کیکر نمبر ایک (افسانہ)
میں ہر روز اسی سڑک پر نکلتا تھا۔ یہ میرا روز کا معمول تھا۔ آج سوچوں تو ایسے لگتا ہے کہ وقت کی دوڑ دھوپ اور دھول میں بہت کچھ پیچھے رہ گیا ہے ۔
ایک گاؤں ایک تھڑا اور ایک کیکر میرے یادوں کے بازار میں کھڑا فیصل آباد میں واقع گھنٹے گھر کی طرح، شہر بھر میں جہاں سے گھوم کے جاؤ سامنے کھڑا نظر آئے میں ، جدھر سے بھی گزرتا سامنے کیکر آ جاتا۔
اس کیکر سے اپنی پرانی دوستی تھی۔ جب ہم چھوٹے تھے، یہیں ٹولیوں میں بیٹھے کنچے کھیلا کرتے تھے۔ بڑے بوڑھے تھڑے پہ بیٹھ کر محفلیں جمایا کرتے تھے۔ کسی بھلے مانس نے کچے پکے روڑوں کو ٹکا کے محفلیں جمانے اور مسافروں کے سستانے کو اس کیکر کے نیچے ایک تھڑا بنا ڈالا تھا۔ اس تھڑے کی وجہ سے کیکر معتبر ہو گیا ، اونچے شملے والے چودھری کی طرح اس کی شان نکل آئی۔
قصبے سے آنے والوں کو لاری اڈے سے تانگے مل جایا کرتے تھے۔ میرے نصیب میں نہ سالم کی سواری تھی نہ سانجھی، ہاتھ عموماً تنگ ہی رہا کرتا تھا۔ ڈیرے اور قصبے کے بیچ کچھ فرلانگ پر کچی کے کنارے یہ کیکر تھا، جب ہم قصبے سے گاؤں کی طرف پیدل آتے تو راستے میں سانس لینے یہیں رکا کرتے۔ ساتھ ہی ایک چھوٹی سی کچی دیواروں والی مسجد اور ایک کنواں تھا۔
خیر میرے جیسے اور بھی میرے ساتھی تھے، تھوڑ پونجیے ، جن کی جیبوں میں سوراخ ہوا کرتا ہے۔ اول تو ہاتھ کچھ آتا نہیں آ جائے تو ٹکتا نہیں۔ میں بھی کیا کرتا، اپنے بازوؤں کی طاقت پر ہی بھروسا کرنا تھا۔ چند کوڑیوں کو بار بار گن کے تسلی کرتا اور جیب کو ٹتولتا رہتا۔ کبھی کبھار شدت احتیاط سے اپنی مٹھی میں سکے زور سے بھینچ لیتا۔ گو میرے لاڈلوں کی فرمائشوں کو ابھی پاؤں نہیں لگے تھے۔ سو قصبے سے گاؤں کی طرف آتے ہوئے میں سواری نہیں لیتا تھا۔ سواری پر خرچ کرتا تو دن بھر کی کمائی کا چوتھا حصہ ادھر ہی خرچ ہو جانے کا اندیشہ سر اٹھائے رہتا، سو میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا ڈیرے کی راہ لیتا اور جب کیکر نظر آتا تو خوشی سے پھولے نہیں سماتا ، بس یہاں سے اپنا ڈیرہ چند قدموں کے فاصلے پر تھا۔
میں پیسے کے معاملے میں تھوڑی بچت پر یقین کرتا تھا۔ میں سمجھتا تھا بندے کو دوائی دارو کے لیے پیسے بچا کے رکھنے چاہیے۔ مجھے یہ فکر رہتی کہ بیماری کی صورت میں ہسپتال جانا پڑ سکتا ہے۔ سرکاری ہسپتال جانا پڑ جائے گا توسرکاری پرچی
بنوانے کے لیے پیسے کس سے مانگوں گا؟ کیا اپنے باپ سے؟ جو برتن بنا بنا کے مٹی تلے جا سویا تھا۔ جس نے ایک کچی دیواروں والا گھر اور گھڑے گھڑونجیاں اور تھوڑا سا گھر کا سامان ترکے میں چھوڑا تھا۔ جاتے جاتے البتہ مجھے کولہو سے باندھ گیا تھا۔ پورے پنڈ کی سب سے بانکی ناری کا چانن میرے آنگن میں اتر آیا تھا، ”بے چاری میری بانکی ناری۔“
میں نے تو اماں ابا دونوں سے کہا کہ مجھے شادی بیاہ سے دلچسپی نہیں ، مجھے اس جھنجھٹ سے دور ہی رکھو، پر ان دنوں ابا اور اماں جن کی کسی بات پر ایک زبان نہیں ہوتی تھی اس معاملے میں یک زبان ہو گئے۔ اماں کے سوئے ہوئے ارمان بھی پوری طاقت سے جاگ اٹھے تھے۔ جیسے گرمیوں کے موسم میں سردیوں کے چھپے زیر زمین کیڑے مکوڑے باہر آ جائیں۔
مجھے زندگی جینے کے لیے ابا نے برتن بنانے کا ہنر تو سکھایا تھا پر سچ تو یہ تھا کہ اس دور میں کچے برتنوں کو منہ کون لگائے۔ سو میں نے یہ کام رد کر دیا۔
کمائی کے لیے نیک پروین نے نئی تجویز دی۔ گاؤں کی بانکی نار میرے جیسے کی ووہٹی بنی تو وقت نے اسے سیانا بنا دیا تھا۔ وہ مجھے دیسی پھولوں کے ہار بنا دیتی، میں انہیں شہر لے جا کر بیچ آیا کرتا۔ کچھ نہ کچھ گھر لے کر ہی آتا تھا۔ میں سوچتا کچھ دنوں میں، میرا بیٹا بھی گھبرو ہو جائے گا وہ بھی دو چار روپے لے کے ہی گھر آئے گا۔ میں اکثر اسے اپنے ساتھ لگا کر سوچتا اور خواب دیکھتا، فی الحال تو میرے گھر کا چولہا میری اور نیک پروین کی محنت کے بل پر لکڑیوں کے بالن سے بھرا رہتا تھا۔ اور نعمت خانے میں آٹا اور گھی موجود رہتے۔
میری یادوں کے بازار میں فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کی طرح کیکر نمایاں نظر آتا۔ اس کیکر سے اپنی دوستی آج کی نہیں تھی، بچپن لڑکپن سب اس کے گرد گزرا تھا۔ اسی کی چھاؤں میں گرمیاں سردیاں گزری تھیں۔ بارشوں کے بعد جب بھی تھڑا تڑخ جاتا تو میرا کمہار باپ مٹی گھولے اور رچھانی لیے اس کی لیپاپوتی کرتا اور میں مٹی کے کھیل دیکھنے میں مگن کتنی کتنی دیر یہ تماشا ہوتے دیکھتا رہتا اور کبھی کبھار مٹی اور گارے سے بھری تگاری اس کے قریب کرتا جاتا تاکہ میرے ابا کے کام میں آسانی پیدا ہو جائے۔
کیکر، تھڑا اور میرا ابا تینوں مجھے اکٹھے یاد آتے۔ کھجور کے پتوں کی چٹائی بچھائے آج میں اسی تھڑے پر سستا رہا تھا۔ ہوا ایسے چل رہی تھی جیسے اس کی چنری میں کوئی پیغام ہو، مجھے اپنی گھر والی یاد آ گئی۔ پہلے بچے کی باری اپنی نیک پروین بھی ایسے ہی مشکل سے چلا کرتی تھی ، ذرا تھم تھم کے بدلتے موسموں کی نوید اور سندیسہ جس کے وجود میں پلنے لگے، کیا وہ ایسے ہی تھم تھم کے چلتا ہے؟ کیکر کی چھال بھی بارشوں میں بھیگ بھیگ کے سنوری سنوری لگ رہی تھی، خاص کر پیلے پیلے پھولوں کے بور سے کیکر پہ کھل کے مست جوبن آیا تھا۔ ساون کی ٹھہری ہوا پھولوں سے اٹھکھیلیاں کرتی پھر رہی تھی، کچھ پھولوں کا بور ہوا کے ساتھ اڑا جا رہا تھا۔
جیسے نئی نویلی ووہٹی اچانک اجنبی کو ساجن مان کے ماپوں کو چھوڑ کر پھولوں کی طرح شاخ سے ٹوٹ کے اس کے ساتھ ہی ہو لیتیں، میں محویت کے ساتھ ابھی پیلے پھولوں کے بور کو انگلیوں سے چھو رہا تھا۔ نیند کے جھونکے میری آنکھوں کو چھیڑ رہے تھے۔ دور سے ایک تانگہ ادھر آتا نظر آیا۔ میرے قریب ہی کوچوان نے تانگہ روکا اور ایک سواری اتری۔ وہ سیدھا میری طرف آ رہا تھا۔
لباس سے وہ شہری بابو لگتا تھا۔ میرے پاس آ کے رکا اور پوچھنے لگا:
” آپ کون ہیں؟“ میں نے سوال پر غور کیا
میں کون ہوں؟
کوئی بھی نہیں!
کیسا سچ تھا، ایک زمانہ گزرا جب میں کہیں نہیں تھا۔ پھر میں ہوا۔ اس کے کچھ سالوں بعد جب میں اپنے ابا کی مٹی بھری انگلی پکڑ کے چلنے کے قابل ہوا۔ تب میں تھا۔
اب میں ہوں، کیونکہ ابا مٹی تلے جا سویا اور اب میں اپنے بچوں کی انگلی پکڑ کے چلتا ہوں پھر میں بھی مٹی تلے جا سوؤں گا۔
مجھے کیا معلوم میں کون ہوں؟
ہاں البتہ مجھے اس کیکر کا پتہ ہے ، اس کے تھڑے کا پتہ ہے ا، س پہ کھجور کی چھال کا مصلیٰ ہے جس پہ لوگ آتے ہیں، سستاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، اور میں اس وقت اس کے سائے میں ہوں۔ ”میں کیکر کا یار ہوں“ ۔
مجھے جواب سوجھا۔
اب میں نے پوچھا،
” آپ کون ہو“ ،
میں محکمہ مردم شماری کا ملازم ہوں ہوں،
” مطلب گننے والا“
میں نے حساب لگایا!
”تو گنو نا مجھ سے پہلے میرے یار کو گنو نمبر ایک پہ لکھو کیکر“
وہ پریشانی سے مجھے دیکھنے لگا۔
اس کی بات میری سمجھ سے باہر تھی اور میری بات اس کی سمجھ سے باہر، میں چاہتا تھا کہ اگر وہ گاؤں کے لوگوں کی گنتی کرنا چاہتا ہے تو وہ پہلے خانے میں کچے تھڑے اور پیلے بور والے کیکر کا نمبر لکھے اور اپنے مردم خانہ شماری میں اسے بھی شمار کرے۔
اس نے میری بات سنی ان سنی کر دی۔ تیز تیز قدم اٹھائے اپنا رجسٹر پکڑے وہ محکمہ مردم شماری کا بابو گاؤں کی طرف جانے والی سڑک کو ہو لیا۔ اس کے پیچھے پیچھے میں بھی اپنے گھر کو چلا گیا۔
اسی رات میں نے ایک ڈراؤنا خواب دیکھا، میں نے دیکھا کہ کچھ شکاری شہر سے آئے ہیں۔ ان کے ساتھ بڑی بڑی مشینیں ہیں، انہوں نے کچی سڑک کا ماپ لیا، وہ اسے چوڑا اور پکا کرنے آئے تھے۔ جس کے لیے انہوں نے تھڑا توڑ ڈالا اور میرے دوست کیکر کو جڑوں سمیت وہاں سے امن و امان اکھیڑ ڈالا اور کسی نامعلوم دوسرے کنارے پر جا لگانے کا ارادہ کیا۔ خواب بے حد ڈراؤنا تھا۔ سڑک تھڑا ، ابا سب اداس تھے۔
اس صبح جب میں جاگا تو میرا دل بہت اداس تھا۔ کیکر سے متعلق انجانے وسوسوں میں گھرا ہوا میں تھڑے کی طرف بھاگا گیا دیکھنے کے لیے کہیں میرا خواب سچ تو نہیں ہو گیا۔ کیا واقعی یہ محض خواب تھا، میرا خوف یا یہ سچ تو نہیں خبریں آتی تھیں کہ ایسا اب ہونے لگا ہے۔ کیکر وہاں ہو گا یا نہیں ، کیا اکھیڑا جا چکا ہو گا۔ میرے من میں وسوسوں کا بازار تھا۔
جب میں ڈیرے سے نکلا تو میں نے شکر کا کلمہ پڑھا، دیکھا کیکر اپنی جگہ موجود تھا۔
مردم شماری والا بابو تھڑے پر کیکر کے نیچے آرام کر رہا تھا۔ مجھے دیکھا اور مسکرایا اس نے مجھے رجسٹر دکھایا۔ پہلے خانے میں کیکر کا اندراج تھا۔ مردم شماری صفحہ نمبر ایک پر خانہ اندراج میں کیکر نمبر ایک۔


