کیا آپ ماہر نفسیات R۔ D۔ LAING کی تخلیقات اور خدمات سے واقف ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


مرزا غالبؔ فرماتے ہیں
میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

ایک وہ زمانہ تھا جب ذہنی مریضوں کو پاگل اور دیوانہ کہا جاتا تھا۔ گلی کے بچے انہیں پتھر مار کر ان کا مذاق اڑاتے تھے اور محلے کے بزرگ ان کے پاؤں میں زنجیر ڈال کر کسی پاگل خانے چھوڑ آتے تھے اور بقیہ زندگی کے لیے بھول جاتے تھے کیونکہ ان کا کہنا تھا

دیوانے کے ہمراہ بھی رہنا ہے قیامت
دیوانے کو تنہا بھی تو چھوڑا نہیں جاتا

پھر وہ دور آیا جب ذہنی بیماریوں کے بارے میں سائنس ’طب اور نفسیات نے تحقیق کی اور ان کا ادویہ‘ تعلیم اور تھراپی سے علا ج دریافت کیا۔

اگر ہم بیسویں صدی کے ان ماہرین نفسیات کا جائزہ لیں جنہوں نے ذہنی مریضوں کو عوام و خواص میں عزت و احترام کا درجہ دیا تو ان میں آر ڈی لینگ کا نام بہت نمایاں ہوگا۔ لینگ نے ہمیں بتایا کہ ذہنی مریض جب زندگی کا توازن قائم کرنے کی کوشش میں ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں تو وہ کسی اور ہی خیالی اور تصوراتی دنیا کی سیر کرنے چلے جاتے ہیں اور جب لوٹتے ہیں تو زندگی کی ایسی بصیرتوں کے تحفے لے کر آتے ہیں جن سے عام لوگ ساری عمر محروم رہتے ہیں۔

مغربی دنیا میں سلویا پلیتھ ’ورجینیا وولف‘ ارنسٹ ہیمنگوے اور ونسنٹ وین گو اور مشرقی دنیا میں میر تقی میر اور جون ایلیا کی قبیل کے کئی ادیب اور شاعر ’فنکار اور دانشور ایسے تھے جنہوں نے اپنی ذہنی بیماری سے استفادہ کرتے ہوئے کئی فن پارے اور شہ پارے تخلیق کیے۔ لینگ نے سکزوفرینیا کے مریضوں کے بارے میں ایک ایسی کتاب THE DIVIDED SELF لکھی جسے نفسیات کا کوئی سنجیدہ طالب علم نظر اندز نہیں کر سکتا۔

لینگ 1927 میں سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسکو میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد ایک انجینئر تھے جبکہ ان کی والدہ نفسیاتی مسائل کا شکار تھیں۔ لینگ کو نوجوانی سے ہی ادب عالیہ ’موسیقی اور فلسفے کا شوق تھا۔ لینگ نے طب کی تعلیم حاصل کی اور پہلے ڈاکٹر اور پھر سائیکاٹرسٹ بنے۔

لینگ نے ذہنی امراض کے کئی ہسپتالوں میں کام کیا اور ذہنی مریضوں کے تفصیلی انٹرویو لیے۔ ان انٹرویوز کی بنیاد پر انہوں نے ذہنی امراض۔ خاص طور پر۔ سکزوفرینیا۔ کی نئی تعبیر اور تفہیم پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ذہنی مریضوں کے ذہنی تجربات اور واردات قلبی کے بارے میں سنجیدہ رویہ رکھنا چاہیے اور ان سے عزت و احترام سے پیش آنا چاہیے۔

لینگ نے کئی اور غیر روایتی ماہرین کے ساتھ مل کر نفسیات کے علم کی نئی تشریح پیش کی اور کئی رازوں سے پردہ اٹھایا۔ انہوں نے نفسیات کی کئی پرانی روایات کو چیلنج کیا اور کئی نئی روایات کو جنم دیا۔

لینگ کو خونصورت اور ذہین عورتیں بہت پسند تھیں۔ انہوں نے چار محبوباؤں سے دس بچے پیدا کیے جن میں سے چھ بیٹے تھے اور چار بیٹیاں۔

لینگ ماہر نفسیات کے ساتھ ساتھ ایک شاعر ’ادیب‘ فلمساز اور سماجی کارکن بھی تھے۔ ان کے سوانح نگار ڈینیل برسٹن نے اپنی کتاب THE WINGS OF MADNESS: THE LIFE AND WORK OF R.D.LAING میں لینگ کی زندگی کے بارے میں دلچسپ انکشافات کیے۔

لینگ بہت حق گو انسان تھے جس کی انہیں بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ انہوں نے اپنے ایک ٹی وی کے انٹرویو میں اعتراف کیا کہ وہ الکوہلزم اور ڈپریشن کا شکار رہے ہیں۔ اس اعتراف کے بعد انگلستان کی جنرل میڈیکل کونسل نے ان پر پابندیاں عاید کرنے کی کوشش کی اور انہوں نے طب کی پریکٹس سے استعفیٰ دے دیا۔

لینگ کو ٹینس کھیلنے کا بہت شوق تھا۔ 1989 میں 61 برس کی عمر میں ٹینس کھیلتے ہوئے انہیں ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ جہان فانی سے کوچ کر گئے۔

لینگ نے اپنی زندگی میں نفسیات کی کتابوں کے ساتھ ساتھ شاعری کا مجموعہ ?DO YOU LOVE ME بھی چھاپا جس میں انسانی نفسیات کی الجھی ہوئی گتھیوں کو سلجھانے کے حوالے سے بہت سی نظمیں ہیں۔ محبت کے بارے میں ان کی ایک نظم کا ترجمہ حاضر ہے۔

کیا تم مجھ سے محبت کرتے ہو؟
عورت :کیا تم مجھ سے محبت کرتے ہو؟
مرد :ہاں میں تم سے محبت کرتا ہوں
عورت :سب سے زیادہ؟
مرد :ہاں سب سے زیادہ
عورت :سارے جہاں سے زیادہ؟
مرد:ہاں سارے جہاں سے زیادہ
عورت :کیا تم مجھے پسند کرتے ہو؟
مرد: ہاں میں تمہیں پسند کرتا ہوں
عورت :کیا تم میری قربت پسند کرتے ہو؟
مرد:ہاں میں تمہاری قربت پسند کرتا ہوں
عورت :کیا تم مجھے دیکھنا پسند کرتے ہو؟
مرد:میں تمہیں دیکھنا پسند کرتا ہوں
عورت: کیا تمہارے خیال میں میں چغد ہوں؟
مرد :نہیں میرے خیال میں تم چغد نہیں ہوں
عورت :کیا تمہارے خیال میں میں دلکش ہوں؟
مرد : ہاں میرے خیال میں تم دلکش ہو
عورت :کیامیں تمہیں بور کرتی ہوں؟
مرد: نہیں تم مجھے بور نہیں کرتی
عورت :کیا تمہیں میرے ابرو پسند ہیں؟
مرد:ہاں مجھے تمہارے ابرو پسند ہیں
عورت: کیا بہت زیادہ؟
مرد: ہاں بہت زیادہ
عورت: کون سا تمہیں زیادہ پسند ہے؟
مرد :اگر ایک کی تعریف کروں گا تو دوسراحسد کرے گا
عورت :تمہیں کہنا پڑے گا
مرد :دونوں بہت پیارے ہیں
عورت :سچ کہتے ہو؟
مرد :ہاں سچ کہتا ہوں
عورت: کیا میری پلکیں بہت خوبصورت ہیں؟
مرد :ہاں تمہاری پلکیں بہت خوبصورت ہیں
عورت :کیا تم مجھے سونگھنا پسند کرتے ہو؟
مرد: ہاں میں تمہیں سونگھنا پسند کرتا ہوں
عورت :کیا تمہیں میرا عطر پسند ہے؟
مرد: ہاں مجھے تمہارا عطر پسند ہے
عورت :کیا تمہارے خیال میں میں خوش مذاق ہو ں؟
مرد : ہاں میرے خیال میں تم خوش مذاق ہو
عورت :کیا تمہارے خیال میں مجھ میں بہت سی صلاحیتیں پوشیدہ ہیں؟
مرد: ہاں میرے خیال میں تم میں بہت سی صلاحیتیں پوشیدہ ہیں۔
عورت :کیا تمہارے خیال میں میں سست ہوں؟
مرد :نہیں میرے خیال میں تم سست نہیں ہو
عورت :کیا تم مجھے چھونا پسند کرتے ہو؟
مرد : ہاں میں تمہیں چھوناپسند کرتا ہوں
عورت :کیا تمہارے خیال میں میں مسخری ہوں؟
مرد :صرف دلکش انداز میں
عورت :کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟
مرد :نہیں میں تمہارا مذاق نہیں اڑا رہا
عورت :کیا تم حقیقتاٌ مجھ سے محبت کرتے ہو؟
مرد:ہاں میں تم سے حقیقتاٌ محبت کرتا ہوں
عورت: کہو ”میں تم سے محبت کرتا ہوں“
مرد:میں تم سے محبت کرتا ہوں
عورت : کیا تم مجھے گلے لگانا چاہتے ہو؟

مرد :ہا ں ’میں تمہیں گلا گلے لگانا چاہتا ہوں‘ اپنی آغوش میں لینا چاہتا ہوں اور راز ونیاز کی باتیں کرنا چاہتا ہوں

عورت : کیا یہ سب جائز ہے؟
مرد: ہاں یہ سب جائز ہے
عورت : قسم کھاؤ کہ تم مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤ گے

مرد :میں قسم کھاتا ہوں کہ میں تم کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ میں دل پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں کہ اگر جھوٹ بولوں تو مر جاؤں۔

(کچھ عرصے کے لیے خاموشی)
عورت :کیا تم مجھ سے ”حقیقتاٌ“ محبت کرتے ہو؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 400 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply