کیا تھپڑ مارنے والی حریم شاہ درست ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


آج صبح جب سوشل میڈیا پہ نگاہ پڑی تو ہر طرف حریم شاہ کے تھپڑ کی گونج تھی۔

ایک قندیل بلوچ بھی تھیں، اپنی بے باکی اور دبنگ انداز کی وجہ سے شہرت کی بلندیوں کو پہنچی ہوئی تھیں اور آج یہ حریم شاہ ہیں جو اپنی ٹک ٹاک ویڈیوز سے اتنی مشہور ہو گئیں ہیں کہ کبھی پارلیمنٹ کے دورے پر ہوتی ہیں تو کبھی کسی سیاست دان کی مہمان۔

کل تو حد ہی ہو گئی کہ مفتی صاحب کو تھپڑ رسید کر دیا اور پھر ہمدریاں بٹورنے کے لئے عورت کارڈ کھیلا۔

افسوس ہوتا ہے ایسی خواتین پہ جو اپنی بے باکی کو بہادری سمجھتی ہیں۔ بہادری تو یہ ہے کہ آپ ناموافق حالات میں اپنے معاملات کیسے لے کر چلتی ہیں۔

میری نظر میں اگر کوئی بہادر اور مضبوط عورت ہے تو وہ منیبہ مزاری صاحبہ ہیں۔ جو ایک حادثے کا ایسا شکار ہوئیں، ان کا آدھا دھڑ معذور ہو گیا، ان کے شوہر نے معذوری کی وجہ سے انہیں طلاق دے دی لیکن آج وہ اپنی ہمت اور حوصلے کی وجہ سے معاشرے کی خواتین کے لئے ایک مثال ہیں۔

شمیم اختر جو پاکستان کی پہلی ٹرک ڈرائیور ہیں اور گوجرانوالہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ ٹرک اور سامان کی ترسیل کے وقت ان کا واسطہ بھی طرح طرح کے مردوں سے پڑتا ہو گا۔ وہ اپنی محنت اور ہمت سے اپنے گھر والوں کی ضروریات پوری کر رہی ہیں۔

اور پھر ہر وہ عورت جو اپنے ماں باپ کی عزت کے لیے اپنی محبت قربان کر دیتی ہے۔ ہر وہ عورت جو غربت اور مفلسی کے باوجود بے جا فرمائشیں کر کے اپنے باپ بھائیوں کو رسوا نہیں کرتی۔

ہر وہ عورت میرے لیے قابل قدر اور عظیم ہے جو اپنے شوہر کی کم آمدنی کے باوجود اپنی گرہستی چلاتی ہے۔ ایسی تمام خواتین اپنے حالات سے ناصرف سمجھوتہ کرلیتی ہیں بلکہ مقابلہ کرتی ہیں۔

اب اگر بات کی جائے حریم شاہ اور ان جیسی بے باک خواتین کی تو یہ سب انتقاماً ایسا کرتی ہیں، انہیں اپنے گھروں میں جس جس چیز کی کمی دیکھنے کو ملی ہوتی ہے یا گھر کے اصول لاگو کیے گئے ہوتے ہیں۔ یہ اس کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ یہ ان اصولوں کو توڑ کر دکھاتی ہیں۔ یہ درحقیقت ذہنی مریض ہیں۔

ایسی خواتین کا تعلق زیادہ تر غریب گھرانوں سے ہوتا ہے، جہاں باپ بھائی ان کی فرمائشیں پوری نہیں کر سکتے تو یہ خود اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور ہر جائز ناجائز راستے سے اپنی بے جا ضرورتیں پوری کرنا شروع کر دیتی ہے جہاں انہیں اتنا بے باک ہونا پڑتا ہے۔

معاشرے کا ایک مخصوص حلقہ انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیتا ہے۔ جب کبھی یہ کسی مشکل میں پھنس جاتی ہیں تو وہاں یہ عورت کارڑ کھیلتی ہیں۔ افسوس تو اس وقت ہوتا ہے جب ہمارے معاشرے کی خواتین ان سے ہمدردی کا اظہار کرتی ہیں۔ مانا کہ زیادہ تر مرد ہی عورت کے ساتھ غلط رویہ رکھتا ہے لیکن اس کا قطعی یہ مطلب نہی کہ مرد کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا جائے۔

اس طرح تو ہم اس برائی کو شہ دے رہیں ہیں۔ عورت کا معاشرے میں ایک اہم کردار ہے۔ باچا خان نے کہا تھا کہ قومیں اس بات سے جانی جاتی ہیں کہ وہ اپنی عورتوں سے کیسا رویہ رکھتی ہیں،  یہ ذمہ داری عورتوں پہ بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ حریم شاہ اور اس جیسی خواتین کی حوصلہ شکنی کریں نہ کہ انہیں عورت کارڈ کھیلنے کی کھلی چھوڑ دی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •