سوشل میڈیا پر مردوں اور عورتوں میں نوک جھونک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب بھی سوشل میڈیا کھولا، بہت سی پوسٹ اور کمنٹس پہ نظر پڑی۔ کہیں مرد کی سفاکی کا دکھ تھا تو کہیں عورت کی بے وفائی کا رونا تھا۔ کہیں عورتوں پہ طعنہ زنی کا بازار گرم ہوتا ہے تو کہیں مردوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہوتا ہے۔

خواتین کے مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کی جائے تو مرد حضرات پتھر مار کے اڑائی جانے والی شہد کی مکھیوں کی طرح ڈنک مارتے نظر آتے ہیں۔ تو کہیں مرد کے حق میں کوئی پوسٹ دیکھ کہ خواتین کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ مگر ان سب حالات میں کون خاموش رہتا ہے؟ وہ انسان خاموش رہتا ہے جو جانتا ہے کہ عورت کا مقام کیا ہے اور مرد کا کیا رتبہ ہے۔ جو تصویر کے دونوں رخ دیکھنے کا عادی ہو۔

ہر بات کا مقصد منفی خیالات اجاگر کرنا نہیں ہوتا ہے۔ دنیا کے سب مرد برابر نہیں ہیں اور نہ ہی تمام خواتین دودھ کی دھلی ہیں۔ میرے مطابق اگر مرد غلط ہے تو قصور صنف نازک کا بھی ہے۔ چند جاہل لوگوں کی وجہ سے معاشرے میں بگاڑ لانے کی بجائے وسعت نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تصویر کے دونوں رخ دیکھنے کی عادت اپنائیے۔

نہ تو زمانے کے تمام مرد برے ہیں نہ ساری عورتیں۔ دنیا میں ایک توازن ہے، اگر تمام مرد اچھے ہو جائیں اور تمام خواتین بری تو نظام قائم نہیں رہے گا، یہی حال تصویر کے دوسرے رخ کا بھی ہے۔

اگر خواتین کے حق میں آواز اٹھائی جائے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ ہمارے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے یا ہم ناشکری کر رہے ہیں بلکہ ہم ان لوگوں کی آواز بننا چاہ رہے ہوتے ہیں جن کی زبانوں پہ انگارے رکھ دیے جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ برائی معاشرے کے ہر مرد میں نہ ہو لیکن کچھ تو جاہلیت کا مظاہرہ کر ہی جاتے ہیں۔ اس کا قطعی یہ مقصد نہیں کہ خواتین مظلومیت کا مظاہرہ کرنا چاہ رہی ہیں۔ ارے عورت تو کبھی مظلوم بن ہی نہیں سکتی، اسے اسلام نے جو حقوق دیے ہیں، ان کا مقابلہ دنیا کی کوئی تنظیم، کوئی عدالت نہیں کر سکتی ہے اگر سمجھنا چاہو تو۔

بالکل اسی طرح ہر مرد برا نہیں ہوتا ہے۔ نسلی اور اصلی مرد کبھی بھی عورت کو ایذا نہیں پہنچاتا۔ تاریک پہلو دیکھنے کے ساتھ ساتھ روشن پہلو کو بھی ملحوظ خاطر رکھا کیجیے۔ جہاں مردوں کی برائی کی بات کی جا رہی ہو لازمی نہیں کہ آپ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس لیے بن بلائے مہمان کی طرح ہر فیس بک پوسٹ پہ گھسنے سے گریز کیجیے۔

دنیا کی تمام خواتین بری نہیں ہیں۔ ہو سکتا جس سے آپ کا پالا پڑا ہو اس میں خرابی ہو لہٰذا عورتوں پہ انگلی اٹھانے سے پہلے جانچ پڑتال کر لیجیے کہ ان کا مقصد کیا ہے۔ پھر ہی لبوں کو گفتار کی زحمت دیجیے۔ سب کے انگور کھٹے نہیں ہو سکتے ہیں۔

معاشرے کے جن مردوں کو آپ برا بھلا کہتے ہیں، اسی معاشرے میں آپ کے بھائی، باپ، شوہر اور بیٹا بھی موجود ہیں۔ اگر آپ معاشرے کے مردوں کو ٹھیک نہیں کر سکتیں تو بطور ایک ماں اپنے بیٹوں کی اچھی تربیت کیجیے۔ اور معاشرے کی جن خواتین کو آپ کوس رہے ہیں جناب۔ انہی میں آپ کے گھر کی خواتین بھی شامل ہیں تو بہتر ہے کہ اپنی بہن بیٹی کی تربیت پر توجہ دیجیے نہ کہ طعنوں میں بجھے لفظوں کے نشتر اٹھا معرکہ آرائی کے لیے امڈ آئیں۔

ہر انسان اپنے دائرے میں محو گردش ہے اور اپنے اپنے نیوکلیئس کے مطابق اپنی سوچ کا تعین کرتا ہے تو بہتر ہے رائے کا احترام کیا جائے نہ کہ ایک مدار سے کود کر دوسرے میں جانے کی تگ و دو کی جائے۔

بطور ایک انسان دوسرے انسان کی عزت کیجیے چاہے وہ مرد ہے یا عورت۔ انسان کو انسان سمجھیے۔ یہ جنگ ختم کرنا ناگزیر ہے۔ صرف ناسور کو ہی کاٹیے، پورے بدن کو کاٹنے سے جان کے ضیاع کا خدشہ ہے۔ معاشرہ ایک جسم ہے اور ہم سب اس کے اعضا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •