عربی زبان کی تعلیم: عقیدت یا احساس کمتری



عربی زباں کے تقریباً تیس جبکہ ترک زبانوں کے پینتیس بولے جانے والے لہجے ہیں۔ اگر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کل کلاں کو پاکستان کی قومی زباں عربی یا ترک ہوگی تو ریفرینڈم کرانا مناسب رہے گا۔ مگر کس زباں کا کون سا لہجہ لاگو ہوگا یہ ابھی بھی ایک پریشان کن بات ہے۔ جیسا کہ ہم سب اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ہمیں اپنی شناخت اور پہچان سے کس قدر بیر ہے۔ ہمیں اپنی زمیں جو اناج اگل کر دیتی ہے اس کی تاریخ ناگوار گزرتی ہے، اس بات کی جانب رجحان رکھنا ہی نہیں چاہتے کہ ہم کہیں باہر سے نہیں آئے ہوئے بلکہ یہیں کی پیداوار ہیں۔

دنیا بھر میں سفید فام نسل پرست جو دوسروں کے اوطان پر قابض ہوئے، سیاہ فام افریقیوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر وطن اور آبائی سرزمین سے دور کیا، مقامی امریکی قبائل کی مٹا دینے کے پیمانے پر نسل کشی کی وہ ان و اب واپس افریقہ اور جنگلوں میں جانے کی شرمناک نصیحت کرتے ہیں۔ مگر کوئی بھی اپنے وطن سے جو کہ اب ان کا بھی ہو چکا ہے واپس نہیں جاتا نہ جانے کا روادار ہے۔ ہمارے یہاں جیسے کہ تقریباً سب کچھ ہی سیدھا نہیں ہے، اب قومی شناخت بھی دائمی طور پر مشکوک سی بنا دی گئی ہے۔

یہ کوئی بہت قدیم بات تو نہیں، یہی چند سال ہوئے جب سے شناخت کی محرومی کا سنڈروم قومی طور پر مسلط کیا گیا ہے۔ ہمارا بس نہیں چلتا خود کو اس نکتے پر عرب اور ترک ثابت کریں اور خوامخواہ کے حقیقی وطنوں کو روانہ ہوں۔ ایوان بالا میں نئے قانون کے مطابق اب عربی زباں کا پڑھنا لازم قرار دے دیا گیا ہے۔ سمجھ نہیں آیا کہ اس بات پر اظہار اطمینان کروں کہ میں اس دور میں اسکول کی طالبہ نہیں یا ماتم کناں ہوں کہ اب ملک کے بچے کریں تو کیا کریں۔

بیک وقت چار چار زبانیں پڑھیں گے؟ ان میں تین زبانوں کے پرچے کیسے دیں گے؟ تعلیمی نظام اور معیار کو پرکھا جائے تو چیخوں کی گونج روح تک سنائی دے گی۔ آپ کرنا کیا چاہتے ہیں؟ مذہب کی تعلیم کی آسان سمجھ بوجھ تو اردو یا کسی دوسری زباں میں بھی ممکن ہو سکتی ہے اور جو کہ ہوتی بھی ہے، اس کے باوجود بھی مذہب کی سمجھ کا جو حال ہے وہ واضح طور پر دکھتا ہے۔ بدقسمتی سے مذہب کو اس کے علمبرداروں نے گھر کی کھیتی اور کرکٹ کی بال ہی سمجھ رکھا ہے، اپنی سکت کے مطابق من چاہے موسم میں اپنے پسند کی فصل بو دیں یا فری ہٹ پر جتنے مرضی چھکے چوکے لگائیں کوئی امپائر نہیں جو سوال کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہو۔

تعلیمی نظام میں ایک عدد نئی زباں کا مسلط کیے جانا علمی قابلیت کا عقیدت کے نام پر اندھا قتل ہے۔ ہم سالوں لگا کر انگریزی سیکھتے ہیں مگر سی ایس ایس کے انگریزی مضمون میں دو نمبروں سے پھر بھی رہ جاتے ہیں۔ انگریزی پھر دنیا میں بولے اور سمجھے جانی والی زباں ہے جو کچھ فائدہ دیتی ہے، عربوں نے ایسے قابلیت کے مینار بلند نہیں کیے جو ہم پر لازم ہو چکا سیکھنا۔ جس نے عقیدت میں ایماں افروزی کی منازل طے کرنی ہوں وہ پنجابی اور سندھی میں اشعار کہہ کر لاکھوں بت پرستوں کو وحدانیت سکھا سکتا ہے اور جس کے سینے پر مہر ہو وہ روانی سے عربی بولتے ہوئے بھی بھوکے یمنی اطفال پر بمباری کرواتا ہے۔

شناخت کا جو اسپرجر سنڈروم بحیثیت قوم گزشتہ چند سالوں سے لاحق ہوا ہے، وہ گزرتے وقت کے ساتھ گھٹ ہرگز نہیں رہا۔ سنہ سینتالیس کے وقت ہندوستان کے مسلمانوں اور سیاسی رہنماؤں نے ایک الگ شناخت تشکیل دی تھی اور اب اس شناخت کی انفرادیت ہی تحلیل کرنے کے در پر ہیں۔ قومی ہیرو جو کبھی ہوا کرتے تھے اب وہ ترک قوم کے آبا پاکستانی قوم کے رہنما اور پدر قرار پاتے ہیں۔ اب تو محمد بن قاسم اور سترہ حملے کرنے والے محمود غزنوی بھی بھی ترکوں کے رہنماؤں کے سامنے پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔ قومی لباس شلوار قمیض پر تو پہلے سے ہی برقعے کی تلوار لٹک رہی تھی، سال دو سال سے تو مقامی ثقافتی پیرہن بھی قائی قبیلے کے لباس اور زیورات کی چمک سے چندیا سے گئے ہیں۔

حالانکہ لوگ اس بات سے آگاہ نہیں ہوتے کہ تاریخ پر مبنی لوک داستانیں اور قصوں کے اکثر حصص من گھڑت اور خود ساختہ ہوا کرتے ہیں جن کو مضافاتی روایتوں اور ثقافت سے ادھار لے کر اپنا دکھایا جاتا ہے۔ یہ سب ناظرین کی مخصوص توجہ اور کہانی میں میں دلچسپی بڑھانے کے سوا کوئی مقصد نہیں رکھتے۔ جن زیورات کو ترک تقافت کے طور پر ہمارے ملک میں متعارف کرایا گیا وہ یہاں کی ثقافت کا حصہ تو ہمیشہ سے تھے۔ لباس پر موجود کشیدہ کاری اور ڈھنگ تو ہمارے شمال کشمیر سے مغربی بلوچستان کے روایتی لباس کا جزو ہے تو ہم کس بات پر اس قدر متاثر ہو رہی ہیں؟

اس کی مثال ہاں سے سمجھائیں جاسکتا ہے کہ اسکاٹ لینڈ کی ملکہ میری اسٹیورٹ کی زندگی پر بننے والے ڈرامے ”رین“ میں میری اسٹیورٹ فرانس کے فیشن کے طور پر اجرک سے بنا ہوا لباس پہنتی ہے تو کیا آپ یہ تسلیم کر لیں گے کہ اجرک ہمارا نہیں فرانس یا اسکاٹ لینڈ کا روایتی لباس ہے اور اس کو اپنی قومی احساس محرومی کے شجر کی ایک شاخ بنا لیں گے؟

ہندوستان سمیت دنیا کی بہت سی قوم پرست اقوام جس میں ترکی بھی شامل ہے لباس، پکوان، تاریخ اور اس سے جڑے بہت سے عوامل کی ہورس ٹریڈنگ یا جوڑ توڑ کر کے دنیا میں اپنا ٹیگ متعارف کراتے ہیں جس میں ہم بہت ہی پیچھے ہیں یا یوں کہیے اس قطار میں ہم کہیں بھی نہیں۔ دنیا میں پاکستانی آم کی بجائے اب میکسیکو یا ویسٹ انڈیز کے عام کی نوبت سنائی دیتی ہے، باسمتی تو ہے ہی ہندوستان کا، آپ جنتا بھر بھر کر گرم مصالحہ آلو گوشت میں ڈالیں، مانگ اس کی ہندوستانی مصالحہ کے نام سے بڑھتی ہے، یہاں تلک کہ فلسطین میں گرم مصالحہ کا لقب ہندی مصالحہ ہے۔ مختصر کوئی بھی اپنی پہچان، عرفان اور نام نہیں چھوڑتا اور جو کسی دوسرے کا ہو اس کو بھی اپنا بنا کر دم لیتا ہے۔

وہ ہم ہی ہیں جنہوں نے اپنی روایتی ماتھا پٹی جو کشمیر، گلگت بلتستان سے خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں خواتین صدیوں سے بیاہ شادیوں پر استعمال کرتی ہیں کو قائی پٹی یا حلیمہ سلطان بنا دیا ہے۔ دنیا میں ان رویوں کو کلچر اپروپرایشن یا ثقافتی تبعیض کا دھبا لگ چکا ہے اور ہمارے لئے ثقافت کا چھن جانا اعزاز اور عقیدت کا جھومر ہے۔

مجھے یاد ہے کہ بچپن میں یہ سوچ بٹھا دی گئی تھی کہ مہندی کی رسم ہندوانہ ہے، مگر کوئی یہ نہ کہتا تھا کہ جہیز نہیں لینا جو کہ تشدد اور بہیمانہ ہے۔ آج بھی لوگ مہندی کی تقریب کو بدترین کہتے ہیں مگر وہ تمام مجرمانہ روایات آج تک برقرار ہیں جس سے عورت کی جگہ سماج میں بدتر سے بدترین ہوتی رہتی ہے۔ مہندی کی رسم نہیں شادی کی تقریب پر اسراف درست نہیں۔

ہم اس بات کو ماننے کو تیار نہیں کہ ہمارے پرکھ جس میں صرف آبا ہی نہیں مائیں بھی ہیں وہ اسی تہذیب اور مٹی سے ہیں۔ جو نکتہ اردو یا مقامی زباں میں سمجھایا جائے وہی دیر تک یاد رہتا ہے۔ ہم نے انگریزی گرامر بھی پنجابی اور اردو میں سمجھی تھی تو آج تک نہیں بھولی۔ ہمارے چہرے بتاتے ہیں کہ ہم ماضی قریب میں کہیں سے بھی ترک یا عرب نہیں ہیں۔ اس قوم کا المیہ ہے خود کو پختہ طور پر عرب یا ترک منوانے کی خاطر اپنے ہر متشدد اور قابل اعتراض انداز زندگی کو یہ جواز بنا کر چھپاتے ہیں کہ ہم ہندوؤں کے ساتھ رہے ہیں۔ نہیں آپ ہندوؤں کے ساتھ نہیں رہے، آپ خود ہندو رہے ہیں۔

Facebook Comments HS