ایک عورت کے بیک وقت کئی خاوند – یہ کہاں ہوتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہندو مت کی مقدس کتاب “مہابھارت” میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک بادشاہ دروپد نے اپنی بیٹی دروپدری کی شادی کے لئے ایک نشانہ بازی کا مقابلہ کرایا۔ اعلان کیا گیا تھا کہ جو یہ مقابلہ جیتے گا شہزادی دروپدری اس کی دلہن بنے گی۔ اس مقابلے میں پانچ پانڈو بھائی بھی شامل ہوئے۔ ان میں سے ایک بھائی ارجن نے یہ مقابلہ جیت لیا۔

پانچوں بھائی شہزادی دروپدری کو لے کر گھر روانہ ہوئے اور باہر سے اپنی ماں کنتھی کو آواز دی کہ ماں دیکھو، ہم کیا لے کر آئے ہیں۔ ماں نے نے اندر سے کہا کہ جو تم لے کر آئے ہو، پانچوں بھائی اسے آپس میں تقسیم کر لو۔ اس داستاں میں بیان کیا گیا ہے کہ ارجن نے کہا کہ اب ماں کا حکم کیسے ٹل سکتا ہے۔ یہ لڑکی تو اب پانچوں بھائیوں کی دلہن بنے گی۔ قصہ مختصر یہ کہ ایک رشی ویاس نے پچھلے جنم کی کوئی کہانی سنا کر کہا کہ اس لڑکی کی شادی پانچوں بھائیوں سے بیاہی جائے گی۔ اور ہر بھائی کی پاس ایک سال کے لئے رہے گی۔ اور باقی بھائی اس دوران اس کے بارے میں سوچیں گے بھی نہیں۔

یہ تو ایک اساطیری کہانی ہے۔ دنیا کے کئی معاشروں میں کم از کم اس بات کی اجازت ہوتی ہےکہ ایک مرد کی ایک سے زائد بیویاں ہوں۔ لیکن کیا دنیا میں ایسے معاشرے بھی موجود ہیں جن میں یہ رواج پایا جاتا ہے کہ ایک عورت کے ایک سے زائد خاوند ہوں؟ گو کہ بہت ہی کم معاشروں میں اس کا رواج ہے اور یہ رواج روز بروز کم ہوتا جا رہا ہے لیکن آج بھی دنیا میں ایسے معاشرے موجود ہیں جن میں ایک عورت کے ایک سے زائد خاوند ہو سکتے ہیں۔

 تبت، نیپال اور ہندوستان میں شامل ہمالیہ میں موجود آبادیوں میں بعض مقامات میں اس کا رواج آج بھی موجود ہے۔ چین کے بعض دورافتادہ علاقوں میں، بحرالکاہل کے بعض جزائر میں، جنوبی ہندوستان کے ٹوڈا آبادی میں، بھوٹان اور امریکہ کے اصل باشندوں کے بعض قبائل میں اس بات میں کچھ مضائقہ نہیں سمجھا جاتا کہ ایک عورت کے ایک وقت میں ایک سے زائد خاوند ہوں۔ اسی طرح وسطی افریقہ اور شمالی نائیجیریا کے بعض چھوٹے قبائل میں بھی اس کا رواج مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

ماہرین اس بات پر کافی بحث کرتے رہے ہیں کہ اس نے انسانی معاشرے کے ارتقاء میں کیا کردار ادا کیا ہے؟ اس ضمن میں ماہرین نے سب سے زیادہ تبت میں اس رواج کا جائزہ لیا ہے۔ 1989 میں لئے جانے والے ایک جائزے کے مطابق صرف تبت میں 28 مقامات پر یہ رواج موجود تھا۔ تبت میں یہ رواج تھا کہ سارے بھائی مل کر ایک عورت سے شادی کر لیتے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی تھی کہ اس طرح زمین تقسیم نہیں ہوتی اور پھر اس عورت سے پیدا ہونے والے بچے ایک ہی لڑکی سے شادی کر لیتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔

اس رواج کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ بہت سے مرد بدھ مت کے راہب بن جاتے تھے، تبت میں آبادی بہت کم ہو گئی تھی۔ لیکن باقی ایسےمعاشروں میں جہاں یہ رواج موجود رہا وہاں ضروری نہیں کہ ایک عورت تمام خاوند آپس میں بھائی یا قریبی رشتہ دار ہوں۔ اور ہمالیہ سے باہر جن علاقوں میں یہ رواج تھا ان معاشروں میں سے اکثر میں زراعت کی بجائے شکار یا جنگل سے خوراک جمع کرنے کا رواج تھا یعنی اس رواج کی وجہ یہ خوف نہیں تھا کہ خاندان کی زمین تقسیم ہو جائے گی۔

جن قبائل میں مردوں میں کسی وجہ سے شرح اموات زیادہ تھی وہاں یہ طریقہ رائج ہو گیا۔ اس طرح ایک باپ کے مرنے کی صورت میں دوسرا باپ بچوں کی نگہداشت کرتا رہتا تھا۔ یا جن معاشروں میں کسی وجہ سے مردوں کو بہت لمبے سفروں میں رہنا پڑتا تھا اور عورتیں تنہا رہ جاتی تھیں، ان قدیم معاشروں میں یہ رواج شروع ہو گیا۔ لیکن جن سوسائیٹوں میں اس کا رواج قائم بھی رہا وہاں بھی اس کی شرح چند فیصد سے زائد نہیں تھی۔

(Human Nature 23:2 (June 2012), pp. 149-172)

اس کی ایک اور صورت ہندوستان کے معاشرے میں بہت طویل عرصہ تک جا ری رہی ہے۔ اس بات کا ذکر ہم اپنےمعاشرے میں بہت سنتے ہیں کہ ایک شادی سے کسی مرد کے اولاد نہیں ہوئی تو اس نے دوسری شادی کر لی۔ اور ایسا بھی ہوتا کہ اس مرد کی دوسری شادی سے بھی کوئی اولاد نہیں ہوتی۔ لیکن اگر مرد کی وجہ سے اولاد نہ ہو رہی ہو تو اس کا کیا علاج ہے؟

ہندوستان کے قدیم معاشرے میں ایک طویل عرصہ تک یہ ضروری سمجھا جاتا تھا کہ کہ اولاد ہونا ضروری ہے ورنہ مکتی یعنی نجات نہیں ہو سکتی۔ اگر کسی کے اولاد نہیں ہو سکتی تو اس کا ” نیوگ ” کی رسم تھی۔ یعنی ایسے شخص کی بیوی اس کی بیوی تو رہتی تھی لیکن اپنے خاوند کی مرضی سے کسی اور شخص سے جنسی تعلق قائم کر لیتی تھی۔ اور اس طریق پر دس بچوں تک اولاد پیدا کر سکتی تھی۔ اور اس کی اولاد اس کے اصل خاوند کی طرف منسوب ہو تی تھی۔ اور اس کی جائیداد کی وارث ہوتی تھی۔

یہ شخص گھر میں آ کر اس عورت سے تعلق پیدا کرتا تھا اور اسے ” بیرج داتا ” کہا جاتا تھا۔ کیونکہ ہندوستان کا قدیم معاشرہ ذات پات کے طبقات میں تقسیم تھا، اس لئے اعلیٰ ذات کے لوگوں نے اپنے مفادات کے لئے یہ قانون بنایا ہوا تھا کہ (نام نہاد) اعلیٰ ذات کے مرد تو (نام نہاد) نیچ ذات کی عورتوں سے نیوگ کر سکتے ہیں لیکن نیچ ذات کے مرد اعلیٰ ذات کی عورتوں سے نیوگ نہیں کر سکتے۔ اگر کسی عورت کا خاوند تین سال سے سفر پر ہوتا تو اس کی بیوی اس شخص کی بیوی تو رہتی لیکن وہ کسی اور شخص سے نیوگ کا تعلق پیدا کر سکتی تھی۔ اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی اولاد اسی شخص کی ہوتی جس سے اس عورت کی شادی ہوئی تھی۔

اگر کسی عورت کا خاوند مر جاتا تو اس عورت کے لئے یہ پاپ سمجھا جاتا کہ وہ دوسری شادی کر لے لیکن وہ اپنے خاوند کے کسی بھائِی یا کسی اور رشتہ دار سے نیوگ کا تعلق پیدا کر کے بچے پیدا کر سکتی تھی۔ اور وہ مرنے والے خاوند کی طرف منسوب ہوتے تھے۔ اس کا رواج بہت دیر تک ہندوستان کے ہندو معاشرے میں موجود رہا۔ حتیٰ کہ پنڈت دیانند جو کہ آریہ سماج کی بانی تھے اور انہوں نے انیسویں صدی کے آخر میں لکھی جانی والی کتب میں اس طریقے کو رائج رکھنے پر بہت زور دیا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس رواج کی بنیاد عورتوں کا استحصال تھا۔

[ستیارتھ پرکاش مصنفہ پنڈت دیانند 1899 ص 146 تا 160]

یہ رواج دنیا میں برائے نام قائم تو رہا لیکن بہت ہی زیادہ محدود ہو گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایک عورت کے ایک سے زائد خاوند ہوں تو یہی تعین نہیں ہو سکتا کہ بچہ کس کا ہے؟ اور اس طرح اس کی جذباتی وابستگی کسی سے نہیں رہتی اور ایک طرح کوئی بھی مرد اس کا م ذمہ دار نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں مردوں کے تعداد ازدواج کی نسبت عورتوں کا تعداد ازدواج بہت محدود پیمانے پر ہوا ہے اور جہاں اسے جائز بھی سمجھا جاتا تھا وہاں بھی یہ جلد ختم ہوتا رہا ہے۔ گو کہ اب تک یہ رواج مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

(اس کالم میں اس رواج کا معاشرتی اورتاریخی جائزہ لیا گیا ہے۔ مذہبی بحث یا جائز و ناجائز کی بحث چھیڑنا مقصود نہیں۔)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •