منو بھائی کی یادیں اور باتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

منو بھائی کے ساتھ پنجابی تہذیب کا عہد زریں بھی تمام ہوا۔ منو بھائی شاعر تھے، قلم کار تھے، دانشور طرح دار تھے لیکن مجھ جیسے بہت سوں کے لئے تو شجر سایہ دار تھے۔ اردو ادب و صحافت کا عہد زریں تمام ہوا، درویش صفت منیر قریشی پردہ فرما گئے لیکن ہر دل عزیز منو بھائی تو اپنے کالموں، نظموں اور غزلوں میں تا ابد زندہ رہیں گے۔

عہد جوانی میں رفتگاں کی یادوں پر مشتمل ان کا مجموعہ ’جنگل اداس ہے‘ شائع ہوا، نہ جانے کیسے بے اختیار سوچا اگر ایسا کالم مجھے نصیب ہو جائے تو موت سستا سودا ہے، منو بھائی سے اس کالم نگار کے دو طرح کے تعلق تھے، ایک ہم پیشہ شاگرد کا اور دوسرا خاندانی مراسم کا سلسلہ جو سات دہائیوں پر محیط تھا کہ میرے ابا جی کے خالہ زاد بھائی محمد یٰسین اور منو بھائی مدتوں پہلے راولپنڈی کے مختلف اخبارات میں اکٹھے کام کر چکے تھے۔ صحیح معنوں میں روشن خیال اور انسان دوست منو بھائی بڑے دھیمے مزاج کے کم گو اور سہل پسند قلم کار تھے۔

پرائے پھڈوں میں ٹانگ نہیں اڑاتے تھے لیکن اس عاجز کے لئے میدان میں اترنے میں ذرا تامل نہ کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب انہیں انکل یٰسین کے حوالے علم ہوا تو پیشہ ورانہ تعلقات چشم زدن میں گہرے خاندانی مراسم میں بدل گئے، خدا گواہ ہے تمام تر نظریاتی بعد کے باوجود انہوں نے ایسے دل آویز طریقے سے تعلقات کو نبھایا کہ من و تو کا فرق مٹ گیا، سید والا تبار سید عباس اطہر، اپنے پیارے شاہ جی کی زندگی تک تو لاہور کا ماہانہ چکر معمول تھا۔ منو بھائی اصرار کر کے صبح ناشتے پر بلاتے اور اماں کے ہاتھ کے قیمے اور آلو بھرے پراٹھے کھلاتے۔

منو بھائی پنجابی دانش میں گندھی مقامی تہذیب و تمدن کی روشن علامت تھے۔ یہ اتفاقات زمانہ کا کھیل تھا کہ یہ کالم نگار کامل 12 برس ان کے گروپ میں کام کرتا رہا، جب کبھی کوئی تحقیقاتی خبر دیتا تو منو بھائی اس پر کالم لکھتے اور اپنے مزاج سے ہٹ کر اس عاجز کی بڑھ چڑھ کر ستائش کرتے، پھر ایسے بھی ہوا کہ ایک ماہ میں لگاتار کئی بار میری دی ہوئی خبروں پر اپنے کالموں میں تبصرہ کرتے رہے اور مجھے ’جنگل اداس ہے‘ کی اشاعت پر پیدا ہونے والی خواہشات یاد آتیں، میرا سر سجدہ شکر سے جھک جاتا۔

منو بھائی اس قدر معصوم تھے اور اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے تھے، ایک بار عین کھانے کے وقت مجھے ہنگامی صورتحال میں کہیں جانا پڑا تو میں نے انہیں این این آئی نیوز ایجنسی کے بانی مدیر جنت مکانی حافظ عبدالخالق کے سپرد کیا کہ میری واپسی تک ان کی خاطر تواضع کریں۔ حافظ نے ڈٹ کر ان کی تواضع کی اور دوران گفتگو انہیں انٹرنیٹ نامی ایک نئی ایجاد کے بارے میں بتاتے رہے۔ واپسی پر منو بھائی نے فرمایا حافظ بندہ شاندار اے، کھانا بھی بڑا اعلیٰ تھا لیکن اس نے میرے گلے انٹرنیٹ کا سانپ ڈالے رکھا۔ ان کا اکلوتا بیٹا کاشف منیر ہمارا پیارا ’کاشی‘ طویل عرصہ بیمار رہا۔ منو بھائی بڑی خندہ پیشانی سے اس آزمائش سے گزرے۔

88 سے شروع ہونے والے جمہوری اور سیاسی ادوار میں ان کے پاس بھی کلاس بدلنے اور دولت کے انبار اکٹھے کرنے کے وافر مواقع موجود تھے لیکن انہوں نے ان دنیاوی ترغیبات کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا بلکہ ’احتساب دے چیف کمشنر صاحب بہادر‘ نامی نظم لکھ کر احتساب الرحمن خان کو چتاؤنی دیتے رہے جبکہ ہمارے دائیں بازو کے بعض امام بہتی گنگا میں صرف دونوں ہاتھ نہیں دھو رہے تھے بلکہ اشنان کر رہے تھے۔

منو بھائی مجھے پرسکون گھریلو زندگی کے ٹوٹکے بتاتے، عملی زندگی کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتے۔ اسلام آباد ہجرت کی تو اپنی بیٹی رفعت آپا کو نگران بنا دیا اور ہم مدتوں دوپہر کو ان کے دفتر میں پرتکلف ظہرانے اڑاتے رہے۔

مرحوم اظہر سہیل سے ہونے والے تنازعے میں شاہ جی کے ساتھ منو بھائی شجر سایہ دار بن کر میرے سر پر سایہ فگن رہے۔ لاہور میں 6 ماہ زیر زمین رہنا کوئی آسان نہیں، جان جوکھوں کا مرحلہ تھا لیکن منو بھائی کی محبتوں نے اسے کھیل تماشا بنا دیا تھا۔ دنیاداری کے دھندے زندگی کے کھیل کا جزو لازم ہیں لیکن منو بھائی نے فقر اور استغنا کی وہ مثالیں قائم کیں کہ زمانہ شرما گیا۔ 70 کی دہائی کے وسط میں ریواز گارڈن میں گھر بنایا اور تادم آخر اسے مکمل نہ کروا سکے، بغیر پلستر اور رنگ و روغن اسی میں زندگی گزار دی۔

یادوں کی یلغار کا سامنا ہے سب کچھ بھول رہا ہوں۔ جب کبھی کوئی انہیں یاد دلاتا کہ اسلم خاں تو فنڈامنٹلسٹ ہے، جماعتیا (متاثرین فکر سید ابوالاعلیٰ مودودی) ہے تو منو بھائی بڑی دھیرج سے مسکراتے ہوئے وضاحت کیا کرتے تھے یہ فنڈامنٹلسٹ نہیں ہمارا ”پھڈامنٹلسٹ“ ہے، جب بی بی بے نظیر کے دوسرے دور حکومت میں اپنے کیے دھرے کی وجہ سے اس کالم نگار کو زیر زمین روپوش ہونا پڑا تو دھیمے مزاج کے منو بھائی بی بی بے نظیر اور زرداری کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے اور عبداللہ ملک جیسے مارکسی دانشور اس بنیاد پرست کی حمایت میں سولو جلوس نکالنے پر تل گئے تھے۔

کیا دیوقامت لوگ تھے وہ، اب عالم یہ ہے کہ ہم رہ گئے، ہمارا زمانہ گزر گیا۔ تا دم آخر فخر رہے گا کہ ہم منو بھائی کے عہد میں جئے، ہم نے عبداللہ ملک کا دور دیکھا اور شاہ جی کے ساتھ تو آخری سانس تک ساتھ رہا۔ بونوں کے اس دور میں یہ تصور کرنا ناممکن ہے کہ جنت مکانی مجید نظامی کا پیروکار، پاکستان کا سبز ہلالی پرچم سربلند کیے ان سیکولر بزرگوں کا مقرب خصوصی کیسے بن گیا۔

پس تحریر : منو بھائی کی تیسری برسی پر دل گداز یادوں کی کہکشاں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلم خان

محمد اسلم خاں گذشتہ تین دہائیوں سے عملی صحافت کے مختلف شعبوں سے منسلک رہے ہیں اب مدتوں سے کالم نگار ی کر رہے ہیں تحقیقاتی ربورٹنگ اور نیوز روم میں جناب عباس اطہر (شاہ جی) سے تلمیذ کیا

aslam-khan has 31 posts and counting.See all posts by aslam-khan