دیار غیر میں! بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلی کچھ تحریروں کے بعد ہمارے چند دوستوں اور خاندان والوں نے جس طرح ہمارے بعد از ہجرت حالات پر دکھ اور تاسف کا اظہار کیا، تب سے ہم بھی خود کو مظلوم سا محسوس کر رہے تھے۔ ہمارے دانشور دوست ابرار نے تو فون کر کے ہمارے ملک چھوڑنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل بھی کی۔ اور ہمیں یقین دلایا کہ وہ خود کینیڈا آ کر ہمارے حصے کی سختیاں جھیلنے کو تیار ہیں۔

سچ پوچھیں تو لوگوں کے ردعمل کے بعد اپنا لکھا دوبارہ پڑھا تو خود سے ہمدردی سی بھی ہونے لگی۔ مگر پھر سوچا کہ زندگی کی عبارت تو تغیر کے بنا ادھوری ہے اور ہر دور ہمیں کسی نئے امتحان کا سامنا کرواتا ہے۔ انہی مشکلات کی سیڑھیاں چڑھتے آپ کامیابی کا سفر کرتے ہیں۔ ہم نا تو گھبرائے ہیں نا ہمت ہی ہاری ہے۔ اپنے حالات کو لکھنے کا قصد صرف اس وجہ سے کیا تھا کہ یہاں آئے ہم وطن بعض اوقات اپنے شروعاتی مسائل کا ذکر اس وجہ سے گول کر جاتے ہیں کہ کہیں جاننے والے ان کے فیصلے پر انگلی نا اٹھائیں یا شرمندہ نا کریں۔ اسی وجہ سے ملک میں مقیم افراد اسی سراب میں رہتے ہیں کہ ایک بار امریکہ، کینیڈا یا یورپ پہنچ جائیں تو ساری فکریں تمام شد۔

ہم میں سے اکثر اپنے مڈکیریئرمیں ملک چھوڑ کر نکلتے ہیں اور ہماری تعلیم اور تجربہ یہاں کے طریقہ کار سے میل نہیں کھاتا۔ جس وجہ سے نت نئے شعبوں میں نوکریاں تلاش کرنا پڑتی ہیں۔ اب یہاں پر ایسے برجنگ پروگراموں کی کمی بھی ہے جو ساری دنیا سے آئے پروفیشنلز کو مختصر کورسز کے ذریعے یہاں کی جاب مارکیٹ کے لئے تیار کریں اور رابطے میں لائیں۔ تو چند خوشنصیبوں کو چھوڑ کر ہر شخص چاہے وہ کیسا ہی کامیاب کیوں نا ہو، کو اپنی زندگی اور پروفیشن کا آغاز نئے سرے سے ہی کرنا پڑتا ہے۔

خاص طور پر اگر آپ ڈاکٹر، انجینئر، استاد، وکیل یا کسی بھی ایسے شعبے سے ہیں جس کا تعلق فلاح عامہ سے ہے تو واپس اپنی فیلڈ میں جانے کا راستہ لمبا اور صبر آزما ہے۔ اور ہر ایک میں نا تو اتنا حوصلہ ہوتا ناہی موافق حالات کہ وہ سالوں کا انتظار کر سکیں۔

اب ہم صحافت کے میدان میں جیسا اچھا برا وقت گزار کر یہاں پہنچے ہوں معاملہ یہ ہے کہ یہاں کی سیاست، صحافت، معاشرتی مسائل اور پیشہ ورانہ ضوابط کو جانے بنا کون ہمیں مقامی اخبار یا چینل میں جگہ دے سکتا تھا؟ اب یہاں پر کامیابی کا ایک گر یہ ہے کہ آپ کوئی تکنیکی سکل لے آئیں، کہ یہاں کی جاب مارکیٹ میں شاید کسی صحافی یا پروڈیوسر کی فوری جگہ تو نا نکلے مگر اچھا کیمرہ مین یا ایڈیٹر اپنی جگہ نسبتاً آسانی سے بنا سکتا ہے۔ اسی طرح آگر آپ کنسٹرکشن کے کسی شعبہ میں مہارت یا گاڑی کے اچھے مکینک ہیں تو بھی آپ کی اچھی کٹے گی۔

اب ہم نے بھی ٹورنٹو آنے کے بعد دھڑا دھڑ نوکری کے لیے آن لائن درخواستیں دینا شروع کیا۔ دو ماہ گزر چکے تھے ساتھ لائے پیسے ختم ہونے کو آئے مگر کسی بھی جگہ سے انٹرویو تو دور کی بات جواب تک نا آیا۔ ایسے میں ہمیں ایک یادگار نوکری حاصل ہوئی۔ چند گھنٹوں پر محیط اس زمین دوز ملازمت سے ہم نے پیسہ تو نہیں مگر کئی سبق سیکھ لیے۔ وہاں سے بھاگے تو ایک ادارے ویلکم سینٹر کینیڈا کا پتہ لگا جو نئے آنے والے مہاجرین کو نوکری کی تلاش کے لیے تیار کرتے ہیں۔

یہ ایک فری ورکشاپ تھی اور ہماری ماڈریٹر، بیتھ، جو ہیومن ریسورس میں بین الاقوامی تجربہ رکھتی تھیں انہوں نے بہت محنت اور لگن سے مقامی نوکریوں کے حساب سے اپنے سی وی کی تیاری اور مختلف پوسٹوں کے لیے اس میں رد و بدل کے طریقوں سے آگاہی دی اس کے ساتھ ساتھ انٹرویوز میں پوچھے جانے والے عمومی سوال جو تقریباً ہر جگہ ملتے جلتے ہوتے ہیں اور ان کے ممکنہ جواب بھی تیار کروائے۔ اس کے ساتھ یہ بھی سیکھا کہ یہاں پر ملازمت کے حصول کے لیے دی جانے والی درخواست مختلف سافٹ ویئرز سے چھانی جانے کے بعد ہی کسی زندہ انسان تک پہنچ پاتی ہے۔ اس کے لیے ملازمت کے ہر اشتہار کا بغور جائزہ لینے کے بعد جن سکلز یا ذاتی خصوصیات کی مانگ کی گئی ہے، کو اپنے سی وی میں الفاظ کے رد و بدل کے ساتھ شامل کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔

ہمارے ساتھ پاکستان، ہندوستان، دبئی، چین، اور یورپ سے آئے ہوئے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے منسلک افراد شامل تھے جنہوں نے اس ورکشاپ کو خوب سراہا۔

یہ الگ بات کہ ان میں سے کسی کے بارے یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ واپس اپنی فیلڈ میں پہنچ پائے۔ البتہ اس ورکشاپ کا ہمیں اپنی اگلی نوکری کی درخواست اور انٹرویو میں کافی فائدہ ہوا۔

اس کے علاوہ یہاں ”ریکروٹنگ ایجنسیاں“ بھی سرگرم ہیں کہ ایمپلائر اپنی افرادی ضرویات سے ان ایجنسیوں کو آگاہ کرتا ہے اور یہ اپنے پاس رجسٹرڈ افراد کے ڈیٹا میں سے متعلقہ لوگوں کو وہاں بھجواتے ہیں۔ ان ایمپلائرز میں بینک، فناننس کمپنیاں، ابلاغ عامہ کے اداروں سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق کاروبار شامل ہیں۔ یہ بھی یہاں کی جاب مارکیٹ تک رسائی کا ایک اچھا وسیلہ بن جاتا ہے۔

پھر ہمارا یہاں آنے کے بعد دو مختلف طبقہ فکر کے لوگوں سے واسطہ پڑا، ایک تو وہ جو آتے ہی کسی بھی پہلی ممکن ملازمت کو فوراً حاصل کرنے پر زور دیتے ہیں اور دوسرے اس کی بجائے تھوڑا انتظار اور اپنی ہی فیلڈ کی نوکری پر پورا زور لگانے کو سمجھداری سمجھتے ہیں۔ دونوں ہی کے پاس اپنے دلائل بھی ہیں اور کامیابی کی مثالیں بھی۔ اب انتظار صرف تب ہو سکتا ہے جب آپ کے پاس اتنا سرمایہ ہو کہ آپ چند ماہ تک اپنا خرچ خود اٹھا سکتے ہیں۔ اور آپ کسی ایسے شعبہ سے متعلق نا ہوں جس میں واپسی یہاں کی پڑھائی یا سرٹیفکیشن پر منحصر ہو۔

پھر یہاں کسی نوکری کو اس وجہ سے بھی چھوٹا نہیں سمجھا جاتا کہ اکثر کاروباری افراد نے اپنے کیریئر کا آغاز اسی شعبہ میں کسی چھوٹی موٹی نوکری سے کیا۔ ابھی کچھ دن پہلے ہمارے موجودہ مینیجر ڈیوڈ سے گپ شپ میں انکشاف ہوا کہ انہوں نے جس ریستوران میں برتن دھونے سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا چار سال بعد اسی ریستوران کے شریک مالک بن گئے۔ بعد ازاں اپنا سرمایہ سمیت منافع وصول کر کے دوبارہ نوکری پیشہ ہو گئے۔ بہت سی فوڈ چینز، گیس سٹیشنز یا سٹور چینز اپنی فرنچائز کے لئے انہی افراد کو ترجیح دیتے ہیں جنہوں نے ایک لمبے عرصے تک اسی کمپنی یا ملتے جلتے کاروبار میں نوکری کی ہو۔ کہ سرمایہ کا بندوبست تو بینک کر دیتا ہے مگر تجربے کا متبادل ملنا مشکل ہے۔

ابتدائی دور میں پیسے کمانے کے لیے ڈرائیونگ لائسنس کا فوری حصول اور گاڑی کا بندوبست ہونا بھی بہت کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ یہاں رائیڈ شیئر اور فوڈ یا پارسل ڈلیوری کے بہت مواقع موجود ہیں اور آپ کسی ایک یا زائد کمپنیوں کے ساتھ اکاؤنٹ بنا کر اپنی مرضی اور ضرورت کے اعتبار سے کام کیجیے۔ اور ساتھ ساتھ اپنی مرضی کی ملازمت ڈھونڈتے رہیں۔ یقین مانیں یہ ساتھ لائے سرمایہ کا بہترین استعمال ثابت ہو گا۔

اگر ممکن ہو تو یہاں آغاز میں جو بھی کرنا پڑے اس سے بد دل ہونے کی بجائے ساتھ ساتھ اپنے شعبے سے متعلق مختلف کورسز اور سرٹیفیکیشن حاصل کرتے رہیں۔ یہاں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جنہوں نے مشکل حالات میں بھی اپنی پڑھائی اور سیکھنے کا عمل جاری رکھا اور آج ایک آسودہ زندگی جی رہے ہیں۔ یاد رکھیں، کامیابی کا راستہ مشکلات کے درمیان سے ہی ہو کر گزرتا ہے۔ بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •