کچھ Non offensive مزاح کے بارے میں (مکمل کالم)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گاؤں کے چودھری کی شادی تھی، مراثی کو بھی دعوت ملی، وہ خوش خوش پہنچ گیا کہ گوشت کھانے کو ملے گا مگر جب کھانا پیش کیا گیا تو مراثی کے حصے میں فقط شوربہ ہی آیا، بوٹی نہ ملی۔ مراثی نے پھر سالن مانگا تو دوبارہ اس کی پلیٹ شوربے سے بھر دی گئی، دو تین مرتبہ جب ایسا ہی ہوا تو مراثی نے سالن کی پلیٹ پرے رکھی اور چودھری کے بیٹے کو آواز دے کر کہا ”پتر، ذرا ٹوتھ پک دینا میرے دانتوں میں شوربہ پھنس گیا ہے۔“ یہ لطیفہ ’ایجاد‘ کرنے کے بعد میں آپ سے داد طلب کرنے ہی والا تھا کہ اچانک خیال آیا کہ اس لطیفے میں لفظ ’مراثی‘ کچھ مناسب نہیں، اس سے تحقیر کا پہلو نکلتا ہے اور یہ بات کسی حد تک اہانت آمیز (offensive) بھی ہے لہذا فی زمانہ اس لطیفے کے جملہ حقوق اپنے نام کروانے سے بہتر ہے کہ اس سے اعلان لا تعلقی کر دیا جائے۔

ایک اور لطیفہ ذہن میں آیا ہے۔ سردار جی سے کسی نے پوچھا کہ سکھوں کے بارے میں اندازہً کتنے لطیفے مشہور ہوں گے؟ سردار جی نے سوچ کر جواب دیا ”یہی کوئی دس پندرہ۔“ پوچھنے والے نے کہا ”سردار جی، کمال کرتے ہیں آپ، سکھوں کے تو سینکڑوں لطیفے مشہور ہیں۔“ اس پر سردار جی نے اطمینان سے بولے ”یار، لطیفے دس پندرہ ہی ہیں، باقی تو سچے واقعات ہیں!“ یہ لطیفہ میں نے کئی مرتبہ سنا ہے مگر ہمیشہ نیا لطف دیتا ہے۔ تاہم آج یہ لطیفہ بھی مجھے سکھ برادری کے حوالے سے کچھ تضحیک آمیز لگا، جدید دور میں ایسے مزاح کو اچھا نہیں سمجھا جاتا جس میں کسی مذہب یا قوم کو نشانہ بنا کر مزاح پیدا کرنے کی کوشش کی جائے سو اس قسم کے لطیفوں کو بھی میں نے اپنی ڈکشنری سے خارج کر دیا ہے۔

اب آخری لطیفہ سن لیں۔ دو دوست بار میں بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے۔ پہلے نے دوسرے سے کہا کہ ”کل کسی اچکے نے میرا کریڈٹ کارڈ چوری کر لیا۔“ دوسرے نے پوچھا ”پھر کیا تم نے پولیس میں رپورٹ درج کروائی؟“ پہلے دوست نے جواب دیا ”نہیں، کیونکہ جتنے پیسے چور کریڈٹ کارڈ سے خرچ کر رہا ہے، میری بیوی اس سے زیادہ کرتی تھی!“ اس لطیفے سے عورتوں کی تضحیک کا کچھ نہ کچھ پہلو نکلتا ہے، تحریک نسواں کی خواتین اس کے خلاف نعرے بنا سکتی ہیں اور کوئی انتہا پسند خاتون اسے sexist کے کھاتے میں بھی ڈال سکتی ہے۔

مزاح لکھنا اب پہلے سے کہیں زیادہ مشکل کام ہو گیا ہے، ہر دم یہ خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کہیں کوئی اہانت آمیز جملہ قلم سے نہ نکل جائے، مزاحیہ تحریر سے کسی قوم یا ذات کی دل آزاری نہ ہو جائے یا خواتین کے بارے میں ایسی کوئی بات نہ لکھ دی جائے جو انہیں offensive یا sexist لگے۔ مگر پھر خیال آتا ہے کہ مزاح تو تخلیق ہی نا ہمواری کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ یہ بات ڈاکٹر وزیر آغا نے اپنے مضمون ”اردو ادب میں طنز و مزاح“ میں لکھی تھی۔ مطلب یہ کہ سیدھی سادھی بات سے مزاح پیدا نہیں ہو سکتا، مزاح اسی صورت میں پیدا ہوگا جب کسی بے معنی صورتحال کی تصویر کشی کی جائے گی یا کسی شخص کی عادات و خصائل کو مبالغہ آمیز انداز میں بیان کیا جائے گا۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ مزاح پیدا کرتے وقت اپاہج لوگوں کی معذوری کو نشانہ بنایا جائے، خواجہ سراؤں کی کمزوری کی تضحیک کی جائے یا معاشرے کے کسی کمزور طبقے (خواتین، اقلیتوں وغیرہ ) پر جملے کس کے انہیں مشق ستم بنایا جائے۔

اسی طرح رنگ، نسل، جنس یا قومیت کی بنیاد پر مذاق کا نشانہ بنانے کو بھی آج کل کے جدید دور میں اچھا نہیں سمجھا جاتا اور مزاح نگاروں سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ان باتوں سے بالا تر ہو کر اعلی ٰ قسم کا مزاح تخلیق کریں گے۔ ایک ستم ظریف کا خیال ہے کہ ایسی کڑی شرائط کے بعد پھر اس قسم کے لطیفے ہی بچیں گے کہ: استاد، شاگرد سے، بتاؤ توانائی کسے کہتے ہیں؟ شاگرد، جس توے پر نائی بیٹھا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ کل کلاں کسی نائی کو یہ لطیفہ بھی برا لگ جائے۔ ویسے بھی لفظ ’نائی‘ شاید تضحیک آمیز ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا کوئی لطیفہ یا جملہ ہو سکتا ہے جس میں کسی عورت کے بارے میں مذاق ہو اور خواتین کو وہ offensive نہ لگے؟ اس سوال کے جواب میں یار لوگ مجھے کچھ مغربی ٹی وی شو تجویز کرتے ہیں جن میں کمال مہارت سے ایسا مزاح تخلیق کیا گیا ہے جس میں عورتوں پر جملے بازی بھی ہے اور وہ اہانت آمیز بھی نہیں لگ رہا۔ خواتین کے بارے میں مزاح کو اگر ہم کسی سخت گیر feminist کے نقطہ نظر سے پرکھیں گے تو پھر ہمیں اردو کے سب سے بڑے مزاح نگار مشتاق یوسفی کے کئی جملے ان کی کتابوں سے حذف کرنے پڑیں گے۔ مثلاً ’خاکم بدہن‘ کے ایک مضمون ’صنف لاغر‘ میں یوسفی صاحب لکھتے ہیں : ”یہ اور بات ہے کہ 24 کے سن میں جو خاتون 8 کا ہندسہ نظر آتی ہیں، وہ 42 سال کی عمر میں دو چشمی ھ بن جائیں۔ ہر سمجھدار عورت کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اپنی چربی کی دبیز تہوں کے خول کو سانپ کی کینچلی کی طرح اتار کر اپنی عزیز سہیلیوں کو پہنا دے۔ عقد ناگہانی کے بعد کہ جس سے کسی کو مفر نہیں، ہر لڑکی کا بیشتر وقت اپنے وزن اور شوہر سے جنگ کرنے میں گزرتا ہے۔ ہماری رائے میں کسی پڑھی لکھی عورت کے لیے اس سے سخت اور کون سی سزا ہو سکتی ہے کہ اسے چالیس دن تک اس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھلایا جائے۔ تاریخ شاہد ہے کہ آج تک کسی موٹی عورت کی وجہ سے کوئی جنگ نہیں ہوئی۔“ اگر یہ جملے یوسفی صاحب کے نہ ہوتے تو میں کبھی لکھنے کی جرات نہ کرتا۔ مدعا فقط اتنا ہے کہ خواتین کے باب میں مزاح پیدا کرنے کی یہ ’سہولت‘ آج کے زمانے کے مزاح نگار کو میسر نہیں رہی کیونکہ اب یہ مزاح offensive اور sexist کی ذیل میں آتا ہے، یوسفی صاحب کا احترام اپنی جگہ مگر یہ جملے آج کے دور کے مطابق offensive ہی سمجھے جائیں گے۔ تاہم آج اگر یوسفی صاحب زندہ ہوتے تو اپنی زباندانی اور مہارت سے یقیناً اسی کڑے معیار کا مزاح تخلیق کرتے جو قہقہہ لگانے پر مجبور تو کرتا مگر offensive نہ ہوتا۔

میری رائے میں ایک صحت مند معاشرے میں اتنی برداشت ہونی چاہیے کہ لوگ ایک دوسرے پر ہنس سکیں اور اپنے بارے میں لطیفے سن کر قہقہہ لگا سکیں۔ مغرب میں مختلف قومیتوں پر لطیفے بنائے جاتے ہیں، بلونڈ عورتوں کے لطیفوں سے کتابیں بھری پڑی ہیں، انگریزوں نے آئرش قوم کے بارے میں اسی طرح لطیفے گھڑے ہیں جیسے ہم نے سکھوں کے بارے، مگر وہاں اسے برداشت کیا جاتا ہے۔

اس پورے معاملے میں اصول ایک ہی ہے کہ معاشرے کے پسے ہوئے اور مظلوم طبقات کو تضحیک کا نشانہ بنانا مزاح نگاری نہیں۔ معذوروں، خواجہ سراؤں یا حسن کے ایک مخصوص معیار پر پورا نہ اترنے والی خواتین یا مرد حضرات کو ان کی کسی جسمانی کمزوری یا کجی کی بنیاد پر مذاق کرنا یا اپنے طبقے کے زور پر خود کو برتر سمجھتے ہوئے کسی پر جملے کسنا صریحاً ناقابل قبول اور قابل مذمت بات ہے۔ اس کی بجائے معاشرے کے طاقت ور طبقے پر طنز کرنا اور اسے اپنے قلم کے نشتر چبھو کر زچ کرنا بہادری کا کام ہے۔ کنولی ریستوران کی مالکان نے اپنے ملازم کے ساتھ مزاح پیدا کرنے کی غرض سے جو گفتگو کی وہ کہیں سے بھی مزاحیہ نہیں بلکہ توہین آمیز تھی، انگریزی میں اسے class humour کہتے ہیں جس کی کوئی گنجایش نہیں، اس ریستوران میں اگر کوئی جعلی قسم کا گورا آ جاتا تو ان بہنوں نے اس کے آگے بچھ بچھ جانا تھا۔ اور اب منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے ایک تازہ اور non offensive لطیفہ پیش ہے۔ کسی نے فیس بک پر سوال پوسٹ کیا کہ اگر پہلے زمانے کا انسان ارتقائی عمل کے نتیجے میں بندر سے انسان بنا تھا تو آج کل کے بندر کیوں انسان نہیں بن رہے؟ ”ایک ستم ظریف نے جواب میں لکھا“ ہن او خوراکاں ای نہیں رہئیاں (اب وہ خوراک ہی نہیں رہی)۔ ”ممکن ہے کسی بندر کے لیے یہ جملہ بھی offensive ہو!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 172 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada