چھتیس سال کی عمر میں سولہ سالہ محبت اور ویلنٹائن ڈے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ انٹرنیٹ پر ویلنٹائن کارڈز سرچ کر رہی تھی تاکہ سب سے خوبصورت اور بھرپور جذبوں کا ترجمان کارڈ فائز کو بھیج سکے۔

اف میرے خدا چھتیس سال کی عمر میں سولہ سالہ رومانس؛ ساحرہ نے چھتیس سال پر زور دیتے ہوئے ایک بار پھر اسے گھرکا۔ اس کے لہجے میں بیزاری بھی تھی اور سرزنش بھی۔ اسے حریم کا اپنے شوہر کے لئے یوں مر مٹے جانا بڑا ہی کھلتا تھا۔ بھلا شادی کے دس سال بعد بھی کوئی میاں پر یوں فریفتہ رہتا ہے چند سال گزرنے کے بعد جذبات کا جوار بھاٹا سکوں پذیر ہو جاتا ہے اور پھر میاں بیوی بس گاڑی کے دو پہیوں کی طرح چلتے ہیں ساتھ ساتھ مگر الگ الگ۔

مگر یہاں تو کہانی ہی انوکھی تھی ایسی وارفتگی تو سولہ برس کے عشق میں بھی نہ ہوگی جیسی حریم کی اپنے شوہر کے لئے برستی تھی۔ عشق کی چنگاری دہکتے رہنے کی وجہ شاید یہ تھی کہ فائز کو اپنی نوکری کے سلسلے میں زیادہ تر گھر سے دور رہنا پڑتا تھا کبھی ہفتوں کبھی مہینوں میں جب وہ لوٹتا تو گھر عید کی طرح سج جاتا پردے تبدیل ہوتے دلکش پلنگ پوش اور حسین کراکری نکالی جاتی گلدان میں پھول سجتے غرض گھر بھر کی نرگسیت چونچال ہو جاتی اور گویا آتش ابھی گل بھی نہ ہوتی کہ وہ لوٹ جاتا۔

حریم ہر روز تیار ہو کر سیلفی لیتی اور فائز کو پوسٹ کر دیتی ساحرہ چڑ جاتی اسے تو یہ سب چھچھوراپن لگتا اور وہ دریدہ دہنی سے حریم کو سنا بھی دیتی۔

”مجھے یہ بتاؤ یہ ہر روز تصویر بھیجنا کیا ضروری ہے“
اور حریم مسکراتے ہوئے پروین شاکر کا شعر پڑھتی
اجنبی لوگوں میں ہو تم اور اتنی دور ہو
ایک الجھن سی رہا کرتی ہے روزانہ ہمیں
مطلب؟ ساحرہ نے استفسار میں آبرو کمان کیے۔
مطلب یہ کہ
میں یہاں ہوں یہاں ہوں یہاں۔ وہ گنگنائی
تاکہ انہیں یاد رہے اور وہ کسی اور طرف نہ دیکھیں۔
”اللہ کرے ایسا ہی ہو مگر یوں بھی ہو سکتا ہے کہ روز روز دیکھ کر اکتا جائے“
”کیوں مجھ میں کوئی کمی ہے“

”مرد فطرتاً وحدت کا قائل نہیں ہوتا محض ذائقہ بدلنے کے لئے بھی منہ مار لیتا ہے۔ ساحرہ کی ایسی باتیں اسے کبیدہ خاطر کر دیتیں۔ فائز سے ذکر کیا تو اس نے کہا اس کے ساتھ ایسا ہوا ہوگا سارے مرد ایسے نہیں ہوتے اور وہ مطمئن ہوجاتی۔

٭٭٭٭             ٭٭٭٭
چمکدار دن ڈھل گیا تھا اماوس کی رات اتر آئی تھی پچھلے دنوں چاند چپ دریا میں ڈوب گیا تھا اتنا اندھیرا تھا کہ حریم کو اپنا آپ سجھائی نہیں دیتا تھا بجلی تھی یا نہیں مگر اس نے لائٹ جلانے کی کوشش بھی نہیں کی تھی اس کا بس چلتا تو اپنے پانچوں حواس کہیں گروی رکھ آتی وہ کچھ دیکھنا سننا نہیں چاہتی تھی۔ اجنبی نمبر سے واٹس اپ کیے آڈیوز نے اس کو اس طرح گھائل کیا تھا جیسے ململ کو کانٹوں کی باڑھ پہ گھسیٹا جائے۔ آڈیوز کے ساتھ میسیج تھا

”یہ آپ کے شوہر کے کرتوت ہیں۔ اپ کا شوہر مجھے گندے میسیجز بھیجتا ہے رات کو کالیں کرتا ہے۔“

اس نے آڈیو پلے کیے۔ آواز فائز سے ملتی تھی مگر گفتگو اتنی لچر اور اخلاق باختہ تھی وہ یقین نہیں کر پائی کہ یہ اس کا شوہر ہی بول رہا ہے یا کوئی دھوکہ ہے۔ انتہائی عامیانہ انداز میں بوس و کنار کی طلب تھی نیند چرانے کا شکوہ تھا بیوی کی سرد مہری اور بے اعتنائی اور نا آسودہ خواہشوں کا جھوٹا رونا تھا۔ آخر مرد بیوی کا جھوٹا رونا رو کر ہی کیوں دوسری عورت کو دامن گیر کرنا چاہتا ہے کیا ایسا کر کے وہ اپنے ضمیر کو تھپکی دیتا ہے یا پھر دوسری عورت کا جذبہ ترحم ابھار کر خواہش نفسانی پوری کرنا آسان ہوتا ہے۔

اس نے اس عورت کی ڈی پی کھولی اور سکتے میں رہ گئی وہ کوئی جواں سال نوخیز و حسین دوشیزہ نہیں تھی کہ نظر چندھیا گئی ہوگی تصویر میں تیس پینتیس سال کی چٹے رنگ کی میک اپ سے لتھڑے ہوئے چہرے والی عورت کا عکس تھا کھلے گلے کی قمیص سے صلائے عام دیتی نسوانیت اور بھنچے ہوئے پتلے عیار لب۔

طبیعت اور بھی مکدر ہو گئی تکلیف اور بھی سوا ہو گئی
”ہائے فائز آپ نے مجھے کند چھری سے ذبح کیا“
وہ تڑپ کے چلائی اور روتی چلی گئی۔ اس نے سارے میسیجز فائز کو فارورڈ کر دیے۔

٭٭٭٭        ٭٭٭٭

بیڈروم کے دروازے پر دستک سے آنکھ کھلی تھی فائز دروازے کے وسط میں کھڑا باریابی کی اجازت طلب کر رہا تھا جیسے کہ جان چکا ہو کہ اپنے پن کا حق کھو چکا ہے۔

”آ جائیں“
کیا ہم۔ بات کر سکتے ہیں

نہیں۔ قطعیت سے ادا کیے گئے نہیں میں اتنی سرد مہری تھی کہ فائز کی ریڑھ کی ہڈی میں سرایت کر گئی۔ وہ پائینتی پڑی راکنگ چئر ہر ڈھے گیا۔ حریم نے منہ پھیر لیا۔ کمرے میں کچھ دیر سناٹا رہا پھر وہ خود کلامی کے انداز میں بولا

”میں نے کچھ نہیں کیا“

اور جیسے کسی نے حریم کے دل میں تیر پیوست کر دیا وہ کسی زخمی شیرنی کی طرح اٹھی اور فائز کے رخسار پر ایک زناٹے دار تھپڑ جڑ دیا

”اتنی اخلاقی جرات تو رکھتے کہ جو کیا ہے اس کا اقبال کر لیتے“

وہ ہل گیا خوگر عشق سے ایسی توقع کہاں تھی مگر اس نے کوئی ری ایکشن نہیں دیا بس سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ راکنگ چئر پر زورزور سے جھولنے لگا۔

”وہ ایک ہو کر (hooker) ہے۔ میں نے سنا تھا کہ اس طرح کے گروپ متحرک ہیں جو مردوں کو پھنسا کے مال اینٹھتے ہیں مگر میں کس طرح اس جال میں آ گیا مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔ کال اس نے کرنا شروع کی تھی پھر جذبات انگیختہ ٹک ٹاک ویڈیو بھیجے اور پھر اپنی برہنہ تصاویر۔ ویڈیو کال پر وہ کچھ کرتی جس کا ہر مرد اندر سے خواہشمند ہوتا ہے مگر تہذیب بیوی سے ڈیمانڈ نہیں کرنے دیتی۔ میں مانتا ہوں یہ میری ہی آواز ہے مگر میں نے کیسے کہا میں نہیں جانتا۔

