سعادت حسن منٹو: سماج کو آئینہ دکھانے والا


یوں تو سبھی آئینہ دیکھتے ہیں مگر سماج کو آئینہ دکھا گیا منٹو-

اردو ادب کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کو ہم سے بچھڑے 66 سال کا عرصہ بیت گیا- اپنے افسانوں میں بلا کی جدت اور بے باکی سے معاشرے میں رونما ہونے والے تلخ حقائق کو آئینہ دکھانے والے سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912ء کو بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوئے-

خوبرو نوجوان منٹو سنہرے فریم کا چشمہ لگائے اپنے دور کے ادیبوں میں نہ صرف نمایاں نظر آتے بلکہ سب سے منفرد نظریہ بھی رکھتے تھے انہوں نے تازیانے کھانے پر بھی جب قلم اٹھایا معاشرے میں پیدا ہونے والے کینسر کو چیرتے ہوئے ہوئے اس کا عکس ہی دکھایا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ افسانہ نگار بیسویں صدی کی سب سے زیادہ متنازع فیہ شخصیت کا اعزاز اپنے نام کرچکا تھا۔

لوگ منٹو کا مقابلہ ڈی ایچ لارنس سے کیا کرتے ہیں اورڈی ایچ لارنس کی طرح منٹو نے بھی ان موضوعات کو مخصوص طور پر ابھارا کرتے جو ہند و پاک کی سوسائٹی میں معاشرتی طور پر گناہ کبیرہ تصور کیے جاتے تھے منٹو جن موضوعات پر کھلم کھلا قلم نگاری کرتا رہا ان کی وجہ سے کئی بار انہیں عدالت کے کٹہرے تک بھی جانا پڑا مگرقانون انہیں کبھی سلاخوں کے پیچھے نہیں بھیج سکا۔

چند مشہور افسانے جن میں، ٹھنڈا گوشت، سیاہ حاشیے، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ہتک، موذیل، کالی شلوار، بو، دھواں، نمرود کی خدائی بے پناہ مشہور ہیں-

سعادت حسن منٹو کا ہمیشہ یہی موقف رہا کہ ’’میں معاشرے کے ڈھکے ہوئے یا پس پردہ گناہوں کی نقاب کشائی کرتا ہوں جو معاشرے کے ان داتاؤں کے غضب کا سبب بنتے ہیں اگر میری تحریرگھناؤنی ہے تو وہ معاشرہ جس میں آپ لوگ جی رہے ہیں وہ بھی گھناؤنا ہے کیونکہ میری کہانیاں اُسی پردہ پوش معاشرے کی عکّاس ہیں، منٹو کی کہانیاں اکثر مزاح کے پہلو میں معاشرتی ڈھانچے کی پیچیدگیوں کی تضحیک کرتی محسوس ہوتی ہیں‘‘۔

ہمارے معاشرے کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ ہمیں سارے اعزاز و ایوارڈ بعد از مرگ ہی نوازے جاتے ہیں۔ منٹو کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ جس منٹو کو زندگی بار بار کٹہرے میں لاکڑا کیا کرتی تھی، بعد از مرگ 14 اگست 2012 کو اسی منٹو کو نشانِ امتیاز سے نوازا گیا جبکہ عمر کے آخری سات برس میں منٹو دی مال لاہور پر واقع ایک بلڈنگ دیال سنگھ مینشن میں مقیم رہے۔ جہاں اپنی زندگی کے آخری دن انتہائی عقوبت ناک، دردناک اور افسوس ناک حالت میں گزارے۔

بے انتہا شراب نوشی کی وجہ سے ان کا جگر بے حد متاثر ہو چکا تھا، آخر کار 18 جنوری 1955 کی ایک سرد صبح ہند و پاک کے تمام اہلِ ادب نے یہ دردناک خبر سنی کہ اردو ادب کو تاریخی اور جدت پسند افسانے اور کہانیاں اور سب سے بڑھ کر نوجوان نسل کو ایک نئے نظرئیے سے نوازنے والا منٹو 42 سال کی عمر میں خود تاریخ کا حصہ بن چکا ہے جس کو تاریخ نے نہیں بلکہ جو تاریخ کو امر کر گیا ہے۔

یوں تو منٹو کے سارے اقوال لازوال ہیں مگر میرے پسندیدہ اقوال میں سے ایک یہ ہے کہ "قوت ارادی ایک ایسی چیز ہے جو ہر ناممکن چیز کو ممکن بنا دیتی ہے”

Facebook Comments HS