کیا بیت گئی؟ قطرہ پہ گہر ہونے تک: غنی الاکرم سبزواری کی سوانح حیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کتاب ”کیا بیت گئی؟ قطرہ پہ گہر ہونے تک“ پروفیسر ڈاکٹر غنی الاکرم سبزواری صاحب کی خود نوشت سوانح حیات ہے جس کو انہوں نے بہت ہی مفصل انداز میں 19 مضامین میں تشکیل دیا ہے۔

سوانح حیات لکھنا اس اعتبار سے بھی مشکل ہے کیونکہ طویل کیرئر کا ہر واقعہ اپنے ذہن میں تازہ کرنا ، پھر اس کی اہمیت کو اجاگر کرنا  ، ان واقعات کی ترتیب اور پھر یہ خیال کرنا کہ سچ لکھا جائے اور مفصل بھی کیونکہ شائع ہونا ہے ، اس لئے اس کی شائستگی کو بھی برقرار رکھنا ہے اور قارئین کے لئے دلچسپ بھی بنانا ہے کیونکہ بیشتر لوگ ان واقعات میں دلچسپی نہیں رکھتے جن کا تعلق ان سے نہ ہو۔

اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے شعر و شاعری کا بھی بڑا خوبصورت امتزاج بنایا ، اس کے علاوہ طنز و مزاح اور لطیفے بھی شامل کیے ۔ ایسے واقعات جو حقیقت میں پیش آئے ہوں اور ہنسی مذاق کا حصہ بن جائیں بہت خوبصورت یادیں بن جاتی ہیں جن کو ڈاکٹر سبزواری صاحب نے اپنے قلم کے ذریعے بہت ہی پیارے، سادہ اور دل موہ لینے والے انداز میں محفوظ کر لیا ہے۔

سبزواری صاحب کی علم و ادب کے حوالے سے خدمات اس قدر ہیں کہ ان کو کسی تعارف کی ضرورت نہیں لیکن نئے پڑھنے والوں کے لئے مختصر سا تعارف پیش خدمت ہے۔

ڈاکٹر سبزواری صاحب 1935ء میں ہندوستان کے شہر مظفر نگر (یوپی) میں پیدا ہوئے۔ پاکستان اور امریکہ کے مشفق اور نامور اساتذہ سے فیض یاب ہوئے۔ علم کتاب داری کے معروف استاد اور لائبریرین کی حیثیت سے مختلف اداروں میں خدمت انجام دیتے رہے۔ جامع کراچی سے معاشیات میں ایم اے ، جامعہ مشیی گن امریکہ سے علم کتاب داری و معلومات میں ایم اے اور سنچری یونیورسٹی امریکہ سے پی ایچ ڈی کیا۔ امریکن انفارمیشن سنٹر کراچی میں ریڈر ایڈوائزر کی حیثیت سے 1956ء سے 1962ء، جامع کراچی شعبہ لائبریری سائنس میں اسسٹنٹ پروفیسر 1964 سے 1975ء ، صدر شعبہ لائبریری سائنس 1974ء سے 1975ء لائبریرین جامعہ ام القریٰ، مکہ المکرمہ سعودی عربیہ 1975ء سے 2002 تک خدمات انجام دیں۔

لائبریری سائنس اور دیگر موضوعات پر کتب لکھنے کے علاوہ رسائل اور اخبارات میں کافی عرصہ مضامین شائع ہوئے۔ آپ نے اپنے استاد محترم اور معتمد دوست واصل عثمانی سے مشورہ کے بعد ایک ادارہ لائبریری پروموشن بیورو کے نام سے 1966ء میں قائم کیا جس کا نام بھی آپ نے ہی تجویز کیا۔ یہ ادارہ علمی اور تحقیقی کام میں مشغول ہے اور اس ادارے کی زیر نگرانی اب تک 75 سے زائد کتابیں (انگریزی اور اردو ) شائع ہو چکی ہیں۔ ان کتابوں کی تفصیل بھی اس کتاب میں بیان کی گئی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر غنی الاکرم سبزواری صاحب نے اپنی تمام عمر انتہائی ایمانداری ، عجزوانکساری، صبروتحمل ، محنت،  استقلال ، مہمان نوازی اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے گزاری۔ علاوہ ازیں درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ بیرون ملک قیام کے دوران بھی اپنی ثقافت و تمدن اور اسلام کے طور طریقوں پر کاربند رہے اور اپنے کام سے وطن کا نام روشن کرنے میں مصروف عمل رہے۔

اس کتاب میں انہوں نے اپنے آباء و اجداد کے بارے میں مفصل لکھا ، اپنے بچپن کی یادداشتوں کو ماضی کے جھروکوں سے نکال کر قلمبند کیا۔ اپنی ابتدائی سے اعلیٰ تعلیم کے سفر ، ہجرت کے مسائل کو بیان کیا،  بتایا کہ کیسے انہوں نے اپنی تعلیم کے ساتھ خاندان کی کفالت کی ذمہ داری بھی اٹھائی ، نامساعد حالات میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑا اور اپنے عمل سے بتایا کہ کیسے مشکل سے مشکل حالات میں انسان مستقل مزاجی ، مثبت رویے،  محنت ، ہمت و حوصلے اور اللہ پر قوی یقین سے نبرد آزما ہو سکتا ہے۔

جب نیت صاف ہوتی ہے ، دل میں اللہ کا ڈر و خوف ہوتا ہے تب انسان خود کو اللہ کی نظر میں محسوس کرتا ہے ، لہٰذا کوئی غلط کام کر ہی نہیں سکتا۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ جیسے آج کل ہر کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہوتی ہے اور آپ کی حرکات و سکنات کو ریکارڈ کیا جاتا ہے بالکل اسی طرح دو فرشتے ہمہ وقت ہمارے ساتھ ہوتے ہیں جو ہر بات کو اپنے رجسٹر میں لکھتے جاتے ہیں اور یہ نامۂ اعمال اللہ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے پھر ہم کس منہ سے جھوٹ بولیں گے یا اس کا سامنا کر پائیں گے۔ جب یہ سوچ ہو گی تب ہم کبھی کوئی ایسا کام نہ کر پائیں گے جس سے اللہ اور اس کے نبیﷺ کے سامنے کوئی شرمندگی ہو۔ خود بھی ساری زندگی اسی سوچ پر کاربند رہے تبھی اللہ تعالٰی ان کے لیے رستے آسان بناتے گئے۔

رزق حلال کو اور محنت کر کے کمانے کو ساری عمر ترجیح دی۔ رشوت دی نہ لی بلکہ جہاں رشوت کا دور چلتا دیکھا وہاں سے استعفا دے کر گھر آ گئے ، حالات انتہائی دگرگوں اور مایوس کن تھے لیکن امید کا دامن نہ چھوڑا تبھی اللہ نے بھی اپنے گھر کے انتہائی قریب رکھا اور 27 سال مکہ میں نہ صرف رہنے کی سعادت نصیب ہوئی بلکہ حج عمرہ پر آنے والے بے شمار رشتہ داروں ، عزیز و اقارب اور دوست احباب کی میزبانی کا شرف بھی حاصل ہوا۔ خود بھی بے حساب حج اور عمرے ادا کیے ۔ یہ بھی اللہ کا خاص کرم ہے جو وہ اپنے بندوں کو نوازتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کو سیر و سیاحت کا بھی بے حد شوق رہا اور ہر سفر کی داستان انہوں نے بہت ہی عمدہ طریقے سے پیش کی حتیٰ کہ حج اور عمرے کی بھی تفصیلات ایسے لکھی ہیں کہ قاری خود کو وہیں محسوس کرتا ہے جیسا وہ سماں باندھتے ہیں۔ لکھنے کا انداز نہایت سادہ ، عام فہم اور دل موہ لینے والا ہے۔ سیاست اور ملکی حالات پر بھی بڑی گہری نظر رکھتے ہیں اور ہر دور کی بڑی خوبصورتی سے منظر کشی بیان کی ہے۔

ڈاکٹر سبزواری صاحب خوش قسمت تھے کہ ان کو شریک حیات بھی بہت اچھی ، نرم دل،  خدا ترس ، ملنسار، نیک سیرت اور اعلیٰ اخلاق کی مالک ملیں جنہوں نے ان کا بہت ساتھ دیا۔ علم و ادب کا بھی شوق رکھتی تھی حتیٰ کہ تصنیف و تالیف میں بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ محترمہ خود بھی لکھتی تھی کئی کتابوں پر ان کا لکھا تبصرہ بھی شائع ہوا۔

اپنے تمام دوست احباب ، کرم فرماؤں، مددگاروں اور رشتہ داروں کا ذکر بہت خوبصورتی سے کیا ہر ایک کو جوڑ کر رکھنا اور تفصیل سے بیان کرنا بہت محنت کا کام ہے۔

آپ کی سوانح حیات سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے یہ ایک مکمل گائیڈ لائن ہے کہ کیسے ہم اپنی زندگی کو گزار سکتے ہیں مشکل اور نامساعد حالات کے باوجود اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ اپنی سوچ کو مثبت رکھ کر اپنی توانائیوں کو صحیح راہ پر لگا کر ہم اپنا مقام بنا سکتے ہیں۔

اس خود نوشت سوانح عمری کو پاکستان اور دیگر ممالک کی لائیبریریوں میں دستیاب ہونا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ڈاکٹر صاحب کے تجربات سے استفادہ کر سکیں۔ ایسی کتابیں پڑھ کر نہ صرف قارئین کے علم میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ انہیں اپنی زندگی سنوارنے کے لئے گائیڈ لائن بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مشکل حالات میں ہمت و حوصلہ رکھنے اور سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب بھی ملتی ہے جو کہ آج کے وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •