پڑنے دیتی تھی اور کیس کی تاخیر اور طوالت کے لیے ہر وہ حیلہ، بہانہ اور حربہ اختیار کیا جو کیا جاسکتا تھا، اب بالآخر یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئی کہ ”اگر بیرونی فنڈنگ ہوئی ہے تو ذمہ دار ایجنٹ ہیں“ ۔

الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے جواب میں تحریک انصاف نے کہا ہے کہ پارٹی فنڈ کے لیے عمران خان کی ہدایت پر امریکہ میں دو ایجنٹ واضح ہدایات کے ساتھ تعینات کیے گئے تھے، اب اگر ان ایجنٹوں نے ہدایات کی خلاف ورزی کی ہے تو پارٹی اس کی ذمہ دار نہیں ہے۔ اس حوالے سے پی ڈی ایم نے الیکشن کمیشن کے سامنے بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ تحریک انصاف نے اپنا جرم تسلیم کر لیا ہے اور اب الیکشن کمیشن اپنا کردار ادا کرے۔ ادھر الیکشن کمیشن نے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سے بھی فارن فنڈنگ کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس ہے کیا؟ تحریک انصاف کے بانی رکن اور ایک زمانے تک پارٹی کی مرکزی باگ ڈور سنبھالنے والے اکبر ایس بابر نے 14 نومبر 2014ء کو الیکشن کمیشن میں فارن فنڈگ کے حوالے سے ایک درخواست جمع کروائی تھی اور تین بڑے الزامات عائد کیے کہ تحریک انصاف نے نمبر ایک غیر قانونی طور سے فنڈنگ حاصل کی ہے، نمبر دو منی لانڈرنگ ہوئی ہے اور نمبر تین کہ وسیع پیمانے پر کرپشن ہوئی ہے۔ چھ سال میں اس کیس کی الیکشن کمیشن میں ستر سماعتیں ہوئی ہیں اور فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔

تحریک انصاف بجائے اس کے کہ اپنی پاک دامنی کے ثبوت پیش کرتی ، اس نے سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں سات پٹیشنز داخل کی ہیں جن میں یہ موقف اختیار کیا کہ یہ الیکشن کمیشن کا استحقاق ہی نہیں ہے کہ وہ فارن فنڈنگ کی تفصیلات تحریک انصاف سے طلب کرے۔ تحریک انصاف نے اس کیس سے منسلک متعدد وکیل بھی بدلے اور وزیراعظم عمران خان، جو آج یہ فرما رہے ہیں کہ یہ سارا کیا دھرا ایجنٹوں کا ہے، وہ ایک درخواست یہ بھی دے چکے ہیں کہ وہ الیکشن کمیشن کو تفصیلات اور گوشوارے جمع کرانے کے پابند ہی نہیں ہیں۔

نہ جانے وہ کون سی مصلحتیں ہیں یا انکشافات ہیں جن کی پردہ داری کے لیے ایک درخواست یہ بھی جمع کرائی گئی کہ اس کیس کی سماعتوں کی تفصیلات کو خفیہ رکھا جائے۔ الیکشن کمیشن نے ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی اور اسے ایک ماہ کا وقت دیا کہ اپنی رپورٹ پیش کرے، لیکن 28 ماہ گزرنے کے بعد کمیٹی نے ”عرق ریزی“ کے بعد جو رپورٹ پیش کی وہ الیکشن کمیشن نے ہی نامکمل اور ناقص قرار دے کر مسترد کر دی۔ الیکشن کمیشن نے تقریباً 24 بار تحریری طور پر تحریک انصاف کو اپنے بنک اکاؤنٹ جمع کرانے کا حکم دیا لیکن پہلے تو تحریک انصاف نے درخور اعتنا ہی نہیں سمجھا اور پھر پہلے دو، بعد میں چار اور آخر میں آٹھ بنک اکاؤنٹس کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروائیں۔

اسٹیٹ بنک نے الیکشن کمیشن کو جو تفصیلات فراہم کی ہیں ، وہ 23 بنک اکاؤنٹس کی ہیں جن میں اربوں ڈالر کی ٹرانزیکشنز موجود ہیں۔ ہنڈی سے جو رقوم آئیں ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔ اکبر ایس بابر نے بطور درخواست گزار جب الیکشن کمیشن سے ان بنک اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کی تو ان سے یہ کہہ کر معذرت کر لی گئی کہ الیکشن کمیشن پر تحریک انصاف کا بے حد دباؤ ہے، جس کے سبب وہ یہ تفصیلات انہیں فراہم نہیں کر سکتے۔ امریکہ کے وہ دو بنک اکاؤنٹ جن کو تحریک انصاف نے اسکروٹنی کمیٹی کے سامنے تسلیم تو کیا لیکن ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ اگر ان اکاؤنٹس میں غیر قانونی فنڈنگ ہوئی ہے تو ذمہ دار وہ ایجنٹ ہیں تحریک انصاف یا عمران خان نہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ دو ایجنٹ امریکہ میں سڑک پر بیٹھے اس طرح کے ایجنٹ نہیں ہیں جو گاڑیوں کے ٹیکس کے ٹوکن جمع کرواتے ہیں۔ یہ باقاعدہ کمپنیاں ہیں جو عمران خان کے دستخطوں سے قائم اور رجسٹرڈ ہوئی ہیں، ان کے بورڈ آف ڈائریکٹر، دفتر کی عمارت تک کے معاملات پر عمران خان کے دستخط موجود ہیں۔ عمران خان کے دستخطوں کے حوالے سے یہ بتاتا چلوں کہ جتنا تعلق راقم کا ان سے رہا ہے وہ دوسروں پر اعتماد کرنے والے شخص ہیں، ان کے سامنے جب بھی کوئی کاغذ رکھا جاتا تو صرف سامنے والے سے پوچھتے کہ یہ کیا ہے اور پھر دست خط کر دیتے ہیں۔

اگر عمران خان کو اس بات پر استثناء دے بھی دیا جائے تو جو لوگ ان مالی بد عنوانیوں میں نامزد ہیں،  وہ آج بھی ان کے بغل بچے ہیں، وہ ان کو پارٹی سے نکال کر کٹہرے میں کھڑا کیوں نہیں کر دیتے؟ بلکہ یہ بدعنوان عناصر تو چیف الیکشن کمشنر سے ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں اور ظاہر ہے یہ بات بھی عمران خان کے علم میں ہو گی تو انہوں نے اس پر کیا ایکشن لیا؟ اور اگر ایجنٹوں نے بھی غیر قانونی فنڈنگ کی ہے تو وہ سامنے کیوں نہیں لائی جاتی اور کیوں نہیں بتایا جاتا کہ وہ کہاں خرچ ہوئی؟ شفافیت ہے تو الیکشن کمیشن کی کارروائی کو خفیہ رکھنے کی استدعا کیوں کی؟

اکبر ایس بابر جنہوں نے تحریک انصاف کو مافیا سے پاک کرنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے، ان کے ساتھ آج تک تحریک انصاف کے کسی موجودہ عہدیدار نے کسی بھی ٹی وی چینل پر مناظرہ نہیں کیا ہے۔ تحریک انصاف کے عہدیداران اور ترجمان فارن فنڈنگ پر مدلل جواب دینے کی بجائے لفظوں کی جگالی میں مصروف ہیں۔

ندیم بابر اور شاہد خاقان عباسی جب ٹی وی چینل کے ایک ہی پروگرام میں ایل این جی پر اپنا اپنا موقف پیش کر سکتے ہیں تو اکبر ایس بابر کے سامنے آنے میں کیا مضائقہ ہے؟ بلکہ تحریک انصاف کے موجودہ کھیپ تو انہیں تحریک انصاف کا رکن تسلیم ہی نہیں کرتی۔ لیکن اکبر ایس بابر ہائی کورٹ اسلام آباد اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کی روشنی میں آج بھی تحریک انصاف کے رکن ہیں۔

پانامہ کیس ہو، فارن فنڈگ کیس ہو یا پھر براڈ شیٹ، یہ صرف چند مثالیں ہیں اس طبقے کی لوٹ مار اور نا اہلی کی جو سیاست، معیشت اور سماج پر مسلط ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •