ڈرامہ ”گھسی پٹی محبت“ اور ایک روشن خیال باپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انہیں دنوں اے آ ر وائی چینل سے ”فصیح باری خان“ کا لکھا ڈرامہ گھسی پٹی محبت اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔ میں عموماً ڈرامے دیکھتی ہوں نہ ان پہ کبھی کچھ لکھتی ہوں مگر زیر تبصرہ ڈرامے کی بات ذرا مختلف ہے۔ اس کی پہلی اس ڈرامے کے رائٹر فصیح باری خان ہیں جنہوں نے پاکستان کے ٹی وی ناظرین کو ”قدوسی صاحب کی بیوہ“ جیسا ڈرامہ لکھ کے ایک مختلف پہلو سے متعارف کروایا۔ دوسری وجہ ڈرامے کا موضوع ہے۔ اس ڈرامے میں گھر سے باہر نکل کر کام کرنے والی لڑکیوں کی مشکلات کو موضوع بنایا گیا ہے ( سامعہ کے ذریعے ) تو دوسری طرف یہ بھی بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر لڑکی کو سازگار ماحول ملے تو وہ لڑکوں سے بہتر ذہانت کا مظاہرہ کر سکتی ہے ( تاشی کے ذریعے ) ۔ ڈرامے پہ یوں تو بہت سے ناقدین کی رائے پڑھنے کو ملی وہاں سب لوگوں نے ایک اہم کردار کو تقریباً نظر انداز کر دیا ہے اور وہ اہم کردار ہے ”انوار صاحب“ یعنی سامعہ کے والد کا۔

انوار صاحب جو کہ ایک شریف النفس آ دمی ہیں کسی سرکاری محکمے سے ریٹائرمنٹ کے بعد گھر میں عاجزی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ تین بیٹیوں کے اس باپ کے پاس بیٹا نہیں اور گھر میں ساتھ ایک بیوہ بہن بھی رہ رہی ہے۔ شروع کی قسطوں میں ہی دیکھا جاسکتا ہے کہ اپنی سب سے بڑی بیٹی کی گھر سے بلا اجازت شادی پر وہ زیادہ شدید ردعمل کا مظاہرہ نہیں کرتے بلکہ معاملے کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ ان کی بیوی فریدہ اس بات کو زیادہ شدت سے محسوس کرتی ہیں کہ بیٹی نے بلا اجازت شادی کرلی۔

اس سے اگلے مرحلے میں جب ان کی بیوی کا سامنا اپنے لڑکپن کے منگیتر ”ناہید“ سے ہوتا ہے تو شدید سٹپٹا جاتی ہیں اور بڑی مشکل سے انوار صاحب کو وضاحت پیش کرتی ہیں وہ اس مرحلے پر بھی اپنی بیوی کا اخلاقی سہارا بنتے ہیں اور اسے کہتے ہیں کہ وہ اس کا ماضی ہے اور بہتر ہے کہ وہ اس بات کو بھول جائے۔

تیسرے مرحلے میں جب سامعہ ایک بڑی عمر کے آدمی ”خلیل“ کے ساتھ شادی کے لیے مجبور کردی جاتی ہے تب بھی وہ اس معاملے میں بہت باشعور فرد کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بیٹی کو کسی قسم کا دوش نہیں دیتے۔ دوسری طرف ان کی اپنی چھوٹی بیٹی تاشی کے ساتھ دوستی بھی قابل تعریف ہے۔ بچی جب کراٹے سیکھنے کی خواہش کا اظہار کرتی ہے تو انوار صاحب کی بیوی اور آپا اس کے اس فیصلے کی مخالفت کرتی ہیں مگر انوار صاحب بچی کا ساتھ دیتے ہیں۔ جب سامعہ تیسری بار بشارت کے ساتھ شادی کرتی اور طلاق لے کر واپس آتی ہے تب انوار صاحب کا سب سے خوبصورت روپ سامنے آ تا ہے۔ جہاں ان کی بیوی بڑی بیٹی کی پے در پے شادیوں اور ان کی ناکامیوں پر شدید طیش میں آ کر بیٹی کو خوب سناتی ہیں وہاں وہ بیوی کو پیار سے سمجھاتے ہیں کہ بیٹی کو اس وقت اس کے غصے کی نہیں بلکہ شدید محبت اور توجہ کی ضرورت ہے۔ وہ سین تو کمال ہے جب وہ گملے میں اگے پودے کو پانی دیتی اپنی بیوی سے کہتے ہیں کہ

”ان پودوں کا تو تمہیں بہت خیال ہے مگر اس پودے کا نہیں جو دن بہ دن مرجھا رہا ہے اور جسے سب زیادہ تمہاری توجہ کی ضرورت ہے“

دوسری طرف وہ اپنی بڑی عمر کی بیوہ بہن کی مصروفیات (ٹک ٹاک ویڈیوز وغیرہ) اور ان کے شادی کے فیصلے پر بھی خوش ہیں اور ان کا ساتھ دیتے ہیں یہ الگ بات کہ وہ شادی ہو نہیں پاتی۔

اور آخری بات کہ جب ہمسائی انوار صاحب پہ دوسری شادی کے لیے ڈورے ڈالتی ہے اور بڑی جذباتی ہو کر کہتی ہے کہ

”اب تنہائی بہت کاٹنے لگی ہے انوار“ تو وہ اس طرح بے تکلفی سے اپنا نام لینے پر اسے فوراً جھڑک دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ

”خاتون آپ مجھے انوار صاحب کہیں یا انوار بھائی۔ یہ صرف ’انوار‘ کہنے کا حق صرف میری بیوی کو ہے۔
بیوی کے لیے محبت اور اعتماد کی خو نے دل جیت لیا۔

سامعہ کے چوتھی بار شادی کے فیصلے پر انوار صاحب کا اسے سمجھانے کا انداز بہت عمدہ تھا یہی وجہ ہے کہ ڈرامے کے بالکل آخر میں سامعہ ان کا خصوصی شکریہ ادا کرتی ہے۔

انوار صاحب کا کردار ایک بہترین، بھائی، شوہر اور باپ کا کردار ہے۔ انہیں دیکھ دیکھ کر مجھے اپنے دادا استاد ڈاکٹر انوار احمد خوب یاد آتے رہے کہ میں اکثر کہتی ہوں
”بہن اور بیٹیوں سے محبت کرنا کوئی سر انوار احمد سے سیکھے“ ۔

اتفاقاً ان کے ہم نام اس کردار کو میں نے بہت سراہا ہے۔ ایسے ہی باپ ہوتے ہیں جن کی بیٹیاں سامعہ کی طرح بہادر، اثمارہ کی طرح سمجھدار اور تاشی کی طرح ذہین بزنس وومن بنتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •