کورونا اور حجامت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز قبل فیس بک پر ایک عزیز نے کورونا لاک ڈاؤن کی ایک مہربانی، اپنے انتہائی بڑھے بال دکھائے۔ پچھلے برس ہمارے پچیس سال کے تازہ دم جوان دکھنے والے وزیر اعظم ٹروڈیو بھی اپنی تازہ رکھی داڑھی سفید بالوں کی جھلکی کے ساتھ تروتازہ کورونا لاک ڈاؤن کا نتیجہ بڑھے لمبے بغیر حجامت سر کے بالوں کے ساتھ پینتالیس سال ہی کے نظر آئے تھے۔ جانے کیوں اچانک قرۃ العین حیدر کا وہ بہت ضخیم ناول ”آگ کا دریا“ ذہن میں گھوم گیا۔ جس کی بنیاد یہ فلسفہ ہے کہ وقت اور واقعات ایک جیسے ہیں مگر شکل زمانہ بدلتے وہ مختلف کرداروں اور ماحول میں ڈھلے ملتے ہیں۔

انیس سال قبل دسمبر کے آخری ہفتہ میں کینیڈا میں وارد ہوتے ہی پیش آمدہ ترجیحی امور میں ضروری کاغذات کے علاوہ یہاں کا ڈرائیونگ لائسنس لینا تھا۔ تحریری امتحان تو پاس کر لیا۔ مگر بائیں ہاتھ چلتی ٹریفک سے دائیں ہاتھ چلتی ٹریفک میں مہارت کے لئے کچھ دن درکار تھے۔ رہائش شہر سے کئی کلو میٹر باہر اپنے گیس سٹیشن کے اپارٹمنٹ پر تھی۔ پریکٹس ہوتے ہی عملی امتحان کا سوچا تو محکمے کا عملہ ہڑتال پہ جا چکا تھا۔ اور یہ کوئی آٹھ نو ماہ چلی۔

بال کٹوانے کا سوچا۔ نئے نئے آئے۔ شہر سے نا واقف۔ پولیس کا انتہائی خوف۔ نشان لگا نقشہ ساتھ بیگم کو ہدایت کہ ہر موڑ کراسنگ وغیرہ پہ دائیں طرف ٹریفک۔ محتاط۔ کا نعرہ لگائے۔ نصف گھنٹہ کا سفر سوا گھنٹہ میں کرتے پاکستانی ہیئر ڈریسر (اب ہم کو حجام یا باربر شاپ بھولنا تھا) کے پاس پہنچے ایک گھنٹہ بعد باری آئی۔ یوں کوئی چار گھنٹہ بعد جل تو جلال تو کرتے کراتے بدھو خیر سے واپس پہنچنے پہ شکر کر رہے تھے۔

ڈیڑھ دو ماہ بعد پھر ہمت نہ پڑی تو غسل خانہ میں آئینہ کے سامنے کرسی ڈالی۔ تازہ خریدی ساتھ اضافی ایڈجسمنٹ والی بال کاٹنے کی مشین کی ہدایات پڑھیں۔ ذہن میں پینسٹھ سال قبل جھال خانوآنہ فیصل آباد پر نہر کے سامنے اپنی دکان کے باہر درخت کے نیچے کرسی میز ڈالے ”نائی“ تاج کو یاد کیا کہ وہ دو آنے لے کس کس پوز سے کس طریق سے کس ایکشن سے حجامت بناتا۔ ساتھ ہی یاد آیا کہ اس کی زیادہ آمدنی تو دوسرے شہروں سے آئے ایک ایک مضافاتی دکان یا کمرہ میں چھ آٹھ رہنے والے مزدور کاریگروں کو استرے کرائے پر دینے کی تھی۔

جو نہر کے دوسرے کنارے چادر ٹینٹ کی طرح اوڑھے بیٹھے نظر آتے اور کچھ دیر بعد نہر میں چھلانگ لگا نہاتے مزے لیتے۔ کبھی ہم تاج کو پھوڑوں کی جراحی کرتے مرہم لگاتے سپرٹ میں بھگوئی روئی رکھ پٹی باندھتے اور کبھی بیماریوں کے لئے طبی نسخے لکھواتے دیکھتے۔ پھر ہم نے ڈی گراؤنڈ کا پہلا وہ نفیس ماہر ماسٹر محمد دین حجام یاد کیا جس کی صاف ستھری دکان عرصہ تک آج کل ناشتہ حلوہ پوری نان پائے وغیرہ کی دکانیں لئے گلی کے کونے پہ تھی (اب شاید وہ ایک دکان چھ سات کیبن میں بدل گئی ہے۔) وہ صبح تین چار کوٹھیوں میں گھر جا کر سیٹھ صاحبان کی شیو یا حجامت بنا کر دکان پہ آتا۔ ساٹھ کی دہائی کے اوائل میں چھ آنے دے کر اس کے تیز ماہرانہ گھومتے ہاتھوں کی چال یاد کی۔ اور اب ڈی گراؤنڈ سے پچھلی گلی کے میٹھی گفتگو والے تمیز دار ہیئر ڈریسر عارف کے چلتے ہاتھ تصور میں لائے جہاں یہاں آتے وقت تک جایا کرتے۔ اب ہم ذہنی طور پر خود کو نائی یا حجام یا باربر یا ہیئر ڈریسر میں ڈھال چکے تھے۔ سائیڈوں سے خود پہلے سب سے باریک اور پھر اس سے موٹی اور پھر اور موٹی اور پھر سر کے اوپر سب سے موٹی ایڈجسٹمنٹ لگا ( ایک انچ ) لمبائی تک کاٹتے آدھ پون گھنٹہ ٹھیک کرتے دیکھا تو اپنی شکل شناسا اور کچھ بہتر ہی نظر آئی۔ بیگم صاحبہ کو بلایا گیا۔ اب وہ باورچی خانہ چلاتی خاتوں اپنا ایپرن باندھے میرے پیچھے کھڑی ہے۔ اور میں اسے مشین چلانا سکھاتے پیچھے کنگھی رکھ بتا رہا ہوں کہ یہاں تک باریک مشین پھیریں اور ان کا اصرار کہ نہیں میں تو اتنا اور اوپر لے جاؤں گی۔ اب

سر جھکے ہوئے ہیں اور خنجر تنے ہوئے ہیں
مقتل کا کھنچ رہا ہے منظر تری گلی میں

والا معاملہ تھا۔ ہار تو مقدر تھی۔ لہذا ہم صرف ایڈجسٹمنٹ لگاتے اور وہ اپنی مرضی چلاتیں۔ اچانک یاد آیا کہ حجام کے پاس تو ایک اور آئینہ بھی ہوتا تھا جو پیچھے سے دکھا ہمیں پوچھتا ٹھیک ہیں۔ چنانچہ ڈھونڈ ڈھانڈ فالتو آئینہ لا دیکھا تو لگا کہ۔ ”چیز کچھ ٹھیک ہی نکل آئی ہے“ ۔ وہ دن گیا اور آج کا کہ آج تک دوبارہ ”بیوٹی سیلون“ کا رخ نہیں کیا۔ کچھ ہم ماہر ہو گئے کچھ بیگم۔ وقت ڈیڑھ گھنٹے سے نصف گھنٹہ پہ آ چکا البتہ وہ کامیاب مرد کے جھکے سر کے پیچھے ہونے والا ہاتھ ابھی بھی اپنی مرضی سے چلتا ہے۔

ایک دن بیگم حساب لگا رہی تھیں، کہ پہلی بار چار گھنٹے اور چالیس کلومیٹر ڈرائیو کے تھے چلو اب ڈھائی گھنٹے اور دس کلو میٹر کا پٹرول لگائیں اور پندرہ سے اٹھارہ ڈالر فی حجامت لگائیں تو وقت کی قیمت لگاتے انیس سال میں کتنی بچت ہوئی۔ شکر ہے حساب ہوتے ہی توجہ کہیں اور بدلنے میں کامیاب ہو گئے۔ ورنہ پتہ نہیں کتنے ہزار ڈالر دینا پڑ جاتے۔

(نوٹ: “چیز کچھ ٹھیک ہی نکل آئی ہے”۔ ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں میرے ظریف طبع کزن نشاط ملز کے پرچیزر کی حیثیت سے برانڈرتھ روڈ لاہور پہ گزرتے ہوئے فین بیلٹ کے کوئی پچاس کے پیٹے والے دکاندار کا استرے سے تازہ منڈا ہوا دور سے چمکتا نظر آتا سر دیکھ ان کے قریب آئے اور نہایت ادب سے سر کی طرف اشارہ کرتے عرض کیا ”چاچا جی۔ پیسے تو لگے ہوں گے مگر چیز بہت اچھی نکل آئی ہے“۔)

اب کورونا کا سخت لاک ڈاؤن تمام کاروبار بند کرتے لمبا ہوا۔ تو گھر کے افراد کے بال بھی لمبے ہو گئے۔ تب یوم حجامت منانے کا پروگرام بنا۔ کمپیوٹر ٹیبل کی گھومنے والی کرسی لا رکھی گئی۔ پہلے بہو بیگم نے قینچی لئے اپنے بال کاٹے۔ پھر توجہ سے بیٹی کی اس کی خواہش کے مطابق کٹنگ کی۔ اور اس دوران ماں بیٹی کی ویسی ہی بحث سنائی دی جیسے ہم میاں بیوی کی ہوتی ہے تو کچھ تسلی ہوئی۔ اب بیٹا کرسی پہ بیٹھا تھا اور ہماری مہارت کام آ رہی تھی۔ ساتھ بہو کی ہدایات آ رہی تھیں۔ انکل یہاں سے بال چھوٹے کریں۔ قلمیں یہاں تک رکھیں۔ اور ہمارا بیٹا ہماری طرح سر جھکائے۔ ہاں ابو ایسے ہی کر دیں۔ کہتا جاتا۔

سب سے اہم مرحلہ دو سالہ پوتے کا تھا۔ کچھ ہفتے قبل ساس بہو نے کوشش کی تھی اور اس کا رو رو برا حال تھا۔ ہم نے پوچھا کہ آپ جب اس کو وہ بریملی شاپنگ مال کے بے بی سپیشلسٹ کے ہاں لے جاتی ہیں تو وہ کیا کرتے ہیں۔ اب صورت حال یہ تھی کہ آئی پیڈ پہ صاحب بہادر کی پسندیدہ بچوں کے ویڈیو گیت لگے ہوئے ہیں۔ دادی چڑیا آئی کوا آیا کر رہی ہیں کبھی تالی بجا رہی ہیں بیٹا اپنے بیٹے کو گود میں لئے بیٹھا ہے اور ہم بال کاٹنے میں مصروف ہیں۔

اس کی بڑی پھوپھو بھی آئی ہوئی تھی۔ سب کی ہدایات جاری ہیں۔ کبھی اس کی ماں قینچی چلا رہی ہے اور پھوپھو بہلا رہی ہے اور جب دوسری طرف سے اس کی پھوپھو نے مشین پکڑ لی کہ وہ آئر لینڈ میں اپنے بچوں پر پریکٹس کر چکی تھی۔ تو ہم یعنی دادا ابو اچھل کود میں مصروف تھے۔ بہر حال صاحب بہادر کے رونے کی آواز سے بچ جانے کی خوشی میں سالگرہ کیک کی طرح پورے خاندان کی ”ہیپی حجامت ٹو یو“ کے انداز میں تالیاں بجاتے یہ مر حلہ طے ہوتے ہم اب اپنی حجامت بناتے سے زیادہ بنواتے فارغ ہو کر غسل کے لئے جا چکے تھے۔

شاور سے نکلتا گرم پانی خدائے برتر کی عطا کردہ ان ان گنت نعمتوں کا شکر ادا کرتے اچانک پھر باسٹھ تریسٹھ سال پیچھے لے گیا جب ہم ناولوں افسانوں تاریخ کی کتابوں میں بغداد بصرہ قرطبہ قسطنطنیہ وغیرہ کے شاہی حماموں کی داستانوں سے مرعوب زیر تعمیر (مدتوں قبل ریکس مارکیٹ بن جانے والا) ریکس سنیما کے سامنے تازہ کھلے ”شاہی گرم حمام اینڈ ہیئر کٹنگ سیلون“ میں گرم حمام کا مزا لینے گھسے تھے۔ پچھلی دیوار کے ساتھ ایک کونے پر اونچائی پر دو ڈرم پانی والے نیچے تندور نما لکڑیوں کا چولہا۔

لٹکے ہوئے خشک ہوتے تولیے۔ نلکا چلاتے ڈرموں میں پانی ڈالتا لڑکا ملحقہ دو غسلخانوں کے دروازے اور دوسری دیوار کے ساتھ لگے آئینہ لگے میزوں کے سامنے کرسی پہ حجامت بنواتے اور پیچھے کرسیوں پہ بیٹھے ایک دو منتظر گاہکوں کے ساتھ محلہ بھر کے چنیدہ سیاست دان ایک اخبار کا ہر ورق علیحدہ علیحدہ ہاتھوں میں تھامے دنیا کے احوال پر تبصرے کرتے بیٹھے تھے۔ پانچ آنے دے شاہی گرم حمام میں گھسے تو سامنے نکلتے پائپ میں ٹونٹی کی جگہ لکڑی کی کلؔی یا گلؔی نما ٹکڑا نظر آیا جس کو نکالنے اور بند کرنے اور احتیاط کی ریہرسل پہلے ہی باہر کرا دی گئی تھی۔

دہائیاں قبل کیے اس شاہی حمام کے غسل کا سواد یہاں شاور بند کرتے ختم ہو چکا تھا۔ تاج نائی۔ ماسٹر محمد دین حجام۔ عارف ہیئر ڈریسر۔ اور شاہی حمام کے سب کردار ایک ہی غسل خانہ میں اکیلے ادا کرتے یہ بندہ سامنے پڑے آئی پیڈ دیکھ عمرو عیار کی زنبیل یاد کر رہا جس میں دنیا بھر کی ہر آج وجود میں آنے والی ایجاد سمائی تھی۔ ( اب اسے پیش گوئی کہہ لیں یا تصور کی معراج کہ آج انسان اسی زنبیل کو کمپیوٹر کی شکل میں ڈھال چکا ) اور ہمارا ذہن پھر اس ضخیم ناول کی تھیم کی طرف جا چکا تھا۔ کہ وقت اور واقعات اپنے اپنے آپ کو دہراتے رہتے ہیں۔ بس زمانے کا چلن بدلنے کے ساتھ کردار اور ان کے دہرائے جانے انداز بدل جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply