برا نہ مانو بات کا، یہ پیار ہے گلہ نہیں
2019 کے ایک روشن دن کچھ صحافی پاکستان پریس فاونڈیشن کی ایک ورکشاپ میں شرکت کرنے پاکستان کے تمام صوبوں سے جمع تھے۔ مبشر بخاری صاحب ہمارے ٹرینر تھے۔ تبھی کشمیر پر گفتگو کا آغاز ہمارے ایک کشمیر ہی کے صحافی نے کیا اور بدقسمتی سے گلہ وہی کہ حکومت پاکستان کشمیر کے نام پر اپنا مفاد لیے چل رہی ہے، کشمیر کمیٹی کے نام پر کشمیر ہی کے فنڈز کو کھایا جا رہا ہے برسوں سے اور اور اور۔۔۔۔
متفق سو فیصد متفق۔ یہ تمام شکوے بجا۔ مگر میرا ایک سوال تھا کہ صاحب رائے شماری کروا لیجیے اپ ہار جائیں گے کیونکہ کشمیری خود کشمیر کی آزادی نہیں چاہتے۔ جی ایسا ہی سخت تپا ہوا چہرہ اور آگ اگلتی آنکھوں سے ان صاحب نے بھی مجھے گھورا تھا۔ مزید اتنا ہی کہا کہ جتنا نقصان کشمیر کو خود کشمیریوں نے پہنچایا ہے کسی اور نے اب تک نہیں پہنچایا۔ وہ صاحب بھڑک گئے، اور ایسا بھڑکے کہ مجھ سے بات کرنی چھوڑ دی۔ عرض کی سر آپ کشمیر کی تاریخ پڑھ لیں اور کشمیریوں سے مل لیجیے ہم اس پر بعد میں بات کر لیں گے۔
میں نے ایسا کیوں کہا، اس کی کچھ وجوہات ہیں۔ کشمیریوں کی بڑی تعداد خاص کر صحافی برادری کشمیر کے نام پر اخبارات کے دفاتر کھولے شہر اقتدار میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہے، جائیدادیں بھی خریدئے ہوئے ہیں اور چھوٹے چھوٹے اخبارات بھی چلا رہے ہیں۔ ان اخبارات میں خبر کم اور ذاتی مفاد کی خبریں زیادہ ہوتی ہیں تاکہ کشمیر کے نام پر فنڈز کو بٹورا جا سکے۔ دوسری جانب بھارت میں آرٹیکل 370 پر جو شور مچا وہی آرٹیکل آزاد کشمیر میں کیوں نہیں لگا اب تک؟
غصہ مت کیجئے سوال ہے؟ کوئی پاکستانی آ ج بھی کشمیر میں جا کر سرکاری نوکری نہیں کر سکتا اور نہ ہی جائیدادیں خرید سکتا ہے۔ تو یہ آزادی کشمیریوں کے پاس تو ہے کہ وہ پورے پاکستان میں جس شہر، جس علاقے میں چاہیں جائیدادیں خریدیں، کوٹے پر یونیورسٹیز میں داخلہ لیں، وضائف حاصل کریں یا پھر نوکری کریں۔ جناب ہم کشمیر ہی کو نہئں کشمیریوں کو بھی دل میں جگہ دیتے ہیں۔
کشمیر کو ہم آج بھی متنازع علاقہ ہی مانتے ہیں اسی لیے ہر مشکل میں کشمیر کے لیے لڑتے ہیں، آواز میں آواز ملاتے ہیں مگر یہ تو زیادتی ہے آپ ہم سے بدظن ہی رہیں۔ ملک سے باہر جا کر بھی یہ گلہ کریں کہ پاکستان نے آپ کی آزادی سلب کی ہوئی ہے۔
کشمیر ہماری شہ رگ ہے مگر ہم اس شہ رگ پر پاؤں نہیں رکھ رہے۔ کشمیر کے نام پر لیے گئے فنڈز کو کشمیریوں پر لگائیے۔ کشمیر کا درد اور مسائل کشمیریوں سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔ اپنی استینوں میں چھپے سانپوں کو پہچانیے اور ان کا سر کچل دیجئے۔
5 فروری اظہار یکجہتی کا دن ہے اور ہم آ ج بھی اپنے میدانی علاقوں میں بیٹھ کر کشمیر کے سحر انگیز پہاڑوں میں جانے کے خواب دیکھتے ہیں۔ کشمیر نے ادب کے میدان میں بہت خوبصورت نگینے دیے ہیں ہمیں۔ ہم اب بھی فیرن پہن کر کشمیری کلچے کھانے میں بہت مسرت محسوس کرتے ہیں۔ کشمیری کلچر، کشمیری زبان اور کشمیری لوگ ہمارے لیے قابل احترام بھی ہیں اور قابل محبت بھی۔
سیاست چھوڑیے دوستو! محبت کے پھول کو کھلنے دیجئے نہ۔ گلہ سمجھ کر آ پ بھی مجھ سے میرے صحافی دوست کی طرح ناراض مت ہو جائیے گا۔


