انگریزی ریستوران، مینیجر اور ہمارا معاشرہ


ابھی چند دن پہلے اسلام آباد کے ایک ’ایلیٹ‘ ریستوران کی مالک دو خواتین کی اپنے مینیجر سے تفریح ان کو مہنگی پڑ گئی۔ ویسے تو عموماً وہ ویڈیو سب ہی دیکھ چکے ہیں مگر جو قارئین اس کہانی سے واقف نہیں انہیں بتاتے چلیں کہ مذکورہ ویڈیو میں ایک ریستوران کی مالک خواتین اپنے مینیجر سے انگریزی میں تعارف کرانے کو کہتی ہیں اور جب وہ بیچارا اس کام کو بہتر طور پر نہیں کر پاتا تو اس کا مذاق اڑیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ’یہ مینیجر بھاری تنخواہ لیتا ہے‘ اور اسے انگریزی کا ’مہنگا‘ کورس کروایا گیا ہے مگر پھر بھی اس کی یہ ’حالت‘ ہے۔

اس پورے واقعے میں عوام کا ردعمل خوش آئند تھا۔ لوگوں نے خوب کھل کر مذکورہ خواتین کی مذمت کی۔ ان کے رویے کو غلامی کی نفسیات قرار دیا۔ کہا گیا کہ ایک مینیجر کو اس کی کام کی اہلیت کے بجائے صرف انگریزی بولنے کی قابلیت پر جانچا گیا۔ کہا گیا کہ زبان تو صرف زبان ہی ہوتی ہے، کسی زبان کے آنے یا نہ آنے سے کوئی انسان کم تر یا برتر نہیں ہوجاتا۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے اپنی زبانوں میں ہی ترقی کی ہے۔ یہ سب باتیں بالکل درست ہیں۔ مگر میرا سوال اس معاشرے سے صرف ایک ہے ؛ کیا ایسا کرنے والی اس ملک میں صرف یہ دو خواتین ہیں؟ ہمیں ان کے رویے سے، ان کے طرز تخاطب سے اور ان کی متکبر نگاہوں سے نفرت ہے، مگر کیا یہ معاشرہ خود بھی بڑی حد تک ان ہی خواتین کی طرح نہیں؟

یہ غالباً ایک دہائی پرانی بات ہے۔ ایک ٹی وی چینل کے لئے اداکارہ میرا نے ٹپو جویری کا انٹرویو کیا۔ اس انٹرویو میں میرا سے انگریزی کی اغلاط ہوئیں۔ انٹرویو کے اغلاط والے حصے سماجی میڈیا پر پہنچ گئے۔ ہر طرف سے ہنسی کا طوفان اٹھا۔ سارا معاشرہ میرا کی انگریزی پر قہقہے لگانے لگا۔ سوال یہ ہے کہ اس موقع پر میرا پر ہنسنے والا ہر انسان کیسے ریستوران والی خواتیں سے مختلف ہے؟ اگر نہیں تو کیا میرا کی انگریزی پر ہنسنے والے تمام ہی لوگ اتنی ہی لعنت ملامت کے حقدار نہیں؟

آج سے سترہ سال قبل جب میں جامعہ کراچی میں داخل ہوا تو میں نے غلطی سے انگریزی کو اختیاری مضمون کے طور پر منتخب کرنے کی سعی کی۔ میں تب بھی یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ وہاں انگریزی ادب پڑھایا جائے گا اور کیونکہ میں اردو ادب اور روسی تراجم پڑھتا تھا اسی لئے انگریزی زبان پڑھنا چاہتا تھا کہ انگریزی ادب بھی پڑھ سکوں۔ مگر تین دن میں ہی میرا شوق دھواں بن کر اڑ گیا۔ اور میں نے انگریزی اختیاری چھوڑ کر اطالوی زبان کا انتخاب کر لیا۔

میرے انگریزی چھوڑنے کی وجہ بڑی صاف تھی۔ وہاں تینوں ابتدائی کلاسوں میں پڑھایا کچھ نہیں گیا بس انگریزی سے ڈرایا گیا۔ خیر یہ تو جاننا طالب علم کا حق ہے کہ آگے وہ کیا کیا پڑھے گا تاکہ وہ کسی غلط فہمی کا شکار ہو کر غلط مضمون کا انتخاب نہ کرلے، لیکن شعبہ انگریزی کے اساتذہ اس سے بڑھ کر بھی ایک کام کر رہے تھے۔ وہ بڑی شدت سے یہ بتارہے تھے کہ انگریزی بہت عظیم زبان ہے اور اس کو پڑھنا بہت مشکل ہے۔ انگریزی ادب بہت ہی ارفع ہے۔ اس کو پڑھنے والے اس غلط فہمی کا شکار نہ ہوں کہ وہ اچھے نمبر لے لیں گے یا اپنے شعبے سے شعبہ انگریزی میں تبادلہ کرا لیں گے۔ شعبہ انگریزی تو اتنا اعلیٰ ہے کہ اس نے اپنی تاریخ میں ایک بھی پی ایچ ڈی ’پروڈیوس‘ نہیں کیا (یہ سترہ سال پرانی بات ہے مگر تب بھی ہر شعبے کے پاس کچھ نہ کچھ پی ایچ ڈی ضرور تھے) اور یہاں تو ستر فیصد نمبر لینے پر ہی لوگوں کی کلاس میں اول پوزیشن آ جاتی ہے۔

اتنی خوفناک منظرکشی سے ڈر کر میں نے مضمون بدل لیا مگر جب بعد میں انگریزی ادب کا مطالعہ کیا تو اندازہ ہوا کہ انگریزی ادب عالمی ادب کے تناظر میں بس اوسط درجے کا ہے۔ نہ اس میں دوستوئفسکی ہے نہ ہی ٹالسٹائی۔ اس میں اسٹیفن زویگ ؔ، فلوبیرؔ، لیروکسؔ، کافکا، سارتر جیسا کوئی نہیں۔ فارسی جیسی شاعری انگریزی کے حصے میں نہیں آئی اور نہ ہی الف لیلہ جیسی داستان ہی انگریزی کے دامن میں ہے۔ انگریزی ادب میں شیکسپئر کے شاہکاروں کا مجھے انکار ہے نہ ہی ایملیؔ برونٹے یا جارج ؔآرول کی ادبی عظمت کا۔

مگر ہمارے مذکورہ شعبہ انگریزی والے تو پڑھا بھی ’جارج ایلیٹ‘ رہے تھے اور خوف ایسا پیدا کیا جا رہا تھا کہ معلوم نہیں اس کلاسیکی بکواس سے کون سے چودہ طبق روشن کردئے جائیں گے۔ مگر مزاحیہ بات یہ ہے کہ اس اونچی دکان کے پھیکے پکوان کا اثر بھی پڑتا ہے۔ جو لوگ انگریزی کو بطور مضمون پرہ لیتے ہیں ان کے لئے ان کی تعلیم زندگی کا روگ بن جاتی ہے۔ پھر ان کی جمیع اکثریت صرف ساری دنیا میں ’میرؔائیں‘ تلاش کرنے کے ہی اہل رہ جاتی ہے۔

بات اتنی سی ہے کہ انگریزی کی عظمت کے قائل اس معاشرے کے لوگ انگریزی کی ادبی یا علمی اہلیت سے نہیں، اس کی سیاسی طاقت سے متاثر ہیں۔ انگریزی عرف عام میں ایک زبان نہیں ایک سماجی طبقہ یا کلاس ہے۔ یہ سماجی طبقہ انگریزی اقتدار میں برصغیر میں پیدا ہوا۔ انگریز کے جانے کے بعد اقتدار اسی طبقے کے ہاتھ آیا۔ آج ہمارا حکمران اور بالائی طبقہ اپنے گھروں میں انگریزی بولتا ہے۔ ظاہر ہے سارا معاشرہ اسی طبقے کا ایک چربہ بننے کی کوشش میں ہے کیونکہ طاقت، قوت اور دولت ہی پر اس سماج کی رال ٹپک رہی ہے۔

اس سعی میں لوگ اپناپیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو مہنگے اسکولوں میں بھرتی کرواتے ہیں کہ ان کے بچے انگریزی بول سکیں۔ ماں باپ اپنے بچوں کی انگریزی کے تماشے مہمانوں کو دکھا کر تالیاں بجواتے ہیں۔ مائیں اپنے بچوں سے کہتی ہیں کہ ’انگریزی بولو، چاہے غلط بولو‘ ۔ سستے نجی اسکولوں میں بھی بیچارے اساتذہ ایک دوسرے سے غلط سلط انگریزی بولتے رہتے ہیں۔

مجھے یاد ہے آج سے دس سال قبل جب میں پولیس کے ایک خصوصی یونٹ میں کانٹریکٹ پر ملازمت کر رہا تھا تو میں وہاں کے لوگوں کی اردو کی اہلیت سے بے حد متاثر تھا۔ ہماری پولیس کے پرانے لوگوں کو اتنی اچھی اردو آتی ہے کہ ویسی اردو اب ہمارے سماج میں کم ہی لوگ بول یا لکھ سکتے ہیں۔ مگر اس ادارے کے کمانڈنٹ صاحب سارے ادارے کو ’جدید‘ بنانے کی فکر میں تھے۔ اس کام کے لئے کچھ انگریزی دان قسم کے لوگ بھی وہاں رکھے گئے۔ اگر میڈیا سے گفتگو کا معاملہ ہوتاتو انہی افراد کو آگے کر دیا جاتا۔ کہا جاتا کہ یوں ادارے کا بڑا ’ماڈرن امیج‘ دنیا کے سامنے جا رہا ہے۔ عجیب بات ہے کہ واقعی انگریزی بولتے باوردی لوگوں کو دیکھ کر سماج پر اثر بھی متوقع ہی پڑتا۔ یہ الگ بات ہے کہ خصوصی دستے کے ’اہل‘ کاروں کا دہشت گردوں نے تب سڑکوں پر کافی شکار کھیلا۔ سمجھ نہیں آیا کہ ایک پولیس کمانڈو کی اہلیت گولی چلانے کی ہونی چاہیے یا انگریزی بولنے کی۔ کیونکہ انگریزی نہ گولی بن کر کسی کو لگ سکتی ہے نہ ہی ڈھال بن کر گولی کو روک سکتی ہے۔

مگر اس بیماری سے اس سماج میں کون پاک ہے؟ فرض کریں کے عمران خان صاحب اپنے انگریزی خطبات میں ہر بار تین چار غلطیاں کرنا شروع کردیں تو ان کے ساتھ ہمارے ذرائع ابلاغ اور سماجی میڈیا کیا کرے گا؟ فرض کریں کہ بلاول بھٹو صاحب ویسی ہی انگریزی بولنے لگیں جیسی وہ اردو بولتے ہیں تو سماج ان کی کیا گت بنائے گا؟ عمران خان صاحب اگر اچھی انگریزی نہ بول سکتے اور انگریزوں کے ساتھ ان کی تصویریں نہ ہوتیں تو اس معاشرے میں ان کو کبھی بھی عزت نہ ملتی۔

وہ صرف عمر اکمل کی طرح ایک مذاق کی چیز ہوتے۔ مگر انگریزی بولنے کی اہلیت اس معاشرے میں اس سلمانی مرہم کا درجہ رکھتی ہے جو کہ کسی بھی فرد کے کسی بھی عیب کو چھپا سکتی ہے۔ لوگ ایوب خان جیسے غاصب کی تقریر کے نیچے یوٹیوب پر رائے لکھتے ہیں کہ ’دیکھو یہ دیکھنے میں بھی انگریز لگتا ہے اور انگریزی بھی کسی انگریز کی طرح ہی بولتا ہے۔ ایسے اعلیٰ تھے ہمارے پرانے حکمران!‘

اس خاص تناظر میں ریستوران کی مالکنوں کی اپنے بیچارے مینیجر پر تنقید اسی لئے ہے کہ ان کے ’الیٹ‘ ریستوران میں آنے والے لوگ بدمزہ کھانوں کو اسٹاف کی خوبصورت انگریزی کی چٹنی کے سہارے مزے لے کر کھا سکتے ہیں اور اسٹاف کی غلط انگریزی اچھے کھانے کو بھی ان کے لئے بدمزہ بناسکتی ہے۔ آج کی تاریخ میں انگریزی ہمارے ملک میں ایک تلوار ہے، ایک بندوق ہے، ایک بم ہے مگر ایک زبان نہیں ہے۔ وہ ایک ڈرنے اور ڈرانے کی چیز ہے۔

جن کو آتی ہے ان کے لئے بھی ایک مصیبت ہے اور جن کو نہیں آتی ان کے لئے بھی ایک تکلیف ہے۔ یہاں پر عمر اکمل کی کرکٹ اور میرا کی اداکاری نہیں ان دونوں افراد کی انگریزی ان کی عزت و ذلت کا تعین کرتی ہے۔ زرداری صاحب کی بدعنوانی سے زیادہ لوگوں کہ یہ بات گراں گزرتی ہے کہ وہ مزار قائد پر غلط انگریزی میں تاثرات لکھ آئے تھے۔ لوگ ساری زندگی اپنا لہجہ انگریزوں جیسا بنانے کی کوشش میں گزار دیتے ہیں۔ لوگوں کو انگریزی سن کر رقت طاری ہو جاتی ہے۔

اردو اور علاقائی زبانیں بولنے والے حقارت سے دیکھے جاتے ہیں۔ یہ سارا معاشرہ اپنے ہی آگے اس بیچارے مینیجر کی طرح ہاتھ باندھے کھڑا ہے۔ خود سے ہی اپنا تعارف کرانے کو کہہ رہا ہے اور خو د کا ہی مذاق اڑا رہا ہے۔ اس سماج کے سارے ہی لوگ سو بار اپنے باطن میں خود کا اس مینیجر جیسا انگریزی محاسبہ کر چکے یا کر رہے ہیں مگر اپنے انگریز بننے کے خبط کو اکھاڑ پھینکنے کی ہمت ہمیں نہیں۔ انگریزی بولنے والا چاہے پولیس والا ہو یا ناڑے بیچنے والا اس سماج میں وائرل ہو جاتا ہے۔

لوگ ’ماشاء اللہ ماشاء اللہ‘ کہہ کر ایسے نمونے دیکھتے ہیں اور آگے بڑھاتے ہیں۔ انگریزی کی غلطی اس معاشرے میں کسی کو بھی لوگوں کی نظروں سے گرا سکتی ہے۔ یہی کچھ اس دن اس اسلام آبا د کے ریستوران میں ہو رہا تھا۔ بس اس ڈش کا نمک تھوڑا تیز ہو گیا تو عوام کو برا لگ گیا ورنہ یہ تو اس سماج کی پسندیدہ ڈش ہے۔ یقین نہیں آتا تو عمر اکمل ؔ یا میراؔ لکھ کر سرچ کر لیں۔

Facebook Comments HS