کیا چین امریکہ کے برعکس ایک ’سوپر سولجر‘ بنانے میں کامیاب ہو جائے گا؟
وسائل کی فراوانی اور دوسری فوجوں پر سبقت حاصل کرنے کی خواہش نے دنیا بھر کی فوجوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے نیا اسلحہ بنانے کی طرف راغب کیا ہے۔ چاہے وہ سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی ہو یا عام۔
ڈک ٹیپ کی ہی مثال لے لیجیے۔ یہ امریکہ کی الانوئے آرڈیننس فیکٹری کی ایک ورکر کی تجویز پر بنائی گئی تھی جس کے بیٹے دوسری عالمی جنگ کے دوران نیوی میں تعینات تھے۔ انھیں ایسے فوجیوں کی فکر تھی جو فائرنگ کے دوران ایمیونیشن باکسز کو بند کرنے کے لیے پیپر ٹیپ کا سہارا لیتے تھے جو نہ تو پائیدار تھی اور نہ ہی واٹر پروف تھی۔
ایسے میں ویسٹا سٹاؤٹ نےایک تجویز دی کہ وہ ایک کپڑے کی واٹر پروف ٹیپ بنائیں گی۔ وہ اپنے سے بالا افسران کی حمایت حاصل کرنے میں تو ناکام رہیں لیکن پھر جب انھوں نے اس وقت کے صدر روزویلٹ کو خط لکھا تو انھیں کامیابی ملی اور انھوں نے فیکٹریوں سے ان کے آئیڈیا کو حقیقت میں بدلنے کا حکم دیا۔ اگر ایک فوجی ضرورت کے باعث ہمیں ٹیپ مل گئی تو یہ اور کیا کچھ ایجاد ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
چینی کمپنی ہواوے، روبوٹ کا بازو اور ہیروں کا شیشہ
میزائل سسٹم خریداری پر امریکی پابندیاں، ترکی کی جوابی اقدام کی تنبیہ
امریکی فوجی کتوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی والے چشمے
سنہ 2014 میں ایک نئے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے صدر باراک اوباما نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ’میں یہاں اس بات کا اعلان کرنے آیا ہوں کہ ہم آئرن مین بنانے جا رہے ہیں۔ اس وقت اس بات پر قہقہے سنائی دیے تھے لیکن امریکی صدر سنجیدہ تھے۔ امریکی فوج نے اس منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے یہ دراصل ایک حفاظتی لباس ہے جسے ٹیکٹیکل اسالٹ لائٹ آپریٹر سوٹ (ٹیلوس) کہا جاتا ہے۔
اس کی تشہیر کے لیے بنائی جانے والی ویڈیو میں اس لباس کو پہننے والے کردار کو دشمن کے مورچوں میں گھستے دکھایا گیا ہے اور اس کے لباس سے گولیاں ٹکرا کر گر رہی ہیں تاہم آئرن مین نہ بن سکا۔ پانچ برس کے بعد یہ منصوبہ اپنے اختتام کو پہنچا تاہم اس کے بنانے والوں کو امید تھی کہ اس میں استعمال ہونے والے انفرادای پرزوں کی افادیت کہیں اور بھی ہو گی۔
ایگزوسکیلیٹنز ان متعدد ٹیکنالوجیز میں سے ہیں جن پر دنیا بھر کی افواج کام کر رہی ہیں تاکہ اپنے فوجیوں کی صلاحیتوں میں جدت لائی جا سکے۔ جدت کا حصول کوئی نئی بات نہیں، زمانہ قدیم میں بھی فوجیں اسلحہ، لباس اور ٹریننگ میں جدت لانے کی کوشش کرتی رہی ہیں تاہم آج جدت کا مطلب ایک فوجی کو بہتر بندوق دینے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ایک فوجی میں تبدیلی لانا بھی ہو سکتا ہے۔
سنہ 2017 میں روسی صدر ولادیمر پتن نے خبردار کیا تھا کہ شاید انسان جلد کچھ ایسا ایجاد کر دے جو ’ایک جوہری بم سے کہیں زیادہ خطرناک‘ ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ انسان شاید ایک ایسا انسان ایجاد کر دے جس میں کچھ خصوصیات ہوں، نہ صرف مفروضے کی حد تک بلکہ حقیقت میں بھی۔ وہ کوئی شاندار ریاضی دان بھی ہو سکتا ہے، ایک بہترین گلوکار بھی یا ایک ایسا فوجی جو بغیر کسی خوف، ہمدردی، افسوس اور درد کے لڑ سکتا ہے۔
گذشتہ برس امریکہ کے ڈائریکٹر برائے نیشنل انٹیلیجنس (ڈی این آئ) جان ریٹکلف چین پر الزام لگانے میں ایک قدم آگے چلے گئے۔ انھوں نے امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل میں لکھتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ ’چین نے اس وقت پیپلز لبریشن آرمی کے فوجیوں پر ٹیسٹنگ کا عمل شروع کر دیا ہے جس کے تحت فوجیوں کی صلاحیتوں کو بائیولاجیکلی بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بیجنگ کے سامنے طاقت کے حصول کےلیے کوئی اخلاقی حدود نہیں ہیں۔‘
چین کی جانب سے اس تحریر کو ’جھوٹ کا پلندا‘ قرار دیا گیا ہے۔ جب امریکہ کی نئی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس بھی اپنے پیشرو والی سوچ رکھتی ہیں تو ان کے دفتر کا کہنا تھا کہ انھوں نے تاحال اس حوالے سے کوئی بیان تو نہیں دیا تاہم ان کے چین کا ایک خطرہ ثابت ہونے سے متعلق بیان کی جانب اشارہ ضرور کیا۔
جہاں بائیڈن انتظامیہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایجنڈے کے اکثر نکات کو تبدیل کر دیا ہے تاہم چین کے ساتھ تناؤ مستقبل میں امریکی خارجہ پالیسی کا جز رہے گا۔ عزم اور حقیقت یقیناً دنیا بھر کی افواج یہ چاہیں گی کے صفوں میں ایک ’سوپر سولجر‘ موجود ہو جو درد، شدید سرد موسم اور نیند جیسی انسانی ضروریات کو پسِ پشت ڈال سکے۔
تاہم امریکہ کی جانب سے ’آئرن مین‘ بنانے کی ناکام کوشش ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ٹیکنالوجی میں سقم ایسے عزائم کو ختم کر سکتا ہے۔
سنہ 2019 میں دو امریکی محققین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں کہا گیا تھا کہ چینی فوج ’جینیاتی تبدیلی‘، ایگزوسکیلیٹنز اور انسان اور مشین کی شراکت جیسی ٹیکنالوجی پر زور و شور سے کام کر رہی ہے تاہم یہ رپورٹ بنیادی طور پر چینی ملٹری سٹریٹیجسٹس کی جانب سے دیے گئے بیانات پر مبنی تھی۔
یہ رپورٹ لکھنے والوں میں سے ایک ایلسا کانیا کو مسٹر ریٹکلف کے بیانات کے حوالے سے شبہات ہیں۔ کینیا جو ایک سینٹر فار نیو امیریکن سکیورٹی کی سینئر فیلو ہیں کہتی ہیں کہ ’یہ بہت ضروری ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ چینی فوج کیا بات چیت کر رہی ہے اور کیا بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے تاہم یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان عظائم میں اور اس وقت ٹیکنالوجی کیا کر سکتی ہے میں کتنا فرق ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حالانکہ دنیا بھر کی افواج ’سپر سولجر‘ کے تصور کے بارے میں خاصی دلچسپی رکھتی ہیں تاہم آخر کار وہی ہو سکتا ہے جو سائنسی اعتبار سے ممکن ہے، چاہے وہ کوئی بھی کر رہا ہو۔‘ خیال رہے کہ مسٹر ریٹکلف کا اشارہ ادھیڑ عمر افراد پر ٹیسٹنگ کا تھا۔ جہاں ادھیڑ عمر افراد میں جینیاتی تبدیلی کے ذریعے کچھ چیزیں تبیل کی جا سکتی ہیں وہیں یہ بات بھی ذہن نشین کرنی ہو گی کہ ماں کے پیٹ میں موجود بچے کے ڈی این اے میں تبدیلی ہی ایک ’سوپر سولجر‘ بنانے میں ایک اہم قدم ہو سکتا ہے ۔
ڈاکٹر ہیلن او نیل کنگز کالج لندن میں مالیکیولر جینیاتی ماہر ہیں کہتی ہیں کہ سوال یہ نہی ہے کہ ایسا ممکن ہے یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا سائنسدان اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کے تیار ہیں انھوں نے کہا کہ ’اس ٹیکنالجی یعنی جینیاتی تبدیلی کی تکنیک کے ذریعے ذراعت اور ٹرانسجینکس کے شعبے میں تسلسل کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے تاہم ان دونوں کے مرکب کا انسانوں میں استعمال پر اخلاقی اعتبار سے سوالیہ نشان موجود ہیں۔
سنہ 2018 میں چینی سائنسدان ہی جیانکوئی نے ایک حیران کن اعلان کیا اور بتایا کہ انھوں نے ماں کے پیٹ میں موجود دو جڑواں بچیوں کے ڈی این اے میں تبدیلی کر کے انھیں ممکنہ طور پر ایچ آئی وی کا شکار ہونے سے محفوظ رکھا ہے۔
تاہم اس پیشرفت کے بعد خاصا غم و غصہ پایا گیا۔ ایسی جینیاتی تبدیلی پر متعدد ممالک میں پابندی لگائی جا چکی ہے جس چین بھی شامل ہے۔ اس کا استعمال صرف ’آئی وی ایف ایمبریوز‘ میں کرنے کی اجازت ہے اور وہ بھی اس وقت جب انھیں فوراً تلف کر دیا جائے اور بعد ازاں بچہ بنانے میں استعمال نہ کیا جائے۔ اس سائنسدان نے اپنے ’کارنامے‘ کا دفاع کیا تاہم حکومت کے احکام کی خلاف ورزی کرنے پر انھیں جیل جانا پڑا۔
اس تحریر کے لیے جتنے بھی افراد سے بات کی گئی انھوں نے ہی جیانکوئی کیس کو بائیوایتھکس میں ایک اہم لمحہ قرار دیا۔ سائنسدانوں نے بعد یہ بھی رپورٹ کیا کہ نہ صرف اس عمل کے ذریعے ایچ آئی وی سے بچاؤ ممکن ہے بلکہ اس سے ذہنی اعتبار سے بہتری بھی لائی جا سکتی ہے۔
ہی جیانکوئی نے کرسپر ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ان دو جڑواں بچوں کے ڈی این میں رد و بدل کیا جو کہ خلیوں میں موجود ڈی این اے میں خاص تبدیلی لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے کچھ خصوصیات کو نکالا جا سکتا ہے اور اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے سائنسدان خاصے پرامید ہیں کہ اس کے ذریعے جینیاتی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کا علاج کیا جا سکتا ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ یہ فوج کے لیے کیا کر سکتا ہے؟لندن میں فرانسز کرک انسٹیٹیوٹ میں کام کرنے والے سینیئر ریسرچ سائنٹسٹ کرسٹوفی گیلیشیٹ ’کرسپر‘ کو ایک’انقلابی‘ تکنیک قرار دیتے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کی بھی حدود ہیں۔ انھوں نے اس کی مثال مائیکروسافٹ ورڈ فائل میں استعمال ہونے والے ’فائنڈ اینڈ ریپلیس‘ یعنی ڈھونڈ کر تبدیل کرنے والی آپشن سے کیا۔ تاہم جو چیز ایک ٹیکسٹ میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہے، ضروری نہیں ہے کہ وہ دوسرے میں بھی ہو۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ بات سوچنا غلط ہے کہ کچھ جینز کے ایک جیسے ہی اثرات ہوتے ہیں۔
اگر آپ ایک ایسا جین لیتے ہیں جس کے ذریعے آپ کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور آپ اونچائی پر بہتر انداز میں سانس لے سکتے ہیں۔ تاہم مستقبل میں ہو سکتا ہے کہ اس شخص کو کینسر ہو جائے۔‘اسی طرح کچھ خصوصیات کو ایک پیرائے میں دیکھنا بھی غلط ہے۔
مثال کے طور پر متعدد جینز قد سے متعلق اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی طرح متعدد خصوصیات جو اگر تبدیلی کی جائیں تو وہ کئی نسلوں میں منتقل ہوتی ہیں۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ چین کے یہ اقدامات دراصل امریکہ کے ردِعمل میں ہیں۔
سنہ 2017 میں دی گارڈیئن کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی فوج لاکھوں ڈالر جینیاتی تبدیلی کی ٹیکنالوجی کے لیے مختص کر رہی ہے جس کے ذریعے حملہ آور انواع کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ تاہم اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کی فوجی استعمال بھی ہو سکتے ہیں۔
چین اور امریکہ ہی وہ ممالک نہیں ہیں جو اس ضمن میں برتری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ فرانس کی فوج کو بھی ‘اینہانسڈ سولجرز’ یعنی خصوصی فوجی بنانے کی منظوری دی گئی ہے تاہم ساتھ ہی اس تحقیق کے دوران اخلاقی حدود بھی وضع کر دی گئی ہیں۔ فرانس کے وزیرِ دفاع فلورینس پارلی کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں حقیقت کو مدِ نظر رکھنا ہو گا۔ ہر کوئی ہمارے جیسے اخلاقی اقدار نہیں رکھتا اس لیے ہمیں اس کے لیے تیار رہنا ہو گا جو مستقبل میں ہو سکتا ہے۔’ اگر سائنسدان کسی فرد کی خصوصیات کو بہتر بھی بنا دیں تب بھی اس کا عسکری شعبے میں استعمال مزید مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ مثال کے طور پر کیا فوج کے احکامات پر عمل کروانے والے ڈھانچے میں موجود ایک فوجی آزادانہ طور پر اس بات کی اجازت دے سکے گا کہ وہ اس ممکنہ طور پر خطرناک علاج کروائے۔ اطلاعات کے مطابق چین اور روس نے اپنے فوجیوں پر کووڈ ویکسینز کے لیے تجربے کیے ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ اخلاقیات کے پروفیسر جولیئن سیوولیسکو کا کہنا ہے کہ ‘افواج اس لیے قائم نہیں کی جاتیں کہ وہاں ایک فوجی کا مفاد دیکھا جائے، بلکہ اس لیے کہ جنگ جیتی جائے یا سٹریٹیجک برتری حاصل کی جائے۔’
انھوں نے کہا کہ ‘ایک فوجی پر ڈالے جانے خطرات کی ایک حد تو ہو سکتی ہے لیکن یہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو معاشرے کے عام لوگوں پر مسلط کیے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی بھی شخص کے لیے ایسا فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے فوائد اور نقصانات پر غور کرنا بہت ضروری ہے تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ظاہر ہے کہ فوج میں چیزیں مختلف ہوتی ہیں اور فوجیوں کو خطرات تو مول لینے پڑتے ہیں لیکن اس کے فوائد نہیں۔
فوجیوں کو خطرناک صورتحال میں رکھا جاتا ہے جس کے دوران موت کے امکانات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر ایسی ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کے بچنے کے امکانات بڑھ سکیں تو یہ خوش آئند بات ہے۔
پروفیسر پیٹرک لِن جو کیلیفورنیا پولیٹیکنک سٹیٹ یونیورسٹی سے فلسفی کے طور پر منسلک ہیں کہتے ہیں کہ یہ سب اتنا سادہ نہیں ہے۔ ’فوجیوں کی خصوصیات بہتر بنانے کا مطلب ہے کہ ان پر تجربہ کرنا اور ان کی زندگیاں خطرے میں ڈالنا اور ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ بہتر خصوصیات کے بعد یہ فوجی کتنے محفوظ ہوں گے۔ شاید اس کےبالکل برعکس انھیں مزید خطرناک مشنز پر بھیجا جائے اور شاید ان کے ذریعے مزید چانسز لیے جائیں جو عام فوجی کے ساتھ نہیں لیے جاتے۔‘
کیپٹن امریکہ تو نہ بن سکا لیکن ہر وقت کسی حیران کن پیش رفت کے امکانات موجود رہتے ہیں۔
پروفیسر سیوولیسکو کا کہنا ہے کہ ’ملٹری میں کوئی اخلاقی یا جمہوری کنٹرول رکھنا بہت مشکل ہے کیونکہ یہاں معلومات خفیہ رکھنے اور قومی مفاد کو محفوظ رکھنے کی بات کی جاتی ہے۔‘


