ایم آر ڈی شیطانی ٹولہ نہیں، قومی تاریخ کا روشن باب تھی



آج کا مضمون لکھنے کی تحریک موجودہ حکومت کے شہری ہوا بازی کے وزیر کے اس بیان سے ملی۔ جس میں انہوں نے عمران خان کی موجودہ حکومت کے لیے چیلنج بننے والے حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم کو ہدف تنقید بناتے ہوئے سابق دور آمریت میں بننے والے اتحاد ایم آر ڈی کو بھی نشانے پر لیا ہے اور اسے شیطانوں کے ٹولے سے تشبیہ دی ہے۔

جہاں تک میری یادداشت کا تعلق ہے۔ شاید یہ  فروری 1981ء کی بات ہے۔ ضیا آمریت اپنے فوجی غیظ و غضب کے ساتھ ملک پر مسلط تھی۔ افغانستان میں روسی افواج کی مداخلت کی وجہ سے عالمی سامراجی قوتیں اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے متحد تھیں اور دو عالمی طاقتوں کے درمیان برسوں سے چلی آ رہی سرد جنگ، گرم جنگ میں تبدیل ہو سکتی تھی۔ ایسے میں تیسری دنیا کے ممالک خاص طور پر پاکستان میں آمریت کو ان ممالک کی جانب سے مکمل تحفظ اور امداد فراہم کی جا رہی تھی، جنہوں نے دنیا میں جمہوری عمل کی پاسداری کا علم اٹھا رکھا ہے۔

اس مضمون میں دیگر اور بہت سے معاملات کے علاوہ مذکورہ وزیر موصوف کو یہ باور کرانا بھی ضروری ہے کہ ایم آر ڈی اور پی ڈی ایم کی تحریک ایک جیسی نہیں تھی بلکہ ان میں نمایاں فرق تھا۔ ایم آر ڈی پڑھے لکھے باشعور سیاسی کارکنوں کی وہ تحریک تھی جو وطن عزیز میں حقیقی جمہوری روایات کا احیا چاہتے تھے۔ ان میں اکثریت اپر مڈل کلاس و لوئر مڈل کلاس اور نچلے طبقوں کی نمائندگی کرنے والے ان کارکنوں کی تھی، جنہوں نے سیاست کے نشیب و فراز دیکھے تھے اور عملی جدوجہد پر یقین رکھتے تھے۔

پاکستان کے اس وقت کے باوردی مرد مومن اپنے مخالفین خاص طور پر پیپلز پارٹی اور ایم آر ڈی کے سیاسی کارکنوں کو جیلوں اور شاہی قلعہ کے عقوبت خانوں میں تشدد اور ظلم و جبر کا نشانہ بنا رہے تھے۔ کوڑے، قیدیں، پھانسیاں، زبان بندیاں اور نہ جانے کیا کچھ سیاسی فکر و آگہی رکھنے والوں کو برداشت کرنا پڑتا تھا۔ سیاسی جماعتیں مارشل لا کے نفاذ کی وجہ سے کالعدم حیثیت اختیار کر چکی تھیں۔ اخبارات و جرائد پر سنسرشپ کی کڑی قدغنیں تھیں۔ سیاست پر بات کرنا جرم تصور کیا جاتا تھا اور مجھے یاد ہے کہ شہروں کے اکثر چھوٹے بڑے قہوہ خانوں پر ایک تختی لٹک رہی ہوتی تھی، جس پر لکھا ہوتا کہ سیاسی گفتگو کرنا منع ہے۔ زیادہ تر سیاسی جماعتوں کے بڑے اور چھوٹے رہنما جیلوں میں قید تھے یا پھر گھروں میں نظر بندی کے احکامات کی وجہ سے کارکنوں سے رابطے میں نہ تھے۔ بہت سے انڈر گراؤنڈ چھپ کر زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ ملنے جلنے پر پابندی تھی اور مارشل لائی قانون پوری طرح قوم پر مسلط کر دیے گئے تھے۔

عدالتوں کے اختیارات محدود، شہری حقوق ضبط، 1973 کا آئین مفلوج، صحافی، وکلاء، طالب علم اور سول سوسائٹی کے پڑھے لکھے لوگ دھمکا کے بٹھا دیے گئے تھے۔ ان نازک حالات میں ایم آر ڈی یا تحریک بحالی جمہوریت کی جدوجہد کا آغاز ہوا۔ سیاسی پابندیوں میں اس تحریک کا شروع ہونا جب ہر طرف بظاہر اندھیرے اور جبر کی فضا طاری تھی۔ ان حالات میں بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شاید نظربندی سے تھوڑی دیر کے لیے رہا ہوئیں اور کچھ سیاسی لیڈروں جن نوابزادہ نصراللہ خان، میر غوث بخش بزنجو، اصغر خان، ولی خان، ملک قاسم، خواجہ خیر الدین، فتح یاب علی خان، معراج محمد خان، مولانا فضل الرحمن وغیرہ نے نصرت بھٹو سے ملاقات کی اور سیاسی محاذ پر ہونے والی زیادتیوں کا ذکر ہوا اور زیڈ اے بھٹو کی پھانسی کی مذمت کی گئی۔ بیگم نصرت بھٹو نے بڑے پن کا مظاہرہ کیا اور بھٹو کے بدترین دشمنوں کے ساتھ تحریک بحالی جمہوریت کی بنیاد رکھی۔

یہ اتحاد تقریباً آٹھ سال تک کامیابی سے چلتا رہا۔ کئی دفعہ سیاسی جماعتوں میں آپس کے اختلافات ہوتے رہے لیکن مجموعی طور پر اس اتحاد نے عوام میں سیاسی شعور پھیلانے اور جمہوری جدوجہد کو آگے لے جانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایم آر ڈی کے شدید پریشر کی وجہ سے ضیاء الحق کو کئی دفعہ مغربی ملکوں کے دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ایم آر ڈی کی بحالی جمہوریت کی تحریک کی وجہ سے 1985ء کے غیر جماعتی الیکشن منعقد ہو سکے۔ جن کا ایم آر ڈی نے بائیکاٹ کر دیا اور اس الیکشن کے نتیجے میں ایک نئی خاندانی اور بورژوا سیاسی کلاس پیدا ہوئی، جو سیاسی شعور اور عقل و فکر میں شاید اتنی سمجھ بوجھ کی حامل نہ تھی، ہاں البتہ لوٹ مار، کرپشن اور مافیا کی نمائندگی کی دعویدار بن کر سامنے آئی۔ جو آج بہت حد تک پی ڈی ایم کی شکل میں دیکھی جا سکتی ہے۔

ایم آر ڈی کی کامیابیوں اور ناکامیوں سے قطع نظر اگر دیکھا جائے تو 1983 میں پورے ملک میں جس طرح اس کے کارکنوں نے خود کو گرفتاریوں کے لیے پیش کیا اور مارشل لاء میں فوجی آمر کو للکارا۔ یہ ایک عظیم کارنامہ تھا،  خاص طور اندرون سندھ کے اضلاع بدین، ٹھٹہ، نواب شاہ، ٹنڈو آدم، لاڑکانہ اور سکھر میں اس تحریک نے اس قدر زور پکڑا کہ اس وقت کے حکمران ششدر رہ گئے۔ ہیلی کاپٹروں سے عوام کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی گئی، سینکڑوں لوگوں نے سندھ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔

اس کے علاوہ پنجاب میں ہونے والے جلسے جو لاہور، فیصل آباد، ملتان اور راولپنڈی میں منعقد ہوئے۔ وہ بھی عوامی پذیرائی سے بھر پور تھے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں آج پی ڈی ایم کی قیادت کا جائزہ لیں جو کسی اعلیٰ و ارفعٰ مقاصد کے لیے سڑکوں پر نہیں ہے اور جمہوریت کی بحالی سے زیادہ اپنی لوٹ مار اور کرپشن کی بحالی کے لیے فعال نظر آتی ہے اور ایم آر ڈی کی اس وقت کی قیادت کے سامنے اس اعلیٰ اخلاقی معیار پر کھڑی نظر نہیں آتی جو ان کی سیاست کا طرہ امتیاز تھا۔ یہی آج کی سیاست کا المیہ ہے۔ آج نہ وہ لوگ رہے ہیں اور نہ ہی وہ سیاسی اقدار جن کو بنیاد بنا کر قوم کے افراد ان حکمران طبقوں کی پیروی کر سکے جو پاکستان کی سیاست کا محور رہے ہیں۔

آج اگر ایمان داری سے پورے سیاسی ماحول اور موجودہ سیاسی کرداروں کا جائزہ لیا جائے تو ہر طرف بددیانتی، ناجائز دولت اور کرپشن کی کہانیاں زبان زد عام ہیں۔ جس قوم کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا کہ آج بھی اس قوم کے افراد یہ ماننے سے انکاری ہیں کہ ان کے ساتھ حقیقت میں دھوکہ اور فریب سے کام نہیں لیا گیا ہے۔ کیا شریفوں سے زرداریوں تک؟ کیا ایون فیلڈ کی پراپرٹیوں سے سرے محل کی پراپرٹیوں تک؟ کیا قطری خطوں سے لے کر اقاموں تک؟کیا خواجہ برادران سے لے کر کھوکھر برادران تک؟ کیا طلالوں سے دانیالوں تک؟ کیا آٹا مافیا سے لے کر چینی مافیا کی لوٹ مار تک؟ ڈیزلوں کے ٹھیکوں سے لے کر کشمیر کمیٹی تک؟ پینے کے صاف پانی کے منصوبوں سے لے کر غیر ممالک کے بینکوں میں ناجائز دولت کی منتقلی تک؟ کیا یہ سب مصنوعی اور خود سے گھڑی ہوئی کہانیاں ہیں؟ کیا ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں؟

یہ سب کچھ قوم بھی سوچے! اور شہری ہوا بازی کے وزیر بھی ایم آر ڈی کو شیطانی درجہ دینے سے پہلے اپنی تاریخ درست فرما لیں۔

Facebook Comments HS