وہ مجھ سے اچھی خاصی رقم اینٹھ چکی تھی کبھی بیٹی کی فیس کے نام پر کبھی کسی اور بہانے سے۔ اور آخر جب میں نے اسے مزید پیسے دینے سے انکار کیا تو اس نے دھمکی دی کہ وہ میرے میسیجز تمہیں فارورڈ کر دے گی میں نے کہا تمہارے بھی تو میسیجز اور تصویریں ہیں تب اس نے قہقہہ لگا کر کہا میں چند ہی سیکنڈ کے بعد ڈیلیٹ کر دیتی تھی۔

حریم نے انگشت اٹھا کر کہا

”تو آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مرد Pavlov کا کتا ہے کہ گوشت کا ٹکڑا دکھایا جائے تو رال ٹپکاتا پیچھے چل پڑے۔ شہوت انسان اور جانور دونوں میں ہوتی ہے لیکن آدمی اور جانور میں فرق کنٹرول کا ہے اگر آدمی اکساہٹوں کو رد نہ کر سکے تو کاہے کا اشرف المخلوقات۔“

”تم بالکل ٹھیک کہ رہی ہو مجھ سے بھول ہوئی پلیز مجھے معاف کردو وہ ہاتھ جوڑے اس کے قدموں میں بیٹھ گیا
” دیکھو جو ہوا اسے بھول جاؤ ایک دو ٹکے کی عورت کے لئے اپنی ازدواجی زندگی کو تاراج مت کرو“
اور جیسے حریم کو کسی سانپ کی لپلپاتی زبان چھو گئی ہو

”صرف عورت کو ہی کیوں دو ٹکے کی کہا جاتا ہے جو مرد اس کا شریک کار ہوتا ہے وہ کیوں دو ٹکے کا نہیں ہوتا۔

دو ٹکے کی عورت نے آپ کو دھیلے کا نہیں رکھا جب چاہا کھیلا جب چاہا کھوٹے سکے کی طرح اچھال دیا۔
”تم۔ میری بے عزتی کر رہی ہو“

میں نے اپنی خطا تسلیم کی معافی بھی مانگ لی اس کے بعد بھی اگر تم میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتیں تو مجھے چھوڑ سکتی ہو۔ میں واپس جا رہا ہوں جو فیصلہ کرو گی مجھے قبول ہوگا۔ لمبے ڈگ بھرتا وہ کمرے سے نکل گیا حریم اس کی پشت پر نظر جمائے دالان عبور کر کے صدر دروازے تک جاتا دیکھتی رہی سیاہ لوہے کا زنگ آلود کنڈہ کڑاکے سے کھلا اور کھلے دروازے کے حاشیے سے گزر کر فائز کا وجود نظر سے اوجھل ہو گیا۔

گیند اس کے کورٹ میں پھینک کر فائز جا چکا تھا اور اسے ایک ایسی پل صراط پر چھوڑ گیا جس کے دونوں طرف جہنم تھا اگر اسے چھوڑ دیتی تو مر جاتی اور ساتھ رہتی تو اپنی خودی کو مار دیتی

وہ بیک وقت محبت اور نفرت کے تلاطم میں ڈول رہی تھی کیا اس کی پشیمانی اور ندامت پر یقین کر کے اسے معاف کر دے اور اگر ایسا نہ کرے تو کیا اس کے بغیر جی پائے گی۔

فون کی گھنٹی بج رہی تھی دوسری طرف ساحرہ تھی سوچا اپنا دل ہلکا کر لے لیکن پھر ٹھہر گئی محبت کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں کچھ آداب ہوتے ہیں برسوں جسے دل کے سنگھاسن پر بٹھایا ہو اسے یوں رسوا تو نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن میں مرد و زن کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے۔ لباس تو عیب چھپاتا ہے عیب مشتہر نہیں کرتا۔ یوں بھی ساحرہ ہمیشہ اس کے سولہ سالہ عشق کا مذاق اڑاتی تھی۔ ادھر ادھر کی باتیں کر کے فون بند کر دیا۔

تبھی دروازے پر دستک ہوئی شاید فائز واپس آ گیا ہو۔ سوچتے ہوئے اس نے دروازہ کھولا لیکن فائز نہیں بڑی آپا تھیں محلے بھر کی بڑی آپا۔ بڑی شفیق خاتون تھیں حریم ہمیشہ ان سے مل کر بہت خوش ہوتی۔ آج باتیں کرتے بار بار کہیں گم ہو جاتی اندر کی کلفت اس کے روئیں روئیں سے مترشح تھی بڑی آپا کی جہاندیدہ نظر کیسے نہ جان پاتی

کیا بات ہے اتنی پریشان کیوں ہو
”بتانے سے مسئلہ حل نہ ہو تو بتا کے کیا کرنا بڑی آپا“

بڑی آپا اسے گہری نظروں سے دیکھتی رہیں پھر اسے گلے لگا کر بولیں ”تم بتانا نہیں چاہتیں تو اصرار نہیں کروں گی لیکن ایک بات یاد رکھو کوئی چیز ہمیشہ نہیں رہتی اچھی نہ بری وقت کا بہاؤ اسے بہا لے جاتا ہے جو لمحہ آج تمہیں اذیت دے رہا ہے وہ بھی گزر جائے گا اور آنے والا وقت اچھا ہوگا انشا اللہ“ ۔ ان کے شفقت بھرے لمس سے وہ بھری ہوئی گاگر کی طرح چھلک اٹھی۔

٭٭٭٭      ٭٭٭٭

جانے کتنے روز ہو گئے تھے کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا آواز تک نہ سنی تھی بات تو ہو جاتی بھلے سے لڑائی ہوتی مگر وہ تو بالکل ترک تعلق کر بیٹھا تھا جیسے کہ بھول گیا ہو۔ فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا۔ اور یہ بہت اذیت ناک تھا وہ تو سمجھتی تھی عورت ایسی غلطی پر دل کے دروازے مقفل کر لیتی ہے مگر ایسا نہیں ہوا تھا نارسائی کی دکھن بے وفائی کی چبھن سے بڑھ گئی تھی۔

وہ باورچی خانے میں چائے بنا رہی تھی کہ فون کی گھنٹی کی آواز سنی دل نے کہا فائز کا فون ہے وہ چولہا بند کر کے اندر کی جانب دوڑی مبادا فون کٹ جائے اور پھر وہ دوبارہ نہ کرے۔

ادھر فائز ہی تھا ”کیا فیصلہ کیا تم نے؟“
”کیا فیصلہ چاہتے ہیں آپ؟“

”میں تو تمہارا ساتھ چاہتا ہوں میں چاہتا ہوں اس قصے کو بھلا کر آگے بڑھیں میں تمہارا ہوں اور تم سے ہی میری زندگی ہے۔ غلطی ہو گئی اس کی پشیمانی ہے اسی لئے تمہارا طمانچہ برداشت کیا حقارت بھرے جملے سنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور کیا چاہتی ہو تم“

اگر یہ غلطی مجھ سے ہوتی تو؟
”بخدا معاف کر دیتا محبت میں کوئی خطا ناقابل معافی نہیں ہوتی“

بیت سا دھواں چھٹ گیا تھا اپنی ذات سے نکل کر دوسرے زاویے سے مشاہدہ کرو تو منظر بدل جاتا ہے واقعی اس نے اس کی کتنی تذلیل کی تھی مردانہ آنا کے پھن کو محبت کے مضبوط پنجے میں دبوچے آج پھر محبت کی شیرینی کا پیالہ تھامے اذن باریابی چاہتا تھا۔

”ایک شرط پہ معاف کر سکتی ہوں“
”وہ کیا“
آپ سگریٹ چھوڑ دیں گے ہمیشہ کے لئے ”اور وہ ہنس پڑا میں سمجھا کوئی ڈائمنڈ کا سیٹ مانگو گی
” بس میری یہ شرط ہے،“
”اچھا دیکھتے ہیں۔ سنو میں کل آؤں گا۔ یاد رکھنا کل ویلنٹائن ڈے ہے
٭٭٭٭        ٭٭٭٭
گھر بھر کی نرگسیت چونچال ہو گئی تھی ہر طرف سرخ رنگ کی بہار تھی سرخ مخملی پردے اور سرخ پلنگ پوش۔ گلدان میں سرخ گلاب دہک رہے تھے۔ اطلاعی گھنٹہ چہچہائی اس نے دوڑ کر دروازہ کھولا۔ وہ سامنے تھا کچھ کہے بنا اس نے بازو وا کیے اور وہ اس میں سما گئی
فائز نے جیب سے ایک ڈبہ نکال کر اسے تھمایا۔
Happy valentine ’s Day
وہ ایک خوبصورت لاکٹ تھا دو دل ایک وائٹ گولڈ ایک روز گولڈ ڈائمنڈ کی قطار سے جڑے ہوئے تھے
پہنائیے نا
چھتیس سال کی عمر میں وہ سولہ سال کی دوشیزہ کی طرح اٹھلائی۔
بھلا عمر سے کیا ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply