کراچی والو! اب کوئی نیا مسیحا تلاشو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وطن عزیز ہمیشہ نازک دور سے گزرتا رہا ہے۔ مگر اب ایک عجیب ہی راہ پر گامزن ہے۔ عوام سے لے کر حکمران تک ہر شخص تذبذب کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ کسی کو نہیں پتا منزل کہاں ہے۔ راستوں کا تعین نہیں ہے۔ بس سفر ہی سفر ہے۔ ہو سکتا ہے انگریزی کے (Suffer) کو سفر سمجھ لیا گیا ہو۔ حقیقت یہی ہے کہ ہم ایک ایسی منزل کی جانب سے رواں دواں ہے جس کا نشان کسی کو نہیں معلوم۔

حکمراں درحقیقت راہ نما ہوتا ہے۔ قوم کی رہنمائی کرتا ہے۔ قوم کو اس کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ مگر افسوس ہمارے حکمران خود کسی کی رہنمائی کے متلاشی ہیں ، وہ کیا قوم کی رہنمائی کریں گے۔

ہوس بہت چیزوں کی ہوتی ہے۔ دولت کی، محبت کی، جسم کی، اقتدار کی وغیرہ۔ مگر اقتدار کی ہوس سب سے خطرناک ہوتی ہے۔ اس میں دوسری ہوس اپنا حصہ حسب توفیق ملاتی ہیں ، اس لیے یہ اور زیادہ طاقتور ہو جاتی ہے۔ اقتدار کی ہوس کبھی ختم نہیں ہوتی۔ پھر ناجائز کام بھی جائز لگنے لگتے ہیں۔

آپ یہی دیکھ لیں کراچی میں کوٹہ سسٹم کچھ سالوں کے لئے رائج کیا گیا تھا، مگر اس میں مفاد دیکھ کر اس کو آج تک جاری رکھا ہوا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کا فائدہ صوبوں کو تو ضرور پہنچا، مگر صوبوں سے اس کے شہروں اور دیہاتوں تک اس کے ثمرات ”ہنوز دلی دور است“ کے مصداق ابھی بہت دور ہیں۔

اٹھارہویں ترمیم نے شہری و بلدیاتی حکومتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ویسے بھی جمہوری حکومتوں میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوتے۔ بلدیاتی انتخابات آمر کے دور میں ہی ہوتے رہے ہیں اور اقتدار نچلی سطح پر منتقل ہو کر عوام کی خوشحالی کا باعث بنتا رہا ہے۔ جمہوریت میں اقتدار نچلی سطح تک منتقل کرنا کار ممنوع سمجھا جاتا رہا ہے۔ وہ تو بھلا ہو سپریم کورٹ کا، جس نے حکم دے کر 2015ء میں حکمرانوں کی مرضی کے خلاف بلدیاتی انتخابات کروائے مگر اس کے ثمرات سے عوام محروم ہی رہے۔

عدلیہ کا کام صرف احکامات دینا ہوتا ہے، عمل تو اسی لولی لنگڑی بہری گونگی رشوت خور جمہوریت اور اس کے نام نہاد نمائندوں نے کرنا ہوتا ہے۔ ہر صوبے میں اپنا الگ بلدیاتی نظام رائج تھا، جس میں اس صوبے کے چیف ایگزیکٹیو کا 80 فیصد حصہ تھا۔ باقی بیس فیصد منتخب ہو کر آنے والے نمائندوں کے پاس تھا۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر کے مصداق اس نظام سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکا۔ رہی سہی کسر اٹھارہویں ترمیم کے ناسور نے پوری کردی اور تمام اختیارات شہری و بلدیاتی حکومت کے بجائے صوبے کے وزیر اعلیٰ کے پاس آ گئے۔

گویا کچرا اٹھانے، گلیاں بنوانے، صاف کروانے کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ نے اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھا لی۔ جن سے قانون سازی نہ ہو پائے، صوبے میں بہتر انتظامات کرنے سے جو قاصر ہوں، وہ بلدیاتی نظام بھی سنبھالیں گے؟ ویسے ہمارے حکمرانوں اور سیاسی لیڈران ایک کام میں بڑے مشاق ہیں وہ ہے بدعنوانی۔

وزیراعظم عمران خان نے سوچا کہ چلو ہم بھی حاتم طائی کی طرح سخاوت کے دریا بہاتے ہیں، خود پر ہونے والی تنقید کو رفع کرنے کے لئے براہ راست عوام سے بات کرنے کا طریقہ آزماتے ہیں، کیونکہ سینئر اینکرز، پھر جونیئر اینکرز، پھر یوٹیوبر، سوشل میڈیا والوں کو بلانے سے تو کوئی فائدہ ہوا نہیں، عوام کے غم و غصے اور تنقید سے بچ نہیں پا رہے بلکہ غم و غصے کی کیفیت میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اس تاثر کو زائل کرنے کے لئے خان صاحب نے براہ راست فون کالز سننے کا طریقہ اختیار کرنے کا سوچا۔ اشتہارات چلائے گئے، خوب تشہیر کی گئی۔ اور وہ وقت بھی آن پہنچا، مگر مجال ہے کسی عام آدمی کی کال لگی ہو۔ بعد میں پتہ چلا سب ریکارڈنگ کی ہوئی کالز تھیں۔ جب ایسی دھوکہ دہی اور عوام کو بے وقوف بنانے کا عمل جاری ہو تو حکمرانوں کو ذلیل ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

خان صاحب! آپ سابق حکمرانوں کو لعن و طعن کرتے رہتے ہیں کہ انہوں نے یہ کیا انہوں نے وہ کیا۔ خان صاحب شاید آپ بھول گئے ہیں کہ اب آپ کو اڑھائی سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے، عدت زیادہ سے زیادہ چار ماہ دس دن کی ہوتی ہے، اس کے بعد سابقہ شوہر پر کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ آپ اڑھائی سال بعد بھی سابقہ حکمرانوں کو ہی کوستے رہتے ہیں۔ اپنی کارکردگی سے خود کو منوائیں۔

سلیکٹرز کو بھی سوچنا چاہیے کہ جن کو بیٹنگ دی گئی ہے وہ اس قابل ہیں بھی یا نہیں۔ رنز بن نہیں رہے اور بالز ضائع ہوتی جا رہی ہے۔ یہ میچ تو ٹیسٹ سے بھی زیادہ سست رفتار ہو چکا ہے جس کے ڈرا ہونے سے ہارنے کا خطرہ زیادہ ہے۔

کراچی کے ساتھ جو کیا جا رہا ہے، اس کا خمیازہ آج نہیں تو کل ضرور پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔ تین کروڑ کی آبادی کو ڈیڑھ کروڑ گننا، پانی، بجلی کے گھمبیر مسائل، گندگی اور سیوریج کے عذاب کے ساتھ ساتھ ذخیرہ اندوزوں، حرام خوروں کا جو مافیا کراچی پر مسلط کر دیا گیا ہے ، اس سے نجات دلانا حکمرانوں کا ہی کام ہے۔

دودھ مافیا کو ہی لے لیں۔ سرکاری نرخ 94 روپے ہے مگر گزشتہ دو سال سے حکومتی نا اہلی کی وجہ سے 120 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے، اب مزید 20 روپے بڑھانے کی دھمکی دے دی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ حکومت کیا کرتی ہے،  ماضی کی طرح کروڑوں روپے زائد منافع کمانے والے اس مافیا پر صرف چند ہزار جرمانہ کر کے خاموش ہو جاتی ہے یا کوئی ٹھوس اقدامات کر کے عوام کو ریلیف دیتی ہے۔

”حق دو کراچی کو“ اور ”کراچی کو آگے بڑھے دو“ کے نعرے تو لگائے جا رہے ہیں مگر اس کا فائدہ اسی صورت میں ہو گا جب اتحاد ہو گا، کراچی کو اپنا کہنے والی تمام جماعتوں، اکائیوں اور عوام کو جبر کی ان تاریک راہوں سے نکلنے اور ایک روشن مستقبل کے لئے جدوجہد کرنی ہو گی۔ ماضی کا وہ کردار جس نے کراچی کو بھیڑیوں سے بچا کر رکھا ہوا تھا اب کہیں گمشدہ ہے، اب نئے چراغ ڈھونڈنے ہوں گے ، ورنہ تاریکی مقدر ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •