سرخی (طنز و مزاح)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سرخی ہونٹوں کی ہو یا اخبار کی، نظریں سب سے پہلے ادھر ہی جاتی ہیں۔ اخبار کی سب سے بڑی سرخی آٹھ کالمی ہوتی ہے جبکہ خوبصورت ہونٹوں کی سرخی بڑی ظالمی ہوتی ہے۔ اپنی بیوی کی سرخی مشکل سے ایک کالمی نظر آتی ہے جبکہ کسی اور کی سرخی آٹھ کالمی ہونے کے ساتھ ساتھ ظالمی بھی لگتی ہے۔ سرخی واحد پراڈکٹ ہے جس پر تقریباً ہر خاتون کے نہ صرف جملہ حقوق بلکہ جمیلہ حقوق بھی محفوظ ہیں۔

اردو اخبار کی سرخی نکالنے میں عباس اطہر کو ید طولیٰ حاصل تھا جبکہ ہونٹوں سے سرخی اتارنے میں اداکار عمران ہاشمی کو ”لب طولیٰ“ حاصل ہے۔ ظالم ہر فلم میں سرخی ایک سے ایک طریقے سے اتارتا، اس کی ہیروئنیں فلم میں ایسے دو چار ایکسٹرا سین فرمائش کر کے ڈلواتیں تاکہ انہیں کچھ نہ کرنا پڑے جو کچھ بھی کرنا ہو عمران ہاشمی ہی کرے۔

آپس میں محبت کرنے والے جب تنہائی میں ملتے ہیں تو سرحدی جھڑپوں کے موافق محبتی چھیڑ چھاڑ کا آغاز سرخی والے محاذ سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں سے داد محبت دیتے اور آگے بڑھتے ہوئے اصل لڑائی مورچہ زن ہو کر کہیں کونوں کھدروں میں لڑی جاتی ہے۔

لپ اسٹک وہ اسٹک ہے جو ہر خاتون کے سنگھار کا بنیادی جزو ہے، وہ عورت ہی کیا جو سرخی نہ لگاتی ہو۔ عورت کی زیبائش کا آغاز سرخی سے ہی ہوتا ہے اور سرخی پر ہی ختم ہوتا ہے۔ سرخی وہی جو ہونٹوں کو چھو جائے اور دل کو لبھا جائے۔ نازنینوں کے نازک ہونٹوں پر لگی لپ اسٹک کسی بھی رنگ کی ہو، سرخی ہی کہلاتی ہے۔

جب سے لپ اسٹک ہونٹوں پر لگنا شروع ہوئی ہے، اس میں صرف موجودہ دور ایسا ہے یعنی کورونا کی وجہ سے لپ اسٹک کم استعمال ہو رہی ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کورونا کے ڈر سے نہ لپ اسٹک کھائی جا رہی ہے نہ دکھائی دے رہی ہے۔ لپ اسٹک کو مشترکہ ملکیت تصور کیا جاتا ہے۔ یوں مال مفت کھانے میں سرکاری فنڈ کے بعد لپ اسٹک کھانے کا نام آتا ہے مگر جب سے کورونا شروع ہوا ہے، اس میں کمی آ گئی ہے ورنہ اس سے پہلے ایک دوسرے کے ہونٹ بات بے بات چھو جاتے تھے۔

ہونٹ جب دوسرے ہونٹوں سے ملتے ہیں تو انہیں بوس و کنار کہتے ہیں، یعنی ہونٹ وہی ہیں جو دوسرے ہونٹوں میں پیوست ہو کر بحر بے کنار ہو جائیں۔ ہمارا دوست بوس و کنار کو ”باس و کنار“ کہتا ہے کیونکہ سب سے زیادہ باس ہی ”کنار و بے کنار“ ہوتے ہوئے ہونٹوں سے لپ اسٹک صاف کرتے ہیں۔ خوبصورت ہونٹوں پر سرخی لگی ہو تو دانت کھل اٹھتے ہیں، اگر یہی سرخی شوہر کی شرٹ پر لگی ہو تو دانت ہل جاتے ہیں۔

اخبارات کی سرخیاں کبھی حکمرانوں، کبھی اپوزیشن اور کبھی عوام پر بجلیاں گراتی ہیں، وہیں گلاب چہروں کے حسیں لبوں کی سرخی عاشقوں پر ایسا ایسا ظلم ڈھاتی ہے کہ خدا کی پناہ۔ ایسے ہی کسی حسینہ سے عاشق نے کہا کہ

سبب ہم نے پوچھا ہونٹوں کی لال سرخی کا
کہا ظالم نے طنز سے تمہارا خون پیتے ہیں

پہلے زمانے میں محبوبائیں اپنے محبوب کو رومال پر سرخ پھول کاڑھ کر بھیجا کرتیں یا پھر رومال پر ہونٹوں کی سرخی کا نشان بنا کر بھیجتیں۔ آج کل یہ سرخی واٹس ایپ، ان باکس یا براہ رست پہنچ جاتی ہے۔

ہونٹ کو لب بھی کہتے ہیں، بچپن میں جب لفظ ”لب سڑک“ کہیں پڑھتے یا سنتے تو سمجھ نہیں آتی تھی کہ لب اور سڑک کا کیا تعلق ہے لیکن انگلینڈ کے سفر نے اس لفظ کی وضاحت خوب اچھے طریقے سے کرا دی، جب کوئی جوڑا سڑک پر لب سے لب ملاتا تو اس لفظ کی تشریح خوب سمجھ آتی، جب ان کے لب آپس میں ملتے تو ایسے میں ہم بس کچیچیاں ہی وٹ سکتے اور تو اور جب وہ جپھیاں ڈالتے کڑاکے ہمارے نکل جاتے۔

پہلے نازک اور پتلے پتلے ہونٹ اپنی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہوتے تھے۔ موجودہ دور میں موٹے اور بھربھرے ہونٹ بنانے کا فیشن زوروں پر ہے۔ اب لڑکیاں ایسے ایسے ہونٹ بنواتی ہیں جیسے لگتا ہے چہروں کی ”بل“ فائٹنگ ہونے لگی ہے۔ (پنجابی میں ہونٹ کو ”بل“ کہتے ہیں )

شاعروں نے ہونٹوں پر بے شمار اشعار کہے ہیں، میر تقی میر کا شعر زبان زد عام ہے۔
نازکی اس لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

لیکن پنجابی شاعر نے تو سرخ ہونٹوں پر شعر کہہ کر بات ہی ختم کر دی۔
لالی تیرے بلاں دی
ایسی تیسی پھلاں دی
(لالی تیرے ہونٹوں کی، ایسی تیسی پھولوں کی)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •