ویلنٹائن ڈے اور محبت کی مختصر نظمیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چودہ فروری کی آمد آمد ہے۔ چاہت کے قدموں کی دھیمی دھیمی چاپ سنائی دے رہی ہے اور ساری دنیا کے عشاق محبت کی مختصر نظمیں تلاش کر رہے ہیں تا کہ اس موقع پر اپنی محبوباؤں سے اپنے رومانوی جذبات کا برملا اظہار کر سکیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ اردو شاعری کی زنبیل محبت کی مختصر نظموں سے بھری پڑی ہے۔ آج میں آپ سے منیر نیازی کی ایک ایسی مختصر نظم شیر کرنا چاہتا ہوں جس کے صرف تین مصرعے ہیں

مجھے تم سے محبت ہے
بس اتنی بات کہنے میں
لگے بارہ برس مجھ کو

نفسیات کا طالب علم ہونے کے ناتے میں سوچتا ہوں کہ آخر کسی عاشق کو اپنی محبوبہ سے یہ بات کہنے کو اتنا طویل عرصہ کیوں لگا؟

کیا وہ عاشق بزدل تھا؟
کیا وہ شرمیلا تھا؟
کیا وہ کسی نفسیاتی مسئلے کا شکار تھا؟

یا وہ خوفزدہ تھا کہ کہیں اس کی محبوبہ الجھ نہ پڑے۔ اکھڑ نہ جائے اور اس کی کسی بھری محفل میں توہین و تذلیل نہ کر دے۔

بدقسمتی سے ہمارے مشرقی معاشرے میں محبت کا تعلق ہوس ’شہوت‘، بے شرمی و بے غیرتی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اسی لیے نیک خاندانوں کے سپوت اس کا اظہار کرتے ہوئے شرماتے اور گھبراتے ہیں۔

اگر محبت کرنے والی عورت ہو تو اس کے لیے اپنی چاہت کا اظہار اور بھی مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ روایتی لوگ ایسی عورت کو بدکردار سمجھنے لگتے ہیں۔ مشرقی لڑکیوں کو بچپن سے شادی کے خواب دکھائے جاتے ہیں محبت کے نہیں۔ انہیں بتایا اور سمجھایا جاتا ہے کہ محبت کرنا گناہ ہے۔ اور جب وہ لڑکیاں ایک اجنبی سے شادی کر لیتی ہیں اور محبت کی راہ تکنے لگتی ہیں لیکن جب ان کا شوہر ان سے یا تو محبت نہیں کرتا یا نہیں کر سکتا تو وہ دلبرداشتہ ہو جاتی ہیں۔ بہت سی بیویاں تو رو دھو کر بغیر محبت کی شادی کو قبول کر لیتی ہیں اور بعض کسی اور کے شوہر سے محبت کی پینگیں بڑھانے لگتی ہیں۔

بعض دانشووں کا خیال ہے کہ محبت ایک آزاد پرندہ ہے جو شادی کے پنجرے میں بند ہونے کے بعد اداس ہو جاتا ہے۔ محبت کے پرندے کو شادی کے پنجرے میں بند کرنے کے بعد بھی چوری کھلا کھلا کر خوش رکھنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔

اردو ادب میں بھی سب باتیں اشاروں کنایوں تشبیہوں استعاروں میں کی جاتی ہیں اور محبت کے رومانوی اظہار کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ مصطفیٰ زیدی نے شادی شدہ عورت شہناز گل کے عشق میں نام لے کر پانچ نظمیں لکھیں تو لوگ بہت حیران ہوئے۔ انہیں یقین ہی نہ آیا کہ کوئی اردو کا شاعر یہ لکھ سکتا ہے

فنکار خود نہ تھی میرے فن کی شریک تھی
وہ روح کے سفر میں بدن کی شریک تھی
اس پہ کھلا تھا باب حیا کا ورق ورق
بستر کی ایک ایک شکن کی شریک تھی۔

منٹو نے اپنے افسانوں میں محبت کا کھل کر اظہار کیا تو اس پر فحاشی کے مقدمے اور فتوے لگتے رہے۔ منٹو کو جب ایک معترض نے یہ شعر سنایا

ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس
آہ بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار

تو منٹو نے فرمایا کہ جب ایک کبوتر کسی خوبصورت کبوتری کو دیکھ کر غٹر غون کہتا ہے اور ایک گھوڑا کسی الھڑ گھوڑی کو دیکھ کر ہنہناتا ہے تو اگر کسی مہ رخ ’دلفریب اور دلنواز دختر خوش گل کو دیکھ کر کوئی شاعر کوئی رومانوی غزل لکھ دیتا ہے تو اس میں کیا مضائقہ ہے۔

محبت ایک فطری جذبہ ہے اور وہ لوگ جنہوں نے اس جذبے کو ساری عمر نہیں محسوس کیا، انہیں ضرور کسی ماہر نفسیات سے مشورہ کرنا چاہیے۔

ماہرین نفسیات ہمیں بتاتے ہیں کہ اپنے جذبات کا فطری اظہار انسانوں کی ذہنی صحت کے لیے بہت اہم ہے اور ہر قوم کے شاعر ادیب اور دانشور انہیں سمجھاتے ہیں کہ مہذب انسان بننے کے لیے انہیں جذبات کا تخلیقی اظہار سیکھنا ہوگا۔

جب غالب فرماتے ہیں “عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب”، تو وہ محبت کی نفسیات کی گتھی سلجھا رہے ہوتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر قوم کے ادیب اور شاعر ’فنکار اور دانشور اس قوم کے ماہرین نفسیات ہوتے ہیں جو انہیں جذبات کا تہذیب یافتہ اظہار سکھاتے ہیں۔

چونکہ انسان حیوان ناطق ہے اس لیے اس نے اپنے جذبات کے اظہار کے کئی دلچسپ طریقے وضع کیے۔

ایک وہ زمانہ تھا جب انسان اپنے جذبات کا اظہار غاروں کی دیواروں پر تصویریں بنا کر کرتا تھا۔ پھر وہ دور آیا جب آوازوں نے حرفوں کا، حرفوں نے لفظوں کا، لفظوں نے مصرعوں کا اور مصرعوں نے محبت بھری نظموں کا روپ دھارا۔

ہر عہد کے شاعر محبت کی نظمیں لکھ کر عوام کی جذباتی تربیت کرتے ہیں تا کہ عوام سیکھ جائیں کہ محبت کا بھی ایک سلیقہ ہوتا ہے، ایک اہتمام ہوتا ہے۔ محبت کی بھی ایک تہذیب ہوتی ہے رکھ رکھاؤ ہوتا ہے۔ محبت میں بھی عزت نفس کا خیال رکھا جاتا ہے۔

عارفؔ عبدالمتین کے دو اشعار پیش خدمت ہیں
میں تمہیں ڈھونڈنے نہ نکلوں گا
سوچ کر مجھ سے تم جدا ہونا
لوٹ آئی ہو چشم نم لے کر
خوش نہ آئی ہوا زمانے کی

وہ لوگ جو روایتی محبت کے قائل ہیں اور محبوب کے عشوہ و غمزہ و انداز و ادا پر اپنی جان اور اپنی عزت قربان کر دیتے ہیں وہ شاید ایسے عاشق کو مغرور سمجھیں اسی لیے عارفؔ فرماتے ہیں

ناداں ہیں جو کہتے ہیں کہ مغرور ہے عارفؔ
ہم نے تو اسے پایا ہے اک بندہ خود دار

ایسی شاعری جذبات کی ہی نہیں، شخصیت کی بھی تربیت کرتی ہے اور سکھاتی ہے کہ محبت کسی کمزوری یا مجبوری کا نام نہیں۔ کسی اندھے جذبے کی دیوانگی کا نام نہیں۔ محبت دو باعزت انسانوں کا باہمی احترام اور پیار کا رشتہ ہے جس میں وہ دونوں ایک دوسرے کی زندگیوں میں مسرت اور شادمانی اور سرشاری اور وارفتگی کا پیغام لے کر آتے ہیں اور ایک دوسرے کو بہتر انسان بننے کی تحریک دیتے ہیں۔

ہزاروں سالوں کے ارتقا کے سفر میں انسانوں نے آوازوں کو لفظوں، لفظوں کو مصرعوں اور مصرعوں کو نظموں میں ڈھالا۔ یہ سفر صدیوں کا سفر تھا۔ اس طرح شاعروں نے عوام و خواص کے جذبات و احساسات و خیالات کو بڑے سلیقے سے نظموں کے روپ میں پیش کیا۔ اگر منیر نیازی کا ادب اور نفسیات کے ساتھ ساتھ سماجیات اور انسانی ارتقا سے بھی گہرا لگاؤ ہوتا تو ان پر منکشف ہوتا کہ اپنے محبوب سے

مجھے تم سے محبت ہے
کہنے میں انسانوں کو بارہ برس نہیں بارہ ہزار برس لگے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 399 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail