نمبر ون گلوکارہ نیہا کاکڑ کی کہانی


غریب شخص کی بیٹی بھارت کی نمبر ون گلوکارہ کیسے بنی؟

آج کی موٹیویشنل کہانی ایک ایسی لڑکی کے بارے میں ہے جس نے ناممکن کو ممکن کر دیا۔ ایک ایسی لڑکی جو اس وقت ہندوستان میں نمبر ون گلوکارہ ہیں۔ دنیا بھر میں اس لڑکی کے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑں مداح ہیں۔ ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب یہ لڑکی دو وقت کے کھانے کے لئے ترستی تھی۔ ان کے والد انتہائی غریب انسان تھے جو ایک اسکول کے باہر سموسے فروخت کرتے تھے۔ اب یہ لڑکی ہر مہینے کروڑوں روپے کماتی ہے اور عیش و عشرت کی زندگی گزار رہی ہے۔ جی ہے آج کی کہانی انڈیا کی نمبر ون گلوکارہ نیہا کاکڑ کے بارے میں ہے۔ آئیے نیہا کاکڑ کی زندگی کے سفر پر چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کیسے انہوں نے ناممکن کو ممکن کردکھایا۔

بھارتی ریاست اترا کھنڈ کے شہر رشی کیش میں چھ جون انیس سو اٹھاسی کے دن ایک غریب فیملی میں ایک بچی پیدا ہوئی۔ اس بچی کا نام نیہا کاکڑ رکھا گیا۔ بچپن میں جس اسکول میں نیہا کاکڑ تعلیم حاصل کرتی تھی اسی اسکول کے باہر ایک غریب انسان سموسے کی ریڑھی لگاتا تھا جہاں سے بچے سموسے خرید کر کھاتے تھے۔ یہ غریب سموسے بیچنے والا شخص نیہا کاکڑ کا باپ تھا۔ اسکول کے بچے نیہا کاکڑ کو یہ کہہ کر تنگ کرتے تھے کہ تمہارا باپ سموسے بیچتا ہے۔

یہ سن کر نیہا کاکڑ اسکول میں رو پڑتی تھی۔ رشی کیش میں نیہا کاکڑ کا کوئی گھر نہیں تھا۔ رشی کیش کے غریب علاقے میں ان کی فیملی نے کرائے پر ایک کمرہ لے رکھا تھا جہاں ساری فیملی رہتی تھی۔ نیہا کاکڑ کے دو بڑے بہن بھائی بھی ہیں جن میں سے ایک کا نام ٹونی کاکڑ ہے جو اس وقت بھارت کے معروف سنگر ہیں جبکہ بڑی بہن کا نام سونو کاکڑ ہیں۔ سموسے بیچنے والا غریب باپ مشکل سے گھر چلا پاتا تھا۔ اس فیملی کی زندگی میں ایسا وقت آتا ہی رہتا تھا جب دو وقت کا کھانا کھانا ہی مشکل ہوجاتا۔

نیہا کاکڑ کی بڑی بہن سونو نے باپ کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے بچپن میں گانا گانا شروع کر دیا۔ سونو جگراتوں اور امیر لوگوں کی شادیوں پر گانے گاتی تھی۔ اس طرح فیملی کا خرچہ بمشکل پورا ہوتا تھا۔ بہن کی دیکھا دیکھی نیہا کاکڑ نے بھی گانے گانے شروع کردیے۔ نیہا کاکڑ کے ساتھ ساتھ ان کے بھائی ٹونی بھی گانا گانے لگے۔ نیہا کاکڑ کی آواز بچپن ہی سے بہت سریلی تھی۔ پانچ سال کی عمر میں نیہا کاکڑ کو ایک سنگنگ رئیلٹی شو میں گانے کا موقع ملا۔

اس رئیلیٹی شو مین نیہا کاکڑ سب سے کم عمر تھی۔ وہ رئیلیٹی شو نیہا کاکڑ جیت گئی اور اس طرح نیہا اپنے شہر رشی کیش میں بہت پاپولر ہو گئی۔ سونو، نہا اور ٹونی سب بہن بھائی اب گاکر فیملی چلا رہے تھے۔ ایک دن فیملی نے فیصلہ کیا کہ وہ رشی کیش سے دلی شفٹ ہو جائیں گے۔ اس طرح یہ فیملی رشی کیش سے دلی شفٹ ہو گئی۔ دلی میں بھی یہی کام تھا۔ باپ اپنے تینوں بچوں کو پرانے موٹر سائیکل پر بٹھا کر جگ راتوں میں لے جاتے۔ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔ گھر کے بچے گا رہے تھے اور فیملی کا گزارا ہو رہا تھا۔ نیہا کاکڑ نے زندگی میں کبھی بھی موسیقی کی باقاعدہ تعلم حاصل نہیں کی ہے۔ نیہا کاکڑ کو موسیقی کی بنیادی تربیت ان کی بہن سونو نے دی اور سونو ہی نیہا کاکڑ کی استاد ہیں۔

نیہا کاکڑ نے اسکول تک تعلیم دلی کے نیو ہولی اسکول سے مکمل کی۔ دلی میں اب نیہا اور سونو کے لاکھوں مداح تھے۔ دلی میں ہر طرف نیہا اور سونو کی گائیکی کے چرچے تھے۔ دو ہزار تین میں سونو کو بالی ووڈ کی ایک فلم میں گانا گانے کا موقع ملا۔ اس گانے کے بول تھے، بابو جی دھیرے چلو۔ یہ نغمہ سپر ہٹ ثابت ہوا۔ دو ہزار چھ میں نیہا کاکڑ کو بھارت کے مشہور سنگنگ رئیلیٹی شو میں سلیکٹ کر لیا گیا۔ نیہا کاکڑ اس دور میں گیارویں کلاس میں پڑھ رہی تھی۔

جس وقت ان کی سلیکشن ہوئی اسی دور میں گیارویں کلاس کے امتحان ہو رہے تھے۔ نہیا نے پڑھائی چھوڑ دی اور انڈین آئیڈل شو کا حصہ بن گئی۔ انڈین آئیڈل شو سے جلد ہی وہ نکل گئی۔ سنگنگ رئیلٹی شو سے باہر ہونے کے صدمے نے نیہا کاکڑ کو توڑ کر رکھ دیا۔ وہ ڈپریشن کا شکار ہو گئی۔ اب وہ روتی رہتی تھی اور ہر وقت پریشان رہتی تھی۔ شو کے لئے نیہا کاکڑ نے تعلیم چھوڑ دی تھی اس کا بھی انہیں افسوس تھا۔ کچھ عرصہ پریشان رہنے کے بعد نیہا کاکڑ نے ٹھان لی کہ اب وہ بھارت کی نمبر ون سنگر بن کر دکھائیں گی۔

نیہا کاکڑ نے اب موسیقی پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینا شروع کردی۔ موسیقی ہی نام پیدا کرنا اب ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ اسی زمانے میں بھارت کے معروف میوزیشن پریتم دا نے نیہا کاکڑ کی آواز سنی تو حیران رہ گئے۔ انہوں نے نیہا کاکڑ سے رابطہ کیا اور انہیں اپنی ایک فلم میں گانے کا موقع دیا۔ فلم کا نام تھا، آ دیکھو زرا، اور گانے کے بول تھے غضب ہوئے راما۔ گانا رکارڈ ہو گیا لیکن فلم کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر نے کہا کہ نیہا کاکڑ کی آواز گانے کے ساتھ میچ نہیں کر رہی۔

اسی لئے یہ گانا اس وقت کی مشہور گلوکارہ سونیدی سے گوایا گیا۔ نیہا کاکڑ کے لئے بہت بڑا دھچکا تھا۔ وہ پریشان ہوئی لیکن جلد ہی سنبھل گئی اور سال دو ہزار آٹھ میں اپنا البم ریلیز کر دیا۔ اس البم کا نام تھا نیہا دی راک اسٹار۔ یہ البم سپر ہٹ ثابت ہوا۔ شائقین کو نیہا کاکڑ کی گائیکی پسند آ رہی تھی۔ اب بالی ووڈ کے موسیقاروں نے نیہا کاکڑ سے کچھ گانے رکارڈ کرائے لیکن پھر کہا گیا کہ ان کی آواز فلموں کے لئے فٹ نہیں وہی، گانے اب کسی دوسری گلوکارہ سے گوائے گئے۔

نیہا کاکڑ کے لئے یہ تکلیف دہ وقت تھا۔ بالی ووڈ کی فلموں کے میکرز نیہا کاکڑ کے گانوں کو پسند نہیں کرتے تھے اور یہی بات نیہا کاکڑ کے لئے تکلیف دہ تھی۔ ان سب مسائل کے باوجود نیہا کاکڑ نے ہمت نہ ہاری اور کہا وہ بالی وڈ کے میکرز کو غلط ثابت کررکے رہیں گی۔ اب گائیکی کے ساتھ ساتھ نیہا کاکڑ ٹی وی رئیلٹی شو میں حصہ لے رہی تھی اور ساتھ ساتھ کامیڈی شوز میں کامیڈی بھی کر رہی تھی۔ سنگر ہونے کے ساتھ ساتھ اب وہ اداکارہ بھی بن گئی۔

اب سال تھا دو ہزار گیارہ اور ایک گانا نیہا کاکڑ کی آواز میں رکارڈ کیا گیا۔ گانے کا نام تھا سیکینڈ ہیڈ جوانی۔ گانا سپر ہٹ ہو گیا۔ اب ہر طرف نیہا کاکڑ کے چرچے تھے۔ دو ہزار سولہ میں نیہا کاکڑ کا گانا ایک فلم گبر میں ریلیز ہوا۔ اس گانے کا نام تھا کنڈی نا کھڑکا۔ اب نیہا کاکڑ سپر ہٹ گانے گارہی تھی ان کے گانوں کو شائقین پسند کر رہے تھے۔ ہنی سنگھ کے ساتھ نیہا کاکڑ نے بالی ووڈ کی فلم یاریاں کے لئے ایک گانا گایا اس گانے کا نام تھا آج بلیو ہے پانی پانی۔

اس گانے نے نیہا کاکڑ کی زندگی بدلکر رکھ دی۔ اب وہ بلندیوں کے سفر پر گامزن ہو گئی اور ہر طرف نیہا ہی نہیا تھی۔ اس کے بعد نہیا اور ان کے بھائی نے مل کر ایک گانا گایا جس کا نام تھا ملے ہو تم ہم کو۔ یہ گانا یوٹیوب پر ریلیز کیا گیا جو سپر ڈپر ہٹ رہا۔ اب تک اس گانے کو ایک بلین سے زائد وویوز مل چکے ہیں۔ نیہا کاکڑ اور ان کے بھائی کا یوٹیوب چینل بھی ہے جس کے کئی ملین سے زائد سبسکرائبرز ہیں۔ اس کے علاوہ نیہا کاکڑ رئیلیٹی شوز کی جج بھی رہیں۔ آج کل بھی وہ انڈین آئڈل شو کی جج ہیں اور یہ شو شائقین کو بہت پسند آ رہا ہے۔ وہ رئیلیٹی شو جہاں سے انہیں بطور کنٹسٹنٹ نکال دیا گیا تھا آج اسی شو کی وہ جج ہیں۔ اسے کہتے ہیں ہمت نہ ہارنا۔

وہ فیملی جس کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا، رہنے کے لئے جگہ نہیں تھی اب ٹھاٹ باٹ کی زندگی گزار رہی ہے۔ نیہا کاکڑ اور ان کی فیملی کے اب رشی کیش، دلی اور ممبئی میں چھوٹے سے گھر نہیں بلکہ عالیشان بنگلے ہیں۔ نہیا کاکڑ کی پہلی محبت ہمانشو کوہلی تھے۔ ہمانشو کوہلی سے نیہا کاکڑ بہت محبت کرتی تھی۔ نیہا کاکڑ ہمانشو کوہلی کو ٹوٹ کر چاہتی تھی لیکن ہمانشو کوہلی نے نیہا کاکڑ سے شادی کرنے سے انکار کر دیا۔ نیہا کاکڑ محبت میں ناکامی پر توٹ گئی۔ وہ ڈپریشن کا شکار ہو گئی۔ اس موقع پر نہیا کی فیملی نے ان کا ساتھ دیا۔ اس صدمے سے باہر آنے کے بعد نہیا نے زبردست گانے گائے اور نارمل زندگی کی طرف لوٹ آئیں۔

’دلبر، او ساقی، آنکھ مارے، یاد پیا کی آنے لگی، میں تیری گرل فرینڈ، چھما چھما اور نکلے کرنٹ‘ جیسے نئی نسل میں بے حد مقبول ہونے والے گیت گانے والی 32 سالہ بھارتی گلوکارہ نیہا ککڑ نے ساتھی گلوکار روہن پریت سنگھ سے دو ہزار بیس میں شادی کرلی۔ ایک زمانہ ایسا تھا جب نیہا کے باپ کو یہ طعنے دیے جاتے تھے کہ وہ بیٹیوں کو گواکر کھاتا ہے کیسا باپ ہے جس میں غیرت ہی نہیں۔ آج پورا ہندوستان نہیا کے باپ پر فکر کر رہا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب نہیا جگرراتوں میں ساری رات گاتی تھی اور انہیں صرف دو سو روپے معاوضے کے ملتے تھے۔ آج صعف رئیلیٹی شوز سے وہ ہر ماہ کروڑوں روپے کماتی ہیں۔ نہیا کے بھائی ٹونی کاکڑ کا یوٹیوب پر دیسی میوزک فیکٹری نامی چینل ہے جس کے کروڑوں سبسکرائیبر ہیں۔ دونوں بہن بھائی اپنے گانے اسی چینل پر بھی ریلیز کرتے ہیں اور ہر ماہ کروڑوں روپے کماتے ہیں۔ نیہا کے ساتھ ساتھ ٹونی اب مشہور سنگر بن چکے ہیں اور ایک ٹی وی رئیلیٹی شو تارے زمین پر کے جج ہیں۔ نہیا کاکڑ نامی یوٹیوب چینل کے سبسکرئبر ایک کروڑ سے زائد ہیں۔ یوٹیوب کے ساتھ ساتھ انسٹا گرام اور ٹک ٹاک پر بھی نہیا کاکڑ بھارت سمیت دنیا بھر میں بہت پاپولر ہیں۔ آج انہیں بھارت کی نمبر ون سنگر کہا جاتا ہے۔

ایک ایسی بچی جو غریب گھر میں پیدا ہوئی۔ کئی بار ناکامیوں کا سامنا کیا اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ بالی ووڈ کی ہر فلم میں ان کی آواز سنائی دیتی ہے۔ نیہا کاکڑ ایک غریب پرور انسان ہیں۔ وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ فلاحی کاموں پر خرچ کرتی ہیں۔ شاہ رخ خان نہیا کاکڑ کے آئیڈیل ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ شاہ رخ خان ہی ان کی زندگی کی حقیقی inspiration ہیں۔ شاہ رخ خان نہ ہوتے تو نیہا کاکڑ کا بھی کوئی وجود نہ ہوتا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).